
عرب انقلاب اور خواتین کا رول
اصغر علی انجینئر
2011کے شروع ہوتے ہی عالم عرب میں زبردست سیاسی اتھل پتھل مچی۔ ابھی جنوری 2011ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ تیونیشیا کے جابر حکمراں زین العابدین کا تختہ پلٹ دیا گیا

اصغر علی انجینئر
2011کے شروع ہوتے ہی عالم عرب میں زبردست سیاسی اتھل پتھل مچی۔ ابھی جنوری 2011ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ تیونیشیا کے جابر حکمراں زین العابدین کا تختہ پلٹ دیا گیا
محمد احمد کاظمی
عرب ممالک میں جاری عوامی انقلاب کو آخر کار ایک اور کامیابی مل گئی ۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح جو 3جون کو ایک حملے میں ، مبینہ طور پر زخمی حالت میں کچھ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سعودی عرب فرار ہوگئے تھے اب وطن واپس نہیں آئیں گے۔ فرانس کی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک سعودی افسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یمن کے صدر وطن واپس نہیں ہوں گے۔ یہ یمن کی حکومت کے اس بیان کے برخلاف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ علی عبداللہ صالح بہت جلد وطن واپس ہوں گے۔ سعودی افسر نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ علی عبداللہ صالح کہاں رہیں گے ۔
3جون کو صنعا میں صدارتی محل پر مخالفین کے حملے میں صالح کے زخمی ہونے کے بعد انہیں اور پانچ دیگر اعلیٰ حکام کو سعودی عرب نے اپنے یہاں منتقل کرا لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یمنی صدر کا جسم 40فیصد جھلس گیا ہے اور وہ سعودی عرب کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ صدر عبداللہ صالح کے فرار ہونے کے بعد سے یمن کی عوام نے احتجاج مزید شدید کر دیا ہے ۔ اب یمنی عوام ملک میں ان کے بیٹوں احمد صالح اور خالد عبدللہ صالح کو بھی ملک میں نہیں دیکھنا چاہتے اور ان سے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ دونوں بھیہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔جمہوریت نوازوں کا یہ بھی مطالبہ شدت اختیا ر کرتا جا رہا ہے کہ ملک میں فوری طور پر عبوری کونسل کا قیام ہو تاکہ جمہوریت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ علی عبداللہ صالح کو واپس یمن میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یمن کے نائب صدر عبد و رابو منصور ہادی جو کہ صدرکی غیر موجودگی میں حکومت چلا رہے ہیں نے اب تک داخلی اور بین الاقوامی دباو¿ کے باوجود عبوری کونسل کے قیام کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے۔
ادھر بحرین میں سعودی افواج کے ذریعہ عوام پر غیر معمولی مظالم کے باوجود عوامی احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر مسلح عوام پر گولی باری، اسپتالوں پر حملے، مساجد اور امام بارگاہوں کا انہدام اور قرآن سوزی کے واقعات ہونے کے باوجود عوام الخلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو بحرین کے مشرقی شہر سطرہ اور دیگر مقامات پر ہزاروں افراد نے حکومت مخالف احتجاجات میں حصہ لیا۔ اس سے یہ واضح ہے کہ عوام اب موت سے خوفزدہ نہیں ہے۔ بحرین میں جاری مظالم کی ویڈیو میں نے خود دیکھی ہیں۔ چوراہے پر حکومت مخالف افراد کے ہاتھ پیر باندھ کر عوام کے سامنے ان پر کاریں چلادی گئیں اور قتل کر دیا گیا۔ بہت سے افراد کو محض حکومت مخالف نعرہ لگانے کی وجہ سے گولی سے مار دیا گیا۔ان واقعات کے باوجود بحرینی عوام احتجاجات میں حصہ لے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام میں موت کا خوف ختم ہونے کے بعد اب انہیں کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی ۔ مارچ سے احتجاجات جاری ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ بھی بحرین میں طویل مدت تک عدم استحکام برداشت کر سکے گا ۔ سعودی عرب نے اب تک یمن او ربحرین میں عوامی تحریکوں کو دبانے کے امریکی اور اسرائیلی منصوبے میں اس لئے بھی غیر معمولی تعاون دیا ہے کہ ان ممالک کے بعد سعودی حکام خود خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ یمن میں القاعدہ کا خوف دکھا کر اور بحرین میں شیعہ اکثریت کے حکومت میں آنے کے خدشہ کے بہانے سعودی عرب خود اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی تیل سے مالا مال علاقوں میں حکومت مخالف تحریک جاری ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب سعودی حکومت کے خلاف ملک میں احتجاجات ہورہے ہیں۔
