سہیل انجم
بابائے مصوری اور ہندوستان کے پکاسو مقبول فدا حسین کے انتقال پر انگریزی، ہندی اور اردوتقریباً تمام زبانوں کے اخباروں نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے اس شعر کو استعمال کیا ہے کہ ”کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے۔ دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں“۔ اور یہ استعمال بالکل برجستہ اور بر محل ہے۔ حالانکہ بہادر شاہ ظفر اور ایم ایف حسین میں زیادہ مماثلت نہیں، سوائے چند ایک کے۔ دونوں نے جلا وطنی کے ایام میں آخری سانس لی اور دونوں بادشاہ تھے۔ بہادر شاہ ظفر جہاں بانی اور جہاں داری کے حوالے سے بادشاہت کا تاج اپنے سر پر رکھتے تھے تو ایم ایف حسین کے سر پر شہنشاہ مصوری کا تاج سجا تھا۔ دونوں کی یہ خواہش تھی کہ ان کی آخری آرام گاہ اپنے وطن ہندوستان کی سرزمین پر بنے لیکن دونوں کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی اور وہ اس تمنا کو اپنے سینے میں لیے ہوئے دنیا سے کوچ کر گئے۔ بہادر شاہ ظفر کو جہاں انگریزوں نے ہندوستان بدر کیا تھا وہیں ایم ایف حسین کو فرقہ پرستوں کی معاندانہ سازشوں اور پرتشدد کارروائیوں نے ہندوستان بدر ہونے پر یا خود جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا تھا۔ آخری مغل تاجدار کا مزار برما کے رنگون میں ہے تو شہنشاہ مصوری کی قبر لندن میں ہے۔ گویا دونوں، جو کہ اپنے وطن سے بے حد پیار کرتے تھے، وطن سے دور جہانِ خموشاں بسانے پر مجبور ہوئے۔ آج جبکہ یہ بابائے مصوری دیار غیر میں آسودہ خاک ہو گیا ہے ہندوستان کے وہ فرقہ پرست بھی ان کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جو ان کی زندگی میں ان کے خون کے پیاسے تھے۔
بہر حال ایک طبقہ بھلے ہی ان کا مخالف رہاہو، مقبول فدا حسین پر ایک جہاں فدا تھا اور ان کی مصوری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا وہیں ان کے فن پر مقبولیت بھی فدا تھی اور فدائیت بھی فدا تھی۔ انہیں اگر چہ ہندوستان کے ایک طبقے نے ان کی بعض پینٹنگس کے حوالے سے ان کو اپنا دشمن جانا لیکن ان کے فن کے قدردان ان پر اپنی جان فدا کر دینے کو تیار رہتے تھے۔ پوری دنیا میں ان کے مداحوں کی تعداد پھیلی ہوئی ہے اور وہ ہمیشہ آرٹ کی نمائشوں میں شرکت کے لیے دورے کیا کرتے تھے۔ ان کے بعض قریبی دوستوں نے اپنے مضامین میں انکشاف کیا ہے کہ ان کی اچکن کی جیب میں مختلف ائیر لانز کے ٹکٹ ہمیشہ موجود رہتے تھے کہ پتہ نہیں انہیں کب اور کہاں جانا پڑ جائے۔ یوں تو ان کے پاس کئی عدد سیل فون ہوا کرتے تھے لیکن شائد ہی ان کے کسی فون پر رابطہ آسان رہا ہو۔ ان کا فون ہمیشہ Un Available اور Unreached رہا کرتا تھا اور خود حسین بھی Not Reachable رہا کرتے تھے۔ ان تک صرف انہی لوگوں کی رسائی تھے جو واقعی فن کے قدر داں تھے اور جو مصوری کی نمائشیں لگایا کرتے تھے یا مصوری پر سیمنار کیا کرتے تھے۔ لیکن ایم ایف حسین کا فن انسانی ذہن کے لیے اور بالخصوص فن کی باریکیوں سے واقفیت رکھنے والوں کے لیے کبھی بھی Un Available نہیں رہا۔ لوگوں کا ذہن ان کے فن کی باریکیوں اور اس کی تہوں میں پوشیدہ اسرار تک پہنچ ہی جاتا تھا۔ ہاں وہ طبقہ ان باریکیوں تک پہنچنے کی صلاحیت سے عاری تھا جو ان کی تصویروں میں عریانیت کے پہلو تلاش کیا کرتا تھا۔ انہوں نے دیوی دیوتاو¿ں کی بہت سی تصویریں بنائی تھیں اور خاص طور پر دیویوں کو پینٹ کرنے میں انہیں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ وہ دیویوں سے عقیدت رکھتے تھے اور ان کو ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے ایک دوست اور مداح کا کہنا ہے کہ انہوں نے عورت کی ذات میں ہمیشہ ایک ماں کو دیکھا خواہ وہ ہندوستان کے کسی بھی طبقے، کسی بھی علاقے یا کسی بھی سماج سے تعلق رکھتی ہو ، یا پھر وہ کوئی دیوی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن انہوں نے سرسوتی دیوی کی جو پینٹنگ بنائی اس نے فرقہ پرستوں کے ایک ٹولے کو بری طرح ناراض کر دیا۔ اس کا الزام تھا کہ انہوں نے سرسوتی کی عریاں پینٹنگ کر کے ان کی توہین و تذلیل کی ہے۔اگر یہی پینٹنگ کسی’ پکاسو‘نے بنائی ہوتی تو اس پر کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا بلکہ اسے فن کا شاہکار قرار دیا جاتا۔ لیکن چونکہ اسے ایک ایسے شخص نے بنایا تھا جس کا نام مقبول فدا حسین تھا اس لیے یہ بات کوتاہ ذہن اور تنگ نظر لوگوں سے ہضم نہیں ہوئی۔
حسین کے ایک قریبی دوست اور معروف مصور جتن داس نے اس متنازعہ پینٹنگ کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عریاں نہیں ہے بلکہ وہ تجریدی آرٹ کا ایک نادر نمونہ ہے جس کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے اور اس کی باریکیوں کو پرکھ سکتا ہے جس کے اندر فن شناسی کا ہنر ہو اور جو مصوری کے دوران اپنائے جانے والے رنگ و آہنگ سے واقف ہو۔ انہوں نے اس پینٹنگ کو عریاں کہنے اور اس پر ہنگامہ کرنے پر فرقہ پرستوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اس کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ دوسری بات یہ کہ اس پینٹنگ پر بیس سال بعد ہنگامہ ہوا تھا۔ بیس سال تک لوگ چپ رہے۔ انہوں نے اشاروں کنایوں میں کہا ہے کہ اس ہنگامے کے پیچھے ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ کارفرما تھے۔ اسی طرح ایک اور مصور اور ایڈ گرو الیک پدمسی نے بھی اس تصویر پر ہنگامہ آرائی کی مذمت کی ہے او رکہا ہے کہ جو لوگ فن کی باریکیوں سے ناواقف ہیں وہ اسی قسم کی حرکت کرتے ہیں۔
ایم ایف حسین کی شخصیت کا ایک عجیب رنگ تھا۔ وہ عمر کے آخری لمحات تک زندگی کو بھرپور انداز میں جینے میں یقین رکھتے تھے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انتقال سے چند روز پیشتر اپنے دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور تفریح کرتے رہے۔ اپنے آخری انٹرویو میں انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ وہ ایک روز اپنے وطن ضرور واپس ہوں گے۔ اور وطن کی مٹی میں سو جائیں گے۔ ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے اس آخری انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ تین چار ماہ کے اندر ہندوستان آرہے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے اس کرب کا بھی اظہار کیا تھا کہ ہندوستان میں کسی کو اس بات کی پروا نہیں ہے کہ وہ ہندوستان واپس ہوں۔ انہوں نے حکومت کے ذمہ داروںاور سیاست دانوں کے رویے پر بھی اشاروں اشاروں میں اظہار افسوس کیا تھا۔ ہندوستان واپس ہونے کی ان کی تمنا بارآور نہ ہو سکی۔ حالانکہ ملک کا سیکولر طبقہ چاہتا تھا کہ وہ واپس آجائیں لیکن برا ہو ووٹ بینک کی سیاست کا کہ کوئی بھی سیاست داں کھل کر بولنے کو تیار نہیں تھا۔ لیکن یہ بات بھی نہیں ہے کہ ان کے فن کی قدر افزائی ہندوستان میں نہیں ہوئی۔ یہ قدر افزائی ہی تھی کہ انہیں پدم شری، پدم بھوشن اور پدم ببھوشن کے اعزاز سے نوازا گیا اور راجیہ سبھا کا رکن نامزد کیا گیا۔
