عرب دنیا

ایک سیاسی سونامی

شیام بھاٹیہ
اس وقت عرب ممالک کن انکھیوں سے اپنے خطہ کا تعاقب کر رہی غیر یقینی صورت حال کو دیکھ رہے ہیں وہیں دوسری جانب اس کا موازنہ کرتے ہوئے حال ہی میں جاپان میں آئی سونامی ذہن میں آتی ہے۔ لیکن جاپان کی سونامی ایک قدرتی آفت تھی جبکہ عرب دنیامیں آئی سیاسی سونامی خود انسانوں کے ہاتھوں لائی گئی ہے۔بہت سے عرب تجزیہ کاروںنے اب اس کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملکوں میں اٹھتی بغاوت اچانک ہی پڑنے والی ایک افتاد ہے اور دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح وہ بھی اس کے دور رس اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ گو کہ کوئی سیاسی مماثلت کبھی بالکل درست نہیں ہوتی پھر بھی جو تاریخ سے واقف ہیں وہ ایک ایسے ہی انقلاب کی دستک محسوس کر رہے تھے جو 1979میں ایران میں آیا تھا جس میں رضا شاہ پہلوی کی مطلق العنانہ حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا تھا ۔ پھر انتخابات ہوئے اور وزیر اعظم مہدی بازرگان اور صدر ابو الحسن بنی صدر جیسے لوگ بر سر اقتدار آئے لیکن پاسداران انقلاب کی حمایت سے آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میںبہتر انداز سے منظم علما ءنے انہیں بھی اقتدار سے بے دخل کر دیا اور بنی صدر کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا آج وہ فرانس میں کسی مقام پر سیاسی پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔
عرب دنیا میں ایسے انقلاب کا آغاز تیونیشیا سے ہوا جہاں زین العابدین کی آمرانہ حکومت کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی زندگیاں داﺅ پر لگا کر گلی کوچوں میں اس مطلق العنان حکومت کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرنے لگے۔عربوں نے اس عوامی غم و غصہ کو ایک ایسی مقامی آفت سمجھا جو اسی حد تک محدود رہے گا اور اس کا خطہ کے باقی ملکوں سے کوئی سرو کار نہیں تھا۔اس وقت عام خیال یہی تھا کہ اس نام نہاد تیونیشیائی بغاوت کے شعلے پڑوسی ملکوں تک کبھی نہیں پہنچیں گے۔ اور بغاوت کی یہ چنگاری تیونیشیا میں ہی بھڑک کر ٹھنڈی ہو جائے گی۔عرب حکومتیں عوامی بغاوت کو کس قدر کم آنک رہی تھیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مصر کے وزیر خارجہ سے اس بابت معلوم کیا گیا کہ کیا تیونیشیا جیسی تاریخ مصر میں بھی دہرائی جا سکتی ہے تو انہوں نے بڑی حقارت سے اسے خارج از امکان بتایا ۔آج بھی بہت سے لوگوں کو ان کی وہ تحقیر آمیز مسکراہٹ یاد ہے جو ان کے چہرے پر اس وقت آئی تھی جب ان سے معلوم کیا گیا تھا کہ کیا تیونیشیا کے حالات سے ان کی حکومت کو بھی تشویش ہو گئی ہے تو اس وقت انہوں نے اسے نری بکواس قرار دیا تھا۔لیکن چند روز بھی نہ گذرے تھے کہ قاہرہ کے وسط میں واقع تحریر اسکوائر صدر حسنی مبارک کی معزولی اور ان کی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں مظاہرین سے کھچا کھچ بھر گیا۔مصر کا یہ انقلاب اتنا زبردست تھا کہ اس کے سامنے تیونیشیائی انقلاب بونا قد محسوس ہو رہا تھا۔حالانکہ حسنی مبارک اور ان کی حکومت تیونیشیائی ہم منصب کے مقابلہ کہیں زیادہ پرانی،طاقتور اور بہتر انداز میں مورچہ بندتھی اور ہر لحاظ سے اس کے وسائل بے پناہ تھے۔ اس لئے حسنی مبارک کی معزولی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ بن گئی ۔
حقیقت پسندی اور حالات کے تقاضے بہترین رہنما ہیں۔ مصر میں حالات کے آخری کروٹ لینے تک حسنی مبارک کے مشیروں کا ٹولہ یہی کہتا رہا کہ ان کا مرد مجاہد تیونیشیا کے معزول ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کی طرح نہیں ہے جو اپنی تمام دولت اور سونا چاندی و زیورات سمیٹ کر سعودی عرب بھاگ گیا۔ حتیٰ کہ مبارک خود بھی آخری لمحہ تک یہی کہتے رہے کہ وہ کبھی اقتدار نہیں چھوڑیں گے حالانکہ آخر کار انہیں اور ان کے افراد خاندان کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ان کے پر تعیش قاہرہ محل سے بحر احمر کے پر فضا مقام شرم الشیخ پہنچا دیا گیا۔ اب بھی تانا شاہی کرنے والے خود کو برتر سمجھ رہے ہیں ۔مگر تابکے؟اس وقت خود کو برتر و طاقتور سمجھنے والی طاقتوں کواپنے عوام کے عتاب کا شکار ہونا پڑ رہا ہے پھر بھی لیبیا میں کرنل معمر القذافی، شام میں بشار الاسد اور یمن میں علی عبداللہ صالح بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ تیونشیا اور مصر کے حکمرانوں سے مختلف ہیں۔بالفرض محال اگر تجزیہ کار ان تینوں کی اس دلیل کو وقتی طور پر تسلیم کر بھی لیتے ہیں اور کوئی پیش گوئی نہیں کرتے تب بھی ان کی معزولی نوشتہ دیوار بن چکی ہے اور جلد یا بدیر ان تینوں کے اقتدار پر بھی پردہ گر جائے گا۔ اس پیشگوئی کی تجزیہ کاروں کو کوئی ضرورت نہیںہے کہ یہ بتایا جائے کہ یہ سیاسی سونامی نہ صرف اور بڑھے گی بلکہ اس کی لہریں دور دور تک مزید کئی عرب ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔ جن ملکوں کااس سونامی کی زد میں آنے کا خطرہ ہے ان میں خلیج کی شیوخ سلطنتیںبحرین ، عمان اور سعودی عرب ہیں۔خلیجی ملکوں میں کام کرنے والے ایشیائی اور دیگر غیر ملکی باشندوں کا پریشان ہونا فطری بات ہے۔ایسے بہت سے اشارے مل رہے ہیں کہ ان کے ان عارضی ملکوں میں ہونے والی بغاوت ایسی پر امن اور بے خون انقلاب کی شکل میں نہیں ہوگی جیسی کہ تیونیشیا اور مصر میں ہوئی ہے بلکہ وہاں حالات بہت خراب ہوں گے۔لیبیا کے حالات سامنے ہیں جہاں پورے ملک کے کم و بیش ہر شہر کے گلی کوچوں میں باغیوں اور سرکاری فوجوں میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور محصور شہر مسراتہ سے بھاگ کر آنے والوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ وہاں کی گلیاں لاشوں اور زخموں سے کراہ رہے بے قصور شہریوں سے پٹی پڑی ہیں۔لیبیا کے حالات دیکھ کر لاکھوں غیر ملکی وہاں سے جان بچا کر بھاگ چکے ہیں۔آزادی کے بعد امریکہ میں استحکام لانے میں برسوں لگ گئے، فرانس بھی انقلاب کے بعد طویل عرصہ تک غیر مستحکم رہا۔ایسی ہی صورت حال سے عرب ممالک دوچار ہیں۔جہاں تک عرب ملکوں کا تعلق ہے تو خانہ جنگی، لاقانونیت، طوائف الملوکی اور طویل سیاسی عدم استحکام کا انہیں سامنا ہے۔ تاہم ابھی وہاں پاسداران انقلاب جیسا کوئی جتھہ ہے اور نہ ہی اس جیسا کوئی گروپ ہے جو شہروں میں گھومتا پھرے ۔پھانسی پر چڑھانے والے کوئی جج مقرر نہیں ہوں گے اور عوام کو سزائیں کبھی نہیں دی جائیں گی۔
