خوشونت سنگھ
گذشتہ سال کے اواخرمیں کچھ جریدوںنے یہ شائع کیا کہ آج کل کون سی تصنیف یا کتاب ممتاز شخصیات کے زیر مطالعہ ہے۔ سونیا گاندھی نے جواب دیا: وہ ونود مہتا کی سوانح حیات لکھنؤبوائے ( پینگوئن وائکنگ)پڑھ رہی ہیں۔ میں نے قیاس کر لیا کہ اس وقت ونود ساتویں آسمان پر ہو سکتے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ جشن منا رہے ہوں گے۔ حالانکہ سونیا گاندھی ادبی نقاد نہیں ہیں وہ ہندوستان کی سینورا نومیرو یونو ہیں ان کی مطالعاتی ترجیحات کافی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ اس بات میں مجھے کوئی شک نہیں کہ ونود کی صحیح تعریف ہوئی تھی لیکن پھر بھی وہ شاکی ہیں اور زیادہ کی خواہش رکھتے ہیں۔ مجھے اس بات سے اتفاق ہے کہ ونود کی سوانح حیات کسی دوسرے ہندوستانی کی نسبت زیادہ پڑھنے کے قابل ہے۔کیونکہ یہ ہندوستانیوں کا خاصہ ہے کہ وہ اپنے منھ میاں مٹھو بنتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ سوانح حیات پڑھنے کے لائق نہیں رہتی ۔جبکہ ونود صحافت میں اپنی زبردست کامیابیوں کے باوجود بہت سادگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بسا اوقات خود اپنا مذاق اڑاتے ہیں۔
ونود مہتا 1941میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے پوتھو ہاری کھتری ہیں۔ ان کے والد جو کہ فوج میں کیپٹن تھے انہوں نے ان کی تاریخ پیدائش 31مئی 1942لکھی ہے۔ان کی تعلیم لا مارٹنیرکالج لکھنو¿ میں ہوئی تھی ۔یہاں خاص طور پر ا ینگلو انڈین اور ہندوستانی عیسائی پڑھتے ہیں۔ اینگلو انڈیئینز اور عیسائیوں کو ٹیوشن فیس اور ہاسٹل اخراجات ادا نہیں کرنے پڑتے۔کچھ لوگ تو وہاں 30سال سے زیادہ کی عمر تک رہنے کے لئے ہر سال سینئر کیمبرج امتحان میں فیل ہوتے رہے۔
ہندوستانی ماں اور انگریز والد کے بچے اینگلو انڈین کہلاتے تھے۔ لیکن جو انگریزماں سے پید اہوئے مگر ان کے باپ ہندوستانی تھے تو وہ اینگلو انڈین نہیں کہلاتے۔ اینگلو انڈین لڑکے دوسروں سے زیادہ تگڑے ہوتے تھے اور ان پر اپنی چودھراہٹ دکھایا کرتے تھے ۔ ہندوستانی اپنے گھروں سے جو کچھ بھی کھانا لاتے تھے وہ ان سے چھین کر خود کھا لیا کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً ان سے بد فعلی بھی کیا کرتے تھے۔حالانکہ ونود مہتا نے سینئر کیمبرج تھرڈڈویژن میں پاس کیا۔ وہ ہندی میں فیل ہو گئے اور مزید تعلیم کے لیے نگلینڈ چلے گئے۔ ونود پڑھائی کی بجائے کھیل کو د میں تیز تھے۔ وہ بڑھیا ٹینس کھیلتے تھے۔ انہوں نے لگاتار سات بار یوپی ٹیبل ٹینس چمپئن شپ جیتی۔
ونود کو جرنلزم میں اپنی اصلی دلچسپی دکھائی دی وہ یکے بعد دیگرے ساتھ میگزینوں کے ایڈیٹر رہے۔ چار کتابیں لکھیں 1995میں ’ آو¿ٹ لک‘ نکالنے سے پہلے بی بی سی کے براڈ کاسٹر رہے۔ کامیابی کا ان کا اپنا فارمولہ تھا سب سے اہم تھا کہ کبھی بھی پنی میگزین کی تعریف مت کرو وہ چند صفحات قارئین کے خطوں کے لیے مخصوص رکھتے تھے اور ان خطوط کو ترجیح دیتے تھے جو ان پر نکتہ چینی کرتے تھے۔ آخری صفحہ سفرنامہ کے عنوان سے ہوتا تھا جو کسی مشہور ہندوستانی مصنف یا صحافی کا ہوتا تھا ۔ان کا اپنا مضمون عام طور پر سب سے زیادہ پڑھنے لائق ہوتا تھا اپنی پوزیشن کے بارے میں وہ جو سوچتے تھے اسے اس بات سے دیکھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے سڑک سے ایک آوارہ پلے کو اٹھا یا اور اسے ایڈیٹر کا نام دے دیا ۔میں نے کبھی کسی کتے کا یہ نام نہیں سنا۔
ان کے ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ شام کو جب وہ آفس سے جاتے ہیں تو پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس گلی میں گھومتے درجنوں بچے ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ وہ ان کے لئے آئس کریم خریدتے ہیں اور روزانہ سو سے زائد روپے ان بچوں پر اڑا دیتے ہیں۔ میرے لئے تو وہ سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ویکلی میگزین کے ایڈیٹر ہیں۔
میری موجودہ ذہنی کیفیت
ایک زمانہ تھا جب میں انگریزی نظمیں گھنٹوں گنگنا سکتا تھا اور یہ سب مجھے یاد ہوتا تھا۔ اس کے بعد اردو شاعر آئے اور میں غالب ، اقبال، حفیظ، فیض، اور احمد فراز کی تخلیقات کو یاد رکھنے لگا انگریزی شاعروں کو بھول گیا مجھے احساس جرم ہوا اور میں نے ” آو¿ٹ لک“ کی شیلا ریڈی سے کہا کہ مجھے انگریزی نظمیں یاد نہیں آتیں وہ اٹھی اور میری لائبریری میں انگریزی نظموں کی الماری کی طرف گئیں یہ خاص طور پر مختلف شاعروں کی مکمل تخلیقات ہیں میری ضرورت کسی چنے ہوئے مجموعہ کی تھی جیسے پال گریوکا، بٹ ہیئر یو ہیودی ایلبیٹروبک آف لونگ ورس (کولنس) جس کی ایڈیٹنگ لوئس انترمیئر نے کی تھی۔ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ آپ کی اپنی لابئریری میں کیا رکھا ہے انہو ںنے مجھے طعنہ مارا۔ آپ کو جان کیٹس ( 1795-1821) کی ’ اوڈٹواے نائی ٹینگل گیل، چاہئے تھی وہ رہی ۔
میں نے ان کے ہاتھوں سے کتاب لی اور نظم پڑھنے لگا جو مجھے یاد نہیں آرہی تھی جیسے ہی میں اس لائن پر آیا جو میری موجودہ ذہنی کیفیت بتاتی ہے تو میں رک گیا۔
Darkling I listen; and for many a time I have been half in love with easeful Death Called him soft names in many a missed rhyme, To take into the air my quiet breath; Now more than ever seems it rich to die, To cease upon the midnight with pai




