You are here: اسلامی دنیا عرب دنیا عرب انقلاب اور خواتین کا رول Home

عرب انقلاب اور خواتین کا رول

برقیہ چھاپیے

اصغر علی انجینئر
2011کے شروع ہوتے ہی عالم عرب میں زبردست سیاسی اتھل پتھل مچی۔ ابھی جنوری 2011ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ تیونیشیا کے جابر حکمراں زین العابدین کا تختہ پلٹ دیا گیا۔ ایسا ہی ایک بحران مصر میں پیدا ہوا لاکھوں افراد طویل عرصہ سے اقتدار سے چمٹے ایک اور تانا شاہ حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تحریر اسکوائر پر جمع ہو گئے۔ آخر کار حسنی مبارک کو بھی اقتدار سے معزول کر دیا گیا۔ پھر اس طوفان نے لیبیا، شام، یمن اور بحرین کا رخ کیا۔ اس کے بارے میں کافی کچھ لکھا جا چکا ہے جسے دوہرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن یہاں اصل تشویش ان عرب ملکوں میں آنے والی انقلابی تبدیلیوں میں خواتین کے رول کے بارے میں ہے۔ان تمام ملکوں میں خواتین نے تیونیشیا سے یمن تک بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ کوئی بھی ان کے رول کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مصر اور یمن میں خواتین کی کوششوں نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ در حقیقت تحریر اسکوائر پر یہ کثیر اجتماع فیس بک پر ایک کمسن بچی کی اپیل پر ہوا تھا۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ فیس بک کے نام سے پکاری جانے والی سوشل ویب سائٹ نے عالم اسلام میں بادشاہت و مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف رائے عامہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سیاسی بیداری لانے میں خواتین کا رول اس قدر اہم ہے کہ اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ اس سال کانوبل انعام تین عرب ملکوں تیونیشیا، مصر اور یمن کی خواتین کو دیا جائے گا لیکن وہ انعام افریقہ اور یمن کی خواتین کو دے دیا گیا۔ تیسری خاتون جو یمن کی ہے وہ مسلمان ہے اور انہوں نے صدر صالح کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے سیاسی صف آرائی کرنے اور حقوق انسانی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ۔ یہ بات دیگر ہے کہ ابھی یمن میں حالات تعطل کا شکار ہیں۔قابل ذکر بات اول تو ان ملکوں میں سیاسی لام بندی میں خواتین کے رول کا ہونا ا ور دوئم یہ کہ اس نے اس خیال و تصور کو پاش پاش کر دیا کہ مسلم عورتیں محض گھر کی چہار دیواری تک قید رہتی ہیں اور ان کی حیثیت گھریلو خادماو¿ں اور امور خانہ انجام دینے سے زیادہ نہیں ہے۔لیکن ایک بار پھر مسلم خواتین نے ثابت کر دیا کہ وہ عوام الناس میںزیادہ موثر اور بامقصد تحریک پیدا کر سکتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ تیونیشیا اور مصر میں لاتعداد خواتین یونین بازی میں پیش پیش ہیں اور ٹریڈ یونینوں میں رہ کر انہیں جو تجربہ حاصل ہوا ہے اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ملک کے سیاسی ڈھانچہ میں تبدیلی لا رہی ہیں۔لیکن بعد از انقلاب ان کے سر پر شک کے سائے منڈلا رہے ہیں؟ یہ جمہوری انقلاب انہیںکی کچھ دے گا بھی یا انہیں ڈکٹیٹر شپ کے دور میں حاصل حقوق سے بھی محروم کر دے گا؟ یہ بات زیادہ قرین قیاس محسوس ہو رہی ہے کیونکہ اس امر کا اغلب گمان ہے کہ ان ملکوں میں پھر سے اسلامی قوانین نافذ کر دئے جائیں گے ۔ تیونیشیا میں خود کو معتدل اسلامی پارٹی کہنے والی حزب النھضہ نے چناو¿ جیتا ہے ۔ لیکن یہ بھی خوش قسمتی ہی ہے کہ النھضہ لیڈر راشد الغنوشی نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ صنفی قوانین میں کوئی ترمیم نہیں ہوگی جس کا واضح مقصد یہ ہے کہ کثیر الازدواجی کو پھر سے نہیں تھوپا جائے گا۔