You are here: اسلامی دنیا ایران Home

Magazines

Saeban MagazineHayat Magazine

Jagjit Singh

Aaj Ke Daur Mein

Higher Resolution ----- Higher Resolution

Ek Khabar Ek Nazar

English to urdu

Advertise

ایران

اسلامی انقلاب سے امریکی سیاست ناکام

محمد احمد کاظمی

ایران نے 1979 میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ خمینی مرحوم کے ذریعہ خود اعتمادی اور خدا پر بھروسہ کے بنیا دی اصولوں پر ثابت قدمی سے عمل پیرا ہوکر جو ترقی حاصل کی ہے اسے ملک کو دیکھے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا ۔ میں نے ایران اور خطے کے اکثر ممالک کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے ۔ ایک طرف وہ ملک ہیں جو غیر ممالک کے ذریعہ اپنے قدرتی وسائل کا استحصال کراکر انکے اقتصادی مفادات کے لئے استعمال ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف ایران ہے جس نے بنیادی طور پر یہ سمجھ لیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کے دشمن ہیں اور اسی پاداش میں اقتصادی پابندیوں کے باوجود ملک نے نہ صرف تعلیم و تربیت بلکہ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں بھی غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے۔ شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں حالیہ عوامی انقلاب کو ایران کے رہنما اسلامی بیداری تحریک کا عنوان دے رہے ہیں اور یہاں عوامی سطح پر بھی ان انقلابی تحریکوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔
میں انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی مرحوم کی 22ویں برسی کے موقع پر ایران کی راجدھانی تہران میں ہوں۔ میں نے ایرانی عوام اور رہنماو¿ں میں اسلامی انقلاب کے بانی کے انتقال کے 22برس بعد بھی جس جذبہ اور احترام کا احساس کیا ہے وہ غیر معمولی ہے۔ اب سے پہلے بھی میں نے ایران کے کئی سفر کئے ہیں ۔ اس بار شمالی افریقہ اورعرب ممالک میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کے کامیابی کی طرف بڑھنے سے میں نے ایرانی عوام میں اپنے انقلاب سے مزید محبت اورہنماو¿ں میں غیر معمولی اعتماد محسوس کیاہے ۔ اسلامی انقلاب کے موجودہ رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور صدر محمود احمدی نژادنے اپنی تقاریر میں یہ پیغام دیا ہے کہ 32برس پہلے برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کے اثرات پورے خطے میں کامیابی کے ساتھ پھیل رہے ہیں اور امریکہ اور اسرائیل کی مسلم ممالک کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہورہی ہیں۔وہ یہ بھی کھل کر کہہ رہے ہیں کہ سرزمین فلسطین پر غیر قانونی طور پر بسنے والے اسرائیل کو مکمل طور پر ختم ہونا ہے۔ اگر سرزمین فلسطین کے چھوٹے حصہ پر بھی صہیونی حکومت باقی رہتی ہے تو وہ کینسر والے غدود کی طرح پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل خطے کے مختلف ممالک میں اسلامی بیداری مہم کو ناکام کرنے اور اپنے حق میں رخ دینے کے لئے کوشاں ہیں۔
4جون 2011کو تہران کے جنوب میں واقع آیت اللہ خمینی کے مقبرے پر 22ویں برسی کے موقع پر ایران کے مختلف شہروں اور قصبوں سے لاکھوں افراد جمع تھے۔ غیر ملکی مہمان بھی ہزاروں کی تعداد میں آئے تھے۔ مقامی لوگ بڑی تعداد میں پیدل سفر کرکے مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے تھے۔ کئی میل کے دائرے میں دور تک مر د وخواتین ، بوڑھے ، جوان اور بچے نظر آرہے تھے۔ اس موقع پر سب سے اہم تقریر اسلامی انقلاب کے موجودہ رہنما آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تھی ۔ اس موقع پر غیر معمولی بڑی تعداد میں نوجوان موجود تھے او راپنے رہنما کی تقریر کو یکسوئی سے سن رہے تھے ۔تقریر کے درمیان امریکہ مردا آباد ، اسرائیل مردا آباد اور اسلامی انقلاب کے حق میں نعرے لگائے جا رہے تھے۔ میں اتفاق سے ایسی جگہ بیٹھا تھا جہاں غیر ملکی سفارتکار اور اخباری نمائندوہ موجود تھے ۔ جب بھی عوام اپنے رہبر کے نظریات او رانقلاب کی حمایت اور امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت میں عرش شگاف نعرہ لگاتے تھے اکثر غیر ملکی سفارت کاروں اور اخباری نمائندوں کے چہرے اتر جاتے تھے ۔ ان کے چہروں پر غیر معمولی سکوت اور پریشانی آسانی سے محسوس کی جا سکتی تھی۔
رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی تقریر کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں انہوں نے مرحوم رہنما آیت اللہ خمینی کی شخصیت اور نظریات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بانی کی سوویت یونین کے منتشر ہونے کی پیشن گوئی جس طرح درست ثابت ہوئی تھی اسی طرح سے خطے کے ممالک میں بادشاہتوں کے خلاف بیداری کی پیشین گوئی بھی درست ثابت ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی کا انقلابی نظریہ معنویت اور منطقی طور پر اسلامی تعلیمات اور عدالت کے اصولوں پر مبنی تھا۔ مرحوم رہنما نے صرف مادی چیزوں پرنہیں بلکہ خدا کی مدد پر بھروسہ کیا تھا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد آئین ساز کونسل کے اراکین کے انتخاب سے لے کراب تک مختلف سطحوں پر 30سے زیادہ بار عوامی رائے کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے ہیں ۔ اس کے ذریعہ یہ ثابت ہوا ہے کہ عوام کے ہاتھ میں ہی ان کے مستقبل کی مہار ہے ۔ مرحوم رہنما آیت اللہ خمینی کی نظر میں دشمن طاقتوں سے خوفزدہ ہوکر ایک قدم بھی پیچھے لے جانا ناکامی کو قبول کرنا تھا۔ واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ملک کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خمینی ہمیں نصیحت کرتے تھے کہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ذمہ داری پوری کرنی چاہئے اورخودکو عوام سے اوپر نہیں سمجھنا چاہئے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ملک کی عوام میں مذہبی جذبے اور تقویٰ اور پرہیز گاری کے بڑھتے رجحان کی بھی ستائش کی۔
اس موقع پر جم غفیر کو خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے سمجھا تھا کہ جلد ہی اسلامی انقلاب کمزور ہوجائے گا۔ انہوں نے اپنا تجزیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں نے انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے دس دس برس کے وقفے سے اب تک دو بار بڑی کوششیں کی ہیں جن میںآخری کوشش گزشتہ صدارتی انتخابات کے موقع پرمخالفین کو اکسا کر کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے ہر بار دشمن طاقتوں کی سازشوں کو ناکام کر کے بیداری اور حکومت پر بھروسہ کا ثبوت دیا ہے۔
شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ اسلامی بیداری کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے انقلابی رہنما نے کہا کہ مصر اور تیونس میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں ایسے واقعات دو تین صدیوں میں ایک بار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسے بڑا انقلاب بتاتے ہوئے کہا کہ لیبیا ، یمن اور بحرین میں بھی عوام کو کامیابی ملے گی۔ ان کے مطابق عوامی بیداری کے سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا ۔ البتہ امریکہ او ر اسرائیل اس انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے کوشاں ہیں ۔ ان کے مطابق لیبیااور یمن میں یہ طاقتیں داخلی جنگ کے حالات پیدا کر کے اپنی پسند کی حکومتیں قائم کرنا چاہتی ہیں ۔ بحرین میں عوامی انقلاب کو غلط طریقے سے مسلکی رنگ دے کر اختلافات پھیلانے کی کوشش ہورہی ہیں۔ جبکہ یہ مسلکی مسئلہ نہیں ہے وہاں کے شہری اپنے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اگر امریکہ سعودی عرب کو بحرین میں فوج اتارنے کا اشارہ نہ کرتا تو بحرین میں موجودہ مظالم نہ ہوتے۔ اس لئے بحرین میں عوام پر ہونے والے مظالم کا امریکہ براہ راست ذمہ دار ہے۔
رہبر معظم نے مزید کہا کہ خطے میں حالیہ تحریک کے تین اہم عنصر ہیں جن میں عوامی شرکت ، امریکہ اور اسرائیل سے نفرت اور اسلامی نظریہ شامل ہے ۔ انہوں نے مصر اور خطے کی عوام کو بیدار، ہوشیار اور دشمن کی سازشوں سے با خبر رہنے کی تلقین کی ۔
