ایک سیاسی سونامی
شیام بھاٹیہ
اس وقت عرب ممالک کن انکھیوں سے اپنے خطہ کا تعاقب کر رہی غیر یقینی صورت حال کو دیکھ رہے ہیں وہیں دوسری جانب اس کا موازنہ کرتے ہوئے حال ہی میں جاپان میں آئی سونامی ذہن میں آتی ہے۔ لیکن جاپان کی سونامی ایک قدرتی آفت تھی جبکہ عرب دنیامیں آئی سیاسی سونامی خود انسانوں کے ہاتھوں لائی گئی ہے۔بہت سے عرب تجزیہ کاروںنے اب اس کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملکوں میں اٹھتی بغاوت اچانک ہی پڑنے والی ایک افتاد ہے اور دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح وہ بھی اس کے دور رس اثرات پر غور کر رہے ہیں۔ گو کہ کوئی سیاسی مماثلت کبھی بالکل درست نہیں ہوتی پھر بھی جو تاریخ سے واقف ہیں وہ ایک ایسے ہی انقلاب کی دستک محسوس کر رہے تھے جو 1979میں ایران میں آیا تھا جس میں رضا شاہ پہلوی کی مطلق العنانہ حکومت کا تختہ پلٹ دیا گیا تھا ۔ پھر انتخابات ہوئے اور وزیر اعظم مہدی بازرگان اور صدر ابو الحسن بنی صدر جیسے لوگ بر سر اقتدار آئے لیکن پاسداران انقلاب کی حمایت سے آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میںبہتر انداز سے منظم علما ءنے انہیں بھی اقتدار سے بے دخل کر دیا اور بنی صدر کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا آج وہ فرانس میں کسی مقام پر سیاسی پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں۔
عرب دنیا میں ایسے انقلاب کا آغاز تیونیشیا سے ہوا جہاں زین العابدین کی آمرانہ حکومت کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی زندگیاں داﺅ پر لگا کر گلی کوچوں میں اس مطلق العنان حکومت کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرنے لگے۔عربوں نے اس عوامی غم و غصہ کو ایک ایسی مقامی آفت سمجھا جو اسی حد تک محدود رہے گا اور اس کا خطہ کے باقی ملکوں سے کوئی سرو کار نہیں تھا۔اس وقت عام خیال یہی تھا کہ اس نام نہاد تیونیشیائی بغاوت کے شعلے پڑوسی ملکوں تک کبھی نہیں پہنچیں گے۔ اور بغاوت کی یہ چنگاری تیونیشیا میں ہی بھڑک کر ٹھنڈی ہو جائے گی۔عرب حکومتیں عوامی بغاوت کو کس قدر کم آنک رہی تھیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب مصر کے وزیر خارجہ سے اس بابت معلوم کیا گیا کہ کیا تیونیشیا جیسی تاریخ مصر میں بھی دہرائی جا سکتی ہے تو انہوں نے بڑی حقارت سے اسے خارج از امکان بتایا ۔آج بھی بہت سے لوگوں کو ان کی وہ تحقیر آمیز مسکراہٹ یاد ہے جو ان کے چہرے پر اس وقت آئی تھی جب ان سے معلوم کیا گیا تھا کہ کیا تیونیشیا کے حالات سے ان کی حکومت کو بھی تشویش ہو گئی ہے تو اس وقت انہوں نے اسے نری بکواس قرار دیا تھا۔لیکن چند روز بھی نہ گذرے تھے کہ قاہرہ کے وسط میں واقع تحریر اسکوائر صدر حسنی مبارک کی معزولی اور ان کی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں مظاہرین سے کھچا کھچ بھر گیا۔مصر کا یہ انقلاب اتنا زبردست تھا کہ اس کے سامنے تیونیشیائی انقلاب بونا قد محسوس ہو رہا تھا۔حالانکہ حسنی مبارک اور ان کی حکومت تیونیشیائی ہم منصب کے مقابلہ کہیں زیادہ پرانی،طاقتور اور بہتر انداز میں مورچہ بندتھی اور ہر لحاظ سے اس کے وسائل بے پناہ تھے۔ اس لئے حسنی مبارک کی معزولی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ بن گئی ۔
