اے این شبلی
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔ یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ قلیل مدتی پروفیشنل کورسوںمیں’جیولری ڈیزائن‘کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
دنیا میں شائد ہی کوئی ایسا انسان ہوگا جس کی خواہش یہ نہیں ہو گی کہ وہ خوبصورت نظر آئے۔مرد وں میں اس طرح کا شوق کچھ حد تک کم ہوتا ہے البتہ عورتیں تو سجے سنورے بغیر رہ ہی نہیں سکتیں۔عورتوں کے سجنے اور سنوارنے میں زیورات کا اہم رول ہوتا ہے۔زیورات کے بغیر عورتیں نامکمل سمجھی جا تی ہیں۔شادی کا موقع ہو،برتھ ڈے پارٹی ہو،کسی کمپنی کی سالانہ پارٹی ہو یا پھر کوئی اور موقع ہو عورتیں مختلف اقسام کے زیورات میں نظر آتی ہیں۔اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں کہ زیورات عورتوں کی خوبصورتی میں چار چاند لگا دیتے ہیں۔یوں تو دنیا کی ساری عورتیں چاہتی ہیںکہ وہ مہنگے سے مہنگا زیور پہنیں مگر ایسا ممکن نہیں ہے، اس لئے جس کی جیسی حیثیت ہوتی ہے وہ اسی کے مطابق زیور پہنتی ہیں۔کچھ کو صرف چاندی کے زیور ہی میسر ہیں تو کچھ کی صرف ایک انگوٹھی ہی لاکھوں روپے کی ہوتی ہے۔
چونکہ ہندوستانی عورتوں میں زیور کے تئیں ایک خاص لگاوہوتا ہے، اس لئے جیولری ڈیزائن کے میدان میں روزگار کے مواقع بھی دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔زیورات چاہے سونے کے ہوں،چاندی کے ہوں یا پھر ہیروں کے ان کے نئے نئے ڈیزائن بازار میں آتے رہتے ہیں۔ہندوستانی عورتیں دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے زیادہ زیور کا استعمال کرتی ہیں۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ سونے کا استعمال ہندوستان میں ہی ہوتا ہے۔
زیورات سونے کے علاوہ چاندی، ہیرے اور پلیٹینم کے بھی بنتے ہیں۔ان کے علاوہ دنیا بھر میں پائے جانے والے کئی دوسرے جواہرات سے بھی زیورات بنائے جاتے ہیں۔جیولری ڈیزائن میں صرف ایسا نہیں ہے کہ زیورات کے ڈیزائن کے بارے میں ہی بات کی جاتی ہے بلکہ ان میں مختلف جواہرات کی پہچان اور ان کے معیار کی جانچ بھی شامل ہے۔جیولری ڈیزائن میں زیورات اور جواہرات کی پہچان،اس کی کٹائی،تراشنا اوراس کو مختلف خوبصورت شکل دینے کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ جیولری ڈیزائن کا کام صرف سنار کا ہے اور اس کام کو وہی لوگ اپنا سکتے ہیں جن کے باپ دادا سالوں سے ایسا کرتے آرہے ہیں۔جبکہ اصلیت میں ایسا نہیں ہے۔زندگی میں آئی مختلف تبدیلیوں کی وجہ سے اب اس پیشہ میں وہ لوگ بھی شامل ہو رہے ہیں جن کے باپ دادا کا اس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔
انفارمیشن ٹکنالوجی نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں کو متاثر کیا ہے وہیں جیولری ڈیزائن کا شعبہ بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے۔اب تو کمپیوٹر کی مدد سے مختلف اقسام کے خوبصورت زیورات ڈیزائن کئے جا رہے ہیں۔اس میدان نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ اب کئی ایسے رسالے نکل رہے ہیں جن میںپوری طرح سے زیورات کے بارے میںہی مضامین اوردوسرے مواد ہوتے ہیں۔