واضح رہے کہ دوروز قبل ہی آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں امام حسین فوجی اکیڈمی میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے اسلامی انقلاب نے امریکہ کو گھٹنے کے بل جھکنے پر مجبور کر دیاہے اور یہ کہ خطے میں امریکہ کی سیاست ناکام ہوگئی ہے۔
اس موقع پر اسلامی انقلاب کے بانی رہنما آیت اللہ خمینی مرحوم کے امریکہ سے متعلق خیالات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ انہوں نے مختلف مواقع پر امریکہ کے بارے میں کچھ اس طرح کہا تھا’ جتنا نقصان ہمیں امریکہ سے پہنچا ہے کسی سے نہیں پہنچا‘۔ ©’ امریکی تسلط کمزور ملتوں کے لئے ہر طرح کی مصیبت اپنے ساتھ لا تا ہے‘۔ انہو ں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’ممکن ہے امریکہ ہمیں شکست دے ، لیکن ہمارے انقلاب کو شکست نہیں دے سکتا اسی وجہ سے مجھے اپنی کامیابی کا مکمل اطمینان ہے ۔ امریکی حکومت شہادت کے مفہوم سے آگا ہ نہیںہے۔“
امام خمینی کی برسی کے موقع پر غیرملکی سفارت کار وں اور اخباری نمائندوں کو جس طرح آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت میں پورے ایران سے آئے عوام کو نعرے لگاتے دیکھ دانتوں تلے انگلی دباتے میں نے دیکھا ہے اور انکی باڈی لینگویج کو پڑھا ہے اس سے پوری طرح واضح تھا کہ مغربی حکومتیں کس قدر شدت سے شکست کا احسا س کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ تہران میں امریکی سفارتخانہ نہیں ہے لیکن اس کے اتحادی یوروپی اور عرب ممالک کے سفارت کار اپنی حکومتوں کے ذریعہ امریکہ تک یقینی طور پر ہر قسم کی خبریں پہنچاتے ہیں۔ مغربی میڈیا کے بھی بہت سے نمائندہ تہران میں موجود ہیں۔
3جون جمعہ کے روز صدر محمود احمدی نژاد نے آیت اللہ خمینی کی برسی سے متعلق ایک پروگرام میں ایران کے سیاسی نظریات کو زوردار انداز میں پیش کیا ۔ آیت اللہ خامنہ ای اور صدر احمدی نژاد نے گزشتہ چند دنوں میں سرزمین فلسطین سے اسرائیل کے مکمل خاتمے کی بات کہی ہے۔مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصر اور اردن کی عوام کے ذریعہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ تیز ہونے سے امریکہ اور اسرائیل دونوں خاموش ہیں ۔ ماہرین کا کہناہے کہ اسی وجہ سے یہ دونوں ممالک خطے میں جمہوریت نواز تحریکوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ انہیں یہ محسوس ہوچکا ہے کہ خطے کی عوام فیصلہ کن مرحلے پر ہیں جس کے نتیجہ میں امریکہ اور اسرائیل کی سیاست پوری طرح ناکام ہو سکتی ہے۔
ایران کے انقلاب کے بعد گزشتہ 32برسوں میں ایران کے روز بروز مضبوط ہونے ، عراق میں صدام حکومت کے خاتمے ، لبنان میں حزب اللہ کی طاقت کے غیرمعمولی اضافے اور حال ہی میں تیونس اور مصر میں عوامی انقلابات کے کامیاب ہونے سے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ لیبیا ، بحرین اور یمن میں تبدیلی کو اب کوئی نہیں روک پائے گا ۔ اس کے بعد سعودی عرب میں عوامی انقلاب کی آمد تقریباً یقینی ہے ۔ سعودی عرب کے مشرقی تیل سے مالا مال شیعہ اکثریتی علاقوں میں حکومت کے خلاف مظاہرے اب بھی جاری ہیں۔ ایران کی کامیابی کی مثال انکے سامنے ہے اور خطے کی عوام با عزت زندگی گزارنا چاہتی ہے۔ انکا اپنی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا فطری عمل ہے۔ امریکہ میں گزشتہ ڈھائی برس میں تقریباً 500بینک بند ہو چکے ہیںاور اب وہ افغانستان اور عراق سے واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔ عراقی حکومت دسمبر 2011کے بعد ان کی مہمان نوازی کرنے کو کسی طرح تیار نہیں ہے ۔ موجودہ حالات میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی کو کوئی نہیں روک پائے گا ۔ممکن ہے کہ سازشوں کے ذریعہ اس ناکامی کو کچھ مدت کے لئے ملتوی کیا جا سکے۔
(مضمون نگار سے +91-9811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