وقتی طور پر عرب باشندے اپنی پریشان حال اورمعزولی کے دہانے پر پہنچ جانے والی حکومتوں کے انعام و اکرام کے فریب میں آسکتے ہیں۔کچھ حکومتوں نے قیدیوں کو رہا کردیا، تنخواہیں بڑھا دیں،اور اشیائے خوردنی سستی کر دیں اور اس کے ساتھ ہی سب کو بونس کا مفہوم بھی سمجھ میں آگیا۔ ان عرب حکومتوں نے یہ سبق تیونیشیا کے مفرور صدر بن علی سے ہی سیکھا ہے جس نے اپنے ناراض عوام کو منانے اور پھسلانے کے لئے آخر میں یہ کہا تھا کہ اب میں آپ کی مشکلات سمجھ گیا ہوں۔بن علی اور مبارک کی معزولی کے کئی ہفتوں بعد غیر یقینی کیفیت اور خانہ جنگی کا خوف دو ایسے امکانات ہیں جن کی سرگوشیاں اب ان دونوں ملکوں کے گلی کوچوں میں ہو رہی ہیں۔احتجاج جاری ہیں کیونکہ جہاں تک انقلابیوں کا تعلق ہے انہوں نے ملک کے صدور تو بھگا دئے لیکن ان کے اقتدار کی رمق باقی ہے اور اس کی کافی کچھ ذمہ داری خود انقلابیوں پر بھی عائد ہوتی ہے وہ تبدیلی کی سونامی کے دوش پر اڑتے ہوئے ملک کے صدر کو بھگانے اور ان کا اقتدار ختم کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن بعد از انقلاب حکومت سازی کے لئے اپنے لیڈر پیدا نہیں کر سکے ۔جو کچھ امیدوار سامنے آئے بھی تو انہیں موقع پرست قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔مصر کے نوبل انعام یافتہ محمد البرداعی کا کیس سامنے ہے۔ وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ ہیں اور دو دہائیوں تک ویانا میںآئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹرمیں رہ چکے ہیں۔ ان میں مبارک کو ان کے اقتدار کے دور میں ہی چیلنج دینے کی صلاحیت تھی اور کچھ مصری انہیں 82سالہ معزول ڈکٹیٹر کا متبادل سمجھتے بھی تھے۔پھر بھی جب البرداعی حالیہ استصواب رائے میں اپنا ووٹ ڈالنے قاہرہ پہنچے تو ان پر آوازے کسے گئے اور وہاں موجود بھیڑ نے ان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان پر جوتے پھینکے ۔ ان کے” واپس جاﺅ ، امریکی ایجنٹ واپس جاﺅ“ کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی ۔
رجائیت پسند اس بات کا خاص طور پر ذکر کر رہے ہیں کہ کس طرح ایک زبردست جوش کی وجہ سے حکومت میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ خاص طور پر مغربی ملکوں میں تعلیم حاصل کرنے والے انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والی فیس بک اور ٹویٹر نسل نے کایا پلٹی ہے۔ ان کی وجہ سے ہی متعلقہ ملکوں میں ظلم و زیادتی اور حقوق انسانی کی وسیع پیمانے پر پامالی کو کامیابی کے ساتھ بے نقاب کیا گیا۔ تیونیشیا کے ایک ریڑھی والے سبزی فروش محمد بو عزیز کی اپنی مقامی میونسپلٹی کے انسپکٹروں کی زیادتی سے عاجز آکر خود سوزی کی خبر پلک جھپکتے میں انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا کے کونے کونے میں پہنچ گئی اور اس کے بعد جو طوفان برپا ہوا وہ اسی انٹرنیٹ کی وجہ سے ہوا اور تیونیشیا میں ایک سبزی فروش کی خود کو زندہ جلا کردی جانے والی قربانی ایسا رنگ لائی کہ ملک کے جابر حکمراں کو ملک چھوڑ کر ہی بھاگنا پڑا۔اسی طرح یہ انٹرنیٹ ہی تھا جس کی وجہ سے اسکندریہ میں ایک نوجوان کی پر اسرار حالات میں موت نے عوامی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی۔ گذشتہ جون میں خالد سعید نامی ایک نوجوان کو سر بازار پولس نے اس بری طرح زد وکوب کیا کہ اس نے موقع پر ہی دم توڑ دیا اس کے فوراً بعد مصر میں پولس مظالم کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے اور پبلک پرازیکیوٹر کو قبر میں سے اس کی لاش نکال کر دکھائی گئی کہ پولس کی مار سے ہی اس کی موت ہوئی ہے۔ یہ رجائیت پسندی ہائی ٹیکنالوجی، روشن خیال مغربی اقدار سے متاثر جوان نسل کی پیدا کردہ تھی لیکن ضروری نہیں کہ نئی نسل مغرب نواز ہو وہ بلا شبہ اسرائیل مخالف ہے۔جب امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے حال ہی میں مصر کا دورہ کیا تو وہ تحریر اسکوائر کے لیڈروں سے بات کے دوران بھونچکی رہ گئیں ۔ ان لیڈروں نے ان پر الزام لگایا کہ امریکہ ہی کئی دہائیوں سے مبارک کی ظالم و جابر حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔دیگر عرب ملکوں کی راجدھانیوں میں بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہاں جہاں ایک طرف حکومت مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں تو اس کے ساتھ ہی امریکہ ہائے ہائے اور اسرائیل مردہ باد کے بھی نعرے لگائے جا رہے ہیں۔
اب اس گذرے طوفان کی دھول بیٹھنے اور غبار صاف ہونے میں ایک طویل عرصہ لگے گا لیکن یہ بھی اندیشہ ہے کہ مزید بہت سی معصوم امیدیں ملیا میٹ اور زندگیاں تہ تیغ کر دی جائیں گی۔یہ موازنہ اب جاپان کی سونامی سے نہیں بلکہ فرانس کے انقلاب سمیت ماضی کے تمام انقلابوں اور ان انقلابات کے بعد کے حالات سے کیا جارہا ہے ۔ کوئی اسے مانے یا نہ مانے یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عرب لوگ آج بھی اس کا انتظار کر ہے ہیں کہ ان میں سے ہی کوئی ایک یا کئی مسیحا پید ہوں گے جو انہیں ایک نئی زندگی دینے کے ساتھ ساتھ انکے لئے مشعل راہ بھی ثابت ہوں گے(بشکریہ ایشین افئیرس)۔

