You are here: ایک خبر ایک نظر ایک اور ڈکٹیٹر کا عبرت ناک انجام! Home

ایک اور ڈکٹیٹر کا عبرت ناک انجام!

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
”مجھے گولی مت مارو، مجھے گولی مت مارو“ یہ ہیں وہ آخری الفاظ ایک ڈکٹیٹر کے جس نے اپنے دور حکومت میں جانے کتنے انسانوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ لیکن جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو وہ اپنے مخالفین سے جن کے خلاف کئی ماہ سے جنگ لڑ رہا تھا، رحم کی بھیک مانگنے لگا۔ لیکن جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے تو کوئی فریاد کوئی درخواست قبول نہیں ہوتی اور انجام کار وہی ہوتا ہے جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے۔ لیبیا کے حکمراں کرنل قذافی بھی بالآخر اسی انجام سے دوچار ہوئے جو آمروں اور ڈکٹیٹروں کا مقدر ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے وقت رہتے سرینڈر کر دیا ہوتا یا تیونیشیا کے صدر کی مانند کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کر لی ہوتی تو شائد آج وہ سب کچھ نہیں ہوتا جو سرت، ترپولی اور لیبیا کے دوسرے شہروں کے گلی کوچوں میں اور خود ان کے ساتھ ہوا ہے۔ لیکن ایک تو قذافی کا مزاج سرینڈر کرنے یا جھکنے والا نہیں تھا اور دوسرے جب ان کی قسمت میں یہ سب کھ لکھ دیا گیا تھا تو وہ اس سے کیسے بچ پاتے۔ بہر حال 44سالوں تک آہنی پنجوں سے حکومت کرنے والا مرد آہن آخری وقت میں کتنا بے بس ولاچار ہو گیا تھا اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ قذافی ایک نالے میں چھپ گئے تھے اور وہاں سے باغی فوجیوں نے انہیں گھسیٹ کر باہر نکالا۔ انہوں نے بغاوت کے آغاز پر ہی کہہ دیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے چاہے لڑتے لڑتے ہی کیوں نہ دم توڑ دیں، انہوں نے اپنے اس عہد کی پابندی کی اور نہ تو ملک سے بھاگے اور نہ ہی باغیوں کے سامنے ہتھیار ڈالا۔ انجام ایسے لوگوں کا جو ہوتا ہے وہی ہوا۔ لیبیا میں ایک طویل دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک ایسا دور جو بہتوں کے لیے ظلم واستبداد سے عبارت تھا اور بہتوں کے لیے اسلامی شان وشوکت کی علامت تھا۔ کوئی بھی آمر محض رحم دلی سے حکومت نہیں کر سکتا۔ اگر اسے اپنی حکومت کو مستحکم اور مضبوط کرنا ہے تو اسے اپنے تخت کے پایے انسانی لاشو ںپر گاڑنے ہوں گے۔ یا تو انسانیت کی بے مثال خدمت کرنے والے کا قد بڑا ہوتا ہے یا پھر انسانی لاشوں پر کھڑے ہونے والا دراز قد ہوتا ہے۔ کرنل قذافی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دوسری قبیل کے حکمراں تھے۔ بہر حال لیبیا سے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا ہے اور حکومت واقتدار کا ایک طویل باب بند ہو گیا ہے۔ اب وہاں نیا سورج طلوع ہوگا اور نئی صبح وشام وہاں کے شہریوں کا استقبال کریں گی۔
لیکن اسی کے ساتھ ساتھ کچھ اندیشے بھی ہیں کچھ خدشات بھی ہیں اور کچھ خطرات بھی ہیں۔ کیا وہ لیبیا جو ابھی تک ایک غیور اسلامی ملک کی حیثیت سے سر اٹھائے کھڑا تھا، اب بھی اسی غیرت وحمیت کے ساتھ زندہ رہے گا یا پھر وہ عالمی طاقتوں کی سازشوں کی آماجگاہ بن جائے گا اور بین الاقوامی گدھ اسے نوچ نوچ کر کھانا شروع کر دیں گے۔ لیبیا میں تیل کی زبردست دولت ہے۔ ظاہر ہے کہ قذافی کے بعد اس پر للچائی نظریں بہت سے ملکوں کی لگی ہوں گی۔ کیا ناٹو کی افواج سرزمین لیبیا کو خالی کر دیں گی اور وہاں کے عوام کو اس کی اجازت دیں گی کہ وہ اپنی سلامتی کو خود یقینی بنائیں۔ کیا عالمی طاقتیں لیبیائی عوام کو اس حشر سے دوچار نہیں کریں گی جو عراقی عوام کا مقدر بن چکا ہے۔ کیا لیبیا کی نیشنل عبوری کونسل کو اس کی آزادی ہوگی کہ وہ اپنی پسند کی ایک جمہوری حکومت قائم کرے اور بیرونی طاقتوں کو مداخلت کرنے سے باز رکھے۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں جو در اصل خدشات ہیں جن کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ لیکن بہر حال لیبیائی عوام نئے شب وروز کا استقبال کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک طویل دور حکومت کا خاتمہ کیا ہے اور اب یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنی پسند کی حکومت قائم کریں۔ لیکن سوال وہی ہے کہ دنیا میں جمہوریت کا ڈنکا بجانے والے ممالک کیا لیبیا میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔
عالم اسلام میں عوامی بغاوت کے جو شعلے بھڑکے تھے اس کے نتیجے میں پہلے تیونیشیا کے صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کا بُت زمین بوس ہوکر پاش پاش ہوا تھا اور پھر حسنی مبارک کی آمریت کا بُت تہس نہس ہو گیا اور اب لیبیا کے صدر کرنل قذافی کی ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ ہو گیا اور ان کی ہیبت اور خوفناکی کا بُت بھی پاش پاش ہو گیا۔ کرنل قذافی اکثر یہ دعوا کیا کرتے تھے کہ ان کا ملک سب سے زیادہ جمہوری ہے۔ لیکن جب اسی ملک میں جمہور اٹھ کھڑے ہوئے تو تاریخ بدل گئی۔ جب تیونیشیا میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں زین العابدین کو ملک بدر ہونا پڑا تھا تو قذافی نے اس پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ تیونیشیا پر حکومت کرنے کی طاقت صرف زین العابدین میں تھی۔ ان کو اسی وقت یہ اندیشہ ستانے لگا تھا کہ اب کہیں ان کا نمبر نہ آجائے۔ اسی لیے انھوں نے اپنے ملک کے اپوزیشن لیڈروں کو، جن کو انھوں نے کبھی ابھرنے نہیں دیا اور بزور قوت دبائے رکھا، یہ وارننگ دی تھی کہ وہ یہاں کچھ نہ کریں اور حکومت مخالف کسی بھی قسم کی سرگرمی کا آغاز نہ کریں۔ لیکن ان کی وارننگ کام نہیں آئی۔
کرنل معمر قذافی ایک زمانے میں پوری دنیا کے مسلمانوں کے ہیرو سمجھے جاتے تھے۔ انھوں نے امریکہ سے ٹکر لے کر جس جرات وہمت کا مظاہرہ کیا تھا وہ قابل تعریف تھا اور اس کی وجہ سے ہی پوری دنیا کے مسلمان ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے۔ حالانکہ انہیں اس کی بڑی قیمت چکانی پڑی تھی اور ایک طویل عرصے تک وہ ایک طرح سے عالمی برادری کے لیے اچھوت بنے رہے۔ لیکن کب تک؟ بالآخر انہیں اپنے موقف اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی پڑی او رانھوں نے امریکہ مخالفت کے اپنے دیرینہ موقف کو خیر باد کہہ دیا تھا۔بہر حال وہ ایک زمانے تک پوری دنیا کے مسلمانوں کے ہیرو ضرور تھے لیکن آج ویلن کی حیثیت سے ان کی موت ہو چکی ہے۔ عوام بھی کب تک ان کو برداشت کرتے۔ انھیں ایک نہ ایک دن میدان میں آنا ہی تھا۔ قذافی عالم اسلام میں سب سے طویل وقفے تک حکومت کرنے والے رہنما کا ریکارڈ اپنے نام کر چکے تھے ۔ان ملکوں میں، جہاں کے حکمراں طویل عرصے سے عوامی تقدیر کے سیاہ وسفید کے مالک بنے ہوئے ہیں اور جہاں عوامی امنگوں اور خواہشوں کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے، جمہور کا اٹھ کھڑا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب اس صورت حال کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اپنی جانوں کے نذرانے تو پیش کر سکتے ہیں لیکن اسی نظام کے پابند نہیں رہ سکتے جس نے ان کے جذبات واحساسات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ یوں بھی تبدیلی نظام قدرت ہے اور دنیا میں کسی چیز کو ثبات حاصل نہیں ہے سوائے تغیر کے۔ تغیر کے بغیر زندگی بے کیف اور بے مزا ہو جاتی ہے اور جب تغیر اور تبدیلی کا عمل حکومتوں کے خلاف ہو تو اس میں مزید جاذبیت اور مزید کیف وسرور پیدا ہو جاتا ہے۔ عوام میں ایک نیا جوش وولولہ جنم لیتا ہے اور وہ نتائج سے بے پرواہو کر ایک عاشق کی مانند آتشِ نمرود میں کود پڑتے ہیں۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو وہ حکمراں جو یہ سمجھتے رہے ہیں کہ وہ تو اپنی تقدیر کے دفترمیںتاحیات حکومت لکھواکر لائے ہیں، حیرت و استعجاب کے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں۔ ایسے مواقع پر عوام کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی کہ وہ جیتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ اہمیت اس کی ہوتی ہے کہ وہ جئیں گے تو آزادی کے ساتھ ورنہ اس سے تو موت اچھی ہے۔ یوں بھی حکومت واقتدار کی کنجی جمہور کے پاس ہے۔ وہ جس کو چاہیں تخت وتاج سونپ دیں اور جس کو چاہیں تاخت وتاراج کر دیں۔ قدافی نے ستمبر1969میں ایک غیر خونیں انقلاب کے سہارے اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد سے مسلسل لیبیا کے صدر کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر رکھی تھی اور وہاں اختلاف رائے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ جس طرح صدام حسین کے عراق میں ان کے خلاف لب کشائی کرنے والا اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا تھا اسی طرح قذافی مخالفین بھی اپنے انجام کو پہنچتے رہے ہیں۔ لیبیا میں واقعتاًدیواروں کے کان ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کسی میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ بند کمرے میں بھی حکومت کے خلاف ایک لفظ ادا کر سکے۔ حالانکہ وہاں وہ اقتصادی مسائل نہیں تھے جو بعض دوسرے مسلم ملکوں میں ہیں۔ لیبیا تیل اور قدرتی گیس کی دولت سے مالا مال ہے اور زر مبادلہ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ لیکن صرف پیٹ کی آگ کو بجھانا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔ اگر ذہن اور دماغ میں آگ بھڑک اٹھے اور ضمیر بیدار ہو جائے تو پیٹ کی آگ اس کے آگے ہیچ ہو جاتی ہے۔ ذہنی اور دماغی سکون اور ہر قسم کی آزادی کی خواہش انسان کو بے خوف اور نڈر بنا دیتی ہے اور پھر وہ کسی بھی پابندی اور سختی کو خاطر میں نہیں لاتا۔
بہر حال لیبیا کے صدر اور مرد آہن کرنل معمر قذافی اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ عالم اسلام کے موجودہ واقعات در اصل پیغام ہے ان ملکوں اور حکمرانوں کے لیے جو عوام کو بزور قوت دبا کر رکھتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ عوام ایک حد تک تو ظلم واستداد کو برداشت کر سکتے ہیں لیکن ایک روز وہ ضرور اٹھ کھڑے ہوں گے اور اسی حکمراں کو جس کے نام سے وہ لرزتے رہے ہیں اٹھا کر پھینک دیں گے۔ پھر ان کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی کہ اس حکمراں کی موت کیسے ہوئی اور اس کا انجام کیسا ہوا۔ ان کے نزدیک اہمیت اس کی ہوگی کہ وہ ایک آمر سے ایک ڈکٹیٹر سے نجات حاصل کریں اور اپنی پسند کی حکومت قائم کریں۔ اب جبکہ لیبیا کرنل قذافی سے آزاد ہو چکا ہے ، دعا ہے کہ وہ دوسری طاقتوں کی غلامی میں نہ جائے اور اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں سے لکھے۔
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929) (

 

All categories