 

ایران کی مغربی سازشوں کے خلاف مہم تیز

محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
بین الاقوامی سیاست میں ایران کا اسلامی انقلاب گزشتہ 30برسوں میں مختلف پہلووں سے زیر بحث رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے انقلاب کو دبانے اوراسے ناکام کرنے کی مسلسل اور غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔ سب سے پہلے 1980میں امریکہ کے آلہ کار عراق کے صدر صدام حسین کے ذریعہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرائی گئی جو 8برس تک جاری رہی ۔ اس جنگ سے نہ صرف ایران بلکہ خطے کے تمام ممالک جو عراق کو امداد دے رہے تھے کمزور ہوگئے۔ سابق صدر جارج بش نے ایران کی حکومت کو برطرف کر نے اور انقلاب کوناکام کرنے کے لئے 2006میں باقاعدہ طور پر ساڑھے سات کروڑ ڈالر مختص کئے تھے۔ اس رقم کا ایران مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور ایران کے اندر حکومت مخالف عناصر کوامداد دینے میں استعمال ہونا تھا۔
حال ہی میں یوم غدیر کے موقع پرایران کے روحانی پیشوا اور اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای نے ملک میںاصلاح پسند رہنماو¿ں کی شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اصلاح پسند ایران اوراسلامی انقلاب کے خیرخواہ نہیں ہیں۔وہ مغرب کی حمایت سے ایران میں اقتدارحاصل کرنا چاہتے ہیں۔ رہبر انقلاب نے سپاہ پاسداران اسلامی سے وابستہ رضاکار فورس بسچ ملیشیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح پسند ایران دشمن مغرب کے آلہ کار ہیں۔ واضح رہے کہ یوم غدیر ہی بسیج ملیشیا کا یوم تاسیس بھی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ جولائی 2009 میںصدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کر کے اور پر تشدد احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ اصلاح پسندوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اقتدار کے حریص ہیں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اصلاح پسند گروہ ملک میں فتنہ اور فساد پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ ایران کو مغربی خطوط پر ڈھالنے کے لئے کوشاں ہے۔ آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای نے اصلاح پسند رہنما میرحسین موسوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصلاح پسندوں نے ایران کے اسلامی نظام اور اسکے مفادات سے منہ موڑلیا ہے ۔ ان کے سامنے صرف شخصی مفادات ہیں اور وہ مغربی مفادات کو ایرانی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ 1981میں ایران کے صدر محمد علی رجائی اور وزیر اعظم محمد جواد باہنر کے ایک بم دھماکے میں مارے جانے کے بعد سید علی خامنہ ای صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے تھے۔ اس وقت انہوں نے وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی کو وزیر اعظم کے عہدہ پر نامزد کیا لیکن پارلیمنٹ نے انہیں تسلیم نہیںکیا ۔ اس کے بعد میرحسین موسوی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے نامزد کیا گیا جسے پارلیمنٹ نے قبول کر لیا۔ میر حسین موسوی 1981سے 1989 تک وزیر اعظم کے عہدہ پررہے ۔البتہ جب 1989میں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی عہدہ صدارت کے لئے منتخب ہوئے تو انہوں نے آئین کی ترمیم کراکر وزیر اعظم کے عہدہ کو ہی ختم کر ا دیا تھا۔
