ایم جے اکبر
لسانی معاملہ ہو یا کھانے کی بات ہو نمک اس کے فضائل وخوبیاں لا محدود ہیں۔ نمک حکومت میں ضابطہ احترام کی علامت تھا جو حکومتی اداروں ، بستیوں اور فوجوں کو متحدرکھتاتھا۔ کسی فوجی کی وفاداری کاپیمانہ نمک ہی تھا۔ اگر آپ اپنے نمک کے تئیں سچے ہیں تو آپ اس شخص کے تئیں وفادار رہیں گے جس کا نمک آپنے کھایا ہے۔ آپ نمک حلال ہوں گے۔ اسکے برعکس ،نمک حرام، ابھی بھی یہ ایک ایسا طعنہ ہے جو آپ کو کچوکے لگاتا ہے۔ حالانکہ اس زمانے کی قدروں کا تعین قدیم حلفوں کی بجائے تجارتی رویہ سے ہوتا ہے۔ آج ملازمتوں کی منڈی میں ہر شخص کمپنی سے کیے گئے قول و قرار سے زیادہ اپنی تنخواہ کے تئیںوفادار ہوتا ہے
کہاوت کے طور پر ایک طاقتور ٹکراو¿ میں میں نمک مہذب سلوک کی علامت بھی بن گیا ہے۔ آپ کو شکایت کرنے کی بجائے نمک کی ایک چٹکی لیکر غلط کاموں کا بوجھ اتارنا سکھایا جاتا ہے۔ برٹش لیبر پارٹی کے لیڈر ایڈملی بینڈ جو عام طور پر جذبات سے عاری چہرے میں نظر آتے ہیں گذشتہ ہفتے ایک اوپینین پول کے بعد بدلے بدلے سے نظر آئے۔
اس پول میں حکمراں کنزرویٹوپارٹی کو کافی آگے بتایا گیا ۔ ملی بینڈ نے کہا کہ انہوں نے اس خبر کو مٹھاس کی ایک چٹکی کے ساتھ لیا۔ ان کے ادھ جگے دماغ میں بچپن میں ممی کی طر ف سے دی گئی کڑوی دوا کی یاد رہی ہو گی جس کے بعد مٹھاس کے لئے جیم کھلایا جاتا ہے۔ جب سچائی کڑوی ہو جاتی ہے تو کوئی بھی اس میں نمک نہیں ملاتا ۔ ذراسی مٹھاس راحت پہنچاتی ہے۔
مارچ کے پہلے ہفتے میں جب اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوگا تو بہت سے سیاستداں، جو اس وقت نمک کے ساتھ ایک دوسرے کا سامنا کر رہے ہیں ، چینی کی ڈلی کے لئے بے تاب دکھائی دیں گے۔ آج نمک انہیں اوپینین پولز ( چناو¿ سروے) کو ہضم کرنے میں مدد کر رہا ہے جن کمپنیوں سے پارٹیاں سروے کر وارہی ہیں۔ وہ کمپنیاں انہیں وہی بتا رہی ہیں جو وہ سننا چاہتی ہیں۔ یہ صرف اس حقیقت کی وضاحت ہے جس میں کانگریس اور اکالی دونوں کو ہی پنجاب میں جیتنے کی توقع ہے۔ دونوں صحیح نہیں ہو سکتے ۔
اس مرتبہ ووٹر اتنے سرکش موڈ میں ہیں کہ بیان بازی کے لئے قابل ذکر طور پر جگہ بہت وسیع ہو گئی ہے۔ اوپینین پول معمولی حساب نہیں ہوتا۔ دو اور دو ہمیشہ چار نہیں ہوتے۔ یہ اعدا و شمار میں بہت سی بریکٹوں کے ساتھ الجیبرا ہے۔ مثال کے طور پر کسی پارٹی کی حمایت حلقے میں آبادی کے گنجان ہونے پر منحصر کرتی ہے۔ اگر یہ حمایت بہت زیادہ پھیل جائے تو آپ تعداد چن سکتے ہیں نہ کہ جیتنے کی تعداد ۔
