You are here: کیرئر مضامین Home

Magazines

Saeban MagazineHayat Magazine

Jagjit Singh

Aaj Ke Daur Mein

Higher Resolution ----- Higher Resolution

Ek Khabar Ek Nazar

English to urdu

Advertise

مضامین

تعلیم کیسی ہو؟ کیسے ہو؟

سید منصور آغا، نئی دہلی
شبلی اکیڈمی ، اعظم گڑھ میں گذشتہ دنوں ایک کل ہندتعلیمی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں ہند و بیرون ہند کے دانشوروں، ممتاز اساتذہ اور منتظمین نے اس سوال پر غور و خوض کیا کہ دور حاضر میں تعلیم کا مقصد کیاہے اور کس طرح کا علم خصوصاًمسلم اقلیتی طبقہ کی درماندگی اور پسماندگی کے ازالے میںکارگر ہوسکتاہے؟شبلی اکیڈمی کی پروقار اور پرسکون فضا میں فطری طور سے اس دور کی یاد تازہ ہوگئی جب مادی منفعت یا معاشی ضرورت کےلئے نہیں بلکہ انسان ذہنی آسودگی کےلئے کوچہءقلم و کتاب کا اسیر ہوتا تھا۔ ان کی عظمت کا پیمانہ مال و دولت اور مادی شان و شوکت نہیں بلکہ فکر و اخلاق کی بلندی اور علم کی گیرائی و گہرائی ہوا کرتا تھا۔وہ کم کھانے، کم سونے اور زیادہ کام کرنے کے اصول پرکاربند رہتے اور طمانیت قلب کی دولت سے سرشار رہتے۔ انہوں نے مختلف نقلی و عقلی علوم و فنون میںجو خدمات انجام دی ہیں، ان کی مقدار اور معیار دونوں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح لکڑی کے قلم اورسرسوں یا زیتوں کے چراغ کی روشنی میں دیدہ ریزی کرکے کارہائے نمایاںانجام دئے ہیں۔ انکے علمی ورثہ میں فقہ و حدیث، سیر وتاریخ اورتفاسیر ہی شامل نہیں بلکہ انجنیرنگ اور آرکیٹکچر کے وہ محیر عقل شاہ کار بھی ہیں جومسجد قرطبہ، شاہجہانی مسجد دہلی اورتاج محل جیسی عمارتوں کی صورت میںنظروں کے سامنے موجود ہیں اور نہر زبیدہ کی تفصیل کتب تاریخ میں محفوظ ہے۔ ان کی فراست ، ان کاانہماک اورمحنت ہمارے لئے مشعل راہ ہےں۔
۸۱ویں اور ۹۱ویں صدی کے صنعتی انقلاب اور اس کے شانہ بشانہ حریت فکر کے غلغلے سے تاریخ انسانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس کو Renaissance یا بیداری کہا جاتا ہے۔دیر سویر اس کے اثرات پوری دنیا پر چھا گئے۔مگر اس سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ یورپی ممالک فیضیاب ہوئے، جس کا ایک منفی پہلو سامراجی استبداد کا پوری دنیا کو اپنی گرفت میںلے لینا بھی ہے ۔بہر حال فکر کی بالیدگی اور ذہنی آسودگی کےلئے علم کے شایقین کی تعدادجو پہلے ہی کم تھی ، اب اور کم ہوگئی، تاہم پڑھنے پڑھانے میں مصروف افراد کی تعداد میں دن دونا رات چوگنا اضافہ ہوتا چلاگیا۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ فن سپہ گری کی جگہ اب دیگر علوم وفنون ہر شخص اور ہر معاشرے کی سماجی، اور معاشی ضرورت بن گئے ۔پہلے جو کام تلوار سے لیا جاتا تھا وہ اب قلم سے لیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس کہ عقلی علوم میںدنیا کی پیشوائی کا شرف رکھنے کے باوجود ہم اس تغیر کو دور سے دیکھتے رہے اور اس نئے انقلاب سے خود کو بروقت ہم آہنگ نہیںکرسکے، چنانچہ عالمی اور علاقائی سطح پر امامت و سیادت کے منصب سے پیچھے دھکیل دئے گئے۔ دولت کی فراوانی کے باوجود عالم اسلام غیروں کی بیساکھیوں پر کھڑا ہونے پر مجبورہوگیا۔ اقتدار و اختیار بظاہر جہاںہمارے ہاتھوں میں ہے وہاں بھی ہماری قسمت کا فیصلہ غیروں کے ہاتھوں ہوتا ہے، جیسا کہ مصر کے حالیہ واقعات نے صاف کردیا ہے۔ ہم میں سے کچھ طبقے اس انقلاب میں اسطرح بہہ گئے کہ اپنی شناخت سے ہی شرمانے اور اپنی اقدار سے کترانے لگے۔اس کے برخلاف کہیںہم نے اپنے گرد ایسے حصار کھینچ لئے کہ جدید کی ہوا بھی اس میں داخل نہ ہو سکتی۔ جیتے اس صدی میں ہیںاور سوچتے قرنوں پہلے کی فضا میںہیں۔ چنانچہ حال ہمار ا بے حال اور مستقل اندیشہ ہائے فردا سے پامال ہے۔
اس صورتحال پر ایک طبقہ میں، جس کواللہ نے دین کا شعور بھی دیا ہے اورجدید تقاضوں سے آگاہی بھی بخشی ہے، اس فکر کی گونج سنائی دیتی ہے کہ ملت کو کس طرح اس پستی سے نکالا جائے اورعزت ووقار کے منصب پر پہنچایا جائے۔ مردم خیز خطہ اعظم گڈھ کے بعض دیدہ وروں نے، جو بیرون ہند مقیم ہیں، اس غور و فکر کی ضرورت کو سمجھا اور کانفرنس کےلئے دامے ، درمے ، سخنے وسائل فراہم کئے ، خود کو فارغ کیا اور ہزار ہا میل کا سفر کرکے اس میں تشریف لائے۔ عالی فکر جناب سید حامد کی سربراہی اور جناب امان اللہ خاں کی نظامت میںقائم تحریک ’آل انڈیا ایجوکیشنل موومنٹ ‘نے اس کا اہتمام کیا اور شبلی کالج اعظم گڈھ کے اساتذہ اوراسٹاف نے اس کی میزبانی کی۔راقم الحروف کو بھی اس میں خوشہ چینی کا شرف ملا۔
یہ سوال بڑا اہم ہے کہ ہم کیا پڑھیں اور کیسے پڑھیں؟اس سوال کا جواب عملا فراہم کرنے کےلئے ۹۱ویں صدی کے اواخرمیں دو بڑے اداروں دارلعلوم دیوبند (۶۶۸۱ئ)، ندوة العلما(۳۹۸۱ئ) اور بیسویں صدی کے اوائل میں عصری علوم کی تین بڑی جامعات، عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد(۸۱۹۱ئ) مسلم یونیورسٹی علی گڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (۰۲۹۱ئ) کا قیام عمل میںآیا ۔ان کے بعد بیشمار مدارس، مکاتب ،کالج اور اسکول قائم ہوئے لیکن کام ابھی باقی ہے اور مسلمانوں میں تعلیم عام نہیںہوسکی ہے۔چنانچہ ایک ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے جس میں ہر فرد کومعاشرے کے ایک ایک بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر اسی طرح دامن گیر ہو جس طرح دوقت کی روٹی کی ہوتی ہے۔کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ملت کا کوئی بچہ مکتب، مدرسہ یا پرائمری اسکول سے باہر نہ رہنے پائے۔ اس کےلئے علاقائی اور مقامی سطح پر جد و جہد اور بیداری کی ضرورت ہے ۔ جہاں تعلیمی ادارے نہیںہیںوہاں ادارے قائم کئے جائیں، جہاں ہیں وہاں ان کے ساتھ تعاون کیا جائے ۔ ہر محلہ اور بستی میںچند لوگ ایسے ہونے چاہئیں جواپنا وقت اس کام میں لگائیں۔ یہ کام تواتر چاہتا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے اداروں میں ایسا ماحول بنایا جائے جس سے بچوں کو وہاں آنے کی ترغیب ملے اور ان کے ساتھ ہرگز کوئی ایسی حرکت نہیں کی جائے، جس سے ان کی طبیعت مکدر ہو اوروہ اسکول آنے سے گھبرانے لگیں۔ اس کےلئے سکھانے کے جدید اور دلچسپ طریقے بڑے معاون ہوتے ہیں۔