گزشتہ جون میں مجھے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کی برسی کے موقع پر ایک بار پھر ایران جانے کا موقع ملا ۔ تہران کے جنوب میں آیت اللہ خمینی کے مزار پر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی تقریر کے دوران اصلاح پسندوں کی تنقید کی تھی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کسی بھی شخصیت یا رہنما کی صرف اس لئے عزت نہیں کی جا سکتی کہ اس نے سابقہ دور میں اسلامی انقلاب کی حمایت یا خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی شخص کی اہمیت کا انحصار اس کے موجودہ کردار پرہے۔یعنی اگر کوئی رہنما اب سے پہلے اسلامی انقلاب کا حامی تھا اوراب وہ مخالفت کر رہا ہے تو اسے اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ اس موقع پر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد‘ ان کی کابینہ کے رفقائے کار ، مذہبی رہنما اوراعلیٰ حکام عوام کے ساتھ بیٹھ کر آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر پر خلوص انداز میں سن رہے تھے۔
میںنے 1990سے اب تک ایران کے کم از کم دو درجن سفر کئے ہیں ۔ اس خطے میںایران واحدملک ہے جہاں عوام اپنی حکومت کا انتخاب کرنے کاحق رکھتی ہے۔1979 میں کامیاب ہوئے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک درجنوں انتخابات عمل میں آ چکے ہیں ۔ اس دوران عراق کے ذریعہ شروع کی گئی 8برس تک جاری رہنے والی جنگ اور امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے مسلسل اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے مختلف میدانوں میں جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک سے نہیں دی جا سکتی۔
2003میں عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے ایران کوجوہری پروگرام کے موضوع پرجس قدر دھمکیاں دی گئی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں اس کے باوجود بین الاقوامی قوانین کی پیروی کرتے ہوئے اور بے خوف آگے بڑھتے ہوئے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھا ہے ۔ ایران کے روحانی پیشوا اور اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای نے واضح طور پر کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی والے ایٹمی ہتھیار بنانااور رکھنا حرام ہیں ۔ ایرانی حکومت کے ذمہ داران نے بار ہا کہا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام شہری ضرورتوں اور پرامن استعمال کے لئے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے آج تک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں دے سکے ہیںجس سے ایران کے ذریعہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی بات ثابت ہوتی ہو۔
2004میں جب محمود احمد ی نژاد ایران کے صدر کے عہدہ کے لئے منتخب ہوئے تو میں لندن میں تھا ۔ سیاسی مبصرین کے ایک ادارہ کے ذمہ دار ان نے مجھ سے ایرانی سیاست کے ماہر کے طور پر سوال کیا کہ آخر ہاشمی رفسنجانی جیسا اہم رہنما انتخابات میں بری طرح سے کیوں ناکام ہوگیا۔ میںنے فوری طور پر جواب دیاکہ ایران کے انتخابات میں جس امیدوار کو بھی مغربی ممالک حمایت دیں گے اس کا ناکام ہونا یقینی ہے ۔ میں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کی یہ خوبی ہے کہ وہ آ پس میں ہر قسم کا اختلاف ظاہر کر سکتے ہیں لیکن جس معاملہ میں بھی بیرونی طاقتیں مداخلت کرتی ہیں اسے وہ قطعی تسلیم نہیں کرتے اور پوری طرح سے غیر ملکی طاقتوں کی خواہش کے خلاف رائے دیتے ہیں ۔
ایران کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لئے کئی ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشن امریکہ اور کئی دیگر مغربی ممالک سے سرگرم ہیں مجھے لندن میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت نے ایران مخالف پروپیگنڈہ کے لئے جو رقم مختص کی ہے اس میں سے بڑی رقم وائس آف امریکہ کی فارسی نشریات پر خرچ کی جا رہی ہے۔ بی بی سی کو امید تھی کہ اسے اس رقم میں سے خطیر رقم ملے گی لیکن امید کے مطابق اسے اپنا حصہ نہیں مل سکا ۔ البتہ بی بی سی فارسی ٹیلی ویزن چینل جنوری 2009میں شروع ہوگیا ہے ۔ اکثر فارسی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگراموں کے لئے ایران نژاد حکومت مخالف سیاسی پناہ گزینوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
