You are here: Home

دھکا مکی کر کے آگے بڑھنے کا فن

برقیہ چھاپیے

ایم جے اکبر
جنوبی ایشیاکی طرز سیاست میں ان دو باتوں محبت اور غصہ میں سے کس سے نپٹنا بہت مشکل ہوتا ہے؟ اگر جسمانی طور پر کہا جائے تواول الذکر طریقہ سے نپٹنا زیادہ آسان ہے۔عوامی حمایت کے دکھاوے کا خاص مقصد دوسروں کو دھکیل کر اپنے لئے جگہ بنانا ہےچاہے اسلام آباد کی سپریم کورٹ میں یوسف رضا گیلانی کا معاملہ ہو یا لکھنو¿ میں کسی نہ کسی طرح اسمبلی پر حاوی ہونے کی ملائم سنگھ یادو کی کوشش، حامی اسے اپنا حق سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے لیڈروں کے جسم کا لمس محسوس کرنے کے لیے جتنا زیادہ ممکن ہو سکے ان سے چپک کر کھڑے ہوں۔ اس ٹی وی کیمروں کے دور میں حامیوں کی یہ حرکت اپنے لیڈروں سے زیادہ ٹی وی سے محبت ظاہر کرتی ہے کیونکہ اس طرح وہ ہمہ وقت کیمرے کی زد میں رہیں گے۔ ایک دوسرا متبادل یہ ہے کرکٹ میچ کے دوران پلے کارڈ لے کر میدان میں گھوما جائے لیکن اس میں کافی پیسہ خرچ ہوتا ہے جبکہ عام زندگی میں یہ کام مفت میں ہو جاتا ہے۔
لیکن جو سیاستداں پیار محبت میں یقین نہیں رکھتے ان کے ساتھ بلا شبہ ہمکای مشکل محسو س کرتے ہیں۔ظاہری طور طریق سے نہ سہی برتاو¿ سے فرق محسوس کیا جا سکتا ہے گیلانی پیار کے جذبہ والے ہیں اور خلوص کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ ان کے باس آصف علی زرداری سرد مہری سے پیش آتے ہیں۔لکھنو¿ میں ملائم سنگھ نسبتاً محبت اور خلوص کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس مایا وتی کرخت لہجہ کا استعمال کرتی ہیں۔
مایاوتی اصل میں سیاستدانوں کی ایک الگ کیٹگری سے تعلق رکھتی ہیں جس کے کئی رنگ ہیں۔ وہ الگ تھلگ رہتی ہیں۔ خاتون سیاستدانوں کو خاص طور پر دھکا مکی سے بہت الجھن ہوتی ہے دوسری جانب مرد لوگ بھی ان خواتین سیاستدانوں کے زیادہ نزدیک جانے کی ہمت کرتے ہیں۔ بہت جوشیلی اور مخلص خاتون سیاستداں ہونے کے باوجود مسز اندرا گاندھی اور بے نظیر بھٹو ا پنے اور مداحوں کے درمیان ایک فاصلہ رکھا کرتی تھیں۔یاوتی واضح طور پر خصوصی شخصیت والا انداز اختیار کئے رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے اور ان کے مداحوں کے درمیان کچھ فاصلے کا بھرم بنا رہتا ہے۔ اس فاصلے کو آپ ان کی اجازت کے بغیر پار نہیں کر سکتے ۔
امریکہ کے صدر براک اوبامہ اور یہاں تک کہ ان کو چیلنج دینے والے مٹ رومنی سے ملاقات کرنا آسان ہے جب کہ مایاوتی تک پہنچ پانا اکثر مشکل ہوتا ہے۔ تینوں ہی مداحوں سے دور دور سے رہتے ہیں۔ حالانکہ ان کے الگ الگ وجوہات ہیں۔
نکتہ چینیوں کا کہنا ہے کہ اوبامہ کی خود کو اونچا دکھانے کا صاف جذبہ انہیں بر سر اقتدار لانے والے لوگوں کو پنچادکھانے جیسا ہے۔ لیکن کم از کم رومنی اوبامہ پر یہ الزام نہیں لگا سکتے۔ رومنی کسی کمپنی کے ارب پتی مالک جیسے ہیں جو اس بات پر اتراتا ہے کہ وہ صرف تنخواہ کے سہارے گزار ہ نہیں کرتے جبکہ اوبامہ اونچے تخت پر بیٹھے اقتدار کی چابی گھمانے والے ’ ڈان‘ کی طرح ہیں۔ سرمایہ کاری میں کئی کمپنیوں کے شیئروں سے بغیر کوئی ہاتھ ہلائے آنے والی دولت ہی حصولیابیوں کی چوٹی ہے اور یہی رومنی کی موجودہ خوشحالی کا منبع ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنی ٹیکس ریٹرن کو پبلک میںلانے کو تیار نہیں۔ لیکن ہمارے بر صغیر میں ہم نے بغیر کمائی کئے دولت کو بالکل نیا نام دیا ہے۔ ’ غیر اعلانیت ‘ قدرتی طور پر رنگین مزاج ہونے کی وجہ سے ہم نے الگ طرح کے برانڈ بنالئے ہیں ۔ کسی ملازم کے خون پسینے کی کمائی کو ہم سفید دولت اور کرپشن کی کمائی کو کالادھن کہتے ہیں ۔ پھر بھی مایاوتی نے ایک الگ راستہ کھوج نکالا ہے۔ وہ بغیر کمائی دولت پر بھی ٹیکس ادا کرتی ہیں اس بات کے لئے وہ ہماری مبارک باد کی مستحق ہیں۔ اس طرح وہ ان لوگوں سے ایک دم الگ دکھائی دیتی ہیں جو جو اب دہی کے ڈر کے بغیر اپنی جیبیں بھرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
جنوبی ایشیائی ووٹر کی ہمیں تعریف کرنی چاہئے جو اتنا سمجھدار ہو گیا ہے کہ لیڈروں کی دولت اور دین دار یوں کا حساب کتاب کرنے سے پہلے حقیقی زندگی کی دشواریوں کی بار یکیوں میں جاتا ہے۔ لیڈر کے دیدار کی خواہش کے لئے اگر وہ دھکا مکی کرتا ہے تو وہ ہر گز اس کے ووٹ ڈالنے کی علامت نہیں ۔ ووٹ دیتے وقت وہ نہ صرف ٹھنڈے دماغ سے سوچتا ہے بلکہ کئی باربے رحم بھی ہوسکتا ہے اسے پتہ ہے کے جذبات سے اٹھ کر ہی وہ اپنے ووٹ کی صحیح قیمت وصول کر سکتا ہے۔ اگر ہاتھیوں والی مہارانی مایاوتی اقتصادی اضافہ کا وعدہ کرتی ہیں تو لوگ ان سے متفق ہوتے ہیں۔ اگر سائیکل والے بادشاہ ملائم سنگھ یادو ووٹروں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ کتنی آسانی سے ان تک پہنچ سکے تو ووٹر ان کے اس بھروسے کو بھی ٹھیس نہیں لگاتے۔
جنوبی ایشیا میں بیشک جذبات کا سیلاب دکھائی دیتا ہے لیکن کوئی پتہ نہیں کہ کب کوئی لیڈر اس میں ڈوب جائے گا۔ سونیا گاندھی بالکل ہی پیار کے جذبہ والی سیاستداں نہیں ہیں۔ لیکن یہ بات چناو¿ میں جیت کے راستے میں ان کےلئے روڑہ نہیں بنی۔
راہل گاندھی زور دار مہم چلا کر خود کو ایک پیار بھرے شخص کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ ایسا کرتے کرتے وہ تھک سے گئے ہیں ان کی کوششوں کو تعریف اور دلچسپی کے جذبہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن ووٹنگ کے دن ہونے والا فیصلہ موسم کے اتار چڑھاو¿ کے بجائے بالکل الگ طرح کی وجوہات سے متاثرہوگا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ اپنے برتاو¿سے بہت زیادہ پیار سے لبریز نہیں معلوم ہوتے لیکن وہ کسی طرح کے وہم سے آزاد ہیں وہ ایک دانشور ہیں اور اس کے علاوہ کچھ اور ہونے کی کوشش نہیں کرتے وہ ووٹروں کےساتھ اپنے تعلق سے خوب واقف ہیں اور اس کے فائدوں اور نقصان کی حدود کو سمجھتے ہیں۔
لیکن وہ ایک سنگین مسئلہ سے دوچار ہیں۔ فضا میںکرپشن کی بدبو پھیلی ہوئی ہے اور بالواسطہ طور پر ان کی بھی ساکھ داغدار ہو رہی ہے۔ اس بدبو کو دور بھگا نے کا ابھی بھی ان کے پاس وقت ہے انہیں اس بات پر زور دینا چاہئے کہ وزیر اعظموں اور صدر جمہوریوں کو بلا تخصیص لوک پال بل کے دائرے میں لایا جانا چاہئے۔
اگر پاکستان میں اس مسئلہ پر شفافیت ہوتی اور غیر ملکی بینک کھاتوں جیسے معاملات میں صدر پولس کو جوابدہ ہوتا تو وزیر اعظم گیلانی کو جمعرات سپریم کورٹ میں نہ گھسیٹا جاتا۔ ہمارے پڑوسی ملک کی مثالیں ہیں جن سے سبق لینے میں ہی دانشمندی ہو گی۔

Read In English

 

All categories