You are here: اسلامی دنیا عرب دنیا یمن او رمراقش میں جمہوریت کی راہ ہموار Home

یمن او رمراقش میں جمہوریت کی راہ ہموار

برقیہ چھاپیے

محمد احمد کاظمی

عرب ممالک میں جاری عوامی انقلاب کو آخر کار ایک اور کامیابی مل گئی ۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح جو 3جون کو ایک حملے میں ، مبینہ طور پر زخمی حالت میں کچھ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سعودی عرب فرار ہوگئے تھے اب وطن واپس نہیں آئیں گے۔ فرانس کی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک سعودی افسر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یمن کے صدر وطن واپس نہیں ہوں گے۔ یہ یمن کی حکومت کے اس بیان کے برخلاف ہے جس میں کہا گیا تھا کہ علی عبداللہ صالح بہت جلد وطن واپس ہوں گے۔ سعودی افسر نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ابھی یہ طے نہیں ہے کہ علی عبداللہ صالح کہاں رہیں گے ۔
3جون کو صنعا میں صدارتی محل پر مخالفین کے حملے میں صالح کے زخمی ہونے کے بعد انہیں اور پانچ دیگر اعلیٰ حکام کو سعودی عرب نے اپنے یہاں منتقل کرا لیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق یمنی صدر کا جسم 40فیصد جھلس گیا ہے اور وہ سعودی عرب کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ صدر عبداللہ صالح کے فرار ہونے کے بعد سے یمن کی عوام نے احتجاج مزید شدید کر دیا ہے ۔ اب یمنی عوام ملک میں ان کے بیٹوں احمد صالح اور خالد عبدللہ صالح کو بھی ملک میں نہیں دیکھنا چاہتے اور ان سے بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ دونوں بھیہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں۔جمہوریت نوازوں کا یہ بھی مطالبہ شدت اختیا ر کرتا جا رہا ہے کہ ملک میں فوری طور پر عبوری کونسل کا قیام ہو تاکہ جمہوریت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وہ علی عبداللہ صالح کو واپس یمن میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ یمن کے نائب صدر عبد و رابو منصور ہادی جو کہ صدرکی غیر موجودگی میں حکومت چلا رہے ہیں نے اب تک داخلی اور بین الاقوامی دباو¿ کے باوجود عبوری کونسل کے قیام کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے۔
ادھر بحرین میں سعودی افواج کے ذریعہ عوام پر غیر معمولی مظالم کے باوجود عوامی احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر مسلح عوام پر گولی باری، اسپتالوں پر حملے، مساجد اور امام بارگاہوں کا انہدام اور قرآن سوزی کے واقعات ہونے کے باوجود عوام الخلیفہ حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو بحرین کے مشرقی شہر سطرہ اور دیگر مقامات پر ہزاروں افراد نے حکومت مخالف احتجاجات میں حصہ لیا۔ اس سے یہ واضح ہے کہ عوام اب موت سے خوفزدہ نہیں ہے۔ بحرین میں جاری مظالم کی ویڈیو میں نے خود دیکھی ہیں۔ چوراہے پر حکومت مخالف افراد کے ہاتھ پیر باندھ کر عوام کے سامنے ان پر کاریں چلادی گئیں اور قتل کر دیا گیا۔ بہت سے افراد کو محض حکومت مخالف نعرہ لگانے کی وجہ سے گولی سے مار دیا گیا۔ان واقعات کے باوجود بحرینی عوام احتجاجات میں حصہ لے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام میں موت کا خوف ختم ہونے کے بعد اب انہیں کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی ۔ مارچ سے احتجاجات جاری ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ امریکہ بھی بحرین میں طویل مدت تک عدم استحکام برداشت کر سکے گا ۔ سعودی عرب نے اب تک یمن او ربحرین میں عوامی تحریکوں کو دبانے کے امریکی اور اسرائیلی منصوبے میں اس لئے بھی غیر معمولی تعاون دیا ہے کہ ان ممالک کے بعد سعودی حکام خود خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ یمن میں القاعدہ کا خوف دکھا کر اور بحرین میں شیعہ اکثریت کے حکومت میں آنے کے خدشہ کے بہانے سعودی عرب خود اپنی جان بچانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کے مشرقی تیل سے مالا مال علاقوں میں حکومت مخالف تحریک جاری ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب سعودی حکومت کے خلاف ملک میں احتجاجات ہورہے ہیں۔