حقیقت پسندی اور حالات کے تقاضے بہترین رہنما ہیں۔ مصر میں حالات کے آخری کروٹ لینے تک حسنی مبارک کے مشیروں کا ٹولہ یہی کہتا رہا کہ ان کا مرد مجاہد تیونیشیا کے معزول ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کی طرح نہیں ہے جو اپنی تمام دولت اور سونا چاندی و زیورات سمیٹ کر سعودی عرب بھاگ گیا۔ حتیٰ کہ مبارک خود بھی آخری لمحہ تک یہی کہتے رہے کہ وہ کبھی اقتدار نہیں چھوڑیں گے حالانکہ آخر کار انہیں اور ان کے افراد خاندان کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ ان کے پر تعیش قاہرہ محل سے بحر احمر کے پر فضا مقام شرم الشیخ پہنچا دیا گیا۔ اب بھی تانا شاہی کرنے والے خود کو برتر سمجھ رہے ہیں ۔مگر تابکے؟اس وقت خود کو برتر و طاقتور سمجھنے والی طاقتوں کواپنے عوام کے عتاب کا شکار ہونا پڑ رہا ہے پھر بھی لیبیا میں کرنل معمر القذافی، شام میں بشار الاسد اور یمن میں علی عبداللہ صالح بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ تیونشیا اور مصر کے حکمرانوں سے مختلف ہیں۔بالفرض محال اگر تجزیہ کار ان تینوں کی اس دلیل کو وقتی طور پر تسلیم کر بھی لیتے ہیں اور کوئی پیش گوئی نہیں کرتے تب بھی ان کی معزولی نوشتہ دیوار بن چکی ہے اور جلد یا بدیر ان تینوں کے اقتدار پر بھی پردہ گر جائے گا۔ اس پیشگوئی کی تجزیہ کاروں کو کوئی ضرورت نہیںہے کہ یہ بتایا جائے کہ یہ سیاسی سونامی نہ صرف اور بڑھے گی بلکہ اس کی لہریں دور دور تک مزید کئی عرب ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی۔ جن ملکوں کااس سونامی کی زد میں آنے کا خطرہ ہے ان میں خلیج کی شیوخ سلطنتیںبحرین ، عمان اور سعودی عرب ہیں۔خلیجی ملکوں میں کام کرنے والے ایشیائی اور دیگر غیر ملکی باشندوں کا پریشان ہونا فطری بات ہے۔ایسے بہت سے اشارے مل رہے ہیں کہ ان کے ان عارضی ملکوں میں ہونے والی بغاوت ایسی پر امن اور بے خون انقلاب کی شکل میں نہیں ہوگی جیسی کہ تیونیشیا اور مصر میں ہوئی ہے بلکہ وہاں حالات بہت خراب ہوں گے۔لیبیا کے حالات سامنے ہیں جہاں پورے ملک کے کم و بیش ہر شہر کے گلی کوچوں میں باغیوں اور سرکاری فوجوں میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے اور محصور شہر مسراتہ سے بھاگ کر آنے والوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ وہاں کی گلیاں لاشوں اور زخموں سے کراہ رہے بے قصور شہریوں سے پٹی پڑی ہیں۔لیبیا کے حالات دیکھ کر لاکھوں غیر ملکی وہاں سے جان بچا کر بھاگ چکے ہیں۔آزادی کے بعد امریکہ میں استحکام لانے میں برسوں لگ گئے، فرانس بھی انقلاب کے بعد طویل عرصہ تک غیر مستحکم رہا۔ایسی ہی صورت حال سے عرب ممالک دوچار ہیں۔جہاں تک عرب ملکوں کا تعلق ہے تو خانہ جنگی، لاقانونیت، طوائف الملوکی اور طویل سیاسی عدم استحکام کا انہیں سامنا ہے۔ تاہم ابھی وہاں پاسداران انقلاب جیسا کوئی جتھہ ہے اور نہ ہی اس جیسا کوئی گروپ ہے جو شہروں میں گھومتا پھرے ۔پھانسی پر چڑھانے والے کوئی جج مقرر نہیں ہوں گے اور عوام کو سزائیں کبھی نہیں دی جائیں گی۔
وقتی طور پر عرب باشندے اپنی پریشان حال اورمعزولی کے دہانے پر پہنچ جانے والی حکومتوں کے انعام و اکرام کے فریب میں آسکتے ہیں۔کچھ حکومتوں نے قیدیوں کو رہا کردیا، تنخواہیں بڑھا دیں،اور اشیائے خوردنی سستی کر دیں اور اس کے ساتھ ہی سب کو بونس کا مفہوم بھی سمجھ میں آگیا۔ ان عرب حکومتوں نے یہ سبق تیونیشیا کے مفرور صدر بن علی سے ہی سیکھا ہے جس نے اپنے ناراض عوام کو منانے اور پھسلانے کے لئے آخر میں یہ کہا تھا کہ اب میں آپ کی مشکلات سمجھ گیا ہوں۔بن علی اور مبارک کی معزولی کے کئی ہفتوں بعد غیر یقینی کیفیت اور خانہ جنگی کا خوف دو ایسے امکانات ہیں جن کی سرگوشیاں اب ان دونوں ملکوں کے گلی کوچوں میں ہو رہی ہیں۔احتجاج جاری ہیں کیونکہ جہاں تک انقلابیوں کا تعلق ہے انہوں نے ملک کے صدور تو بھگا دئے لیکن ان کے اقتدار کی رمق باقی ہے اور اس کی کافی کچھ ذمہ داری خود انقلابیوں پر بھی عائد ہوتی ہے وہ تبدیلی کی سونامی کے دوش پر اڑتے ہوئے ملک کے صدر کو بھگانے اور ان کا اقتدار ختم کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن بعد از انقلاب حکومت سازی کے لئے اپنے لیڈر پیدا نہیں کر سکے ۔