تیونیشیا کے سیاسی بحران سے عرب حکمرانوں کی نیند حرام
محمداحمد کاظمی۔میڈیا اسٹار
دنیا بھر میں بادشاہتوں کوہٹاکر جمہوری نظام کے قیام کا مطالبہ انسانی حقوق کی بازیابی کا حصہ سمجھا جاتا ہے ۔ اکثر بادشاہتوں کی تاریخ عوام کے حقوق کی پامالی اور مظالم پر مبنی رہی ہے ۔ حالیہ برسوں میں عراق ایسا ملک ہے جہاں ڈکٹیٹر صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوکر وہاں جمہوری حکومت قائم ہوئی ہے ۔ حالانکہ وہا ں کی عوام کی مرضی کی حکومت کے قیام میں انسانی حقوق کے علمبردار ممالک نے رکاوٹیں کھڑی کیں لیکن بہرحال عراق میں قومی نمائندہ حکومت قائم ہوگئی ہے ۔
اکثر عرب اورشمالی افریقہ کی حکومتیں بادشاہوں کے ہاتھ میں ہیں اور وہ بیشترامریکہ کے اتحادی ہیں۔ ان تمام ملکوں میں ایک خاص بات مشترک یہ ہے کہ یہاں اکثر آبادی کو علم سے دور رکھا گیا ہے اور وہاں ترقی میں رکاوٹ کھڑی کرنے کے لئے صنعتوں کو نہیں پنپنے دیا گیا۔ ان ممالک کے قدرتی وسائل پر غیر ملکی تسلط ہے اوروہاں کے حکمراں اپنے غیر ملکی آقاو¿ں کے مرہون منت ہیں اور ان کے فیصلے غیر ملکی راجدھانیوں میں ہی ہوتے ہیں۔ حال ہی میں شمالی افریقہ میں تیونیشیا میں جس طرح عوام نے بے روزگاری اور غربت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر کے وہاں کی حکومت کا تختہ پلٹا ہے اس سے ان ممالک کے اندرونی حالات کا اندازہ لگانا آسان ہے ۔ الجزائر اور اردن میں بھی حال ہی میں عوام نے اپنی حکومتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔
گزشتہ 15جنوری 2011کو تیونیشیا میں غیر معمولی مظاہروں کے بعد مستعفی ہونے والے صدر زین العابدین اپنے اہل خانہ کے ساتھ ملک سے فرارہو کر اور قومی سرمایہ لے کرخطے کے ایک اور غیر جمہوری ملک سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ تیونیشیا میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور فوری طور پر وزیر اعظم محمد غنوچی نے اقتدار سنبھال لیا ۔ سعودی عرب کے شاہی سعودی محل سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ تیونیشیا کے صدر زین العابدین سعودی عرب پہنچے ہیں۔ ایک روز قبل ہی 14جنوری کو ملک کی راجدھانی تیونس میں ہزاروں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ 23برس سے اقتدار میں رہنے والے صدر زین العابدین فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔ واضح رہے کہ تیونیشیا میں بے روزگاری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف گزشتہ تین ہفتوں سے مظاہرے جاری تھے۔ زین العابدین1987میں ملک کے صدر بنے تھے اور گزشتہ 23برسوں کے دوران ملک میں اس قسم کا کوئی احتجاج نہیں ہوا تھا۔
حالات کشیدہ ہوتے ہوئے بھی 16جنوری کو پارلیمنٹ کے اسپیکر فواد مبینرا نے عبوری صدر کے طور پرحلف اٹھالیا۔ انہوں نے ملک میں مخلوط حکومت قائم کرنے کااعلان کیا جس میں بقول ان کے حزب اختلاف کی جماعتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں ۔ البتہ لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہا اور پر تشدد واقعات میں اب تک 42افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوچکی تھی ۔ اب ملک بھر میں فوج نے نظم و نسق کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لی ہوئی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے زین العابدین فرار ہونے پر خوشی منائے جانے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود لوگ دوکانوں میں لوٹ مار کرتے رہے اور ایک ریلوے اسٹیشن کو بھی عوام نے نذر آتش کر دیا۔ ایک جیل میں آگ لگنے کے واقعہ میں درجنوں لوگوں کے مارے جانے کی بھی خبر ہے۔