ادھر شمالی افریقہ میں مراقش کے بادشاہ محمد ششم نے 17جون کو ایک ٹیلی ویژن سے خطاب کے دوران ملک میں سیاسی اصلاحات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ان کے اختیارات کم ہوں گے اور جمہوری پارلیمانی نظام کا قیام عمل میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںآئندہ حکومت کا سربراہ سیاسی جماعتوں میں سے منتخب ہوگا جو کہ پارلیمانی انتخابات میں سرفہرست ہوگی ۔ نئے نظام کے قیام کے سلسلے میں ملک بھر میں یکم جولائی کو ریفرنڈم عمل میں آئے گا ۔ نئے آئین میں مقامی بربرزبان کو عربی کے علاوہ دوسری سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ یعنی اگر مراقش میں واقعی جمہوری نظام کا قیام عمل میں آگیا تو یہ افریقہ کا انقلاب سے متاثر تیسرا ملک ہوگا۔ البتہ چوتھا ملک لیبیا بھی تبدیلی کے کافی نزدیک ہے ۔ وہاں تیل پر قبضے کی لڑائی ناٹو افواج کے ذریعہ جاری ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق لیبیا میںعراق سے بھی زیادہ بربادی ہوچکی ہے اور معمر قذافی حکومت سے برطرف نہیں ہورہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ کے روز انہوں نے کہا ہے کہ وہ ناٹو افواج کو ناکام کر دیں گے۔ طرابلس پر بمباری کے تازہ واقعات کے بعد معمر قذافی نے راجدھانی کے گرین اسکوائر پر ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ملک میں اپنی مرضی کے برخلاف کوئی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے۔ ملک کا مشرقی خطہ مخالفین کے قبضہ میں ہے جبکہ حکومت اور مخالفین کے درمیان مغربی شہر مصراتہ میں بھی جنگ جاری ہے ۔ طرابلس میں ناٹو افواج کی بمباری جاری ہے۔ مشاہدین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ناٹو ممالک کے معاملات ابھی تک مخالفین سے طے نہیں ہوئے ہیں اسی لئے قذافی کی حکومت کے خاتمے کا آخری مرحلہ مکمل نہیں ہوپارہا ہے۔
ادھر شام میں بھی حکومت مخالف احتجاجات اور ان کے خلاف حکومت کی شدید کارروائیاں جاری ہیں ۔ صدر بشارالاسد کاکہنا ہے کہ سعودی عرب سمیت کچھ غیر ملکی طاقتیں ملک میں خلفشار پھیلا رہی ہیں۔ ان کا مقصد شام میں فلسطین حامی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے شام کے ساحلی شہر درعہ میں لیبیا میں بن غازی کی طرز پر مخالفین کا مرکز بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی۔ واضح رہے کہ تمام عرب ممالک میں شام واحد ملک ہے جو عراق-ایران (1980-88) جنگ کے دوران ایران کی حمایت کرتا تھا۔ شام کے حماس اور حزب اللہ سے تعلقات بھی بہتر ہیں ۔ امریکہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں قرار داد پاس کرانے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ امریکہ ایک طرف شام کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی پابندیاںلگانے کا طرف دار ہے او ردوسری طرف بحرین میں ہر قسم کے مظالم پر خاموش ہے۔
ادھر مصر کے اقوام متحدہ میں سفیر ماجد عبدالعزیز نے ایران سے تعلقات بہتر ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ مصر اور ایران مسلم ممالک میں اہم ترین اور با اثر ممالک ہیںاور ہم ایران سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔
در ایں اثنا لبنان میں حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ ابراہیم امین السید نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ عرب ممالک کے حالیہ انقلاب سے ایران کوسیاسی فائدہ ہوگا اور امریکہ اور اسرائیل کو نقصان ہوگا۔ اب سے پہلے بھی مئی امریکی اور یوروپی تجزیہ نگاروں نے بھی ایسے حیالات کا اظہار کیا ہے۔
میں نے اب سے پہلے بھی اپنی تحریروں میں کہا ہے کہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری عوامی بیداری تحریک کو اب کوئی طاقت قابو میں نہیں کر سکتی۔ ان ممالک میں بادشاہتوں کے خاتمے اور جمہوری نظام کے قیام کے عمل کو ملتوی کرنے کی امریکی اور اسرائیلی سازشوں کی ناکامی یقینی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں خطے میں ان کا وجود اور مفادات دونوں خطرہ میں ہیں۔ سیاسی مبصرین کو یقین ہے کہ عوامی بیداری کے خلاف ہر قسم کی کوششوں کے باوجود جمہوریت کے حق میں جاری آندھی کے رخ کو کوئی نہیں موڑ پائے گا ۔بہتری اسی میں ہے کہ دنیا کے ممالک خطے کی عوام کی امنگوں کو تسلیم کرتے ہوئے وہاں جمہوری نظام کے قیام میں تعاون کریں۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)
محمد احمد کاظمی
بین الاقوامی سیاست میں کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جو عوامی نظر سے دور ہوتے ہیں ۔ حکومتیں اور ان سے متاثر میڈیا بھی ان حقائق کو مصلحتاً عوام سے دور رکھتی ہیں ۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اس سے ان کی جو عوام کے درمیان مقبول شبیہ بنائی گئی ہے اسے نقصان پہنچے گا ۔ یعنی حقائق کچھ ہوتے ہیں اور بیچاری عوام کچھ اور ہی سمجھتی ہے ۔ میں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ اب تک بہت سے ایسے مسائل پر عوام کوحقائق سے روشناس کرایا ہے جن پر اب تک پردہ پوشی کی گئی تھی۔ میری اس طرز تحریر پر اکثرقارئین نے غیر معمولی اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اس مضمون کے ذریعہ میں قارئین کے سامنے ایسے حقائق سامنے رکھ رہا ہوں جو عام طور پر سعودی عرب میں موجود مقدس مقامات کی وجہ سے وہاں کی حکومت کو بھی مقدس سمجھ لئے جانے کی وجہ سے بنی شبیہ کے قطعی برخلاف ہیں۔