جو کچھ امیدوار سامنے آئے بھی تو انہیں موقع پرست قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔مصر کے نوبل انعام یافتہ محمد البرداعی کا کیس سامنے ہے۔ وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی(آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ ہیں اور دو دہائیوں تک ویانا میںآئی اے ای اے کے ہیڈ کوارٹرمیں رہ چکے ہیں۔ ان میں مبارک کو ان کے اقتدار کے دور میں ہی چیلنج دینے کی صلاحیت تھی اور کچھ مصری انہیں 82سالہ معزول ڈکٹیٹر کا متبادل سمجھتے بھی تھے۔پھر بھی جب البرداعی حالیہ استصواب رائے میں اپنا ووٹ ڈالنے قاہرہ پہنچے تو ان پر آوازے کسے گئے اور وہاں موجود بھیڑ نے ان کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان پر جوتے پھینکے ۔ ان کے” واپس جاﺅ ، امریکی ایجنٹ واپس جاﺅ“ کے نعروں سے فضا گونج رہی تھی ۔
رجائیت پسند اس بات کا خاص طور پر ذکر کر رہے ہیں کہ کس طرح ایک زبردست جوش کی وجہ سے حکومت میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ خاص طور پر مغربی ملکوں میں تعلیم حاصل کرنے والے انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والی فیس بک اور ٹویٹر نسل نے کایا پلٹی ہے۔ ان کی وجہ سے ہی متعلقہ ملکوں میں ظلم و زیادتی اور حقوق انسانی کی وسیع پیمانے پر پامالی کو کامیابی کے ساتھ بے نقاب کیا گیا۔ تیونیشیا کے ایک ریڑھی والے سبزی فروش محمد بو عزیز کی اپنی مقامی میونسپلٹی کے انسپکٹروں کی زیادتی سے عاجز آکر خود سوزی کی خبر پلک جھپکتے میں انٹرنیٹ کے ذریعہ دنیا کے کونے کونے میں پہنچ گئی اور اس کے بعد جو طوفان برپا ہوا وہ اسی انٹرنیٹ کی وجہ سے ہوا اور تیونیشیا میں ایک سبزی فروش کی خود کو زندہ جلا کردی جانے والی قربانی ایسا رنگ لائی کہ ملک کے جابر حکمراں کو ملک چھوڑ کر ہی بھاگنا پڑا۔اسی طرح یہ انٹرنیٹ ہی تھا جس کی وجہ سے اسکندریہ میں ایک نوجوان کی پر اسرار حالات میں موت نے عوامی توجہ اپنی جانب مرکوز کر لی۔ گذشتہ جون میں خالد سعید نامی ایک نوجوان کو سر بازار پولس نے اس بری طرح زد وکوب کیا کہ اس نے موقع پر ہی دم توڑ دیا اس کے فوراً بعد مصر میں پولس مظالم کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے اور پبلک پرازیکیوٹر کو قبر میں سے اس کی لاش نکال کر دکھائی گئی کہ پولس کی مار سے ہی اس کی موت ہوئی ہے۔ یہ رجائیت پسندی ہائی ٹیکنالوجی، روشن خیال مغربی اقدار سے متاثر جوان نسل کی پیدا کردہ تھی لیکن ضروری نہیں کہ نئی نسل مغرب نواز ہو وہ بلا شبہ اسرائیل مخالف ہے۔جب امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے حال ہی میں مصر کا دورہ کیا تو وہ تحریر اسکوائر کے لیڈروں سے بات کے دوران بھونچکی رہ گئیں ۔ ان لیڈروں نے ان پر الزام لگایا کہ امریکہ ہی کئی دہائیوں سے مبارک کی ظالم و جابر حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔دیگر عرب ملکوں کی راجدھانیوں میں بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہاں جہاں ایک طرف حکومت مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں تو اس کے ساتھ ہی امریکہ ہائے ہائے اور اسرائیل مردہ باد کے بھی نعرے لگائے جا رہے ہیں۔
اب اس گذرے طوفان کی دھول بیٹھنے اور غبار صاف ہونے میں ایک طویل عرصہ لگے گا لیکن یہ بھی اندیشہ ہے کہ مزید بہت سی معصوم امیدیں ملیا میٹ اور زندگیاں تہ تیغ کر دی جائیں گی۔یہ موازنہ اب جاپان کی سونامی سے نہیں بلکہ فرانس کے انقلاب سمیت ماضی کے تمام انقلابوں اور ان انقلابات کے بعد کے حالات سے کیا جارہا ہے ۔ کوئی اسے مانے یا نہ مانے یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عرب لوگ آج بھی اس کا انتظار کر ہے ہیں کہ ان میں سے ہی کوئی ایک یا کئی مسیحا پید ہوں گے جو انہیں ایک نئی زندگی دینے کے ساتھ ساتھ انکے لئے مشعل راہ بھی ثابت ہوں گے(بشکریہ ایشین افئیرس)۔