صدر زین العابدین کے ملک سے فرار ہوتے ہی قانون ساز کونسل نے پارلیمنٹ کے اسپیکر فواد مبینرا کو عبوری صدر بنانے اور مستقل صدر کا انتخاب دو ماہ کے اندر کرانے کا اعلان کردیا۔ وزیر اعظم غنوچی نے ملک میں بحالی امن کو اولین ترجیح دی ہے ۔ عوامی سطح پر ابھی تک حالات کشیدہ ہیں اور ملک کے مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورتحال برقرار ہے۔
دریں اثنا تیونیشیامیں عوامی احتجاج کے نتیجہ میں صدر زین العابدین کے اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوجانے سے حوصلہ پاکر اردن میںاسلام پسندوں نے اپنے ملک میں حاکمانہ تسلط کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 14 جنوری کو راجدھانی عمان میں تقریباً ایک ہزار مظاہرین نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مہنگائی اور کھلے بازار سے متعلق اصلاحات کے خلاف آواز بلند کی ۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ اس کی وجہ سے ملک کے غریب عوام کی حالت مزید بدتر ہوگئی ہے۔ اس مظاہر ے کاانعقاد مسلم یونینس نے کیا تھا جو اردن کے شاہی مملکت کی مغرب نواز پالیسیوںکی سخت مخالف ہے ۔ احتجاجیوں نے تیونیشیا کی مثال دیتے ہوئے سمیر رفاعی حکومت کے خاتمے کے حق میں نعرے لگائے۔ اردن میں اخوان المسلمین کے سربراہ شیخ حماد نے کہا کہ تیو نیشیاکے عوام نے ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ کر دیا اور یہ کہ وہ عرب عوام کے لئے ایک مثال ہے۔
ادھر ان واقعات سے ایک ہفتہ قبل ہی الجزائر کی راجدھانی الجیئرز میںبھی خوردنی اشیا کی بڑھتی قیمتوں اور زبردست بے روزگاری کے خلاف پرتشدد احتجاج ہوئے ہیں۔ ان احتجاجات میں نوجوان طبقے نے بڑی تعداد میں حصہ لیا ۔ اطلاعات کے مطابق وہاں حال ہی میں دودھ ، چینی اور آٹے جیسی ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ادھرگزشتہ دنوں تیونیشیا ، لبنان ، الجیریا اور سوڈان میں رونما ہونے والے واقعات کے پس منظر میں مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں عرب لیگ کا اہم اجلاس ہوا ہے ۔ اس اجلاس میں سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر نے حصہ لیا او رتیونیشیا کی نمائندگی وزیر خارجہ کمال مورجانی نے کی ہے۔ لبنان کے کارگزار وزیر اعظم سعد حریری نے وزیر اقتصادیات محمد صنعاوی کو شرکت کے لئے بھیجا ۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویتی وزیر خارجہ محمد الصباح نے دیگر عرب ممالک کے نمائندوں کو عوامی پریشانیوںکے بارے میں یاد دہانی کرائی ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام سوال کر رہے ہیں کہ آیا عرب رہنما دور حاضر کے مسائل اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
اطلاعات کے مطابق مصر کی نصف آبادی کی فی شخص ہر روز آمدنی دو امریکی ڈالر( یعنی ہندوستانی 90روپے) کے برابر ہے ۔ وہاں کے عوام بھی تیونیشیا کی عوام جیسی مشکلات کا شکار ہیں۔ واضح رہے کہ 2009میں کویت میں ہونے والے عرب لیگ سربراہ اجلاس میں فیصلہ لیا گیاتھا کہ خطے میں درمیانی اور چھوٹے تاجروں کی مالی امداد کی جائے گی لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیںکیا گیا ہے۔ عرب دنیا کے اکثر ممالک میں حکمرانوں کا اقتدار یا تو وراثت میں ملا ہے یا پھر انہوں نے فوج کی مدد سے اقتدار پرقبضہ کیا ہے۔ شرم الشیخ میںعرب لیگ کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے تیونیشیا کے وزیر خارجہ نے یہ اعتراف کیا کہ ان کے ملک میں ہونے والی بغاوت کا پس منظر سیاسی اور معاشی بدحالی تھا۔