سعودی عرب اور دنیا بھر کے عوام اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ 1967کی عرب -اسرائیل جنگ کے بعد سے اب تک دفاعی نظریہ سے کافی اہم سعودی عرب کے دو جزیرے تیران اور صنا فیر اسرائیل کے قبضہ میں ہیں اور گزشتہ 43برسوں میں سعودی حکومت نے ان اہم جزائر کو واپس حاصل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ یہ دونوں جزیرے دفاعی نظر سے غیر معمولی طور پر اہمیت کے حامل ہیں ۔ خلیج عقبہ میں داخلے کے محض 13 کلو میٹر چوڑے دہانے پر موجود ان جزیروں کا استعمال قابض اسرائیل عرب ممالک سے تحفظ اور ایلات بندرگاہ تک آمد ورفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے میںکرتا رہاہے۔ یہیں سے اردن کی بندرگاہ عقبہ کے لیے بھی راستہ ہے۔ واضح رہے کہ اردن اور مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے ہیں جسکے خلاف وہاں کی عوام اب احتجاج کر رہی ہے۔
دنیا بھر کے مختلف موضوعات پر حقائق پرمبنی انٹر نیٹ ویب سائٹ ویکی پیڈیا کے مطابق تیران جزیرہ کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ تیران اور صنافیرجزیرے خلیج عقبہ کے دہانے پر واقع ہیں اوربحرہ احمر کو جدا کرتے ہیں۔ تیران جزیرہ کا رقبہ 80مربع کلو میٹر ہے جبکہ صنافیر جزیرہ کا رقبہ 33مربع کلو میٹر ہے۔ ان جزیروں کو1967کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے سعودی عرب کے بادشاہ فیصل نے مصر کے صدر جمال عبدالناصر کو اسرائیل کے بحری راستے کو بند کرنے کی غرض سے سونپا تھا۔ لیکن جنگ میں اسرائیل سے مصر کے ہارنے کے بعد سے ہی یہ جزیرے صہیونی حکومت کے قبضہ میں ہیں۔ ان پر اسرائیل کے قبضہ کے 11ماہ بعد سعودی عرب کے امریکہ میں سفیر فیصل نے امریکہ کی وزارت خارجہ کو ایک خط لکھ کر ان جزیروں پر اسرائیلی قبضہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔
اس وقت اسرائیل کے امریکہ میں سفیر اصحاق رابن نے امریکہ کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ جزیرے اسرائیل کے لئے کافی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ فتح تحریک کے محض تین مسلح جوان تیران دہانے کو بند کرسکتے ہیں ۔ اس لئے ان جزائر کے تعلق سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کے بعد ہی فیصلہ ہو سکتا ہے ۔
بعد میں مصر اور سعودی عرب دونوں نے ہی ان جزیروں پر دعویٰ کرناچھوڑ کر ایک دوسرے کی ملکیت بتانا شروع کر دیا تاکہ اسرائیل اور امریکہ سے ناراضگی مول نہ لی جائے۔ اس سے اسرائیل نے ان جزیروں پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا۔ آقاﺅں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے گئے اپنے قومی مفادات پر سمجھوتے کی یہ بہترین مثال ہے۔ البتہ سعودی حکومت کے ذریعہ شایع نقشوں میں آج بھی تیران اور صنافیر جزیرے موجود ہیں۔
1967سے 1979تک یہ جزیرے پوری طرح اسرائیل کے قبضہ میں تھے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے بعد یہاں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی گئی تاکہ مصر اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کا تنازع پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہاں اسرائیل کی فوج بھی یہاں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب حکومت نے ان جزائر کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر اس معاملے سے چشم پوشی اختیار کر لی ہے۔ مصر نے بھی ان جزیروں کو اسرائیل سے واپس لینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ انور سادات کاکہنا تھا کہ تیران اور صنافیر کا تعلق مصر سے نہیں اور یہ جزیرے سعودی عرب کی ملکیت ہیں اس لئے انہیں واپس حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کو کوشش کرنی چاہئے۔ادھر سعودی عرب حکومت کے کچھ عناصر کا کہنا ہے کہ کیونکہ ان جزائر میں پانی اورتیل موجود نہیں ہے اس لئے ان کی سعودی حکومت کی نظر میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر سعودی حکومت کی خاموشی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کو یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی کہ سعودی حکومت دونوں جزیروں کے موضوع پر اسرائیل کے قومی مفادات کی خاطر خاموش ہے۔ اس حقیقت کو سعودی حکومت اپنی عوام اور تمام مسلمانوں سے اس لئے خفیہ رکھنا چاہتی ہے کہ سرزمین حجاز خاص تقدس کی حامل ہے اوراگر یہ حقائق عوام کے سامنے آئے تو عرب دنیا کی سربراہ سمجھی جانے والی حکومت کی بدنامی ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے شہر حقل اور تیران و صنافیر جزائر کے درمیان شکار کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب حکومت نے یہ قدم اسرائیل کے جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اٹھایا ہے ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اصحاق رابن کے مجوزہ امن معاہدہ پر سعودی عرب نے دستخط کئے ہیں؟ یا یہ کہ سعودی حکومت نے تیران دہانے کے راستے سے اسرائیل کی ایکلات بندرگاہ پر تیل کے ڈپو بھرے رکھنے کی ذمہ داری اپنے سرلی ہے؟
