محمداحمد کاظمی --میڈیا اسٹار
بین الاقوامی سیاست میں ایران کا اسلامی انقلاب گزشتہ 30برسوں میں مختلف پہلووں سے زیر بحث رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے انقلاب کو دبانے اوراسے ناکام کرنے کی مسلسل اور غیر معمولی کوششیں کی ہیں۔ سب سے پہلے 1980میں امریکہ کے آلہ کار عراق کے صدر صدام حسین کے ذریعہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرائی گئی جو 8برس تک جاری رہی ۔ اس جنگ سے نہ صرف ایران بلکہ خطے کے تمام ممالک جو عراق کو امداد دے رہے تھے کمزور ہوگئے۔ سابق صدر جارج بش نے ایران کی حکومت کو برطرف کر نے اور انقلاب کوناکام کرنے کے لئے 2006میں باقاعدہ طور پر ساڑھے سات کروڑ ڈالر مختص کئے تھے۔ اس رقم کا ایران مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور ایران کے اندر حکومت مخالف عناصر کوامداد دینے میں استعمال ہونا تھا۔
حال ہی میں یوم غدیر کے موقع پرایران کے روحانی پیشوا اور اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای نے ملک میںاصلاح پسند رہنماو¿ں کی شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اصلاح پسند ایران اوراسلامی انقلاب کے خیرخواہ نہیں ہیں۔وہ مغرب کی حمایت سے ایران میں اقتدارحاصل کرنا چاہتے ہیں۔ رہبر انقلاب نے سپاہ پاسداران اسلامی سے وابستہ رضاکار فورس بسچ ملیشیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح پسند ایران دشمن مغرب کے آلہ کار ہیں۔ واضح رہے کہ یوم غدیر ہی بسیج ملیشیا کا یوم تاسیس بھی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ جولائی 2009 میںصدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کر کے اور پر تشدد احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ اصلاح پسندوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف اقتدار کے حریص ہیں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اصلاح پسند گروہ ملک میں فتنہ اور فساد پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ ایران کو مغربی خطوط پر ڈھالنے کے لئے کوشاں ہے۔ آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای نے اصلاح پسند رہنما میرحسین موسوی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اصلاح پسندوں نے ایران کے اسلامی نظام اور اسکے مفادات سے منہ موڑلیا ہے ۔ ان کے سامنے صرف شخصی مفادات ہیں اور وہ مغربی مفادات کو ایرانی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ 1981میں ایران کے صدر محمد علی رجائی اور وزیر اعظم محمد جواد باہنر کے ایک بم دھماکے میں مارے جانے کے بعد سید علی خامنہ ای صدر کے عہدہ پر فائز ہوئے تھے۔ اس وقت انہوں نے وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی کو وزیر اعظم کے عہدہ پر نامزد کیا لیکن پارلیمنٹ نے انہیں تسلیم نہیںکیا ۔ اس کے بعد میرحسین موسوی کو وزیر اعظم کے عہدہ کے لئے نامزد کیا گیا جسے پارلیمنٹ نے قبول کر لیا۔ میر حسین موسوی 1981سے 1989 تک وزیر اعظم کے عہدہ پررہے ۔البتہ جب 1989میں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی عہدہ صدارت کے لئے منتخب ہوئے تو انہوں نے آئین کی ترمیم کراکر وزیر اعظم کے عہدہ کو ہی ختم کر ا دیا تھا۔