لیکن لیبیائی خواتین ایسی خوش قسمت نہیں ہیں۔کیونکہ جس لیبیائی لیڈر کو قذافی کی ہلاکت کے بعد وزیر اعظم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ ملک میں صرف شرعی قوانین نافذ ہوں گے اور ایک یا ایک سے زائد بیویوں کا چلن پھر شروع کیا جائے گا اور اس میں مزید پابندیاں عائد نہیں ہوں گی۔ قذافی نے، جو بلا شبہ ایک ڈکٹیٹر تھا اور وہ مارا گیا، لیبیا میںصنفی انصاف رائج کیا تھا اور اسے استحکام بخشا تھا۔ اس نے قرآن میں عورتوں کو تفویض کیے گئے مساوی حقوق دیے تھے۔ اس نے کثیر ازدواجی رواج ختم کیا تھا اور خواتین کو عوامی زندگی میں اہم رول دیا تھا۔ قذافی نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ خواتین کوچراغ خانہ بنانا در اصل عالم اسلام کی نصف آبادی کو مفلوج کر دینے کے لیے سامراجیوں کی ایک سازش ہے ۔ اس لیے اس نے فوج میں خواتین کے لیے ایک خصوصی دستہ قائم کیا اور انہیں باڈی گارڈز کے فرائض نبھانے کی ذمہ داریاں تفویض کیں۔بلا شبہ یہ ایک انقلابی اقدام تھا۔لیکن اب یہ سب واپس لے لیا جانا متوقع ہے اور لیبیائی لیڈر نے کئی بیویاں رکھنے کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔اب یہ بات خاص طور پر موضوع بحث رہے گی کہ کیا قرون وسطیٰ میں، جب مردوں کو حاکم اور قوام سمجھا جاتا تھا، جو شرعی قوانین نافذ کیے گئے تھے ان کا من و عن نفاذ کیا جانا چاہئے یا قرآنی قدروں کی روح کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو نئی شکل دینی چاہئے۔یہ کہنا کہ کثیر ازدواجی کی قرآن بھی اجازت دیتا ہے اس لیے اسے دوبارہ لاگو کرنا چاہئے در اصل قرآن کی اسپرٹ کو مجروح کرتا ہے۔ اس میں آدھی سچائی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کثیر الازدواجی کی قرآن اجازت دیتا ہے لیکن اس کے لیے اس کی بڑی سخت شرائط اور مخصوص حالات ہیں۔ قرآن کی سورہ النساءکی آیت 3اور آیت129 میںقرآن کئی بیویوں سے زیادہ انصاف کو مقدم رکھتا ہے۔اور اگر انصاف اتنا ہی اہم ہے تو کیا کثیر الازدواجی کو قانون بنایا جا سکتا ہے؟ساتویں عشرے کے اوائل میں جب بھی کسی ڈکٹیٹر نے اپنے ملک کو اسلامی ریاست قرار دیا وہ حدودقوانین ( چوری، حرام کاری، زنا کے لیے اسلامی سزائیں)ضرور لاتا ہے۔گویا یہ سزائیں دینا یہ جاننے سے زیادہ ضروری ہیں کہ آخر وہ کیا عواقب و عوامل تھے جنہوں نے اس شخص کو یہ جرم کرنے پر مجبور کیا یا اسے سزا دینا اس کی اصلاح سے زیادہ اہم ہے۔ اسی طرح آج جب تانا شاہی حکومتیں ختم ہو رہی ہیں اور ایک اعلان کیا جا رہا ہے کہ عائلی قوانین نافذ کیے جائیں گے اور کثیر ازدواجی کی اجازت دی جائے گی۔جیسا کہ راقم الحروف ہمیشہ سے یہ کہتا آیا ہے کہ صنفی انصاف کو قرآن میں مرکزی حیثیت حاصل ہے بشرطیکہ قرآن کو مناسب نظریہ اور روشنی میں پڑھا جائے ۔ اور آج جب خواتین عوامی زندگی میں زیادہ سے زیادہ اہم رول ادا کر رہی ہیں تو یہ اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ صنفی انصاف قرآنی آیات اور قرآنی آیات کی تشریح کی بنیاد پر بنے شرعی قوانین کے سیاق و سباق کے حوالے سے معیاری انداز میں کیا جائے۔موجودہ شرعی قوانین خواتین کے لیے قابل قبول نہیں ہوںگے کیونکہ اب خواتین میں تعلیم اور بیداری کافی بڑھ گئی ہے اور اس کو مزید تقویت بخشنے کے لیے تبدیلی کا دباو¿ برقرار رہے گا۔در حقیقت صنفی انصاف کے معاملہ میں قرآن کا واضح موقف ہے اور وہ عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دیتا ہے۔ ہمیں حیرت ہے کہ مرد مفسرین کیسے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی اس پر بھی حیرت ہے کہ مسلم خواتین بھی ان تشریحات کے آگے سر تسلیم خم کر دیتی ہیں۔

Read In English

 

All categories