 

امریکی سیاست سے انقلاب طویل ہونے کا امکان

محمد احمد کاظمی

تیونیشیا او رمصر کے بعد لیبیا ، بحرین اور یمن میں عوامی بیداری کی بنیاد پر انقلاب جاری ہیں۔ تیزی سے آئے اس انقلاب نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی ہے ۔ مغربی ممالک جن کی اقتصادیات شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے قدرتی وسائل کی بنیاد پر کافی حد تک منحصر تھیں وہ زبردست تشویش میں مبتلا ہیں۔ ۔ اب تک خطے کے قدرتی وسائل ان ممالک میں غیر جمہوری بادشاہتوں کی حمایت کر کے لوٹے جاتے رہے تھے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک کی اکثر غیر جمہوری حکومتیں امریکہ کی اتحاد ی ہیں۔ یہ حکومتیں اپنی عوام کو غربت اور جہالت کے اندھیرے میں رکھتے ہوئے اور امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کے لئے کام کرتے ہوئے اپنی بادشاہتوں کو باقی رکھتی رہی ہیں۔ تیونیشیا اور مصر میںحکومتیں جس تیزی سے بدلی ہیں اس کا اندازہ نہ امریکہ کو تھا اور نہ ہی اسرائیل کو ۔ لیکن اب یہ دونوں اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح سے عرب ممالک میں موجودہ حکومتیں باقی رہ جائیں اور عوام کو اصلاحات کے بہانے سے خاموش کر دیا جائے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو جب یہ یقین ہوگیا کہ لیبیا میں معمر قذافی حکومت کے مخالفین کو کسی طرح خاموش نہیں کیا جا سکتا اور کئی اہم شہروں پرانقلابیوں کا قبضہ ہوچکا ہے تب انہوں نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں قرار داد پاس کرکے فضائی پابندیوں کو نافذ کرنے کے لئے کارروائی شروع کی ۔ اب بھی اکثریہ محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ اور قذافی مخالف عناصر کے درمیان کوئی خاص مفاہمت نہیں ہوئی ہے۔ اب بھی امریکہ در پردہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ قذافی مخالف عناصر سے کچھ ایسے عہد وپیماں کرالے تاکہ لیبیا کے تیل پر اس کا قبضہ جاری رہے۔ یہی وجہ ہے کہ لیبیا کے تیل کے مرکز کے طور پر مشہور شہر راس لنوف پر پھر سے قذافی کی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ اب تک کم از کم ایک درجن ممالک میں موجود لیبیا کے سفراءاور وہاں کے وزیر خارجہ موسیٰ کو سا نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ یکم اپریل جمعہ کے روز سابق وزیر خارجہ علی عبدالسلام تریکی نے بھی اقوام متحدہ میں لیبیا کے سفیر کے عہدہ سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب بحرین میں امریکہ کا رنگ بالکل مختلف ہے ۔ امریکہ اور اس کے عرب اتحادی ممالک الخلیفہ کے تمام عوام مخالف اقدام کی حمایت کر رہے ہیں ۔ سعودی عرب متحدہ عرب امارات، کویت ، اومان وغیرہ نے بحرین حکومت کی حمایت میں اپنی افواج اور پولیس کی خدمات دی ہوئی ہیں ۔ سعودی عرب کے فوجیوں نے مقامی اکثریتی شیعہ آبادی کے مذہبی مقامات کو بھی منہدم کرنا شروع کر دیا ہے ۔ اب تک شیخ پنجری کا مزار اورکئی امام بارگاہیں منہدم کی جا چکی ہیں۔بہر حال امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب جیسے ممالک اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ بحرین میں اگر اکثریتی شیعہ طبقے کی حکومت قائم ہوگئی تو خطے میں ایک اور ایران جیسا آزاد ملک پیدا ہوجائے گا۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر بحرین میں جمہوری حکومت قائم ہوئی تو امریکہ کو اپنا فوجی بیڑا وہاں سے ہٹانا پڑے گا۔ امریکہ اپنے’ قومی مفادات‘ کے لئے جمہوریت اور انسانی حقوق کے تمام اصولوں پر پردہ ڈالتے ہوئے بحرین اور خطے کی تمام غیر جمہوری حکومتوں کو حمایت دے رہا ہے۔
بحرین کے حقوق انسانی کے مرکز کے صدر نبیل رجب نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ امریکہ میں کچھ خبر رساں ایجنسیوں اورٹیلی ویژن چینلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بحرین کے واقعات کی رپورٹنگ کرکے صدر اوبامہ کو شرمندہ نہ کریں۔ نبیل رجب کے مطابق امریکہ اور مغربی ممالک کی حکومتوں نے بحرین میں ہونے والے واقعات پر وہاں کی جابر حکومت کی حمایت میں خاموشی اختیارکی ہوئی ہے ۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق اب تک 25افراد ہلاک 1000 افراد زخمی اور 420افراد گرفتار ہو چکے ہیں ۔ انسانی حقوق کے مرکز کا دعویٰ ہے کہ ان فوجیوں کے ذریعہ سلمانیہ اسپتال میں ڈاکٹروں اور مریضوں کو بھی پریشان کیا جا رہا ہے ۔ حکومت کے ذریعہ پولیس اور فوجی کارروائی سے زخمی ہونے والے افراد کا اسپتالوں میں علاج ناممکن ہوگیا ہے۔ سلمانیہ اسپتال میںکئی خاتون ڈاکٹروں کو عصمت دری کی دھمکی دے کر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ معمولی مریض بھی اسپتالوں میں جاتے ہوئے خوفزدہ ہیں۔