سونے،چاندی،ہیرے اور جواہرات کی پہچان ،انہیں تراشنا اور پھر ایک خوبصورت شکل دینا مکمل ٹریننگ کے بعد ہی ممکن ہے۔ملک میں ایسے کئی ادارے ہیں جہاں جیو لیری ڈیزائن سے متعلق کورس کرائے جاتے ہیں۔ان میں جیمولوجیکل انسٹی ٹیوٹ ا?ف انڈیا،ڈائمنڈ انسٹی ٹیوٹ،انڈین جیمو لو جیکل انسٹی ٹیوٹ اور جیولری پروڈکٹ اینڈ ڈیولپمنٹ سنٹر کے نام قابل ذکر ہیں۔ان سبھی اداروں میں جیولری ڈیزائن کے تعلق سے مختلف اقسام کے کورس کرائے جاتے ہیں۔ان سبھی اداروں میں جیولری ڈیزائن کا کورس سرٹیفکیٹ سے لے کر ڈپلوما سطح تک کا ہے۔ان سبھی کورسوں کی مدت اور فیس الگ الگ ہے۔
اپی جے انسٹی ٹیوٹ ا?ف ڈیزائن میں جیولری ڈیزائن میں ڈپلوما کرایا جاتا ہے۔اس کورس میں داخلہ کے لئے امیدوار کا بارہویں پاس ہونا ضروری ہے۔سورت میں واقع انڈین ڈائمنڈ انسٹی ٹیوٹ میں ہیروں کی پہچان اور ان کے ڈیزائن سے متعلق کئی کورس کرائے جاتے ہیں۔یہاں جو کورس موجود ہیں ان میں شارٹ ٹرم کورس ان ڈائمنڈ کٹنگ،ایڈوانس کورس ان ڈائمنڈ ٹکنالوجی اور ٹریننگ کورس ان پروسیسنگ شامل ہیں۔ان تینوں کورسوں کی مدت بالترتیب 6مہینے،45دن اور ایک سال ہے۔جیمولوجیکل انسٹی ٹیوٹ ا?ف انڈیا میں ڈائمنڈ گریڈنگ،جیولری ڈیزائننگ اور جیم آئیڈینٹی فیکیشن میں ڈپلوما کورس کرایا جاتا ہے۔نئی دہلی میں واقع جیولری پروڈکٹ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر میں جو کورس کرائے جاتے ہیں ان میں چین میکنگ،الیکٹروپلیٹنگ،ہینڈ میڈ جیولری،سولڈیرنگ،ایڈوانس جیولری ڈیزائن اورجیولری میکنگ شامل ہے۔جیو لری میکنگ میں پری ڈپلوما اور گریجوئٹ ڈپلوما دونوں طرح کا کورس موجود ہے۔
جیولری ڈیزائن کا کورس کرنے کے بعد ہندوستان میں نوکری کی کمی نہیں ہے۔سونے، چاندی اور ہیروں کی بڑی بڑی کمپنیوں میں کام کرنے کے علاوہ اپنا خود کا کاروبار بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ فری لانسر کے طور پر جیولری ڈیزائن کر کے کافی پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔اس کے علاوہ آزادانہ طور پر جیولری ڈیزائن کا کورس کرانے والے اداروں میں ٹرینر کے طور پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔ہندوستان میں کئی ایسے ادارے ہیں جہاں جیولری ڈیزائن سے متعلق مختلف کورس کرائے جاتے ہیں۔ان میں سے یہاں کچھ کے نام اور پتے دئے جا رہے ہیں۔اگر آپ کو اس میں دلچسپی ہے تو اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل پتوں پر رابطہ قائم کریں۔
٭جیولری پروڈکٹ ڈیولپمنٹ سینٹر،ایف بلاک،ایف ایف کامپلیکس،نئی دہلی110055-
٭سینٹ زیویر کالج،مہانگر پالیکا مارگ،ممبئی400001-
٭جیولری ڈیزائن اینڈ ٹکنالوجی انسٹی ٹیوٹ،نوئیڈا،اترپردیش
٭نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹکنالوجی،حوض خاص نئی دہلی110016-
٭ایس این ڈی ٹی وومین یونی ورسٹی،جوہو روڈ،ممبئی400049-
٭جے ڈی انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن،حوض خاص گاﺅں،نئی دہلی110016-
٭انڈین جیمو لو جیکل انسٹی ٹیوٹ،26باراکھمبا روڈ،نئی دہلی110001-
٭انڈین ڈائمنڈ انسٹی ٹیوٹ،سورت،گجرات
٭جیمولوجیکل انسٹی ٹیوٹ، 29گروکول چیمبر،موبا دیوی روڈ،ممبئی400002-
http://www.urdu.chauthiduniya.com/2010/07/jwellery-design