2009میںایران میںصدارتی انتخابات کے بعد احمدی نژادکے مخالفین میرحسین موسوی اور مہدی کروبی نے ووٹوں کی گنتی میںخورد برد کے الزامات لگائے تھے۔ انتخابات میں محمود احمدی نژاد کو تقریباً 63 فیصد او میر حسین موسوی کو تقریبا 34 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ باقی 3فیصد ووٹ دیگر امیدواروں میں تقسیم ہو ئے۔
انتخابات میں خوردبرد کے الزامات کے جواب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ پہلی بات تو یہ کہ ایران کے انتخابی نظام میںایسی خامی نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ خورد برد کے ذریعہ ایک کروڑ ساڑھے بارہ لاکھ ووٹوں کا فرق نہیں کیا جا سکتا بہرحال ہر شکایت کے ازالہ کے لئے سرکاری نظام موجودہے جسکے لیے سڑکوں پر احتجاج کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔
ایران کے 2009کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے پہلے ایک دلچسپ سازش کی گئی ۔ اس اطلاع کی مجھے کئی ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے ۔ انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک روز پہلے شام کو موبائیل فون پر بڑی تعداد میں ایک ایس ایم ایس بھیجا گیا جس میں میرحسین موسوی کے عہدہ صدارت کے لئے کامیاب ہونے کی اطلاع دی گئی ۔ دوسرے دن جب سرکاری طور پر محمود احمدی نژاد کے جیتنے کا اعلان ہوا تو مخالفین نے سڑکوں پراحتجاج شروع کر دیا جس میں عوام کا ایک طبقہ شریک ہوگیا۔ اس سازش کا لوگوں کوبعد میں علم ہوا۔
صدارتی انتخابات کو تقریباً ڈیڑھ سال گزر چکا ہے لیکن مغربی میڈیا اور مخالفین کی جانب سے پروپیگنڈہ اب بھی جاری ہے اور ابھی تک احمدی نژاد کی جیت مغرب خاس طور پر امریکہ او ر اس کے حلیف ملکوں کو ہضم نہیں ہو سکی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے حالیہ بیان کا مقصد ملک کی عوام کو غیرملکی سازشوں سے ہوشیار رہتے ہوئے پوری سیاسی بیداری کے ساتھ آمادہ رکھنا ہے۔
امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے احمدی نژاد کے انتخاب کے بعد عرب ممالک میں ایران کے خلاف جوہری پروگرام کے بہانے تیزی سے نفرت پھیلانے کا کام کیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں سعودی عرب اور کئی دیگر عرب ممالک نے غیر اعلانیہ طور پر اسرائیل سے تعلقات مستحکم کئے ہیں۔ چند ماہ قبل یہ خبر آئی تھی کہ سعودی عرب نے ایران مخالف ممکنہ جنگ کے دوران اسرائیلی طیاروں کو اپنے ایئر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تعلقات با آسانی حج اور عمرہ پر جانے والے افراد مکہ مکرمہ میں حرم کے سامنے کثیر منزلہ شاپنگ مال میں مشاہدہ کر سکتے ہیں جہا ں بہت سی یہودی کمپنیاں کاروبار کرر ہی ہیں۔
ایران بین الاقوامی سطح پر استعماری نظریہ کے خلاف رہتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ خطے کے عرب ممالک پوری طرح غیر ملکی طاقتوں پر منحصر ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے مخالفین کو مغربی حمایت ہونے کے باوجودکامیابی حاصل ہوتی نظر نہیں آرہی آیت اللہ خامنہ ای کے حالیہ بیان کا مقصدایرانی عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا اورایران مخالف سازشوں کو ناکام کرنا ہے۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے را بطہ کیا جا سکتا ہے)

   

All categories

ads

Your Ad Here