سہیل انجم
ایک طرف مرکز اور جموں وکشمیر کی حکومت کی جانب سے ریاست میں حالات کو بہتر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف اس اندیشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ آنے والا موسم گرما کہیں پھر آتش فشاں نہ بن جائے ۔ گذشتہ تین برسوں سے یہی صورت حال ہے ۔ لیکن اس بار وزیر اعلی عمر عبد اللہ کافی چاق و چوبند اور سخت دکھائی دے رہے ہیں ۔ انھو ںنے لال چوک پر بی جے پی کی جانب سے ترنگا لہرانے کی کوشش کو ناکام بناکر یہ دکھا دیا ہے کہ وہ اب کسی بھی ایسی کوشش کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے جس سے ریاست کا امن وامان متاثر ہوتا ہو ۔ حکومت کی جانب سے متعدد پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے عوام بالخصوص نوجوانوں کو حکومت ، انتظامیہ اور پولیس کے نزدیک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس تعلق سے کئی پروگراموں کا انعقاد کیا جا چکا ہے ۔ حالیہ پروگرام سری نگر کے نوہٹہ علاقے میں ایک کمیٹی روم میں منعقد کیا گیا جس میں ایسے ایک سو پچاس نوجوانوں کو مدعو کیا گیا تھا جو سری نگر میں پولیس پر پتھراو¿ کرنے میں شامل رہے ہیں اور جن کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کر رکھی ہے ۔ ان کو چودہ گروپوں میں تقسیم کرکے ایک ڈسکشن کروایا گیا اور ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی گئی ۔ اس ڈسکشن کے نہایت حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے اور نوجوانوں کی اکثریت نے کہا کہ وہ آزادی تو چاہتے ہیں لیکن ہندوستان سے نہیں بلکہ موجودہ حالات سے ۔ وہ منشیات سے آزادی چاہتے ہیں ۔ وہ بد امنی سے آزادی چاہتے ہیں ۔ وہ کرپشن سے آزادی چاہتے ہیں اور مختلف مسائل سے نجات چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ بھی باروزگار ہوں اور رفتار زمانہ کا ساتھ دے سکیں ۔ ان نوجوانوں نے علاحدگی پسندی کا کوئی رجحان ظاہر نہیں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ وہ بہتر زندگی گزارنا چاہتے ہیں ۔شرکا میں سے چالیس فیصد نے کہا کہ کرکٹ کھیلنا ان کی ہابی ہے جبکہ دوسرے چالیس فیصد نے فٹبال کو اپنی ہابی بتایا ۔ اس کے عوض انھو ںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے خلاف کیسوں کو ختم کر دے ۔ نوجوانوں کے لیے اسپورٹس کلب بنائے اور منشیات کے خلاف مہم چلائے اور اس کے ساتھ ہی اسکولوں میں کمپیوٹر مراکز قائم کرے ۔ اس ورک شاپ کے منتظمین کے مطابق ان کا مقصد نوجوانوں کے خیالات اور ان کی خواہشوں سے واقفیت حاصل کرنا تھا تاکہ اس کی روشنی میں آگے کی حکمت عملی تیار کی جائے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صورت حال بہت ہی حوصلہ افزا ہے اور اس کی حمایت کی جانی چاہئے ۔ لیکن اسی کے ساتھ اور دوسرے محاذوں پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت نے کشمیر کے تمام گروپوں سے بات کرنے کے لیے جن تین مذاکرات کاروں کا تقرر کیا ہے انھوں نے گذشتہ دنوں مرکز کے سامنے کشمیری نوجوانوں کی ایک شکایت رکھی تھی ۔ یہ شکایت صرف وہاں کے نوجوانوں کی ہی نہیں تھی بلکہ وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے بھی یہ شکایت کی تھی ۔ شکایت یہ ہے کہ کشمیری نوجوان جب ملک کے مختلف حصوں میں جاتے ہیں تو ان کوشکوک و شبہات کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے ، ان پرشبہ کیا جاتا ہے اور پولیس ان سے غیر ضروری طور پر پوچھ گچھ کرکے پریشان کرتی ہے ۔ جب یہ شکایت رابطہ کاروں نے حکومت کے سامنے رکھی تو حکومت نے اس سلسلے میں فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام ریاستوں کو یہ ہدایت دی کہ کشمیریوں کو محض کشمیری ہونے کی بنیاد پر ہراساں نہ کیا جائے اور ان سے پولیس غیر ضروری پوچھ تاچھ نہ کرے ۔ ریاستی حکومتوں سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ تمام تھانوں کو یہ ہدایت جاری کردیں کہ کشمیری باشندوں کو محض کشمیری ہونے کی بنا پر ستایا نہ جائے اور انہیں ہراساں نہ کیا جائے ۔ یہ قدم یقینی طور پر ایک مثبت قدم ہے ۔ کیونکہ عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس اور ایجنسیاں کشمیریوں کو ہراساں اور پریشان کرتی ہیں اور جب حالات مخدوش ہوتے ہیں تو صرف انہی سے نہیں بلکہ کشمیریوں سے مشابہت رکھنے والے دوسری ریاستوں کے باشندوں سے بھی غیر ضروری طور پر پوچھ تاچھ کی جاتی ہے اور انہیں شکوک وشبہات کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے ۔ یہ صورت حال بدلنی چاہئے اور ان کے ساتھ اس قسم کا رویہ نہیں رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ اس سے ان میں علاحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہوگا ۔ حکومت نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اگر عام کشمیریوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا تو وہ اسے اپنی توہین محسوس کریں گے او ران میں علاحدگی پسندی کا رجحان پیدا ہوگا ۔ حکومت کی یہ سوچ بہت مثبت ہے اور تمام تھانوں کو اس سلسلے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔
لیکن جیسا کہ شروع میں ذکر کیا گیا ہے اسی کے ساتھ ایک یہ اندیشہ بھی سر ابھا ررہا ہے کہ جس طرح گذشتہ تین گرمیاں کشمیر میں بے حد خطرناک اور پرآشوب انداز میں گزری ہیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والی گرمی بھی اسی طرح گزرے ۔ اور اس بار بھی کوئی ایسا شوشہ چھوڑ دیا جائے کہ وادی کا امن وسکون غارت ہو جائے ۔ حالانکہ ابھی تک جو حالات ہیں وہ بہت پر امن ہیں اور کشمیر کے حالات سے واقفیت رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر بی جے پی 26جنوری کو سری نگر کے لال چوک پر جھنڈا سلامی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنا بھی دیتی بھی تب بھی کوئی بد امنی نہ پھیلتی ۔ حالانکہ بعض علاحدگی پسندوں نے اس کے برعکس ہلالی پرچم لہرانے کا اعلان کیا تھا لیکن وہ محض رد عمل تھا ۔ کشمیری نوجوانو ںکا یہ سوال ہے کہ آخرتین گرمیاں کیوں اس طرح گزری ہیں کہ عوام سڑکوں پر اترے او ر پولیس اور انتظامیہ سے ان کا ٹکراو¿ ہوا ۔ جس طرح موسم سرما پرامن انداز میں گزرتا ہے اسی طرح موسم گرما بھی کیوں نہیں گزرتا ۔ اگر ہم سلسلہ وارحالات پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ 2008میں جنگل کے ایک قطعہ آراضی کو شری امرناتھ شرائن بورڈ کو دے دیے جانے پر ہنگامہ ہوا تھا ۔ کچھ دنوں قبل ایک ایسی خبر اخباروں میں شائع ہوئی تھی کہ آر ایس ایس کے ایک سینئر لیڈر اندریش کمار جن کا نام مختلف بم دھماکوں میں سامنے آیا ہے، اس ہنگامے کے پیچھے تھے ۔ بہر حال اس سے قطع نظر حکومت کے اس فیصلے سے وادی میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا اور ہائی وے کو بہت دنوں تک جام کر دیا گیا تھا ۔ پولیس اور عوام میں تصادم ہوا تھا جس میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق کم از کم ساٹھ افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا تھا ۔ لیکن جب یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا تو قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور اب تو صورت حال یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی اسے فراموش کر دیا ہے ۔ 2009میں شوپیان میں دو خواتین کی اجتماعی عصمت دری پر ہنگامہ ہوا تھا اور کافی دنوں تک حکومت او رپولیس کے خلاف احتجاج ہوتا رہا ہے ۔ جبکہ2010میں سری نگر کے پرانے شہر میں ایک ہفتے کے اندر تین نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد ہنگامہ ہوا تھا ۔ اس کی شروعات اپریل2010میں کپواڑہ ضلع کے مشیل سیکٹر میں فوج کے ہاتھوں ایک فرضی انکاونٹر میں تین نوجوانوںکی ہلاکت سے ہوئی تھی ۔ان ہلاکتوں نے عوام کو سڑکوں پر لاکر کھڑا کر دیا ۔ جس کے نتیجے میں پولیس فورس ، سیکورٹی ایجنسیوں اور وادی کے نوجوانوں کے مابین جھڑپو ںکا سلسلہ شروع ہو گیا اور کئی مہینے تک پتھراو¿ کی وارداتیں اور فورسز کی جانب سے فائرنگ کی وارداتیں ہوتی رہیں ۔ او راس طرح اموات کی تعداد 112تک پہنچ گئی ۔ بہر حال کسی طرح یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا ۔ اسی لیے عمر عبد اللہ بی جے پی کی یاترا اور پرچم کشائی کی مخالفت کرتے رہے تھے کہ کہیں اس اقدام سے وادی میں پھر آگ نہ لگ جائے ۔