گزشتہ جون میں مجھے ایران کے بانی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کی برسی کے موقع پر ایک بار پھر ایران جانے کا موقع ملا ۔ تہران کے جنوب میں آیت اللہ خمینی کے مزار پر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی تقریر کے دوران اصلاح پسندوں کی تنقید کی تھی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ کسی بھی شخصیت یا رہنما کی صرف اس لئے عزت نہیں کی جا سکتی کہ اس نے سابقہ دور میں اسلامی انقلاب کی حمایت یا خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسی بھی شخص کی اہمیت کا انحصار اس کے موجودہ کردار پرہے۔یعنی اگر کوئی رہنما اب سے پہلے اسلامی انقلاب کا حامی تھا اوراب وہ مخالفت کر رہا ہے تو اسے اہمیت نہیں دی جا سکتی۔ اس موقع پر ایران کے صدر محمود احمدی نژاد‘ ان کی کابینہ کے رفقائے کار ، مذہبی رہنما اوراعلیٰ حکام عوام کے ساتھ بیٹھ کر آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر پر خلوص انداز میں سن رہے تھے۔
میںنے 1990سے اب تک ایران کے کم از کم دو درجن سفر کئے ہیں ۔ اس خطے میںایران واحدملک ہے جہاں عوام اپنی حکومت کا انتخاب کرنے کاحق رکھتی ہے۔1979 میں کامیاب ہوئے اسلامی انقلاب کے بعد سے اب تک درجنوں انتخابات عمل میں آ چکے ہیں ۔ اس دوران عراق کے ذریعہ شروع کی گئی 8برس تک جاری رہنے والی جنگ اور امریکہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے مسلسل اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے مختلف میدانوں میں جس تیزی سے ترقی کی ہے اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے ملک سے نہیں دی جا سکتی۔
2003میں عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے ایران کوجوہری پروگرام کے موضوع پرجس قدر دھمکیاں دی گئی ہیں وہ سب کے سامنے ہیں اس کے باوجود بین الاقوامی قوانین کی پیروی کرتے ہوئے اور بے خوف آگے بڑھتے ہوئے ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو جاری رکھا ہے ۔ ایران کے روحانی پیشوا اور اسلامی انقلاب کے رہنما آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای نے واضح طور پر کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی والے ایٹمی ہتھیار بنانااور رکھنا حرام ہیں ۔ ایرانی حکومت کے ذمہ داران نے بار ہا کہا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام شہری ضرورتوں اور پرامن استعمال کے لئے ہے اور وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے آج تک بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ماہرین بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں دے سکے ہیںجس سے ایران کے ذریعہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی بات ثابت ہوتی ہو۔
2004میں جب محمود احمد ی نژاد ایران کے صدر کے عہدہ کے لئے منتخب ہوئے تو میں لندن میں تھا ۔ سیاسی مبصرین کے ایک ادارہ کے ذمہ دار ان نے مجھ سے ایرانی سیاست کے ماہر کے طور پر سوال کیا کہ آخر ہاشمی رفسنجانی جیسا اہم رہنما انتخابات میں بری طرح سے کیوں ناکام ہوگیا۔ میںنے فوری طور پر جواب دیاکہ ایران کے انتخابات میں جس امیدوار کو بھی مغربی ممالک حمایت دیں گے اس کا ناکام ہونا یقینی ہے ۔ میں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام کی یہ خوبی ہے کہ وہ آ پس میں ہر قسم کا اختلاف ظاہر کر سکتے ہیں لیکن جس معاملہ میں بھی بیرونی طاقتیں مداخلت کرتی ہیں اسے وہ قطعی تسلیم نہیں کرتے اور پوری طرح سے غیر ملکی طاقتوں کی خواہش کے خلاف رائے دیتے ہیں ۔
ایران کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لئے کئی ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشن امریکہ اور کئی دیگر مغربی ممالک سے سرگرم ہیں مجھے لندن میں بتایا گیا کہ امریکی حکومت نے ایران مخالف پروپیگنڈہ کے لئے جو رقم مختص کی ہے اس میں سے بڑی رقم وائس آف امریکہ کی فارسی نشریات پر خرچ کی جا رہی ہے۔ بی بی سی کو امید تھی کہ اسے اس رقم میں سے خطیر رقم ملے گی لیکن امید کے مطابق اسے اپنا حصہ نہیں مل سکا ۔ البتہ بی بی سی فارسی ٹیلی ویزن چینل جنوری 2009میں شروع ہوگیا ہے ۔ اکثر فارسی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگراموں کے لئے ایران نژاد حکومت مخالف سیاسی پناہ گزینوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔
2009میںایران میںصدارتی انتخابات کے بعد احمدی نژادکے مخالفین میرحسین موسوی اور مہدی کروبی نے ووٹوں کی گنتی میںخورد برد کے الزامات لگائے تھے۔ انتخابات میں محمود احمدی نژاد کو تقریباً 63 فیصد او میر حسین موسوی کو تقریبا 34 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ باقی 3فیصد ووٹ دیگر امیدواروں میں تقسیم ہو ئے۔
انتخابات میں خوردبرد کے الزامات کے جواب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ پہلی بات تو یہ کہ ایران کے انتخابی نظام میںایسی خامی نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ خورد برد کے ذریعہ ایک کروڑ ساڑھے بارہ لاکھ ووٹوں کا فرق نہیں کیا جا سکتا بہرحال ہر شکایت کے ازالہ کے لئے سرکاری نظام موجودہے جسکے لیے سڑکوں پر احتجاج کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔
ایران کے 2009کے صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان سے پہلے ایک دلچسپ سازش کی گئی ۔ اس اطلاع کی مجھے کئی ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے ۔ انتخابات کے نتائج کے اعلان سے ایک روز پہلے شام کو موبائیل فون پر بڑی تعداد میں ایک ایس ایم ایس بھیجا گیا جس میں میرحسین موسوی کے عہدہ صدارت کے لئے کامیاب ہونے کی اطلاع دی گئی ۔ دوسرے دن جب سرکاری طور پر محمود احمدی نژاد کے جیتنے کا اعلان ہوا تو مخالفین نے سڑکوں پراحتجاج شروع کر دیا جس میں عوام کا ایک طبقہ شریک ہوگیا۔ اس سازش کا لوگوں کوبعد میں علم ہوا۔
صدارتی انتخابات کو تقریباً ڈیڑھ سال گزر چکا ہے لیکن مغربی میڈیا اور مخالفین کی جانب سے پروپیگنڈہ اب بھی جاری ہے اور ابھی تک احمدی نژاد کی جیت مغرب خاس طور پر امریکہ او ر اس کے حلیف ملکوں کو ہضم نہیں ہو سکی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے حالیہ بیان کا مقصد ملک کی عوام کو غیرملکی سازشوں سے ہوشیار رہتے ہوئے پوری سیاسی بیداری کے ساتھ آمادہ رکھنا ہے۔
امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے احمدی نژاد کے انتخاب کے بعد عرب ممالک میں ایران کے خلاف جوہری پروگرام کے بہانے تیزی سے نفرت پھیلانے کا کام کیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں سعودی عرب اور کئی دیگر عرب ممالک نے غیر اعلانیہ طور پر اسرائیل سے تعلقات مستحکم کئے ہیں۔ چند ماہ قبل یہ خبر آئی تھی کہ سعودی عرب نے ایران مخالف ممکنہ جنگ کے دوران اسرائیلی طیاروں کو اپنے ایئر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تجارتی تعلقات با آسانی حج اور عمرہ پر جانے والے افراد مکہ مکرمہ میں حرم کے سامنے کثیر منزلہ شاپنگ مال میں مشاہدہ کر سکتے ہیں جہا ں بہت سی یہودی کمپنیاں کاروبار کرر ہی ہیں۔
ایران بین الاقوامی سطح پر استعماری نظریہ کے خلاف رہتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ خطے کے عرب ممالک پوری طرح غیر ملکی طاقتوں پر منحصر ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے مخالفین کو مغربی حمایت ہونے کے باوجودکامیابی حاصل ہوتی نظر نہیں آرہی آیت اللہ خامنہ ای کے حالیہ بیان کا مقصدایرانی عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا اورایران مخالف سازشوں کو ناکام کرنا ہے۔
(مضمون نگار سے 09811272415 یا
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
را بطہ کیا جا سکتا ہے)