لندن سے شائع ہونے والے اخبار ٹیلی گراف نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے ایک سمجھوتے کا انکشاف کیا ہے جس کے تحت و ہ لیبیا اور بحرین میں عوام کے قتل عام میں ایک دوسرے کا تعاون کر رہے ہیں۔اس کے تحت سعودی عرب لیبیا میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعہ کئے جا رہے فضائی حملوں کی حمایت کرے گا۔ اس کے بدلے میںامریکہ اور اس کے اتحادی ممالک بحرین میں الخلیفہ حکومت اور خلیجی تعاون کونسل اراکین کے ذریعہ عوامی انقلاب کو کچلنے کی کارروائیوں پر خاموش رہیں گے۔ اخبار نے سعودی حکام کے ذرائع سے لکھا ہے کہ انہوں نے مغربی ممالک کی لیبیا پر کی جا رہی کارروائی کی حمایت اس شرط پر کی ہے کہ وہ بحرین حکومت کے ذریعہ عوامی انقلاب کے خلاف کی جا رہی کارروائیوں پر خاموش رہے۔ سعودی عرب نے بحرین میںانقلاب کو کچلنے کے لئے 1000مسلح فوجی بھیجے ہوئے ہیں جبکہ خلیجی تعاون کونسل کے دیگر اراکین نے بھی پولیس اور فوج کے ذریعہ بحرین کو امدادبھیجی ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ خلیجی تعاون کونسل کا قیام1981میں اس وقت ہوا تھا جب عراق-ایران جنگ ہورہی تھی۔ اس وقت ان تمام ممالک نے عراق کی صدام حکومت کو ایران کے خلاف ہرقسم کی مدد دی تھی ۔ اس وقت امریکہ نے ایران کے اسلامی انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے عراق سے جنگ شروع کرائی تھی اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو ایران کے مبینہ شیعہ انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے استعمال کیاتھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر بحرین میں اپنا فوجی مرکز باقی رکھنا چاہتا ہے۔
حال ہی میں واشنگٹن میں واقع خلیجی امور کے ادارہ کے سربراہ علی احمد نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران اعتراف کیا تھا کہ اگر بحرین میں عوامی انقلاب کا میاب ہوا تو امریکہ کو یہ فوجی مرکز چھوڑنا پڑے گا کیونکہ اس نے الخلیفہ حکومت کی حمایت کی ہے۔
اس وقت حال یہ ہے کہ بحرین حکومت نے عوامی انقلاب کو دبانے کے لئے فوجی طیارے تیار کر رکھے ہیں۔ پھر بھی ہر جمعہ کو تمام پابندیوں کے باوجود مختلف مقامات پر احتجاج منعقد کئے جا رہے ہیں ۔ البتہ مناما کے پرل اسکوائر پر حکومت نے فوج اور پولیس بڑی تعداد میں تعینات کی ہوئی ہے تاکہ یہاں عوام اکٹھے نہ ہوسکیں۔ لندن میں مقیم بحرین فریڈم موومنٹ کے رہنما سعید شہابی نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس وقت بحرین میں فوجی حکومت ہے اور احتجاجیوں کو کچلنے کے لئے ہر ممکنہ قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج اس وقت ملک بھر میں اسپتالوں اور میڈیا پر قابض ہے اور غیر معمولی پابندیاں نافذ کئے ہوئے ہے۔
یمن میں عوام کے پر امن مظاہرے جار ی ہیں۔ انہوں نے اب تک شدت کا سہارا نہیں لیا لیکن حکومت نے اب تک کئی بار احتجاجیوں پر گولیا ںچلائی ہیں۔ اب تک کئی ممالک میں یمن کے سفیروں نے اپنی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ کچھ قبائلی رہنماو¿ں اور فوجی حکام نے بھی عوام کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ یمن میں بھی امریکہ کا دوغلہ پن سامنے آیا ہے ۔ وہاں ابھی تک امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آرہی ۔ علی عبداللہ صالح کی حکومت کو بچانے کی امریکی خواہش کو پورا کرنے کے لئے سعودی عرب حکومت اپنی خدمات دے رہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سعودی خفیہ حکام اور فوجی ماہرین یمن حکومت کو بچانے میں کوشاں ہیں ۔ یمن حکومت نے اب تک ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں امریکہ کی حمایت کے نام پر بڑی رقم حاصل کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یمن میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے اہل خاندان اور عراق کی بعث پارٹی کے سابق عہدہ دار بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
میرا تجزیہ ہے کہ امریکی حکام مصر میں حسنی مبارک مخالف قوتوں کی حمایت کر کے پچھتا رہے ہیں۔ انہیں یہ محسوس ہوگیا ہے کہ خطے کے ممالک میں اٹھنے والے عوامی انقلاب کی کامیابی کے نتیجہ میں ان کے مفادات کو نقصان ہوگا اور اسرائیل مزید غیر محفوظ ہو جائے گا۔ مصر میںحالانکہ عوام فوجی حکومت کے خاتمے اور حسنی مبارک حکومت کے وزیروں کو ہٹانے کا مطالبہ کررہی ہے پھر بھی موجودہ حکومت نے ایران کے جنگی جہازوں کو سویز نہر سے گزرنے کی اجازت دے کر اورغزہ کے ساتھ سرحدی چوکی کھول کر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ خطے میں آئندہ سیاست کا کیا رخ ہوگا۔
جس طرح امریکہ نے لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی میںکمی کی ہے اور وہ بحرین اور یمن میں چشم پوشی سے کام لے رہا ہے ، اس کی وجہ سے عوامی انقلابوں کے کامیاب ہونے سے پہلے بڑی تعداد میں مزید لوگ مارے جا سکتے ہیں۔ امریکہ خود کو جمہوریت پسند اور عوام دوست ظاہر کرتا ہے جبکہ درپردہ سیاست میں اس کی نظر میں عوام کی جان کی کوئی قیمت نہیںوہ محض اپنے ’ قومی مفادات‘ اور ’ اسرائیل کے تحفظ‘ کے لئے کام کرتا ہے ۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