خطے میں اسرائیل کا تحفظ امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیح رہی ہے۔ اس خطے میں سعودی عرب امریکہ کا نزدیک ترین اتحادی ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا رہا ہے ۔ عرب ممالک میں حالیہ عوامی تحریکوں سے امریکہ اور اسرائیل خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بحرین اور یمن جیسے پڑوسی ملکوںمیں سعودی حکومت بادشاہتوں کی حمایت جار ی رکھے ہوئے ہے۔ بحرین میں امریکہ کی فوج کی مہمان نواز الخلیفہ حکومت کی حمایت میں سعودی عرب نے اپنی افواج وہاں بھیجی ہوئی ہیں۔ اور وہاں مسلکی بنیاد پر عوام کو کچلنے میں سرکردہ کردار نبھا رہی ہے ۔ یمن سے فرار ہونے والے صدر علی عبداللہ صالح بھی سعودی عرب میں زیر علاج ہیں ۔تیونیسیا کے صدر زین العابدین پہلے سے ہی وہاں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کو خطے کے ممالک میں عوامی اور جمہوری حکومتیں قائم ہونے کا خطرہ ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ان کے ذریعہ ان ممالک میں کی جانے والی لوٹ ختم ہوجائے گی اور اسرائیل محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ ظاہر کئے جا رہے خطرہ کو بنیاد بنا کر سعودی حکومت اپنی بھی حفاظت کرنا چاہتی ہے اسی لئے وہ عوامی تحریکوں کو کچلنے میں سرگرم ہے۔سعودی عرب میں بھی عوامی تحریک روز بروز مضبوط ہورہی ہے ۔ حکومت آل سعود کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب عوام اس کے خلاف اس شدت سے کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ فی الحال سعودی عرب کے مشرقی تیل سے مالا مال علاقوں میں حکومت مخالف تحریک جاری ہے ۔ لیکن میرا یقین ہے کہ جیسے ہی یمن اور بحرین میں حکومتیں تبدیل ہوں گی پورے سعودی عرب میں بھی اس تبدیلی کی لہر کو کوئی نہیں روک پائے گا
حالانکہ سعودی حکومت نے ابھی تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے پھر بھی ملک میں صہیونی تاجروں نے بڑی حد تک قبضہ کر لیا ہے۔ دنیا بھر سے حج اور عمرہ پرجانے والے مسلمان با آسانی اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں حرم کے صدر دراوزہ کے سامنے کثیر منزلہ ہوٹل اور بازار میں با آسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ وہاں یہودیوں کی بڑی کمپنیاں کا روبار کر رہی ہیں۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو اپنے کاروبار سے حاصل فائدہ سے اسرائیلی حکومت کو امداد دیتی ہیں۔ یعنی دنیا بھر کے حاجیوں کی جیب کا پیسہ فلسطینی بے گناہوں کے قتل کے لیے سعودی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے اسرائیلی حکومت تک پہونچتا ہے۔ 2006میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے کہنے پر لبنان میں سعودی عرب نے حزب اللہ کو کمزور کرنے کی سازشوں میں بھی برابر کا حصہ لیا تھا ۔ مغربی میڈیا کے ذریعہ حزب اللہ کو کمزور کرنے کی جو افواہیں اڑائی گئی تھیں انمیں وہ برابر شامل تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور حز ب اللہ کے درمیان جنگ کے بعد سے ہی تمام عرب ممالک میں عوام کے درمیان مسلکی اختلاف بھلا کرحزب اللہ تحریک اور اسکے رہنما حسن نصر اللہ سب سے مقبول ترین رہنما ہیں۔
اسلامی دنیا کے لئے یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ جن ممالک کی حکومتوں کو مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا وہی امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔ اس کے نقصان کے طور پر سرزمین فلسطین اور مسلمانوں کا قبلہءاول بیت المقدس صہیونیوں کے قبضہ میں ہے۔ خطے میں مسلکی منافرت پھیلانے والی سازشوں سے دنیا بھرمیں مسلمان کمزور ہوا ہے۔ ایران کی کامیابی کو دیکھ کر عرب عوام بھی اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں اگر عوامی اور جمہوری حکومتیں قائم ہوگئیں تو امریکہ اور اسرائیل کو مزید ناکامیاں حاصل ہو ں گی ۔ اس لئے ان دونوں کی کوشش ہے کہ عوامی تحریکیں ناکام ہوجائیں۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)
محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک میں بادشاہتوں کے خلاف جاری عوامی تحریکوں کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل خطے میں روز بروز کمزور ہورہے ہیں۔ اس کا اثر امریکہ کی عراق سے متعلق پالیسی پر بھی صاف نظر آرہا ہے ۔ اب حال یہ ہے کہ امریکہ عراق میں اپنی افواج کے انخلا کی طے شدہ مدت 31دسمبر2011میں توسیع چاہتا ہے جبکہ عراقی حکومت نے صاف طور سے ’ امریکی افواج‘ کی مزید مہمان نوازی سے انکار کر دیا ہے ۔ امریکہ نے 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عراق سے جتنی توقعاتوابستہ کر رکھی تھیں وہ اسے حاصل ہوتی نظر نہیں آرہیں ۔ ملک میںامریکی افواج کے موجود ہونے کے باوجود اب سے پہلے بھی بظاہر کمزور لیکن جمہوری حکومتوں نے امریکہ کو نہ تو تیل کے کسی سودے میں ترجیح دی اور نہ ہی ملک میں مستقل فوجی مراکز قائم کرنے کی اجازت دی ہے ۔ شاید امریکہ کو توقع تھی کہ جس طرح 1991کی جنگ کے بعد کویت نے قدرتی وسائل امریکہ کو سونپ دئے تھے اسی طرح وہ عراق کے قدرتی وسائل پر بھی ’قابض‘ ہوجائے گا۔
12مئی کو عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے بغداد میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکی افواج کی واپسی کو دسمبر 2011سے مزید ملتوی نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ انخلا کی مدت میں توسیع عراقی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اگر امریکہ عراق میں اپنی افواج کو طے شدہ مدت سے زیادہ رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لئے عراق کے ساتھ نیا معاہدہ کرنا ہوگا اور اس مجوزہ معاہدہ پر تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس مہینے تمام سیاسی جماعتوں کے اتحادوں کے ساتھ اس موضوع پر تبادلہ خیال کر یں گے۔ اگر ان جماعتوں نے امریکی تجویز کو تسلیم کیا تو میں بھی تسلیم کر لوں گا اور انہوں نے تسلیم نہ کیا تو میںاسے مسترد کروں گا۔ البتہ وزیر اعظم نوری المالکی نے دسمبر 2011کے بعد ملک میں امریکی افواج کے باقی رہنے کے امکانات سے انکار کیا ہے ۔ واضح رہے کہ عراق میں اس وقت 47ہزار امریکی فوجی ہیں اور انہیں دسمبر 2011تک وطن واپس جانا ہے۔
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے گزشتہ ماہ عراق کے سفر کے دوران کہا تھا کہ افغانستان جنگ کی ذمہ داری اور عرب ممالک میں کشیدگی کے باوجود©’ اگر عراق چاہے‘ تو امریکہ اپنی افواج دسمبر 2011کے بعد بھی یہاں رکھ سکتا ہے ۔ واضح رہے کہ دنیاکی تاریخ میں اب سے پہلے بھی غیر ملکی افواج کا ’مقبوضہ ملک‘ سے انخلاءملتوی کرنے کا یہی طریقہ رہا ہے کہ مقامی حکومت پردباو¿ ڈال کر ’ درخواست‘ کرا دی جائے ۔لیکن عراقی حکومت غیر معمولی شجاعت اور سیاسی پختگی سے کام لیتے ہوئے امریکی افواج کی واپسی طے شدہ پروگرام کے تحت کرانے میں دلچسپی دکھا رہی ہے ۔ امریکی وزیر دفاع نے گذشتہ ماہ بغداد کے نواحی علاقہ میں امریکی افواج کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت کو امریکی افواج کے انخلاءکی مدت میں توسیع پر جلد فیصلہ لینا چاہئے تاکہ امریکہ اپنی پلاننگ میں ضروری تبدیلی کر سکے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کے مزید عراق میں رہنے سے امن برقرار رکھنے اور عراقی افواج کو تربیت دینے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں محض انتظار کرنا ہے کیونکہ اس سلسلے میں عراق کو ہی فیصلہ کرنا ہے۔
عراق میں عوامی سطح پر امریکی افواج کی موجودگی پسند نہیں کی جا رہی حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ذریعہ صدام حکومت کے خاتمے پر خوش ہیں ۔ اکثر عراقیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں امریکی افواج کی موجودگی ان کی قوم کے وقار کے خلاف اور جنگ کے 8سال بعد غیر ضروری ہے۔برطانیہ کی تجزباتی تنظیم اوپنین ریسرچ بزنس کے مطابق 2003سے اب تک مقبوضہ عراق میں 10لاکھ سے زیادہ افراد جنگی واقعات کی وجہ سے ہلاک اور 50لاکھ سے زیادہ بچے یتیم ہوچکے ہیں۔
عراق کے موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی کے منتخب ہونے سے پہلے امریکہ اور سعودی عرب نے اپنے زیر اثر ایاز علاوی کو وزیر اعظم بنانے کی غیر معمولی کوششیں کی تھیں ۔ سعودی عرب نے انتخابی مہم کے دوران اعلانیہ طور پر علاوی کو خاطر خواہ رقم بھی دی تھی۔ مارچ 2010میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں ایاز علاوی کے اتحاد کو 325میں سے 91اور نوری المالکی کے اتحاد کو 89سیٹیں ملی تھیں۔ اس وقت کئی سیاسی جماعتوں نے ایاز علاوی کے حق میں ووٹوں کی گنتی میں دھاندلی کا الزام بھی لگایاتھا ۔ عراق کے سب سے بااثر مذہبی رہنما آیت اللہ سید علی سیستانی کی نوری المالکی کو حمایت کی وجہ سے دیگر کئی جماعتیں مالکی کے ساتھ مل گئیں جبکہ ایاز علاوی تنہا رہ گئے۔ آخر کار تمام سازشوں کی ناکامی کے بعد نومبر 2010 میں مالکی وزیر اعظم بنے ۔ نوری المالکی کی حکومت کی تشکیل میں مقتدیٰ صدر کا کافی اہم کردار ہے اور وہ شروع سے ہی ملک میں امریکی افواج کی موجودگی کی مخالفت کرتے رہے ہیں ۔ مقتدیٰ صدر کی زیر قیادت مہدی آرمی نے 2004میں مقدس شہر نجف میں امریکی فوجیوں سے آمنے سامنے کی جنگ کی ہے۔ اس جنگ میں دونوں طرف کافی نقصان ہوا تھا او ر بڑی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ میں نے اس جنگ کے فوری بعد نجف کا دورہ کیا تھا اور حضرت علی کے روزہ کے نزدیک شمال میں واقع مکانات اور مشرق مین موجود تاریخی بازارکا تباہ حال دیکھا تھا۔ ان مکانا ت اور ہوٹلوں پر وادی السلام قبرستان کی جانب سے توپیں چلائی گئیں تھیں ۔ امریکی افواج نے اس موقع پر وادی اسلام میں کئی بزرگان دین کی قبروں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔ میںنے قبرستان کے ایک حصے میں مہدی آرمی کے جوانوں کی قبروں پر لوگوں کو عقیدت کے پھول چڑھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ مقامی لوگوں کاکہنا تھا کہ اس وقت جنگ رکوانے میں آیت اللہ سیستانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ وہی وقت تھا جب آیت اللہ سیستانی علاج کے لئے لندن گئے تھے۔
2003جنگ کے بعد سے ہی مقتدیٰ صدر کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کو واپس جانا چاہئے اور ان کی موجودگی سے ملک کا نقصان ہی ہورہا ہے۔ عام لوگوں اور بے قصورشہریوں کا امریکی افواج کے ذریعہ قتل عام اور قیدو بند کرنے سے عوام میں امریکہ سے نفرت میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔ مقتدیٰ صدر کی امریکہ کے خلاف شدید تنقید کی وجہ سے عام طور سے نوجوان طبقہ ان کا احترام کرتا ہے۔بغداد کے جنوب میں واقع صدر سٹی اور جنوبی عراق کے اکثر علاقوں میں مقتدیٰ صدر کے حامی موجود ہیں ۔ نوری المالکی حکومت امریکی افواج کے انخلاءکی مدت میں توسیع کا فیصلہ مقتدیٰ صدر کی حمایت کے بغیر نہیں کر سکتی۔
بیروت میں مقیم مشرق وسطیٰ مسائل کے ماہر زید العیسیٰ نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن انٹر ویو میں کہا ہے کہ امریکہ کے لئے عراق کی جغرافیائی پوزیشن کافی اہم ہے۔ مصر اور مشرق وسطیٰ میں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے امریکہ چاہتا ہے کہ اس کی افواج عراق میں مقیم رہیں۔ امریکہ میں حکومت پر دباو¿ ہے کہ وہ عراق اور سعودی عرب سے اپنی افواج واپس نہ بلائے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اپریل میں عراق دورہ سے 24گھنٹے پہلے ہی سعودی شاہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔ وزیر دفاع کے اپریل میں عراق دورہ کے بعد کئی امریکی اعلیٰ حکام عراق کا سفر کر چکے ہیں تاکہ نوری المالکی پر دباو¿ ڈال سکیں۔ واضح رہے کہ امریکہ نے عراق فتح کے بعد بغداد میں دجلہ ندی کے الجمہور پل کے نزدیک صدام کے سابق محل کے مقام پرغیر معمولی بڑا سفارتخانہ قائم کیا تھا ۔ اب وہ اس سفارتخانہ کی حفاظت کے بہانے سے بھی بغداد میں بڑی تعداد میں اپنی فوج رکھنا چاہتا ہے۔ اسی علاقے کو محفوظ ’گرین زون‘ کہا جاتا ہے ۔ اس کے صدر دروازے پر اب تک سیکڑوں خودکش حملے اور بم دھماکے ہوچکے ہیں۔ زید العیسیٰ کاکہنا ہے کہ امریکہ عراق میں کسی بھی بہانے سے مستقل موجودگی چاہتا ہے۔
حال ہی میں ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے بغداد کا دورہ کیا ہے ۔ اس موقع پر وزیر اعظم نوری المالکی نے عراق کی ترقی میں ایرانی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق تاریخی تعلقات کی روشنی میں باہمی اقتصادی تعاون میں اضافہ کر سکتے ہیں ۔ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے وزیر اعظم کے علاوہ صدر جلال طالبانی اور وزیر خارجہ ہوشیار زیباری سے باہمی امور اور خطے میں رونما ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا ۔ واضح رہے کہ 2003میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی دونوں ممالک کے درمیان سیاسی امور پر تبادلہ خیال اور تجارت میںاضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں طرف سے ہی مذہبی زائرین کی آمد و رفت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکہ عراق میں اپنی افواج کے قیام میں توسیع کے لئے غیر اصولی طریقے بھی اپنا سکتا ہے۔ اب سے پہلے بھی اس نے ملک میں مسلکی منافرت پھیلانے کے لئے سعودی شدت پسندوں کا سہارا لیا تھا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ سعودی حکومت کی مرضی کے خلاف وہاں کے شہری عراق میں داخل ہو سکیں؟2007میں ایک سعودی وزیر نے یہ اعتراف کیا تھا کہ 2500سعودی نوجوان عراق میں جہاد کے لئے داخل ہوگئے ہیں اور جب وہ وطن واپس آئیں گے تو سعودی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔کیا یہ ممکن ہے کہ بغیر امریکہ کی مرضی کے سعودی حکومت اپنے شہریوں کے عراق میں داخل ہونے پر چشم پوشی کر لے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عراق کی جانب سے امریکی افواج کے قیام کی مدت میں توسیع سے کیا گیا انکار واشنگٹن نے ’قبول نہ کیا‘ تو عراق میں مسلکی کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہو سکتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ عراق حکومت اس مرحلے سے کیسے گزرنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)
محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
شمالی افرےقہ اورعرب ممالک مےں عوامی انقلاب مختلف مراحل مےں ہے۔مصر مےں آئند ہ ستمبر مےں عوامی انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور سابق صدر حسنی مبارک قےد مےں ہےں اور وہا ں کے وزےر ا نصاف نے کہا ہے کہ اگرمبارک کے خلاف عوامی قتل عام کا جرم نابت ہوگےا تو انہےں پھانسی دی جاسکتی ہے ۔لےبےا کے رہنما معمر قذافی کے اےک بےٹے اور کچھ دےگر اقربا کے ناٹو بمباری مےں مارے جانے کی اطلاع ہے ۔قذافی نے ناٹو اور امرےکہ کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کے لئے جو پیشکس کی تھی اسے نا منظور کر دیا گیا ہے۔اب چونکہ امرےکہ کا لےبےا کی مخالف جماعتو ں اور خاص طور سے بن غازی مےں عبوری حکومت کے ساتھ تےل پر’ معاہدہ‘ ہو گےا ہے اس لئے لےبےا کی حکومت کے جلد خاتمے کے امکان مےں اضافہ ہو ا ہے ۔ممکن ہے کہ اس جنگ کو کچھ دن مزےد طول دے کر امرےکہ اور اسکے اتحادی ممالک تےل سے متعلق ’عہدو پےمان‘ کو مزےد مستحکم کرنے کی کوشش کرےں۔ بحرےن مےں امرےکہ اور سعودی عرب کی مدد سے الخلےفہ حکومت تمام انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے عوامی انقلاب کو دبانے کے لئے کوشاں ہے۔مغربی مےڈےا بحرےن کے حالات سے چشم پوشی اختےار کیے ہوئے ہے جبکہ وہاں اب بھی حکومت مخالف احتجاج جاری ہےں۔بے گناہوں کے قتل عام اور قرآن سوزی جےسے واقعات پر بھی امرےکہ اور سعودی نواز عناصر دنےا بھر مےں خاموش ہےں۔ ےمن مےں علی عبداللہ صالح کو مستقبل مےں قےد و بند سے بچانے کے لئے سعودی عرب اور دےگر عرب ممالک کوششوں مےں مصروف ہےں ۔لےکن مخالفےن کا کہنا ہے کہ علی عبداللہ صالح عہدہ صدارت سے الگ ہوں اور انکے خلاف مقدمات چلائے جائےں۔ ادھر شام مےں صدربشار الاسد کے خلاف ملک بھر مےں احتجاج پھےل رہا ہے ۔وہاں اب تک تقرےباً ساڑھے پانچ سو افراد مارے جا چکے ہےں۔ادھر مصر نے حسنی مبارک کی اسرائےل نواز پالےسی سے چھٹکارہ پانے کے بعد قومی مفادات کے لئے کام کرنا شروع کردےا ہے ۔ حال ہی مےں فلسطےن کے اسمائےل حانےہ کی رہنمائی والے حماس اور ابوماذن محمود عباس کی رہبری والے الفتح گروپ کے درمےان ہونے والا معاہدہ مصر کی ثالثی کے نتےجہ مےں ہی ممکن ہو سکا ہے ۔
واضح رہے کہ 2006انتخابات مےں حماس کو فلسطینی پارلمینٹ میںاکثرےت حاصل ہوئی اور جمہوری طرےقے سے منختب حکومت کو امرےکہ اور دےگر مغربی ممالک نے محض اسلئے تسلےم نہےں کےا تھا کہ حماس آج بھی اسرائےل کو تسلےم نہےں کرتا ۔ےہ دلچسپ بات ہے کہ امرےکہ او رمغربی ممالک ےہ جانتے ہوئے کہ اسرائےل کا قےام سرزمےن فلسطےن پر زبردستی غیرقا نونی قبضہ کرکے قائم کےا گےا ہے اس حقےقت پر پردہ پوشی کرنے کی تمام ترکوششےں کرتے رہتے ہےں۔انہےں ممالک نے اسرائےل کو اقوام متحدہ کی رکنےت دلا کر ےہ کہنا شروع کےا ہے کہ بےن الاقوامی سطح پر تسلےم شدہ” ملک “ کو تسلےم نہ کرنے والے ” دہشت گرد“ ہےں ۔ اب مصر مےں ےہ آواز بھی بلند ہونے لگی ہے کہ حکومت اسرائےل کے ساتھ امن معاہدہ ختم کرے اور اسے کم قےمت پر دےے جانے والے گےس کی فراہمی بھی بند کی جائے ۔حال ہی مےں اسرائےل کے نائب وزےراعظم اور خفےہ محکمہ کے وزےر ڈےن مےری نے بےن الاقوامی امور کے ماہر ہندوستانی صحافی سعےد نقوی سے بات کرتے ہوئے ےہ اعتراف کےا ہے کہ عرب ملکوں مےں پےش آنے والے واقعات نے ہمےں تعجب مےں ڈال دےا ۔انہو ںنے کہا کہ اسرائےل‘ عرب ممالک مےں اس عوامی رجحان سے ناواقف تھا ۔واضح رہے کہ مصر مےں انقلاب کے شروع مےں ہی اسرائےلی اعلی حکام کی اےک مےٹنگ مےں ےہ اعتراف کےا گےا تھا کہ انہےں اےسا کوئی اندازہ نہےں تھا کہ خطے مےں اتنا بڑا انقلاب آنے والا ہے ۔
اےران کے وزےر خارجہ علی اکبر صالحی نے فتح اور حماس کے درمےان معاہدہ کا خےر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ےہ معاہدہ مصر کے انقلاب کا ثمرہ ہے ۔اس معاہدہ کے تحت فلسطےنی عوام کو اپنے ” مقاصد“ حاصل کرنے مےں آسانی ہوگی۔اور قابض اسرائےل کے خلاف متحدہ طور پر مزاحمت کرکے اپنے جائز حقوق حاصل کر سکےں گے ۔ انہو ںنے امےد ظاہر کیکہ اس معاہدہ کے بعد مصر کو غزہ سے جوڑنے والی رفاح سرحدی چوکی کی کھول دی جائے۔گی۔واضح رہے کہ 2006کے انتخابات کے بعد سے غزہ پر حماس کی اور مغربی کنارہ پر فتح گروپ کی حکومت تھی۔ فتح کے رہنما محمود عباس کو امرےکہ اور اسرائےل کا نوکر سمجھا جاتا تھاجبکہ حماس کو انقلابی اور ” دہشت گررد“ کہا جاتا تھا ۔ بحرحال اب ان دنوں تنظےموں کے درمےان معاہدہ سے امرےکہ اور اسرائےل کی پرےشانےوں مےں اضافہ ہوا ہے ۔مصرکے وزےر خارجہ نے حال ہی مےں اےران کا دورہ کےا ہے اور دونوں ملکوں نے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے اشارے د ئے ہےں۔اب سے پہلے حسنی مبارک حکوت کے خاتمے کے فوراً بعد مصر نے اےرانی حنگی جہازوں کو سوےز نہر سے گذرنے کی اجازت دے کر ےہ بتا دےا تھا کہ اب خطے مےں امرےکہ اور اسرائےل کی پابندےوں سے آزاد رہ کر فےصلے کئے جائےں گے ۔
