You are here: Comunilism and Terrorism Terrorism دہشت گردی مخالف جنگ ناکام کیوں؟ Home

دہشت گردی مخالف جنگ ناکام کیوں؟

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
اس وقت پوری دنیا کا امن واستحکام اگر کسی خطرے کی زد پر ہے تو وہ دہشت گردی ہے۔ حالانکہ اس وقت انتہائی مضبوطی کے ساتھ دہشت گردی مخالف جنگ لڑی جا رہی ہے اور دنیا کا طاقتور ترین ملک امریکہ اس جنگ کی قیادت کر رہا ہے۔ اس پر لاکھوں اور کروڑوں ڈالر صرف ہو رہے ہیں۔ اس جنگ میں امریکہ کا سب سے مضبوط حلیف پاکستان ہے۔ اتنا مضبوط کہ اس نے اپنے ان علاقوں میں جہاں دہشت گردوں کے پوشیدہ ہونے کے امکا نات ہوں، جاسوس ڈرون طیاروں سے حملے کی اجازت امریکہ کو دے رکھی ہے اور ان حملوں میں اب تک لاتعداد لوگ ، دہشت گرد اور سویلین، ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ پرویز مشرف کے دور میں بہت سے مشتبہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے بھی کیا جا چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ عفریت کمزور پڑنے کی بجائے طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو یہ اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ اس کے خونیں پنجے دوسرے ملکوں کی گردنوں میں بھی پیوست ہو چکے ہیں۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں، اس کے باوجود یہ خطرہ امر بیل کی مانند پروان چڑھتا جا رہا ہے۔ اسپین میں سات دہشت گردوں کی گرفتاری اس کا بین ثبوت ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کہاں کمی ہے اور تمام تر کارروائیاں بے اثر کیوں ہیں؟ اس سوال پر پوری دنیا میں ہنگامہ برپا کر دینے والے وکی لیکس کے انکشافات سے کچھ روشنی پڑتی ہے۔ ان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان چار دہشت گرد تنظیموں لشکر طیبہ، افغان طالبان اور ان کے اتحادی حقانی اور حکمت یار گروپ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکہ اس کو خواہ کتنا ہی فنڈ کیوں نہ دے دے وہ ان کی حمایت جاری رکھے گا اس سے دست کش نہیں ہوگا۔ یہ پیغام پاکستان میں امریکہ کی سابق سفیر انّی پیٹرسن نے اپنے اعلی حکام کو ارسال کیا تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی پیغامات منکشف ہوئے ہیں جن سے پاکستان کے ذریعے دہشت گردوں کی مدد کا پتہ چلتا ہے۔ ایسی بھی خبریں آئی ہیں کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف لڑائی تیز کرنے کے لیے جو مدد دی جاتی ہے اس میں سے کچھ حصہ دہشت گرد گروپوں کو بھی مدد کے طور پرجاتا ہے۔ خاص طور پر جو دہشت گرد جموں وکشمیر میں سرگرم ہیں ان کو پاکستان کی بھرپور حمایت اور مدد ملتی ہے۔ پاکستان بار بار اس کا اعادہ بھی کرتا رہا ہے کہ وہ کشمیر میں سرگرم عناصر کی مالی، اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔ ایسا وہ کھل کر کہتا ہے اور عالمی فورم پر کشمیر کی آواز اٹھا کر بھی ان کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ کہنا رہا ہے کہ پاکستان کی فوج، وہاں کی حکومت اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی دہشت گرد عناصر کی مدد کرتے ہیں اور ہندوستان میں کارروائی کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون دیتے ہیں۔ لیکن پہلے اس کی اس بات کو زیادہ وزن عالمی سطح پر نہیں دیا جاتا تھا۔ لیکن اب جبکہ دوسرے ممالک بھی اس کے شکار بننے لگے ہیں، یہ بات اب زیادہ قوت سے کہی جانے لگی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے اور جانچ کی جاتی ہے تو اس کا سرا پاکستان میں جا کر ملتا ہے۔ جو دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں ان سے پوچھ گچھ میں یہ انکشاف ہوتا ہے کہ انہوں نے یا تو پاکستان کی سرزمین پر ٹریننگ حاصل کی ہے یا وہ خود پاکستانی ہیں یا انہیں پاکستان کے انتہا پسندوں نے تربیت دی ہے۔
تازہ مثال اسپین میں دہشت گردوں کی گرفتاری ہے۔ جو سات لوگ پکڑے گئے ہیں ان میں ایک نائیجیریا کا باشندہ ہے اور چھ پاکستانی ہیں۔انہوں نے بار سلونہ میں سیاحوں کے پاسپورٹ چوری کئے اور ان میں گڑبڑی کرنے کی کوشش کی۔ تاکہ انہیں ان دہشت گردوں کو دیا جا سکے جو ممبئی پر خوفناک حملوں کے ذمہ دار ہیں اور جن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ یہ کارروائی ڈیڑھ مہینے تک نگرانی کی روشنی میں کی گئی۔ اس سے پہلے بھی کئی دہشت گرد پکڑے گئے ہیں اور ان کا تعلق کسی نے کسی طور پر القاعدہ یا لشکر طیبہ سے ثابت ہوا ہے۔ ان گرفتاریوں نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کیونکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب القاعدہ اور لشکر طیبہ جیسے دہشت گرد گروپوں نے اپنی سرگرمیاں کافی پھیلا لی ہیں۔ اب وہ صرف ہندوستان اور پاکستان یا افغانستان تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے خونیں عزائم یورپی ممالک تک وسعت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکہ اور یورپی ممالک میں ان کے خلاف سخت کارروائیاں ہو رہی ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں نائن الیون کے بعد کوئی بڑا دہشت گردانہ واقعہ نہیں ہوا ہے۔ اسی طرح یورپی ممالک میں بھی ویسا کوئی واقعہ نہیں ہوا جیسا کہ ممبئی میں ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ممالک دہشت گردی کے خلاف موثر ایکشن لے رہے ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے بھی سخت کارروائیاںکی جا رہی ہیں لیکن پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مکمل حمایت اور ان کی کھل کر ہمدردی سے یہ اقدامات پوری طرح کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ پاکستان نہ صرف اپنی سرزمین کو ہندوستان کے خلاف استعمال کرنے کی پوری چھوٹ دیے ہوئے ہے بلکہ وہ اپنے طور پر بھی ایسی کارروائی کرتا ہے جو دہشت گرد عناصر کے لیے مفید اور مددگار ثابت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر سرحد پر جنگجوو¿ں کو دراندازی میں مدد دینا۔ تاکہ وہ ہندوستان میں داخل ہوکر اپنا خونیں کھیل کھیل سکیں۔ ابھی گذشتہ دنوں کشمیر میں ایک ایسا ہی نوجوان پکڑا گیا تھا جو پاکستان سے ایک گروپ کی شکل میں ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوا تھا۔ اس کے باقی ساتھی تو ہندوستانی افواج سے مقابلے میں مارے گئے لیکن وہ نوجوان پکڑا گیا۔ اس نے میڈیا کے سامنے اقرار اور اعتراف کیا کہ کس طرح پاکستان کی حکومت ان لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اس نے اس کی تفصیل بتائی کہ وہ کیسے ہندوستان میں داخل ہوا، کیسے اس کے ساتھی مارے گئے اور وہ کیسے بچ گیا۔ اس نے اس سازش پر سے پردہ اٹھایا جو ہندوستان کے خلاف پاکستان کی سرزمین سے رچی جا رہی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ موجود ہیں اور ہندوستان کے وزیر دفاع اے کے اینٹونی کے مطابق وہاں دہشت گردی کے کم از کم 42کیمپ اب بھی چل رہے ہیں۔ پاکستان ہندوستان اور دوسرے ملکوں سے تو یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے گا اور کر رہا ہے لیکن اس نے ابھی تک ان کیمپوں کو بند کرنے یا انہیں تاخت وتاراج کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اس کی تصدیق دوسرے عالمی رہنما بھی کرتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپ سرگرم ہیں اور جب تک پاکستان ان کے خلا ف کا رروائی نہیں کرے گا دہشت گردوں کی کمر کو توڑ پا نا آسان نہیں ہوگا۔
ان حقائق کو وکی لیکس کے انکشافات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان اگر چہ دہشت گردی مخالف جنگ میں امریکہ کا ایک کلیدی حلیف ہے لیکن وہ دل سے اس میں شامل نہیں ہے۔ اگر دل سے شامل ہوتا تو ان کیمپوں کو بند کرتا جو پوری دنیا کو انسانیت کشی کے میدان میں تبدیل کرنے کا سنگین خواب دیکھ رہے ہیں اور اس سلسلے میں اپنی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ وکی لیکس کے انکشاف سے پہلے سے ہی ہندوستان یہ بات کہتا رہا ہے کہ پاکستان کے قول وفعل میں تضاد ہے۔ وہ وعدہ کچھ اور کرتا ہے اور اس کا عمل کچھ اور ہے۔ اس نے بارہا یہ بات بھی کہی ہے کہ پاکستانی حکمراں دہشت گروں کی مدد کرتے ہیں۔ ممبئی حملے کامیاب ہی نہیں ہوتے اگر حکومت میں شامل اہم لوگ اس میں ملوث نہ ہوتے۔ نیو یارک میں اس سلسلے میں جو مقدمہ قائم کیا گیا ہے اس میں بھی پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے اہلکاروں اور افسروں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ گویا اگر پاکستان خلوص کے ساتھ چاہتا ہے کہ برصغیر دہشت گردی سے پاک ہو جائے اور دنیا کے دوسرے ممالک بھی اس عفریت سے نجات پا جائیں تو اسے موثر کارروائی کرنی ہوگی۔ اسے قول وفعل میں یکسانیت لانی ہوگی۔ کیونکہ بہر حال دہشت گردی سے اسے بھی خاصا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لہذا اسے چاہئے کہ وہ صدق دلی سے دہشت گردی مخالف جنگ میں شرکت کرے تاکہ دہشت گردی کا وہ عفریت جو پوری دنیا کے امن وامان کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے قابو میں کیا جا سکے اور نہ صرف ہندوستانی برصغیر بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں کو بھی انسانیت کے اس سب سے بڑے دشمن سے نجات دلائی جا سکے۔
( مضمون نگار سے 9818195929 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے پر رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔)

 

All categories