خوشونت سنگھ
انا ہزارے نے بھوک ہڑتال کو تماشہ بنا دیا اگر اسے ہی بھوک ہڑتال کہتے ہیں تو میں روزانہ ایسی بھوک ہرتال کرتا ہوں۔ میں ناشتے اور لنچ کے درمیان کچھ نہیں کھاتا نہ ہی دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان کچھ کھاتا ہوں۔ ایسی بھوک ہڑتال کرنے پر انا ہزارے کی خبر تو اخبارات کی صفحہ اول پر اور ٹی چینلوں کی اہم ترین اور بڑی خبر کے طور پر ہوتی ہے لیکن دن میں دو بار بھوک ہڑتال کرنے کا میرا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہوتا ۔ یہ میرے ساتھ ناانصافی نہیں تو کیا ہے۔مسلمان رمضان کے مہینے کے دوران مذہبی اعتبار سے روزہ رکھتے ہیں وہ طلوع آفتاب سے بہت پہلے اٹھ جاتے ہیں اور صبح صادق تک ہی کچھ کھا پی کر روزہ شروع کر دیتے ہیں۔مئی جون کی تپتی گرمی میں انہیں جو تکلیف ہوتی ہے اسے سب جانتے ہیں۔ غروب آفتاب کے بعد افطار کر کے وہ اپنا روزہ مکمل کرتے ہیں۔ بیشتر روزے دار بھوک پیاس نہ لگنے کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کام کاج نہیں کرتے اور گھروں میں ہی رہ کر چارپائی پر آرام کر کے دن گذارتے ہیں۔غیر مسلم سیاستداں بہت سمجھدار ہو گئے ہیں اور دور کی سوچ کر مسلم ووٹروں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے شاندار افطار دعوتیں دیتے ہیں ۔ لیکن اس طرح کا روزہ اور دعوت صحت کےلئے اچھا نہیں ہے۔ بہت سے بیمار پڑجاتے ہیں۔
باپوگاندھی نے بھوکہڑتال کا استعمال سیاسی بلیک ملینگ کےلئے کیا۔ وہ جن مقاصد کی تکمیل کے لیے بھوک ہڑتال کیا کرتے تھے انہیں وہ حاصل بھی کر لیتے تھے ۔یہ بات ماسٹر تارا سنگھ اور سنت فتح سنگھ کے معاملے میں ٹھیک نہیں تھی جنہوں نے خود سوزی کی دھمکی دی تھی۔ کچھ دن بعد دونوں ہی پیچھے ہٹ گئے اور سکھ مریادہ کے مطابق سزا پائی اور گوردواروں میں بھگتوں کے جوتے صاف کرنے پڑے۔ بھوکہڑتال کا ہند و تصور زیادہ مناسب لگتا ہے۔ آپ کو ان چیزوں کو چھوڑ نا ہوتا ہے۔ جنہیں آپ کھانے کے عادی ہیں۔ سب سے زیادہ مناسب سکھ مریادہ ہے۔ ا اس میں برت شامل نہیں ہے بلکہ گورو کی رسوئی میں بیٹھ کر گوروکالنگر مفت کھانے کی منظوری دی جاتی ہے۔
شاندار کامیابی:
مجھے ہندوستانی ہوائی فوج کے ریٹائرڈ ائر چیف مارشل اوپی مہرہ سے ملنے کا موقع اکثر ملتا رہتا ہے۔ وہ لی میریڈین ہوٹل کے ڈائریکٹرز بورڈ میں ہیں۔ جس کا میں سب سے پرانا ممبر ہوں۔ اس سے بھی بہت پہلے جب اس کی مالکن ہر جیت کور نے اپنے شوہر چرنجیت سنگھ کی بے وقت موت پر اس کی باگ ڈور سنبھالی تھی میں مالی امور کے معاملے میں کچھ نہیں جانتا اور یہ مہرہ اور وینکٹ رمن پر چھوڑ دیتا ہوں جو وزارت ٹورازم کے ریٹائرڈ سیکریٹری ہیں۔ مہرہ کا کیرئیر شاندار رہا ہے ہوائی فوج سے ریٹائرہونے کے بعد وہ مہاراشٹر اور راجستھان کے گورنر رہے حال ہی میں ان کی سوانح حیات میموریز سوئٹ اینڈ سار ( کے ڈبلیو پبلیشرز ) چھپی ہے وہ اپنی زندگی کا نچوڑ آج کے نوجوانوں کے نام پیغام دے کر کرتے ہیں۔
اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہیں ہرادیا گیا ہے۔
تو تم نہیں ہو۔
اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے اندر ہمت نہیں ہے۔
تو تم نہیں ہے۔
اگر تم جیتنا چاہتے ہو لیکن سوچتے ہو ۔
تم نہیں جیت سکتے ۔
یہ تقریباً طے ہے کہ تم نہیں جیتو گے
اگر تم سمجھتے ہو کہ تم ہار جاو¿ گے
تو تم ہار گئے ہو۔
کیونکہ باہر کی دنیا میں وہی ہم دیکھتے ہیں۔ کامیابی انسان کی قوت ارادی سے شروع ہوتی ہے۔
یہ سب ذہنی کیفیت پر منحصر ہے۔
زندگی کی جنگ میں ہمیشہ کوئی طاقتور یا تیز آدمی نہیں جیتتا۔
لیکن جو شخص جیتتا ہے۔ یہ وہ ہو تا جو سوچتا ہے کہ وہ جیت سکتا ہے۔
کبھی نہیں کبھی نہیں کبھی نہیں امید مت چھوڑو۔
کرسمس کاجذبہ
1914کی کرسمس ایوپر ہوا میں برفیلی ٹھنڈک تھی پہلی عالمی جنگ کے دوران ہی جرمن اور انگریز فوج ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھی اور انہیں ان کے درمیان چپٹی بھدی زمین الگ کر رہی تھی جس میں خار دار تار لگے تھے۔
اچانک انگریزفوجیوں نے دیکھا کہ دشمن کی طرف کچھ روشنی سی ہوئی اس کے بعد گانے کی آواز آئی۔ جرمن فوجی گا رہے تھے ’ خاموش رات پاک رات‘ جب آواز سنائی دینی بند ہو گئی انگریز فوجیوں نے جواب دیا ’ دی فرسٹ نوئل‘۔
دونوں طرف سے گانے کی آواز یں ایک گھنٹے تک آتی رہیں اور اس کے بعد دشمن کی فوج کی طرف جانے کی بات سامنے آئی بہت دلیری سے ایک جرمن برٹش خیمہ کی طرف بڑھا اس کے پیچھے جیب میں ہاتھ ڈالے دوسرے جرمن تھے یہ دکھانے کےلئے ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے۔
جب کرسمس کا دن تیز دھوپ اور ٹھنڈک لئے ہوتا ہے تو رائفلوں اور بندوقوں کی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ لوگ جنگ بندی کے بارے میں آپس میں ہی طے کر لیتے ہیں اور اس ایک چھوٹے سے دن لڑائی کے مورچے پر امن کا سامراج رہتا ہے ( بھارت)