یہ ایک مسئلہ ہے جس کا سامنا اترپردیش میں مایاوتی کر رہی ہیں۔ ان کو دلتوں اور دوسری غریب ذاتوں کی بہت زیادہ حمایت ہے لیکن اضلاع میں ایک خاص جگہ پر اکٹھے ہونے کی بجائے وہ تمام صوبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس طرح سے 200چناو¿ حلقوں میں وہ دوسرے نمبر پر رہ سکتی ہیں اور 100سے ذرا زیادہ پر جیت حاصل کر سکتی ہیں۔ اس کے برعکس مسلم ووٹ موثر طو رپر نتائج کو متاثر کرتے ہیں کیونکہ وہ اضلاع میں مغرب سے مشرق کی طرف آدھے چاند کی شکل میں اکٹھے ہیں۔
اس کی تشریح پائپرز کے اصول کولاگو کرتی ہے جسکے مطابق جو پائپرز کو عطیہ دے گا اسی کو دولت ملے گی۔ تعداد بتا نے والے اپنے گاہکوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتے۔ اس لئے وہ الگ الگ طریقوں سے اعداد و شمار کی تشریح کرتے رہتے ہیں۔ نتائج کے بعد سیاسی پارٹیاں یاد نہیں رکھتیں۔جو بھی ہو جیتنے والے بہت خوش اور ہارے ہوئے امیدوار بیحد مایوس رہتے ہیں۔
چھوٹے حلقوں میں پیشگوئی کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ اتر پردیش میں پیشگوئی کرنا مشکل ہے۔اتر پردیش اتنا بڑا ہے کہ اس میں 8پنجاب ، 20اتراکھنڈ، 40گوا، 80منی پور سماسکتے ہیں۔ یوپی الیکشن ایک چھوٹا عام چناو¿ہے۔ یہ کہنا حیران کن نہیں ہوگا کہ پچھلے 3دہائیوں سے یہاں ایسا کوئی چناو¿ نہیں ہوا جس کانتیجہ کچھ حیران کن رہا ہو۔
ایک سروے یہ بتاتا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی تین عددی ہندسوں میں سیٹیں جیتیں گی جس سے سیاسی ماحول کافی بدلے گا لیکن اس پول میں ایک فریب بھی ہے۔ جسے کسی نے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔
ہم یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ مایاوتی کے ووٹ میں کمی آئی ہے لیکن کسی کو بھی اس کمی کی حقیقی صورت حال کے بارے میں اصل معلومات نہیں ہیں۔ جن برہمنوں نے کچھ مدلل وجوہات سے 2007میں ان کا ساتھ دیا تھا وہ بھاجپا یا کانگریس کے ساتھ جائیں گے۔
لیکن اس طرح کے پیٹرن میں بدلاو¿ کے کئی اسباب ہوتے ہیں۔ مسلم ووٹ بنک کے ساتھ ابھرتی پیس پارٹی ایسے ہی بدلاو¿ پر منحصر ہے۔ اس نے اس امید میں غیر مسلم امیدواروں کو کھڑا کیا ہے کہ وہ پارٹی کو آگے لے جانے کےلئے اپنی برادری سے بہت ووٹ دلوائیں گے۔
اصل میں ایک ایسا سب کو قابل قبول فارمولہ تلاش کر پانا تقریباً مشکل ہے جو اترپردیش کی دشوار صورت حال میں ہر جگہ لاگو ہو سکے۔
غیر یقینی کیفیت جمہوریت کا خاصہ ہے۔ اگر اوپینین پول ہی کافی ہوتے تو چناو¿ کی کیا ضرورت تھی۔ ہندوستان میں چناو¿ ایک سیاسی ثقافتی تہوار ہوتا ہے۔ یہ قابل قدر اور معتبر ہوتے ہیں۔