انہیں اپنے وطن سے بہت پیار تھا۔ اسی لیے انہوں نے وطن کو ایک ماں کی حیثیت سے دیکھا اور اس کی ایک پینٹنگ بھی بنائی۔ اسے ایک دیوی کی شکل میں دکھایا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد پینٹنگس میںبھی وطن سے محبت کا اظہار کیا لیکن فرقہ پرستوں کا ٹولہ انہیں برداشت کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ان کی آرٹ گیلریوں پر حملے کیے گئے اور ان کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خلاف مختلف تھانوں میں کیس درج کرائے گئے اور ان کے نام کئی وارنٹ بھی جاری ہو چکے تھے۔ اس لیے انہیں سال 2006میں اچانک ملک کو خیرباد کہہ دینا پڑا۔ وہ دبئی چلے گئے اورسال 2010میں انہیں قطر کی شہریت مل گئی۔ انہوں نے ممبئی کے بدر باغ کے علاقے میں جو کہ سلیمانی بوہرہ مسلمانوں کی کالونی ہے، اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ گزارا۔ وہاں فلمی شخصیات بھی آتی جاتی رہیں اور ان کو عید اور بقرعید کی دعوتیں بھی دی جاتی رہیں۔ ان کی کالونی کے لوگو ںنے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایم ایف حسین سے اپنی جذباتی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ ان لوگوں کو اس بات کا فخر حاصل رہا کہ ان کے درمیان ایک ایسی شخصیت ہے جو عالمی شہرت کی حامل ہے اور ان کے درمیان کا ایک اتنا بڑا مصور موجود ہے۔ ان کے ایک عزیز نے کالونی میں موجود واحد مسجد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم ایف حسین نے ایک بھرپور زندگی گزاری اور انہوں نے پوری دنیا کی سیر کی وہ اکثر سفر میں بھی رہتے رہے لیکن وہ جب بھی یہاں رہے اس مسجد میں برابر آتے رہے اور وہ ایک وقت کی بھی نماز نہیں چھوڑتے تھے۔ ان کے مزاج میں رنگا رنگی تھی ، تنوع تھا اور اس ایک شخصیت میں کئی شخصیتیں پوشیدہ تھیں۔ ان کی کئی پرتیں تھیں اور کوئی پرت ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب تھی۔ ان کے مزاج میں انفرادیت بھی تھی اور کثیر جہتی بھی ۔ جب انہوں نے جوتا یا چپل پہننے سے انکار کر دیا اور ننگے پاو¿ں رہنے لگے تو ان سے اس سلسلے میں اکثر سوال کیے جاتے تھے۔ ان کا ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ وہ اپنے ملک کی زمین سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔ یہ وطن سے ان کی محبت کی ایک زندہ مثال تھی لیکن ان کی اس حب الوطنی کو ملک کا فرقہ پرست طبقہ پہچان ہی نہیں سکا۔ ایک اتنے بڑے محب وطن کو ملک سے باہر دیار غیر میں آخری سانس لینی پڑی اور وہیں اپنی آخری آرام گاہ بنانی پڑی۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ عورت ذات کی بڑی قدر کرتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے مادھوری دیکشت کی تصویر بنائی اور ان کے ساتھ ایک فلم گج گامنی بنائی تو ان پر الزامات لگائے گئے اور انہیں عورت پرست اور عاشق مزاج کہا گیا۔ وہ عورت پرست تھے لیکن اس پرستش میں غلاظت کی بجائے پاکیزگی تھی او ر جنسیات کی بجائے حسن پرستی اور جمالیاتی حس تھی۔ انہوں نے ودیا بالن کو لے کر بھی ایک فلم بنانے کا ارادہ کیا تھا جو پورا نہیں ہوا۔ البتہ تبو کے ساتھ ایک فلم بنائی تھی جو بہت مقبول ہوئی تھی اور جسے ایوارڈ بھی ملا تھا۔ ان کے کئی اداکارو¿ں سے تعلقات تھے لیکن ان رشتو ںمیں بھی
