محمد احمد کاظمی
بین الاقوامی سیاست میں کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جو عوامی نظر سے دور ہوتے ہیں ۔ حکومتیں اور ان سے متاثر میڈیا بھی ان حقائق کو مصلحتاً عوام سے دور رکھتی ہیں ۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اس سے ان کی جو عوام کے درمیان مقبول شبیہ بنائی گئی ہے اسے نقصان پہنچے گا ۔ یعنی حقائق کچھ ہوتے ہیں اور بیچاری عوام کچھ اور ہی سمجھتی ہے ۔ میں نے اپنی تحریروں کے ذریعہ اب تک بہت سے ایسے مسائل پر عوام کوحقائق سے روشناس کرایا ہے جن پر اب تک پردہ پوشی کی گئی تھی۔ میری اس طرز تحریر پر اکثرقارئین نے غیر معمولی اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اس مضمون کے ذریعہ میں قارئین کے سامنے ایسے حقائق سامنے رکھ رہا ہوں جو عام طور پر سعودی عرب میں موجود مقدس مقامات کی وجہ سے وہاں کی حکومت کو بھی مقدس سمجھ لئے جانے کی وجہ سے بنی شبیہ کے قطعی برخلاف ہیں۔
سعودی عرب اور دنیا بھر کے عوام اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ 1967کی عرب -اسرائیل جنگ کے بعد سے اب تک دفاعی نظریہ سے کافی اہم سعودی عرب کے دو جزیرے تیران اور صنا فیر اسرائیل کے قبضہ میں ہیں اور گزشتہ 43برسوں میں سعودی حکومت نے ان اہم جزائر کو واپس حاصل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ یہ دونوں جزیرے دفاعی نظر سے غیر معمولی طور پر اہمیت کے حامل ہیں ۔ خلیج عقبہ میں داخلے کے محض 13 کلو میٹر چوڑے دہانے پر موجود ان جزیروں کا استعمال قابض اسرائیل عرب ممالک سے تحفظ اور ایلات بندرگاہ تک آمد ورفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے میںکرتا رہاہے۔ یہیں سے اردن کی بندرگاہ عقبہ کے لیے بھی راستہ ہے۔ واضح رہے کہ اردن اور مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے ہیں جسکے خلاف وہاں کی عوام اب احتجاج کر رہی ہے۔
دنیا بھر کے مختلف موضوعات پر حقائق پرمبنی انٹر نیٹ ویب سائٹ ویکی پیڈیا کے مطابق تیران جزیرہ کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ تیران اور صنافیرجزیرے خلیج عقبہ کے دہانے پر واقع ہیں اوربحرہ احمر کو جدا کرتے ہیں۔ تیران جزیرہ کا رقبہ 80مربع کلو میٹر ہے جبکہ صنافیر جزیرہ کا رقبہ 33مربع کلو میٹر ہے۔ ان جزیروں کو1967کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے سعودی عرب کے بادشاہ فیصل نے مصر کے صدر جمال عبدالناصر کو اسرائیل کے بحری راستے کو بند کرنے کی غرض سے سونپا تھا۔ لیکن جنگ میں اسرائیل سے مصر کے ہارنے کے بعد سے ہی یہ جزیرے صہیونی حکومت کے قبضہ میں ہیں۔ ان پر اسرائیل کے قبضہ کے 11ماہ بعد سعودی عرب کے امریکہ میں سفیر فیصل نے امریکہ کی وزارت خارجہ کو ایک خط لکھ کر ان جزیروں پر اسرائیلی قبضہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔
اس وقت اسرائیل کے امریکہ میں سفیر اصحاق رابن نے امریکہ کو وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ جزیرے اسرائیل کے لئے کافی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ فتح تحریک کے محض تین مسلح جوان تیران دہانے کو بند کرسکتے ہیں ۔ اس لئے ان جزائر کے تعلق سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کے بعد ہی فیصلہ ہو سکتا ہے ۔
بعد میں مصر اور سعودی عرب دونوں نے ہی ان جزیروں پر دعویٰ کرناچھوڑ کر ایک دوسرے کی ملکیت بتانا شروع کر دیا تاکہ اسرائیل اور امریکہ سے ناراضگی مول نہ لی جائے۔ اس سے اسرائیل نے ان جزیروں پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا۔ آقاﺅں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے گئے اپنے قومی مفادات پر سمجھوتے کی یہ بہترین مثال ہے۔ البتہ سعودی حکومت کے ذریعہ شایع نقشوں میں آج بھی تیران اور صنافیر جزیرے موجود ہیں۔
1967سے 1979تک یہ جزیرے پوری طرح اسرائیل کے قبضہ میں تھے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے بعد یہاں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کی گئی تاکہ مصر اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کا تنازع پیدا نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہاں اسرائیل کی فوج بھی یہاں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب حکومت نے ان جزائر کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر اس معاملے سے چشم پوشی اختیار کر لی ہے۔ مصر نے بھی ان جزیروں کو اسرائیل سے واپس لینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ انور سادات کاکہنا تھا کہ تیران اور صنافیر کا تعلق مصر سے نہیں اور یہ جزیرے سعودی عرب کی ملکیت ہیں اس لئے انہیں واپس حاصل کرنے کے لئے سعودی عرب کو کوشش کرنی چاہئے۔ادھر سعودی عرب حکومت کے کچھ عناصر کا کہنا ہے کہ کیونکہ ان جزائر میں پانی اورتیل موجود نہیں ہے اس لئے ان کی سعودی حکومت کی نظر میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موضوع پر سعودی حکومت کی خاموشی کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی عوام اور بین الاقوامی برادری کو یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی کہ سعودی حکومت دونوں جزیروں کے موضوع پر اسرائیل کے قومی مفادات کی خاطر خاموش ہے۔ اس حقیقت کو سعودی حکومت اپنی عوام اور تمام مسلمانوں سے اس لئے خفیہ رکھنا چاہتی ہے کہ سرزمین حجاز خاص تقدس کی حامل ہے اوراگر یہ حقائق عوام کے سامنے آئے تو عرب دنیا کی سربراہ سمجھی جانے والی حکومت کی بدنامی ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے شہر حقل اور تیران و صنافیر جزائر کے درمیان شکار کی بھی اجازت نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب حکومت نے یہ قدم اسرائیل کے جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اٹھایا ہے ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اصحاق رابن کے مجوزہ امن معاہدہ پر سعودی عرب نے دستخط کئے ہیں؟ یا یہ کہ سعودی حکومت نے تیران دہانے کے راستے سے اسرائیل کی ایکلات بندرگاہ پر تیل کے ڈپو بھرے رکھنے کی ذمہ داری اپنے سرلی ہے؟
خطے میں اسرائیل کا تحفظ امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیح رہی ہے۔ اس خطے میں سعودی عرب امریکہ کا نزدیک ترین اتحادی ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتا رہا ہے ۔ عرب ممالک میں حالیہ عوامی تحریکوں سے امریکہ اور اسرائیل خوفزدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بحرین اور یمن جیسے پڑوسی ملکوںمیں سعودی حکومت بادشاہتوں کی حمایت جار ی رکھے ہوئے ہے۔ بحرین میں امریکہ کی فوج کی مہمان نواز الخلیفہ حکومت کی حمایت میں سعودی عرب نے اپنی افواج وہاں بھیجی ہوئی ہیں۔ اور وہاں مسلکی بنیاد پر عوام کو کچلنے میں سرکردہ کردار نبھا رہی ہے ۔ یمن سے فرار ہونے والے صدر علی عبداللہ صالح بھی سعودی عرب میں زیر علاج ہیں ۔تیونیسیا کے صدر زین العابدین پہلے سے ہی وہاں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کو خطے کے ممالک میں عوامی اور جمہوری حکومتیں قائم ہونے کا خطرہ ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ان کے ذریعہ ان ممالک میں کی جانے والی لوٹ ختم ہوجائے گی اور اسرائیل محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ذریعہ ظاہر کئے جا رہے خطرہ کو بنیاد بنا کر سعودی حکومت اپنی بھی حفاظت کرنا چاہتی ہے اسی لئے وہ عوامی تحریکوں کو کچلنے میں سرگرم ہے۔سعودی عرب میں بھی عوامی تحریک روز بروز مضبوط ہورہی ہے ۔ حکومت آل سعود کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب عوام اس کے خلاف اس شدت سے کھل کر سامنے آ رہی ہے ۔ فی الحال سعودی عرب کے مشرقی تیل سے مالا مال علاقوں میں حکومت مخالف تحریک جاری ہے ۔ لیکن میرا یقین ہے کہ جیسے ہی یمن اور بحرین میں حکومتیں تبدیل ہوں گی پورے سعودی عرب میں بھی اس تبدیلی کی لہر کو کوئی نہیں روک پائے گا
حالانکہ سعودی حکومت نے ابھی تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے پھر بھی ملک میں صہیونی تاجروں نے بڑی حد تک قبضہ کر لیا ہے۔ دنیا بھر سے حج اور عمرہ پرجانے والے مسلمان با آسانی اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں حرم کے صدر دراوزہ کے سامنے کثیر منزلہ ہوٹل اور بازار میں با آسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ وہاں یہودیوں کی بڑی کمپنیاں کا روبار کر رہی ہیں۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو اپنے کاروبار سے حاصل فائدہ سے اسرائیلی حکومت کو امداد دیتی ہیں۔ یعنی دنیا بھر کے حاجیوں کی جیب کا پیسہ فلسطینی بے گناہوں کے قتل کے لیے سعودی حکومت کی پالیسی کی وجہ سے اسرائیلی حکومت تک پہونچتا ہے۔ 2006میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے کہنے پر لبنان میں سعودی عرب نے حزب اللہ کو کمزور کرنے کی سازشوں میں بھی برابر کا حصہ لیا تھا ۔ مغربی میڈیا کے ذریعہ حزب اللہ کو کمزور کرنے کی جو افواہیں اڑائی گئی تھیں انمیں وہ برابر شامل تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیل اور حز ب اللہ کے درمیان جنگ کے بعد سے ہی تمام عرب ممالک میں عوام کے درمیان مسلکی اختلاف بھلا کرحزب اللہ تحریک اور اسکے رہنما حسن نصر اللہ سب سے مقبول ترین رہنما ہیں۔
اسلامی دنیا کے لئے یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ جن ممالک کی حکومتوں کو مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا وہی امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔ اس کے نقصان کے طور پر سرزمین فلسطین اور مسلمانوں کا قبلہءاول بیت المقدس صہیونیوں کے قبضہ میں ہے۔ خطے میں مسلکی منافرت پھیلانے والی سازشوں سے دنیا بھرمیں مسلمان کمزور ہوا ہے۔ ایران کی کامیابی کو دیکھ کر عرب عوام بھی اپنی حکومتوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خطے میں اگر عوامی اور جمہوری حکومتیں قائم ہوگئیں تو امریکہ اور اسرائیل کو مزید ناکامیاں حاصل ہو ں گی ۔ اس لئے ان دونوں کی کوشش ہے کہ عوامی تحریکیں ناکام ہوجائیں۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)