کشمیر کے دانشوروں اور وہاں کے حالات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ملک کے دوسرے حصے میں ایسی کوئی واردات ہوتی ہے تو حکومت اور انتظامیہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ لیکن کشمیر میں قتل وخوں ریزی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔ ان کا اشارہ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانب ہے ۔ جن پر اکثر وبیشتر فرضی انکاونٹرس اور عصمت دری کے الزامات عائد ہوتے ہیں ۔ جب بہت زیادہ ہنگامہ ہوتا ہے تو کسی کا تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا بہت ہو ا تو معطل کر دیا گیا ۔ اس سے آگے کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔ جبکہ ان کے خیال میں ملک کے دیگرعلاقوں میں اگر ایسا واقعہ ہوتا ہے تو پولیس سے لے کر سی بی آئی تک حرکت میں آجاتی ہیں۔ اس سلسلے میں وہ آروشی قتل کیس کی مثال دیتے ہیں او رکہتے ہیں کہ عدالت نے اس کیس کو بند کرنے کی سی بی آئی کی درخواست مسترد کر دی ہے اور اب آروشی کے والدین کو ملزم بنایا گیا ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا کرہی دم لیا جائے گا ۔ لیکن کشمیر کے واقعات کو فراموش کر دیا جاتا ہے ۔ کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہے ۔ جن کے خلاف ایف آئی آر درج ہو گئی ہے ان کو ہر ہنگامے کے بعد گرفتاری کا اندیشہ لگا رہے گا ۔ وہ اپنا پاسپورٹ نہیں بنوا سکتے کیونکہ ان کے خلاف پولیس کیس ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اگر بیرون ملک جاکر کوئی ملازمت کرنا چاہیں تو وہ بھی نہیں کر سکتے ۔ اور ایسے نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جن پر کسی نہ کسی شکل میں کیس درج ہو گیا ہو ۔ وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے 112نوجوانوں کی ہلاکت پر کہا تھا کہ وہ اس واقعہ کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکیں گے اور وہ ایک سو بارہ نوجوانو ںکا قتل نہیں تھا بلکہ ان کے دل کے ایک سو بارہ ٹکڑے کر دیے گئے ہیں ۔ کشمیر کے مذکورہ دانشوروں کا سوال ہے کہ اگر ایسا ہے تو پانچ ماہ گزر جانے کے باوجود کسی کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔ ریاستی حکومت نے ایک بھی پولیس والے کو سزا کیوں نہیں دی ۔اس کے علاوہ ریاست میں کرپشن کا اس قدر بول بالا ہے کہ بغیر رشوت کے معمولی سا کام بھی نہیں ہوتا ۔ اقربا پروری زوروں پر ہے ۔ اور کرپٹ لوگو ںکو پوری آزادی حاصل ہے ۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ انتظامیہ کو پاک صا ف کرے گی لیکن اس محاذ پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ۔ یہاں تک کہ کرپشن کے الزامات کے ساتھ وزرا عیش کر رہے ہیں ۔ سابقہ غلام نبی آزاد حکومت میں ورک کلچر کو فروغ دیا گیا تھا اور دفاتر میں ایک نیا ماحول قائم ہوا تھا۔ لیکن اب اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے عوامی مسائل کو حل کرنے میں وقت لگتا ہے ۔ اور عوام کا اعتماد بھی حکومت اور وزرا پر قائم نہیں ہو پاتا ۔
بہر حال جموں وکشمیر کے تعلق سے دو صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ اس جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت کچھ نہ کچھ کرنا چاہتی ہیں لیکن حالات اتنے پیچیدہ ہیں کہ کسی بھی کارروائی کے نتائج جلد نہیں نکل پاتے ۔ دوسری طرف عوام کا اعتماد بحال کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔ اس کے لیے کافی کچھ کرنا پڑے گا ۔ صرف اعلانات اور جذباتی بیانات سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اگر حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ حکمت عملی اختیار نہیں کی تو کوئی تعجب نہیں کہ ایک طبقے میں جو اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے وہ درست ثابت ہو اور آنے والے موسم گرما میںبھی عوامی غم وغصہ آتش فشاں بن کرابل پڑے ۔لہذا حکومت کو بہت ہی چوکنا رہنے اور پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ (یو۔ ٹی۔ این)۔
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
--9818195929