ادھر شمالی افریقہ میں مراقش کے بادشاہ محمد ششم نے 17جون کو ایک ٹیلی ویژن سے خطاب کے دوران ملک میں سیاسی اصلاحات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ان کے اختیارات کم ہوں گے اور جمہوری پارلیمانی نظام کا قیام عمل میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میںآئندہ حکومت کا سربراہ سیاسی جماعتوں میں سے منتخب ہوگا جو کہ پارلیمانی انتخابات میں سرفہرست ہوگی ۔ نئے نظام کے قیام کے سلسلے میں ملک بھر میں یکم جولائی کو ریفرنڈم عمل میں آئے گا ۔ نئے آئین میں مقامی بربرزبان کو عربی کے علاوہ دوسری سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ یعنی اگر مراقش میں واقعی جمہوری نظام کا قیام عمل میں آگیا تو یہ افریقہ کا انقلاب سے متاثر تیسرا ملک ہوگا۔ البتہ چوتھا ملک لیبیا بھی تبدیلی کے کافی نزدیک ہے ۔ وہاں تیل پر قبضے کی لڑائی ناٹو افواج کے ذریعہ جاری ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق لیبیا میںعراق سے بھی زیادہ بربادی ہوچکی ہے اور معمر قذافی حکومت سے برطرف نہیں ہورہے ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ کے روز انہوں نے کہا ہے کہ وہ ناٹو افواج کو ناکام کر دیں گے۔ طرابلس پر بمباری کے تازہ واقعات کے بعد معمر قذافی نے راجدھانی کے گرین اسکوائر پر ایک آڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ملک میں اپنی مرضی کے برخلاف کوئی تبدیلی نہیں ہونے دیں گے۔ ملک کا مشرقی خطہ مخالفین کے قبضہ میں ہے جبکہ حکومت اور مخالفین کے درمیان مغربی شہر مصراتہ میں بھی جنگ جاری ہے ۔ طرابلس میں ناٹو افواج کی بمباری جاری ہے۔ مشاہدین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ناٹو ممالک کے معاملات ابھی تک مخالفین سے طے نہیں ہوئے ہیں اسی لئے قذافی کی حکومت کے خاتمے کا آخری مرحلہ مکمل نہیں ہوپارہا ہے۔
ادھر شام میں بھی حکومت مخالف احتجاجات اور ان کے خلاف حکومت کی شدید کارروائیاں جاری ہیں ۔ صدر بشارالاسد کاکہنا ہے کہ سعودی عرب سمیت کچھ غیر ملکی طاقتیں ملک میں خلفشار پھیلا رہی ہیں۔ ان کا مقصد شام میں فلسطین حامی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے شام کے ساحلی شہر درعہ میں لیبیا میں بن غازی کی طرز پر مخالفین کا مرکز بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی۔ واضح رہے کہ تمام عرب ممالک میں شام واحد ملک ہے جو عراق-ایران (1980-88) جنگ کے دوران ایران کی حمایت کرتا تھا۔ شام کے حماس اور حزب اللہ سے تعلقات بھی بہتر ہیں ۔ امریکہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں قرار داد پاس کرانے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ دلچسپ بات ہے کہ امریکہ ایک طرف شام کی حکومت کے خلاف بین الاقوامی پابندیاںلگانے کا طرف دار ہے او ردوسری طرف بحرین میں ہر قسم کے مظالم پر خاموش ہے۔
ادھر مصر کے اقوام متحدہ میں سفیر ماجد عبدالعزیز نے ایران سے تعلقات بہتر ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ مصر اور ایران مسلم ممالک میں اہم ترین اور با اثر ممالک ہیںاور ہم ایران سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔
در ایں اثنا لبنان میں حزب اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ ابراہیم امین السید نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ عرب ممالک کے حالیہ انقلاب سے ایران کوسیاسی فائدہ ہوگا اور امریکہ اور اسرائیل کو نقصان ہوگا۔ اب سے پہلے بھی مئی امریکی اور یوروپی تجزیہ نگاروں نے بھی ایسے حیالات کا اظہار کیا ہے۔
میں نے اب سے پہلے بھی اپنی تحریروں میں کہا ہے کہ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری عوامی بیداری تحریک کو اب کوئی طاقت قابو میں نہیں کر سکتی۔ ان ممالک میں بادشاہتوں کے خاتمے اور جمہوری نظام کے قیام کے عمل کو ملتوی کرنے کی امریکی اور اسرائیلی سازشوں کی ناکامی یقینی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں خطے میں ان کا وجود اور مفادات دونوں خطرہ میں ہیں۔ سیاسی مبصرین کو یقین ہے کہ عوامی بیداری کے خلاف ہر قسم کی کوششوں کے باوجود جمہوریت کے حق میں جاری آندھی کے رخ کو کوئی نہیں موڑ پائے گا ۔بہتری اسی میں ہے کہ دنیا کے ممالک خطے کی عوام کی امنگوں کو تسلیم کرتے ہوئے وہاں جمہوری نظام کے قیام میں تعاون کریں۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

All categories