تعلیم کا عمل یوں تو ماں کی گود سے شروع ہوتا ہے ، مگر ان ابتدائی اداروں کو بھی ماں کی گو د کا بدل بنایا جائے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ان کے دل کی کلی کھلنا شروع ہوتی۔یہ عمر ہر اعتبار سے توجہ چاہتی ہے۔ نوخیزبچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کا دارمدار اس بات پر ہے کہ اس نازک عمر میں ان کو کس طرح کا ماحول دیا گیا اور کھانے پینے کی کیسی صحت مند عادتیںان میں ڈالی گئیں۔ اس عمر کے بچوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرنا چاہئے، یہ معلوم کرنا کچھ زیادہ پیچیدہ عمل نہیں ۔ زرا آنکھیں بند کیجئے، اپنے ماضی میں لوٹ جائےے، اپنے بچپن کو یاد کیجئے۔ اس کے کچھ خوشگوار اور کچھ نا خوشگوار نقش آپ کے ذہن میں محفوظ ہونگے۔ ان کو اپنا رہنما بنالیجئے ، بہت کچھ راستہ صاف نظرآنے لگے گا۔اگر اس کچی عمر میں جاننے اور سیکھنے کی طلب ان میں بیدارکردی گئی ، تو آگے کی منزلیں بہت کچھ آسان ہوجائیںگی۔ کبھی کبھی تنبیہ کی ضرورت ہوسکتی ہے مگر ایسی تنبیہ جس سے بچے کا دل ہی اچاٹ ہوجائے اور استاد میںاس کو ایک شفیق اور مربی کی جگہ ایک جابر اور ظالم نظر آنے لگے، ناقابل تلافی غلط روی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بچوں کی شخصیت سازی میں اور بگڑے ہوئے بچوں کو سدھارنے میں ترغیب سے جو کام لیا جاسکتا ہے وہ تنبیہ سے ممکن نہیں۔ کبھی کبھی بچے کے دماغ کے دروازے کچھ دیر میںکھلتے ہیں۔ ایسی صورت میں استاد کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اسی لئے استاد کاترتیب یافتہ ہونا ضروری ہے۔
ذہانتوں کی نشاندہی کا اہم کام بھی اسی عمر میں شروع کیا جانا چاہئے۔ سبھی بچوں کی ذہنی ساخت ، صلاحیت اور فطری ذوق ایک سطح پر نہیںہوتا۔ ذہین بچوںمیں علم کی بلندیوں تک پہنچنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔ وہ بچے بھی خاص توجہ کے طالب ہیں جو اگرچہ ذہین ہیں، مگران کے والدین کسی مجبوری کی وجہ سے ان پر بھرپور اور پر از حکمت توجہ نہیں دے سکتے۔ ان کےلئے ڈے بورڈنگ کا بندوبست ہونا چاہئے۔ یعنی ہوم ورک ان کے گھر کےلئے نہیںچھوڑا جائے بلکہ تعلیم گاہوںکے اندر ہی اس کا نظم کیا جائے ۔ یہ وہ تدابیر ہیںجن کا ذکر جستہ جستہ کانفرنس کے دوران آیا۔ ان تدابیرکو اختیار کرکے بچوں کی ایک ایسی بھری پوری نرسری تیار کی جاسکتی ہے جن سے مستقبل کی چمن بندی کی جائے گئی۔
ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے ہم بچوں کو کیا پڑھائیں۔بقول پروفیسر مجیب ہمیںایک ایسا تعلیمی نظام مطلوب ہے ”جو عقیدے اور علم دونوںکا پھلتا پھولتا مرکب ہو“۔ علامہ شبلی نعمانی ؒنے بھی تقریباً یہی بات کہی تھی۔نہ قدیم طرز کی مدرسہ تعلیم ہمارے لئے کافی ہے اور نہ جدید طرز کی۔ بلکہ ایک ایسا نظام مطلو ب ہے جو تدریس کے جدید طریقے اخیتارکرے اور دینی و عصری دونوںطرح کے علوم سے سیراب کرے۔ ظاہرہے ہم ان انجنئرس، ڈاکٹرس اور ایڈمنسٹریٹرس کو اپنی قوم اور ملت کےلئے باعث افتخار نہیں جان سکتے جو ایمان کے تقاضوں سے غافل اور اخلاق و اطور میں غیروں کے مماثل ہوں۔ لیکن یہ بھی عملاًممکن نہیں کہ ایک فردعصری اور شرعی دونوں طرح کے علوم میں بھی یکساںدستگاہ حاصل کرلے ۔ چنانچہ بچوں کے ذاتی رجحان اور دلچسپی(Aptitude) کو پیش نظر رکھ کریہ طے کرنا ہوگا کہ کون سے بچہ کیا پڑھے گا۔اس کی پیش رفت یہ طے کریگی کہ وہ کہاں تک جاسکتا ہے۔ یہ فیصلے ورثا کی خواہش پر نہیںچھوڑے جاسکتے۔لیکن جدید علوم کے حصول میں انہماک کا یہ مطلب نہیںہونا چاہئے کہ بچے اپنے عقائد اور اقدار سے بے بہرہ رہ جائیں، جیسا کہ آجکل ہورہا ہے۔اپنی مساجد میں ایسے مراکز قائم کرنے ہونگے ،جہاں بچے دین سے آگاہی حاصل کریں۔ ان مراکز میںبھی روشن ضمیر، روشن خیال مدارس کی خدمات لی جانی چاہئے مبادا بچوںکو توہمات میں ڈالدیں۔
سرسید نے ۷۷۸۱ءمیںجب ایم او کالج قائم کیا تھا، اس وقت کی تعلیمی ترجیحات اور آج کی ترجیحات اور امکانات میں بڑا جوہری فرق واقع ہوگیا ہے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب حصول روزگار کےلئے بی اے کی ڈگری بیش قیمت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن ۰۲ویں صدی کے جاتے جاتے اس ڈگری کی چمک دمک ماند پڑگئی۔ یہ صحیح ہے عمرانیات کی اپنی اہمیت ہے ،مگر زبان یا عمرانیات کی ڈگری اس دور کا معاشی مسئلہ حل کرنے کےلئے کافی نہیںہے۔ ۱۹۹۱ءمیں نجکاری کے آغاز کے بعد سے ایک نیا ماحول بنا ہے۔سرکاری ملازمتیںکم ہورہی ہیں جبکہ پراﺅیٹ سیکٹر میں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ اس ماحول میں منجمنٹ اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی اسنادنے اہمیت حاصل کرلی تھی۔انفارمیشن ٹکنالوجی کا یہ انقلاب بڑی تیزی کے ساتھ آیا اور پوری دنیا میں چھا گیا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمارے ملک کی ان اداروں میں شامل ہے، جہاں اس انقلاب نے ابتدا میں دستک دی۔ غالباً ۳۹۹۱ءکی بات ہے جب یونیورسٹی کے اس وقت کے پی وی سی پروفیسر ابوالحسن صدیقی مرحوم کی زبانی میں ای میل سے متعارف ہوا۔ اس وقت کے وی سی نسیم فاروقی، جو خود ایک سائنسداں تھے، یونیورسٹی میں ای میل کی سہولت لائے ۔ اس دورمیں ترقی یافتہ ممالک میں بھی بس چند ہی لوگ ای میل اور انٹر نیٹ سے ناواقف تھے۔ یہ انقلاب اس قدر تیزی سے آیا ہے کہ آج اس وقت تک کوئی شخص کامیاب افسر یا منتظم نہیںہوسکتا، جب تک وہ خود کمپیوٹر میں دسترس نہ رکھتا ہو۔ بہت سے دفاتر نے کاغذی فائلوںکو خیر باد کہہ دیا ہے اور سارا کاروبار لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر میں سمٹ آیا ہے۔ چنانچہ اس جدید ٹکنالوجی سے ناواقف افراد کےلئے روزگار کے مواقع سمٹ گئے ہیں۔ ۱۲ویں صدی کی اس پہلی دہائی میں عمرانیات کی ڈگری نہیں بلکہ کمپیوٹر سرٹیفکیٹ روزگار کی کنجی ہے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ اس کا سیکھنا کچھ مشکل نہیں۔ میں عمر کے ۵۵ سال پورے ہونے کے بعد کمپیوٹر سے متعارف ہوا اور اب ہندی، انگریزی اوراردو میں اپنے تحریری کاموںکےلئے، حساب کتاب کےلئے ، یہاںتک کہ اپنی ویب سائٹ کےلئے کسی کا محتاج نہیں ہوں۔ میں نے بس یہ کیا کہ گھرپر اپنے بچوں کو اوردفتر میں اپنی ماتحتی میں کام کرنے والوںکواپنا استاد بنا لیا۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کا میدان بڑا وسیع ہے۔ہر شخص اپنی توجہ اور دلچسپی کے مطابق اس میںاکتساب کر سکتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے خالی ڈی ٹی پی کافی نہیںہے۔
علم کا دوسرا شعبہ جس کی آج سب سے زیادہ مانگ ہے، وہ کامرس اور منجمنٹ کے کورسز ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے بچے ان شعبوں کی طرف جاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ لیاقت اور صلاحیت کا کوئی تعلق مذہب ، ذات اور خطے سے نہیںہے۔ جو محنت کرتا ہے وہ پاتا ہے۔ اسی طرح آج کے دور میں خصوصاً پراﺅیٹ سیکٹر میںانتخاب کا پیمانہ آپ کی لیاقت ، مہارت اور معیارہے۔ آج کے بازار میں سکہ رائج الوقت کمپیوٹر، کامرس اور کمپنی منجمنٹ ہےں۔ایک نوجوان اگر منجمنٹ کا ہنر جانتا ہے، اپنی بات کو صارف کے دل میں اتارنے کے فن جانتا ہے او رپروڈکٹ کومارکیٹ میںکھپا سکتا ہے، وہی اس دور کا سکندر ہے۔ جو مسلم بچے اس طرف بڑھ رہے ہیں کامیابیاںان کے قدم چوم رہی ہیں۔ ان کےلئے مواقع ہی مواقع ہیں ۔
ابھی چند سال پہلے تک ہم تعلیم نسواں میںپچھڑے ہوئے تھے۔ آج بھی بچیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں کم نہیں ہیں ۔ لیکن میرا مشاہدہ اور ذاتی تجربہ ہے کہ گھر کی چکی میں پستے رہنے کے باوجود ہماری بیٹیاں عموماً لڑکوںکے مقابلے زیادہ انہماک دکھا رہی ہیں۔ لڑکیوں کی مزید حوصلہ افزائی کی یقینا ضرورت ہے۔ مگرا یسا نہ ہو کہ لڑکیاں تو زیور علم سے آراستہ ہوجائیں اور لڑکے پھسڈی رہ جائیں۔ گھر کی اقتصادی ذمہ داری کا اضافی بوجھ خواتین پر ڈالناقرین انصاف نہیںہے۔ یہ بوجھ مردوںکو ہی اٹھا ناچاہئے ۔البتہ ہر خاندان علم کا گہوارہ اسی وقت بن سکے گا اور خوشحالی اسی صورت میں اس کے قدم چومے گی، جب ہر ماں علم و عمل میں اپنے بچے کی کامیاب استاد ، مربی اورامور خانہ داری کی اچھی منتظم ہوگی۔ مغربی معاشرے کا یہ چلن ہماری معاشرت، ہمارے باہمی رشتوں اور خاندانوں کے مستقبل کےلئے سم قاتل ہے کہ ماں اپنے شیر خوار بچے کو انا کے حوالے کرکے دفتر چلی جائے، اس کے علم کا فیض کوئی اور اٹھائے اور اس کا بچہ ان پڑھ، ان گڑھ اور جاہل خادماﺅں کی گود میں پرورش پائے۔ (ختم) ( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے )

 

All categories

ads

Your Ad Here