مصر: اب کس راہ پر جائے گا

(ایشین افیرس)
خلیج کے دورے کے دوران برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا قاہرہ میں قیام کوئی اتفاق نہیں تھا۔ کیمرون کے حالیہ دورے کا اصل مقصد تیل کی دولت سے مالا مال عرب شیخ سلطنتوں میں اسلحہ کی برآمد سمیت برطانیہ کی برآمدات کو فروغ دینا تھا۔لیکن پورے خطہ میں ہونے والے سیا سی تغیرات کی روشنی میں برطانوی وزیر اعظم کے مشیروں نے انہیں مشورہ دیا کہ عالم عرب کے بلاشبہ انتہائی اہم ملک مصر کے نئے رہنماﺅں سے بالمشافہ تبادلہ خیال کر کے فائدہ اٹھایا جائے۔اس وقت مصر اپنے قریب ترین تاریخی حریفوں شام اور عراق کے مقابلے خلیج پر غلبہ رکھنے والی چھوٹی شیخ سلطنتوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
اس وقت مصر میں جو کچھ بھی ہوا اس کی دھمک اور اثرات اطراف کے تمام علاقہ میں محسوس کئے جا رہے ہیں۔ اسی لئے اس روشنی میں کیمرون نے جنرل محمد حسین طنطانوی اور فی الحال ملک کا نظم و نسق چلانے والی سپریم کونسل میں طنطانوی کے فوجی ساتھیوں سے مذاکرات کے لئے قاہرہ میںقیام کیا ۔
مشرق وسطیٰ میں جاری سیاسی اتھل پتھل کی اصل جڑیں تیونیشیا میں تھیں جہاں محمد بو عزیز نام کے ایک بے روزگار اور نوجوان خوانچے والے کو اس کے آبائی وطن سیدی بوزیدمیں پولس نے اتنا پریشان کیا کہ اس نے بلدیاتی حکومت کے ہیڈ کوارٹر کے باہر خود سوزی کر لی۔اس نوجوان کی خود سوزی کیا ہوئی کہ پورا ملک غم و غصہ سے پاگل ہو اٹھا اور اس کے ایسے سنگین نتائج بر آمد ہوئے کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق تیونیشیا کا بچہ بچہ صدر زین العابدین بن علی کی زیر قیادت حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور ایک لمبے عرصے سے ملک پر اپنا تسلط قائم کئے اس کرپٹ حکومت کا تختہ ایسا پلٹا کہ زین العابدین کو ملک سے فرار اختیار کرنا پڑی اور اب وہ سعودی عرب میں سیاسی پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد مصر کا نمبر آیا۔ فضائیہ کے سابق جنرل حسنی مبارک ، جو 1981میں صدر انور سادات کے قتل کے بعد بر سر اقتدار آئے تھے، اپنے ہنگامی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گذشتہ 30سال سے مسند اقتدار پر قابض تھے۔لیکن ان کی کرپٹ اور بد دیانت ڈکٹیٹر شپ سے عوام بہت نالاںتھے اور اس حکومت سے ان کی بیزاری اور تیونیشیا میں انقلابیوں کی کامیابی نے ان کے حوصلے بلند کر دئے اور عوام حسنی مبارک کے خلاف متحد ہو گئے۔ ہفتوں پر امن مظاہرے ہوتے رہے اور ان مظاہروں نے آخر کار حسنی مبارک کو بھی ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔تیونیشیا اور پھر مصر کے بعد اب مشرق وسطیٰ کے مغرب میں مراکش، لیبیا اور الجیریا میں اور مشرق میں شام، اردن، یمن اور بحرین سمیت خطہ کے کئی ملکوں میں سیاسی اتھل پتھل اور حکومت مخالف مظاہرے شروع ہو گئے ہیںاور ان ملکوں کے پرانے نظام حکومت کو اس وقت جو خطرات لاحق ہوئے ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے۔
مصر میں جو کچھ تغیرات ہوئے اس سے دنیا بھر کی دلچسپی اور حیرت بذات خود مصر کے دور فراعنہ کی تاریخ کی یاد دلا رہی ہے۔ اب مصر کا کردار اسلامی تعلیمات کے مرکز جیسا ہو یا عرب دنیا کی فلم اور موسیقی کی صنعت کے مرکز کے طور پر خود کو نمایاں کرنے والا یا سب بڑی آبادی والے عرب ملک کی حیثیت سے خود کو پیش کرنے والا ہی کیوں نہ ہو، مصر نے ہمیشہ ہی مشرق وسطیٰ کی سیاسی و اقتصادی زندگی میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب 1956میں جمال عبدالناصر نے مصر میں فوجی بغاوت کی تو عوامی جذبات اور بحر اطلس سے بحر عرب تک کے تمام ممالک کے عوام میں اتحاد و یگانگت کی آئیڈیالوجی کی نیت سے پان عرب نیشنلزم کی ایک لہر دوڑ گئی جس نے علاقائی سیاست کے خد وخال ہی بدل دئے۔ ایک مختصر مدت تک مصر سوڈان، یمن شام اور لیبیا کے ساتھ متحد رہا۔ اسی طرح کی جو متوازی سیاسی تبدیلی پھر مصر میں رونما ہو رہی ہے وہی ایک بار پھر آنے والے دنوں کی صورت حال کی اصل کنجی ثابت ہوگی۔فی الحال مصری عوام خود یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ طنطاوی قیادت والی فوجی کونسل انتخابات کرانے، مستقبل کے کسی بھی صدر کے اختیارات میں کمی، میڈیا کی آزادی اور تمام شہریوں کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کی ضمانت دینے کے اپنے وعدے پورے کرتی ہے یا نہیں۔ یہ سب معاملات ایک روشن خیال اور جمہوری مستقبل کا مواد ہیں۔
ان کے علاوہ کچھ اور معاملات بھی ہیں جو غور و فکر کے طلبگار ہیں۔ کیونکہ مصرسیرت پاک پر لکھی گئی کتاب سنگ میل ”MILESTONES“ کے مصنف سید قطب جنہیں1956میں پھانسی دے دی گئی تھی ، سیکولر عرب حکمرانوں کے خلاف جہاد کی ضرورت پر زور دینے والے عبدالسلام فراز جنہیں 1982میں سزائے موت دی گئی تھی ،اخوان المسلمون اور اوسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری جیسے جہادی نظریہ کے حامل افراد کی جائے پیدائش ہے۔
علاوہ ازیں اخوان المسلمون (MUSLIM BROTHERHOOD) کے روحانی رہنما علامہ یوسف القرضاوی قطر میں جلاوطنی کی 50سالہ زندگی گذارنے کے بعدمصر واپس آگئے ہیں ۔چند ہفتے پہلے ان کے دیدار کے لئے 10لاکھ سے زائد افراد قاہرہ کے میدان التحریر میں جمع ہو گئے اور ان کی امامت میں نماز جمعہ ادا کی تھی۔ یوسف القرضاوی کو اس وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ اسرائیلیوں کے خلاف خود کش بم حملے کریں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مصریوں کی تقدیر میں کیا لکھا ہے۔ کہیں مصر کے روشن خیال ، آزاد اور کثرت الوجود مستقبل کی جدو جہد کرنے والوں کو پسپا کرتے ہوئے سید قطب، الظواہری، فراز،اور یوس القرضاوی کے نظریات و خیالات تومصری سیاست پر حاوی نہ ہو جائیں گے؟اس سوال کا جواب نہ صرف مصر پر اثر انداز ہوگا بلکہ باقی عرب و مسلم دنیا کےمستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔

   

امریکی مداخلت سے عرب تحریک طویل ہونے کا خدشہ

محمد احمد کاظمی

شمالی افریقہ اور عرب خطے میں عوامی انقلاب اب مزید ممالک میں پھیل رہا ہے ۔مصر اور تیونیشیا کے بعد لیبیا میں انقلاب سب سے زیادہ شدت سے جاری ہے جبکہ بحرین ‘یمن اورعمان میں احتجاجات جاری ہیں۔ سعودی عرب میں بھی کچھ مقاما ت پر 4مارچ جمعہ کے روز احتجاج ہوئے ہیں۔ البتہ امریکہ کی جانب سے بادشاہتوں کو ملنے والی خاموش حمایت کی وجہ سے بحرین‘ یمن اور عمان میں عوامی انقلاب ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
امریکی حکام نے جس تیزی سے مصر میں رونما ہونے والے عوامی احتجاجات کے دوران حسنی مبارک کے خلاف سخت رخ اختیار کیا تھا اس نے لیبیا ‘ بحرین اورعمان کے سلسلے میں وہ تیزی نہیں دکھائی ۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق لیبیا میںقذافی کی فوج کے ہاتھوں اب تک چھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان پر اب نہ صرف فضائی حملے کئے جارہے ہیں بلکہ توپوں کا بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ نے لیبیا انقلاب کے پہلے ہفتے میںکہا تھا کہ لیبیا کے حالات پر وہ نظر رکھے ہوئے ہیں اور نئی حکمت عملی طے کرنے میں وقت لگے گا۔ یعنی امریکہ نے قذافی کو انقلاب کچلنے کی پوری چھوٹ دے رکھی ہے۔ لیکن جب عوامی انقلاب کو قذافی دبانے میں ناکام نظر آنے لگے تو قذافی کے خلاف کچھ بیانات آئے ۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں لیبیا کے خلاف قرار دا د منظور کی گئی ، امریکہ نے لیبیا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کئے لیکن ابھی تک لیبیا کی فضا میں طیاروں کی پروازوں پر پابندی عا ئد نہیں کی گئی ۔ اس کے نتیجے میں لیبیا کے صدر معمر قذافی نے مخالفین پر طیاروں سے بمباری کرائی اور اب تک قتل عام جاری ہے ۔
واضح رہے کہ 1991میں صدام حسین کے ذریعہ کویت پر قبضہ اور اس کے بعد انخلا کے باوجود امریکہ نے اقوام متحدہ کے ذریعہ کر د اکثریت والے شمالی عراق اور شیعہ اکثریت والے جنوبی عراق میں طیاروں کی پرواز پر پابندی عائد کرائی تھی ۔ البتہ عراق میں اکتوبر 2002میں صدام کے حق میں کرائے گئے ریفرینڈم کے دوران میں نے غیرملکی صحافیوں اور سیاسی مہمانوں کے ساتھ بغداد سے بصرہ کا ہوائی سفر کیا تھا۔ یعنی جنوبی عراق میں فضائی پابندیوں کے نفاذ میں امریکہ عراق پر دباو¿ نہیں دیتا تھا ۔
کرنل قذافی نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے لیبیا میں مداخلت کی تو ملک میں خونی جنگ ہوگی اور ہزاروں لیبیائی شہری مارے جائیں گے۔ انہوں نے دھمکی ایسے وقت میں دی ہے جب حکومت مخالف عناصربن غازی ، مصراتا، برقہ ، الزاویہ‘ الخمص کئی دیگر شہروں اور راجدھانی طرابلس کے بھی کے کچھ حصوں پر قابض ہیں ۔ بن غازی میں عبوری حکومت قائم ہوچکی ہے اس کے جنوب میں واقع فوجی مرکز مخالفین کے ہاتھوں میں ہے اور اب ان کے پاس فوجی طیاروں سمیت بھاری اسلحہ بھی موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے اگر امریکہ اپنی فوج لیبیا میں اتارتا ہے تو اس سے پیچیدگیوںمیںمزیداضافہ ہوگا۔ قذافی مخالفین نے بھی امریکہ کی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو محفوظ نکالنے کے لیے غیر اعلانیہ طور پر اپنے فوجیوں کو لیبیا بھیجا ہے۔چند روز پہلے جرمن کے کچھ فوجی لیبیا سے اپنے شہریوں کو نکالتے ہوئے گرفتار کئے گئے ہیں۔
ادھر بحرین میں عوامی انقلاب جاری ہے ۔ راجدھانی مناما میں پرل اسکوائر اور شہر کے دیگر اہم مقامات پر حکو مت مخالف احتجاج روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ وہاں کی حکومت کے لئے احتجاجیوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا بہت سخت فیصلہ ہوگا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں کم از کم 80فیصد شہری ،جن میں شیعہ اور سنی دونوں شامل ہیں، حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکہ نے بحرین کے الخلیفہ خاندان کے حکام کو یہ سمجھایا ہے کہ ملک میں سیاسی اصلاحات نافذ کی جائیں اور اکثریتی شیعہ طبقے کو بھی حکومت میں علامتی طور پر ہی صحیح نمائندگی دی جائے۔ میں نے 2003کے بعد کئی برسوں تک برطانیہ کے سفر کئے ہیں۔ وہاں بحرین فریڈم موومنٹ کے رہنما سعید شہابی اور حق موومنٹ کے جنرل سکریٹری حسن مشیمع سے ملاقاتیں اور انٹرویو کئے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بحرین میں الخلیفہ حکومت کے خاتمے سے کم پر کوئی سمجھوتہ نہیںہوپائے گا۔ بحرین میں مخالف جماعتیں الخلیفہ خاندان کو غیرملکی (سعودی) اورامریکہ کا غلام سمجھتی ہیں ۔
یمن میں بھی علی عبداللہ صالح حکومت کے خلاف احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے ۔ جو لوگ عرب تحریک کو مسلکی رنگ دینا چاہتے ہیں انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عمان میں تحریک کی قیادت سنی رہنما کر رہے ہیں۔حالانکہ وہاں لیبیا کی طرح مخالفین کے خلاف بھاری اسلحے کا استعمال کم ہورہا ہے البتہ حکومت کو اب بھی امریکہ کی مدد جاری ہے ۔ چند روز قبل ہی یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے امریکہ اور اسرائیل سے یہ کہتے ہوئے معافی مانگی ہے کہ انہوں نے عوامی تحریک کے شروع میں غلطی سے امریکہ اور اسرائیل پر تحریک کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سفارتی دھمکی ملنے اور انکی حکومت بچانے میں امداد کی یقین دہانی کے بعد ہی انہوں نے معافی مانگی ہے ۔ واضح رہے کہ یمن ایسا ملک ہے جہاں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے افراد اور عراق کی سابق حکمراں جماعت بعث پارٹی کے اراکین بھی رہتے ہیں۔ وہاں ہوتھی شیعہ طبقے کے لوگ مبینہ طور پرسیاسی حقوق نہ ملنے اور انکے عقیدہ کے خلاف سعودی شدت پسندوں کے ذریعہ جاری تکفیری تحریک کو ملنے والی حکومتی سر پرستی کی وجہ سے کئی برسوں سے نبرد آزما ہیں۔ سعودی عرب یمن میں سعدہ صوبے اور دیگر مقامات پر اگست 2009 اور اسکے بعد میں ہوتھی شیعہ آبادی کے خلاف فوجی طیاروں سے حملے کرتا رہا ہے ۔ یمن میں شیعہ آبادی والی بستیوں پر بمباری کے مناظر انٹرنیٹ پر یو ٹیوب پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یمن میںموجودہ حکومت امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے مفادات کے حق میں کام کرتی رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کی حکومت آخری لمحے تک مخالفین کو ناکام کرنے کی کوشش کر ے گی۔ ابھی تک یمن میں فوج او رپولیس حکومت کے ساتھ نظر آرہی ہے۔عمان میں ہونے والے احتجاجات میں بھی تیزی آرہی ہے ۔ سلطان قابوس حکومت نے فوری طور پر احتجاجات کو ختم کرنے کی غرض سے ملازمین کی تنخواہوں میں 40فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے مزید 50ہزار افراد کی بھرتی کا اعلان کیاہے۔ سلطان قابوس نے اپنی کابینہ میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ عمان میں سوحر کے مقام پر شدید احتجاجات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ واضح رہے کہ سوحر شہر صنعتی مرکز ہونے کے ساتھ تیل کے کار خانے اور المونیم فیکٹری کے لئے مشہور ہے. ادھر سعودی عرب میں بھی عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ 4مارچ جمعہ کے روز راجدھانی ریاض ‘ قطیف اور الاحسا شہر میں شیعہ آبادی نے اپنے ایک عالم دین کی رہائی کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا ۔ البتہ 11مارچ جمعہ کے روز سعودی عرب میں بڑا مظاہرہ ہونے کی توقع ہے ۔ فیس بک کے ذریعہ عوامی مہم جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مظاہرہ میں شریک ہوسکیں۔ ابھی تک احتجاج کے مقام کا عوامی اعلان نہیں ہوا ہے۔ عوامی احتجاج کے خوف میں سعودی حکومت نے ملک میںہر قسم کے احتجاج اور لوگوں کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔ وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام احتجاجات ©©”غیر قانونی“ ہیں اور سلامتی دستوں کو ہر قسم کے اقدام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بیان کے مطابق ہر قسم کے احتجاجات شرعی قانون اور سعودی اخلاقیات اور سماجی اصولوںکے خلاف ہیںواضح رہے کہ 2003میں صدام حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد سعودی عرب حکومت نے مکہ میں سبھی مسالک کے مذہبی رہنماو¿ں کی ایک کانفرنس منعقد کی تھی ۔ اس کانفرنس میں قرار داد پاس کر کے کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ حکومت نے ایک ہی مسلک کے نظریہ کی نشر واشاعت کی ہے ۔ اس وجہ سے سماج میں کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ اسی سال سعودی عرب حکومت نے کچھ شیعہ اکثریتی علاقوں میں محرم کے جلوس وغیرہ سڑکوں پر نکالنے کی اجازت بھی دی تھی ۔ لیکن بعد میں ان پر پھر سے پابندی لگا دی گئی ۔ فروری 2009 میں مدینہ کے جنت البقیع قبرستان میں شیعہ زائرین پر سعودی پولیس نے گولی مارکر دو افراد کو ہلاک اور کئی دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔ یہ لوگ الاحسا اور قطیف وغیرہ شہروں کے بتائے گئے تھے۔میرا تجزیہ ہے کہ بحرین اور یمن میں حکومتوں کا تختہ پلٹنے کے ساتھ ہی سعودی عرب میں بھی سیاسی ہلچل تیز ہوگی۔ وہاں کی مقامی آبادی بھی اپنی حکومت کے ذریعہ اسلامی تاریخی مقامات کو منہدم کرنے اور ایران کے خلاف اسرائیل سے ساز باز کرنے کے خلاف ہے ۔ مکہ اور مدینہ جیسے شہروں میں بھی، جہاں دنیا بھر کے مسلمان حج اور عمرہ کے لئے آتے ہیں، حرم سے چند کلو میٹر دور ایسے بوسیدہ مکان موجودہیںجیسے ہندوستان کے دور دراز گاو¿ں دیہات میں بھی نہیں ہیں ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسے حالات میں وہاں کی مقامی آبادی جس کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں ہے وہ حکومت سے خوش ہو۔ اس آبادی میں مسلکی فرق بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ جہاں جہاں بھی بادشاہتوں اور آمر حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے اسے مسلکی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔ یہ صرف ظالم اور مظلوم کے درمیان جنگ ہے۔
ایران کے اسلامی انقلاب اور عرب اور شمالی افریقہ کے انقلاب میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شیعہ مسلک کے عقیدہ میں ایک بڑے عالم دین کی تقلید کرنا لازمی ہے۔ آیت اللہ خمینی کی ایرانی عوام مقلد تھی اور سبھی مذہبی رہنماو¿ں نے بھی ان کی حمایت کی تھی۔عرب ممالک میں آنے والے انقلابات میں لیڈر شپ کی کمی کی وجہ سے تحریک طویل ہورہی ہے ۔ البتہ امید ہے کہ وہاں جلد ہی عوام کی رہنمائی کرنے کے لئے کچھ افرادآگے آ جائیں گے ۔ مصر میں اخوان المسلمین کافی مضبوط تنطیم ہے۔ البتہ یہ طے ہے کہ اگر امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں مداخلت نہ کریں تو خطے میں جمہوری حکومتیں قائم ہونے کا راستہ صاف ہوجائے گا لیکن اس میں رکاوٹیں آنے کی امید ہے۔ جو لوگ جابر حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر اترے ہیں وہ اپنا مقصد پوار ہوئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ ان حالات میں عرب اور شمالی افریقائی ممالک میں تحریکوں کے کامیاب ہونے میں وقت لگ سکتا ہے البتہ انہیں کامیابی ضرور ملے گی۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