29اپرےل جمعہ کے روز لندن سے شائع ہونے والے اےک بڑے اخبار مےں اےک مضمون شائع ہوا ہے جسمےں ےہ بحث کی گئی ہے کہ عرب ممالک کا مستقبل وہاں کی عوام طے کرےنگے ےا امرےکہ؟ اب دنےا کے واقعات پر امریکہ مختلف لائحہ عمل پر کارفرما ہے۔ اس سے ےہ طے ہے کہ اگر امرےکہ کی مرضی کے مطابق حالات پےدا ہوئے تو عوامی انقلاب دب جائے گا ۔البتہ اسکے امکان کم ہے ہی ہےں ۔اب تک بحرےن مےں تمام پابندےوں اور سختےوں کے باوجود حکومت مخالف احتجاج جاری ہےں۔ےمن کی عوام امرےکہ کی خواہش کے مطابق سعودی ثالثی کے باوجود علی عبداللہ صالح کی جان بخشنے کے لئے تےار نہےں ہےں۔ ان واقعات سے ےہ طے ہے کہ مغربی حکومتوں اور وہاں کے مےڈےا کے ذرےعہ اپنائے جانے والے کسی بھی لائحہ عمل سے عوامی رائے متاثر نہےں ہو پارہی ہے ۔ جنوری میںتو ےنشا اور مصر مےں شروع ہوئے انقلاب مےں ” الشعب ےرےد اسقاط النظام“ ےعنی عوام حکومت کی معزولی چاہتی ہے کانعرہ آج بےشتر عرب ممالک مےں گونج رہا ہے ۔لےبےا‘ ےمن اور بحرےن مےں عوامی انقلاب کافی حد تک آگے بڑھ چکا ہے جبکہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں مےں حکومت مخالف احتجاجات ہو رہے ہےں۔ اومان اور متحدہ عرب امارات مےں ابھی ےہ مہم عوامی شکل اختےار نہےں کر سکی ہے البتہ کچھ اےسے واقعات ضرور رونما ہوئے ہےں۔
خطے مےں عوامی انقلاب برپا ہونے سے پہلے تک مصر اور سعودی عرب امرےکہ کے لئے دو اہم اتحادی تھے۔ حال ہی مےں امرےکہ کے نائب صدر جو بائڈن نے کہا ہے کہ وہ لےبےا سے زےادہ مصر سے متعلق فکرمند ہےں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مصر میں بے قابو مستقبل کی جمہوری حکومت نے اسرائےل کے ساتھ امن معاہدہ ختم کر دےا تو بہت برا ہوگا ۔فی الحال مصر مےں فوجی حکومت ہے جسکا سربراہ امرےکہ کا نزدےکی سمجھا جاتا ہے ۔
حال ہی مےں نےوےارک ٹائمس مےں شائع تجزےہ مےں کہا گےا ہے کہ عرب حکمرانوں نے اپنے عہدوں سے دستبردار ہونے کے بجائے عوامی تحرےکوں کو کچلنا طے کر لےا ہے ۔ دبئی مےں واقع خلےجی رےسرچ سےنٹر سے منسلک ماہر مصطفی علنی کے حوالے سے کہا گےا ہے کہ اےسا نہےں لگتاکہ عرب حکمران حسنی مبارک کی طرح فرار ہو جائےں گے ۔مصطفی علنی عراق نژاد برطانوی ماہر ہیںجنکا تعلق اب سے پہلے لندن کے اےک رےسرچ انسٹی ٹےوٹ سے رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عرب ممالک اب حکمرانو ںکے فوری فرار ہونے والے مرحلے سے نکل چکے ہےں او اب وہ حکومتےں بچانے کی ہر ممکنہ کوشش کرےنگے ۔ البتہ قاہرہ مےں امرےکن ےونےورسٹی مےں پروفےسر سےد مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ کوئی عرب رہنماحسنی مبارک جےسی صورتحال سے نہےں بچ سکتا ۔اگر فرعون (حسنی مبارک )خود مقدمات مےں پھنستا جا رہاہے تو غےر فرعون حکمران اس سے کےسے بچ سکتے ہےں؟
دبئی کے خلےجی رےسرچ سےنٹر کے سربراہ عبدالعزےز ساگر نے گذشتہ ہفتہ واشنگٹن پوسٹ مےں لکھا تھا کہ عوامی انقلاب کو کچلنے سے مسئلہ حل نہےں ہوگا ۔اب وقت حکام کے حق مےں نہےں ہے ۔اگر وہ زےادہ مدت تک انتظار کرتے ہےں تو انکی حکومت کی بقا ےقےنی نہےں ہے ۔جتنا جلدی ہو انہےں نئے حالات کے ساتھ بدلنا چاہےے۔کوےت ےونےورسٹی کے پروفےس شفےق غبرہ کی رائے ہے کہ عوام کے قتل سے بچنا چاہےے۔ اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہےں۔انکے مطابق عوام اپنے خون (قربانی) کے ذرےعہ آزادی حاصل رہے ہےں۔
خطے مےں تےزی سے بدلتے حالات‘ حکمرانوں کی جانب سے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال اور خطے مےں موجود ماہرےن کی آراءکا جائزہ لےنے سے ےہ نتےجہ حاصل کرنا مشکل نہےں ہے کہ عوامی انقلاب کو دباےا جانا ناممکن ہے ۔امرےکہ اور دےگر مغربی ممالک انقلاب کا رخ اپنے حق مےں کرنے کی کوششوں مےں مصروف ہےں۔خطے کی عوام مےں امرےکہ اور اسرائےل کے خلاف نفرت کی شدت بہت زےادہ ہے اسلئے انکے رخ مےں کوئی تبدےلی کے امکان نہےں ہےں۔امرےکہ کے ذرےعہ سعودی عرب اور دےگر خلےجی ممالک مےں غےر جمہوری حکومتوں کو دئےے جانے والے تعاون اور حماےت سے عوام مےں انکے خلاف غم وغصہ مےں اضافہ ہی ہورہا ہے ۔ اگر شدےد ترےن مظالم کے باوجود بحرےن مےںعوام کو خاموش نہےں کےا جاسکتا تو دوسرے ممالک مےں انہےں کےسے خاموش کےا جاسکتا ہے؟(مضمون نگار سے 09811272415ےا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
پر رابطہ کےا جاسکتا ہے )
صفحہ 1 کا 4