You are here: ایک خبر ایک نظر امریکی شوشہ سے بی جے پی پھول کرغبارہ Home

امریکی شوشہ سے بی جے پی پھول کرغبارہ

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
حال ہی میں امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ پر، جس میںگجرات میں ترقیات کے حوالے سے ریاستی حکومت کی ستائش کے ساتھ ساتھ بہار حکومت کی بھی مدح سرائی کی گئی ہے ،بی جے پی پھول کر غبارہ ہو گئی ہے اور نہ صرف یہ کہ اس کا خوب پروپیگنڈہ اور تشہیر کی جا رہی ہے بلکہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ امریکی حکومت کی رپورٹ نہیں ہے بلکہ ایک غیر سرکاری رپورٹ ہے لیکن بی جے پی کے لوگ اسے اس انداز میں پیش کر رہے ہیں کہ جیسے امریکی حکومت نے وزیر اعلی نریندر مودی کا قصیدہ پڑھا ہو۔ جبکہ اسی امریکہ نے 2005میں مودی کو اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا تھا اور ان کی کئی درخواستیں رد کر دی گئی تھیں۔ اس نے گجرات فسادات کی روشنی میں مودی کو ویزا دینے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم کسی ایسے شخص کو اپنے یہاں آنے کی اجازت نہیں دے سکتے جس کے ہاتھ مظلوموں کے خون سے رنگے ہوں۔ بی جے پی نے ایک غیر سرکاری رپورٹ کے آگے اس سرکاری رپورٹ کو نظر انداز کر دیا ہے۔ اس نے اس رپورٹ کو ایک اور واقعہ سے جوڑ کر ملک گیر سطح پر ایک گمراہ کن پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہے اور یہ باور کرانے میں لگ گئی ہے کہ آج نریندر مودی سب سے بڑے لیڈر بن گئے ہیں اور گجرات سب سے ترقی یافتہ ریاست بن گئی ہے۔ اس رپورٹ سے دو ایک روز قبل سپریم کورٹ نے احمد آباد کی گلبرگ سوسائٹی کی ذکیہ جعفری کی عذرداری پر سماعت کرتے ہوئے گجرات کے بد ترین مسلم کش فسادات میں مودی کے رول کے بارے میں فیصلہ سنانے سے انکار کیا تھا اور اس معاملے کو سماعت کے لئے نچلی عدالت کو سونپ دیا تھا۔ جسے بی جے پی کے لیڈروں نے اس طرح پیش کیا جیسے سپریم کورٹ نے مودی کو ان پر عائد الزامات سے بری کر دیا ہو۔ جبکہ سچائی یہ ہے کہ عدالت نے مودی کو کلین چٹ نہیں دی بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کا باضابطہ آغاز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا ہے کہ مودی کے خلاف قانونی کارروائی نہیں چلنی چاہیے بلکہ اس نے بہت واضح اور دو ٹوک لفظوں میں کہا ہے کہ احمدآباد کے مقامی مجسٹریٹ اس کیس کی سماعت کرے اور سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ خصوصی تفتیشی ٹیم ایس آئی ٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے۔ لیکن ہمیشہ کی مانند اس بار بھی بی جے پی لوگوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہو گئی ہے اور عدالتی حکم کو مودی کی جیت قرار دے رہی ہے۔
امریکی کانگریس میں پیش کی جانے والی رپورٹ نے دو شوشے چھوڑے ہیں۔ ایک تو یہی کہ گجرات میں ترقی ہوئی ہے اور دوسرے یہ کہ 2014کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے مودی اور کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار ہو سکتے ہیں اور دونوں میں براہ راست مقابلہ ہو سکتا ہے۔ اس پر میڈیا نے بھی بحث چھیڑ دی ہے اور بی جے پی بھی کچھ اس انداز میں رد عمل ظاہر کر رہی ہے جیسے مرکز میں اگلی حکومت اسی کی بننے والی ہو۔ پوری پارٹی میں ایک جوش اور ابال آگیا ہے اور مودی بھی اپنے قد کو ریاست کی سیاست سے نکال کر قومی سطح پر دکھانے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس رپورٹ کے آنے کے بعد تین روز کی بھوک ہڑتال کا اعلان کر دیا اور مقصد یہ بتایا گیا کہ وہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے قیام کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ اسی کو کہتے ہیں نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔ ایک ایسا شخص جس کا دامن مسلمانوں کے خون سے رنگین ہے اور جو اپنے دامن، اپنی آستینوں اور اپنے ہاتھوں پر لگے خون کے دھبوں کو جس قدر بھی چھڑانے کی کوشش کرتا ہے اسی قدر وہ داغ دھبے اور روشن ہو جاتے ہیں، وہ شخص فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے بھوک ہڑتال کرے، یہ بات ایک بھونڈے مذاق کے علاوہ اور کچھ نہیں لگتی۔
جہاں تک مودی اور راہل گاندھی میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے مقابلہ آرائی کی بات ہے تو اس کا امکان دور دور تک نظر نہیں آتا۔ کیونکہ کانگریس میں راہل گاندھی کے وزیر اعظم کا امیدوار بننے پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے لیکن بی جے پی میں مودی کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہو سکتا۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ نریندر مودی اور گجرات کے بھیانک فسادات ایک دوسرے سے لازم وملزوم ہو گئے ہیں۔ وہ پوری زندگی اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ جس طرح ایل کے آڈوانی کے بائیو ڈاٹا سے بابری مسجد کے انہدام جیسے منحوس واقعہ کو نہیں نکالا جا سکتا اسی طرح مودی کے بائیو ڈاٹا سے فسادات کے باب کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب بھی گجرات کا ذکر ہوگا یا مودی کا نام آئے گا 2002کے گجرات فسادات کا بھی ذکر ہوگا۔ او رجب بھی یہ بات زیر گفتگو آئے گی مودی کا قد بالشتیے میں تبدیل ہو جائے گا۔ وہ اس وجہ سے بھی بی جے پی میں وزیر اعظم کے متفقہ امیدوار نہیں بن سکتے کیونکہ بی جے پی کا ایک بڑا حلقہ جانتا ہے کہ مودی کو ملک گیر سطح پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہیں ”ہندی ہردے سمراٹ“ تو بنایا جا سکتا ہے لیکن جنوب میں ان کو کسی بھی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ ادھر بی جے پی صدر نتن گڈکری یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بی جے پی پارلیمانی الیکشن میں کسی کو بھی وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر نہیں پیش کرے گی۔ دوسری بات یہ کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کی رگوں میں سیکولرزم کا خون گردش کر رہا ہے۔ وہ کسی ایسے سیاست داں کو وزیر اعظم نہیں مان سکتا جو سیکولرزم کا دشمن ہو اور جو گنگا جمنی تہذیب کا مخالف ہو۔ این ڈی اے کی جو حکومت بنی تھی وہ اس لیے بن گئی تھی کہ اس نے اٹل بہاری واجپئی جیسے نسبتاً روشن خیال و اعتدال پسند لیڈر کو وزیر اعظم بنایا تھا۔ اگر آڈوانی کو اس عہدے کے لیے پیش کیا گیا ہوتا تو وہ حکومت ہرگز نہیں بنتی۔ ایک بات اور ہے۔ وہ یہ کہ مودی قومی لیڈر نہیں ہیں۔ وہ ایک ریاست کے لیڈر ہیں پورے ملک کے نہیں۔ وہ گجرات میں تو جادو جگا سکتے ہیں پورے ملک میں نہیں۔ لیکن راہل گاندھی نے گذشتہ چند سالوں میں ملک گیر سطح پر جو دورے کیے ہیں اور عوامی مسائل کو جس طرح اٹھایا ہے اس کی روشنی میں وہ پورے ملک میں اپنی ایک خاص امیج اور ایک خاص شناخت قائم کر چکے ہیں۔ اس لیے کانگریس کے لوگوں کا یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ مودی ایک ریاست کے لیڈر ہیں اور راہل پورے ملک کے لیڈر ہیں۔ ویسے دونوں کی سیاسی زندگی میں بہت فرق ہے۔ دونوں کے نظریات الگ الگ ہیں۔ اگر راہل ایک سیکولر امیج کے مالک ہیں اور سیکولر سیاست کی نمائندگی کرتے ہیں تو مودی آر ایس ایس کی نظریاتی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں جہاں قومیت کی نہیں ہندوتو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جہاں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ ہندوستان، ہندو استھان ہے اور اس ملک میں وہی رہ سکتا ہے جو ہندو ہو۔ یا پھر ہندووں کا دست نگر اور ان کا زیر دست اور تابع بن کر جو رہے گا وہی اس ملک میں رہ سکتا ہے۔ جہاں ہندی ، ہندو ، ہندوستان کی تعلیم دی جاتی ہے۔ کیا ہندوستان کسی ایسے لیڈر کو وزیر اعظم کے طور پر قبول کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
بہر حال بات چل رہی تھی امریکی کانگریس میں پیش ہونے والی رپورٹ کی۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے بی جے پی پھول کر غبارہ ہو گئی ہے اور خوش فہمیوں کی فضاو¿ں میں پرواز کرنے لگی ہے۔ اس نے ”امریکی گیس“ کے اس غبارے کے سرے پر مودی کو بٹھا رکھا ہے۔ لیکن اس کو ابھی اس بات کا احساس نہیں ہے کہ کوئی بھی غبارہ اسی وقت تک پھولا رہ سکتا ہے جب تک کہ اس میں گیس بھری ہو جہاں وہ گیس خارج ہوئی غبارہ زمین پر آجاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ غبارے میں استحکام نہیں ہوتا۔ ایک باریک سی سوئی کسی نے چبھوئی اور شوں کرکے اس کی ساری ہوا نکل گئی۔ یہ امریکی گیس کا غبارہ ہے اس لیے اس کی زندگی اور غبارو ںکے مقابلے تھوڑی زیادہ ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکی سوئی بھی اسی طرح خطرناک ہوگی اور جب وہ غبارے میں چبھوئی جائے گی تو پھر اسے زمین پر آنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ ابھی تو بھاجپائیوں کے پیر زمین پر نہیں پڑ رہے ہیں۔ لیکن کب تک۔ جب تک زمین کی سپورٹ نہیں ملتی آدمی آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سیاست میں زمینی سپورٹ اور زمینی حقائق دونوں کا ادارک بہت ضروری ہوتا ہے۔ سر دست بی جے پی کے لیڈران ان دونوں سے محروم نظر آتے ہیں۔
بہر حال یہ حالات وقتی اور عارضی ہیں۔ بی جے پی کے لوگوں کو خوش فہمیوں میں کچھ دنوں تک جینے کا ایک موقع مل گیا ہے۔ لیکن جس طرح بی جے پی نے امریکی کانگریس کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو غلط رنگ میں پیش کیا ہے اسے بی جے پی کی ایک گمراہ کن چال کے علاوہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ وہ لوگوں کو بیوقوف بنانے میں مہارت رکھتی ہے او راس فن میں طاق ہے کہ کسی بھی معاملے کو اس کے حقیقی تناظر سے کاٹ کر من چاہے مفہوم میں پیش کیا جائے۔ اس نے اپنی اسی فنکاری کا مظاہرہ کیا ہے اور پورے ملک میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ سپریم کورٹ نے مودی کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے اور امریکہ نے بھی مودی کی قابلیت و صلاحیت کو تسلیم کرکے ان کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں۔ جبکہ سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔ نہ تو مودی الزامات سے بری ہوئے ہیں اورنہ ہی امریکہ نے انہیں ویزا نہ دینے کے اپنے فیصلے میں کوئی تبدیلی کی ہے۔ مودی کے خلاف احمدآباد میں مجسٹریٹ کے سامنے مقدمہ چل سکتا ہے اور مودی کو امریکہ کا سفر کرنے کے لیے ابھی مزید انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929

 

All categories