پاکیزگی تھی۔
مقبول فدا حسین کے انتقال کے بعد حکومت ہند نے ان کے جسد خاکی کو ہندوستان لانے کی پیشکش کی تھی لیکن حسین کے بیٹوں نے ان کی اس آخری خواہش کے پیش نظر کہ میں جہاں مروں وہیں دفن کیا جائے، حکومت کی یہ پیشکش مسترد کر دی اور انہیں لندن کے بروک ووڈ قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ البتہ اس موقع پر برطانیہ میں ہندوستان کے سفیر نے ہندوستان کی طرف سے پھولوں کا گلدستہ ان کی قبر پر چڑھایا۔ نماز جنازہ میں تقریباً پچاس افراد نے شرکت کی۔ نماز میں شریک ایک فنکار سہیل سیٹھ کے مطابق اس میں ایم ایف حسین کے قریبی لوگوں نے ہی شرکت کی۔ اس موقع پر موجود سینئر صحافی این رام نے ایم ایف کے ساتھ حکومت کے رویے پر ناراضگی ظاہر کی ہے او ر کہا ہے کہ فرقہ پرستوں کی دھمکیوں کی وجہ سے انہیں ملک واپس آنے نہیں دیا گیا اور آخری لمحات تک ان کا دل اپنے وطن کے لیے دھڑکتا رہا۔ فن اور آرٹ سے وابستہ بیشتر شخصیات نے فرقہ پرست عناصر کے ساتھ ساتھ حکومت کے رویے کی بھی مذمت کی ہے۔ جتن داس اور ان کے دوستوں نے بتایا ہے کہ ایم ایف جب بھی ملتے یا جب بھی ان سے بات ہوتی تو وہ یہی کہتے کہ ”ارے یار میں ہندوستان واپس آنا چاہتا ہوں“۔ جتن داس نے بتایا کہ آخری ملاقات میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے ممبئی اور دہلی کی بہت یاد آتی ہے میں جلد ہی آوں گا اور تم لوگوں کے ساتھ مل کر نظام الدین جاکر کباب کھاو¿ں گا۔ متعدد لوگوں نے کہا ہے کہ حکومت ایک طرف تو تسلیمہ نسرین جیسی ادیبہ کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت دیتی ہے اور دوسری طرف ایم ایف جیسے فنکار کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے۔ یہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔
بہر حال عالمی شہرت یافتہ فنکار اور مصور جس نے تجریدی آرٹ کو ایک نیا رنگ دیا، نیاآہنگ دیا اور جس نے فن مصوری کو نئی جہت دے کر اسے مقبولیت کی اوج ثریا پر پہنچا دیا آج خاک کے پردے میں نہاں ہو گیا ہے۔ لیکن اس زندہ جاوید مصور نے فن کی جو خدمت انجام د ی ہے اسے بھلایا نہیں جا سکتا اور جب تک اس دنیا میں مصوری زندہ ہے مقبول فدا حسین کا نام بھی زندہ رہے گا۔ پاکستان کے ایک بزرگ شاعر حمایت علی شاعر نے اپنی ایک ثلاثی میں کہا ہے کہ ”اپنی زمیں کا حسن تھا اپنی نظر سے دور۔ دنیا کو آفتاب سے دیکھا تو یہ کھلا۔ ہم ہوں اگر بلند تو یہ خاک بھی ہے نور“۔ ہماری زمین کا یہ حسن آخری دنوں میں ہماری نظروں سے دور ہو گیا تھا اور ہم اس کو اور اس کے فن کو دور سے دیکھنے پر مجبور تھے۔ ہاں لیکن وہ لوگ اس فن کو نہیں سمجھ سکے جو بلند نہیں تھے اور جن کی نگاہوں میں آفاق کی وسعتیں نہیں تھیں۔ مقبول فدا حسین اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی مقبولیت کبھی ختم نہیں ہوگی اور ایک زمانہ ان کے فن پر ہمیشہ فدا رہے گا۔
(
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
)

ایم ایف حسین : اپنی زمیں کا حسن تھا اپنی نظر سے دور 