عرب ملکوں میں تغیرات پر خوشیاں منانا قبل از وقت ہوگا

خوشونت سنگھ
تیونیشیا ،مصر، یمن، الجیریا اور لیبیا جیسے کچھ عرب ممالک میں اچانک جو بیداری آئی ہے اس کا دنیا بھر کے میڈیا میں بڑے پیمانے پرخیر مقدم کیا گیا ہے۔ اسے تاناشاہی پر جمہوریت کی جیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن ان حالات پر مجھے زیادہ بھروسہ نہیں ہے کیونکہ تبدیلی چاہنے والے زیادہ ترمسلمان پھر سابقہ حالات میں رنگ جاتے ہیں۔ایران میں رضا شاہ کی حکومت کے دوران میں نے ایک ہفتہ راجدھانی تہران اور دوسرے شہروں میں گزارا تھا میں رمضان کے پہلے دن پہنچا تھاسہ پہر کو میں سیر کے لئے نکلا۔ میں نے عورتوں مردوں کو دھوپ میں فٹ پاتھ پر بیئر پیتے دیکھا۔ مجھے ایک بھی عورت برقعہ میں نہیں ملی جب شاہ گو گدی سے اتار دیا گیا اور آیت اللہ نے ملک کو اپنے قبضے میں لے لیا تو آیت اللہ خمینی نے سب سے پہلے شیطانی آیات لکھنے کے لئے سلمان رشدی کے خلاف موت کا فتویٰ جاری کر دیا۔ اب نئے حکمراں محمود ا حمدی نژاد نے اعلان کیا کہ پہلی ترجیح اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹا دینے کی ہے۔ اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے ۔تصور کریں کہ اگر ایران نے واقعی میں اس یہودی ملک کو برباد کرنے کی کوشش کی تو اس کے کیا نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں عورتوں کو برقعہ پہننے کا حکم دیا گیا ۔ عورت مسافروں کو ہوائی اڈے پر ہی برقعہ دے دیا گیا ۔ تیونیشیا مصر یمن او رالجیرا میں بھی یہی کہانی ہے۔ اخوان المسلمین، جس نے مصر میں بغاوت کی قیادت کی،ایک دقیانوسی خیلات رکھنے والی پارٹی ہے جو کہ قرون وسطیٰ کے شریعت کو ڈ کو پھر سے لاگو کر نا چاہتی ہے ۔ دوسرے عرب میں ممالک میں بھی یہی پوزیشن ہے عورتوں کو برقعہ پہننے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شادی سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کی ناک کاٹ دی جا تی ہے یا پتھروں سے مار مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔
ایک بڑھیا مثال ترکی کی ہے وہاں کے انقلابی لیڈر اتاترک کمال پاشا تھے وہ دور اندیش تانا شاہ تھے انہوں نے برقعوں پر پابندی لگا دی اور عورتوں کو برابری کے حقوق دیئے۔ انہوںنے مغربی دنیا کواپنا رول ماڈل بنایا اور ترکی کو کسی بھی جدید یوروپی ملک کی طرح بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ دوسرے مسلم ممالک میں انہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر انقلابی عرب ممالک سے سلطانوں اور امیروں کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ طالبان ذہنیت کیقیادت کو تسلیم کر لیں گے لہٰذا مسلم دنیا میں جو ہو رہا ہے اس پر شادیانے بجانا قبل از وقت ہوگا۔
اینٹی کرپشن ڈے
آپ نے کیا کہا: اینٹی کرپشن ڈے ؟
بیوقوفی مت کرو یا رتم مذاق تو نہیں کر رہے۔
تم قدیم لفظ اینٹی کو کیوں تلاش کر رہے ہو۔
میری صبح کی چائے کو بد مزہ کر رہے ہو۔ دار جیلنگ کا فیلور کرپشن کی مہک
میڈیا کی ہیڈلائنز کی چاشنی ؟
ماں کی کوکھ سے باہر نکلنا ہی اس بات کا ثبوت نہیں
کہ تم پیدا بھی ہوئے تھے
یہ ثبوت حاصل کر نے کے لئے رشوت دینی ضروری ہے۔
آپ ڈونیشن دیتے ہیں داخلے کے لئے،
نقلی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے تعلیم کے لئے
پھر مٹھی گرم کر کے نوکری حاصل کر لیتے ہو۔
تمہیں نہیں پتہ کہ کتنے لوگ لائن میںلگے ہیں۔
ایک لائسنس ایک، پرمٹ ایک راشن کارڈ
سرکاری اسپتال میں داخلہ یا صرف جگہ ہی پانی ہو۔
زندگی کی ختم نہ ہونے والی یہ قطار ہے۔
آپ کو یہ تب ملے گا جب آپ قیمت ادا کریں گے۔
اور جب دنیا کا یہ سفرختم ہو جائے گا۔
یہ مت سمجھو کہ بلاکسی کی نگاہ پڑے تم چلے جاو¿ گے۔
اس کے لئے بھی تمہیں دام دے کر ثبوت کی ضرورت ہوگی۔
کیونکہ فکر کرتے ہو اور کیوں بال نوچتے ہو یہ ایسا نا سور ہے جو ہر روز بڑھتا جائے گا
اپنے ہی بوجھ سے گرپڑے گا یا پھٹ جائے گا۔
او رپھر ایک نیا راستہ کھل جائے گا۔ (ا ے کے داس لکھنو¿ سے بھیجا)
ہوربنام ہور(Hore Vs Whore)
ہور ایک بنگالی سر نیم ہے پورنیما ہور( اصلی نام نہیں ہے) ایک خوبصورت اور قابل لڑکی کو ایک امریکن یونیورسٹی سے اسکالرشپ ملی اس نے پاسپورٹ کے لئے عرضی دی۔ پاسپورٹ آفس میں اس کے سرنیم جسے ہور کہہ کر پکار ا گیا۔ اس سے افسروں میں کافی ہلچل مچ گئی۔ امریکن سفارت خانے میں جب ویزا کے لئے اس کا انٹرویو ہو رہا تھا تو ادھیڑ امریکن افسر کی آنکھیں اس کا سرنیم سن کر چمک اٹھیں اور بڑی مشکل سے وہ جانچ کر پایا۔ وہ عورت پریشان ہوئی۔
بعد میں وہ امریکہ پہنچی اور یونیورسٹی میں گئی لیکن روزانہ سرنیم کی وجہ سے اسے بڑی جھینپ ہوتی تھی۔ اسے ایک نوجوان بنگالی انجینئر ملا جو وہاں بس گیا تھا۔ وہ کنورا تھا اپنے سر نیم سے چھٹکارا پانے کے لئے اس نے اس سے روایت توڑ کر شادی کی پیشکش کی۔ کچھ دن کے بعد ان کی شادی ہو گئی۔
اب اسے پورنیما ایچ چیٹرجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ (رتین گنگولی نے تیج پور سے بھیجا)

   

All categories