ماہرین کا کہناہے کہ اگر عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں غربت کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات پر اتفاق نہ ہوسکا یا ایسی کسی قرار داد پر عمل نہ ہوسکا تو خطے کے کئی دیگر ممالک میں اسی نوعیت کے بغاوت کے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ تیونیسیا میں جمہوریت کے حق میں کی گئی بغاوت میں اسلامی نعرہ نہیں لگایا گیا ہے ۔ اس سے ان عرب بادشاہتوں کے حکمراں پریشان ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہی سخت گیر مذہبی عناصر کو اقتدار میں آنے سے روکے ہوئے ہیں ۔تیونیشیا کے صدر زین العابدین نے اپنی 22سالہ حکومت میں بڑا حصہ اسلام پسند گروپوں کو کچلنے میں گزارا تھا اور امریکہ میں 11ستمبر2001میں ہوئے دہشت گردانہ واقعات کے بعد امریکہ کی دہشت گردی مخالف مہم کی پوری طرح تائید کی تھی۔
میں نے ایران عراق کے علاوہ اس خطے میں اردن ، ترکی ، سعودی عرب، کویت ، شام ، متحدہ عرب امارات اور لیبیا کا سفر کیاہے۔ عرب ممالک میں عوام آزادی سے حکومت کی پالیسی پر کسی قسم کی بحث نہیں کر سکتی ۔ عام طور پر ٹیکسی ڈرائیوروں اور دکانداروں میں بھی حکومت کے جاسوس موجود ہیں۔ میں نے کئی ملکوں میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مخالفین کو جس طرح سے اچانک غائب کرکے جسمانی اذیتیں دی جاتی ہیں اور اکثر کو بغیر کسی قانونی چارہ جوئی کے قتل کر دیا جاتا ہے جمہوری نظام میں رہنے والے لوگ اس کا تصور نہیں کر سکتے ۔ ریگستان کے لق و دق صحراو¿ں میں سیاسی مخالفین کو بغیر کسی غذا اور پانی کے بھوکا پیاسا مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ عراق میں صدام حسین کے زمانے میں جس طرح سے مخالفین کو قتل کیا جاتا تھا اس کی ویڈیوانٹرنیٹ کے ذریعہ یو ٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ دیگر ممالک میں بھی کم و بیش مخالفین کواسی طرح مظالم کا شکار کیاجاتاہے۔ صرف فرق اتنا ہے کہ صدام حکومت کے خاتمے کے بعد اس کی حکومت کے خفیہ محکموں کی تمام سرگرمیاں عوام کے سامنے آگئی ہیں اور دوسرے بادشاہوں کے کارنامے ابھی عوام اور بین الاقوامی برادری کے سامنے نہیں آئے ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق عرب عوام اب اپنی حکومتوں سے اس حد تک پریشان ہوچکے ہیں کہ مصر ، تیونیشیا اور الجزائر میں احتجاجیوں کے ذریعہ خود سوزی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔ مصر کی راجدھانی قاہرہ میںبھی 18جنوری کو 2افراد نے خود سوزی کی۔ تیونیشیا میں بھی عوامی احتجاجات کے شروع میںایک طالب علم نے خودسوزی کی تھی ۔ واقعات کے اس نئے موڑ سے عام طور پر عرب حکمرانوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں ۔ کوئی بھی جارح اورڈکٹیٹر حکمراں مخالفین کو جیل میں ڈالنے اور قتل کی دھمکی سے زیادہ کچھ نہیں دے سکتا۔ خود سوزی کا اقدام ظاہر ہے کہ موت کا ڈڑ ختم ہونے کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔
مصر کی راجدھانی قاہرہ میں احرام سیاسی اور دفاعی امور کے مرکز سے متعلق ماہر عماد گاد نے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے میں اکثر ممالک میںلمبے عرصے سے ایک ہی رہنما یا ایک ہی پارٹی حاکم ہے جن کا ہر چیز پر قبضہ ہے اور مخالفین کو دور رکھا گیا ہے ۔ اس وجہ سے مالی بدعنوانی بھی زیادہ ہے ۔ ایسے حالات میں کسی بھی وقت اورکسی بھی ملک میں سیاسی دھماکہ ہو سکتا ہے ۔
میںسمجھتا ہوں کہ جب تک عوام کوان کا سیاسی اور سماجی حق نہیں ملے گا خطے کی حکومتوں کو خطرہ لاحق رہے گا۔ ان حکومتوں کو سمجھنا چاہئے کہ اب ان کا غیر ملکی آقا امریکہ بھی روز بروز کمزوری کی جانب گامزن ہے ۔ امریکہ سے دوستی تیونیشیا کے صدر کے کام بھی نہ آسکی۔ اگر امریکہ کا سیاسی اقتدار نہ رہا تو ان کی بادشاہتیںبھی کیسے باقی رہ پائیں گی؟
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)








