You are here: ایک خبر ایک نظر بد عنوانی مخالف مہم کے نام رہا سال 2011 Home

بد عنوانی مخالف مہم کے نام رہا سال 2011

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
سال 2011اپنے دامن سمیٹ کر وقت کی غیر پایاب گہرائیوں میں اتر گیا اور سال 2012کے لیے بے شمار چیلنجوں کا تحفہ چھوڑ گیا۔ یہ سال بے حداتھل پتھل سے بھرپور رہا اور اگر یہ کہیں تو غلط نہیں ہوگا کہ سال 2011بد عنوانی مخالف مہم کے نام رہا۔یوں تو 2010ہی میں کرپشن کے خلاف ہوائیں چلنے لگی تھیں لیکن گزرے ہوئے سال میں وہ نا قابل گرفت آندھیوں میں بدل گئیں۔ کئی بڑے بڑے مہارتھی دھراشائی ہو گئے اور کئی مہارتھیوں کی جڑیں ہلنے لگیں۔ کامن ویلتھ کھیلوں میں بدعنوانیوں کی گرم بازاری رہی ہو یا پھر ٹو جی معاملے میں سرکاری دولت کی لوٹ کھسوٹ ہو، کئی بڑی مچھلیاں جال میں پھنس گئیں اور کئی نامی گرامی ہستیوں کی شہرت اور نیک نامی مٹی میں مل گئی۔ بد عنوانی کے خلاف عوام میں جو غم وغصہ ہے اس کے تناظر میں اپوزیشن جماعتوں نے پرزور ہنگامے کیے اور ٹیلی مواصلات کے سابق وزیر کو سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔ ان کی گرفتاری بد عنوانوں کی جیل یاترا کا آغاز تھا اور پھر پورے ملک نے دیکھا کہ کس طرح ایک سلسلہ چل پڑا اور جیل کی کال کوٹھری یکے بعد دیگرے سیاسی و کاروباری ہستیوں کا مسکن بن گئی۔ دو فروری کومذکورہ سابق وزیردھر لیے گئے اور کامن ویلتھ کھیلوں کے منتظم اعلی اور دوسرے لوگوں پر تلوار لٹکا گئے۔ 25اپریل کو منتظم اعلی بھی وہیں پہنچ گئے جہاں سابق وزیر پہنچے تھے۔ یہ دونوں اکیلے نہیں گئے بلکہ ان کے جلو میں بہت سے دوسرے لوگ بھی گئے۔ جن میں بیشتر اب بھی جیل کی آب وہوا میں اپنی صحت بنا رہے ہیں۔ 21مئی کو تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلی کی ایک بیٹی کوجو کہ رکن پارلیمنٹ بھی تھیں وہیں پہنچا دیا گیا۔ وہ اس وقت ضمانت ہر رہا ہیں لیکن اول الذکر دونوں شخصیات اب بھی ضمانت کی نعمت سے محروم ہیں۔
4اپریل کو سماجی کارکن انا ہزارے نے بد عنوانی کے خلاف دہلی کی احتجاج گاہ جنتر منتر پر دھرنا دیا اور عوام نے اس کی بھرپور تائید او رحمایت کی۔ انا کی تحریک زور پکڑنے لگی اور ان کی مقبولیت کا گراف بھی اوپر چڑھنے لگا۔ متعدد عوامل کے بل بوتے پر انا ہزارے ہندوستانی عوام کے لیے بد عنوانی مخالفت کی ایک علامت بن گئے۔ ان پر بہت سے اعتراضات بھی ہوئے لیکن وہ سال کے آخر تک عوام کے ہیرو بنے رہے۔ جنتر منتر پر کی جانے والی ہڑتال کی کامیابی سے حوصلہ پا کر انا ہزارے نے اعلان کر دیا کہ اگر پندرہ اگست تک مضبوط لوک پال بل پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہوا تو وہ سولہ اگست سے ایک بار پھر بھوک ہڑتال پر چلے جائیں گے۔ اس کے لیے انہیں بہادر شاہ ظفر مارگ پر شہید بھگت سنگھ پارک دیا گیا لیکن اس سے قبل کہ وہ وہاں پہنچ کر اپنا انشن کرتے ایک بہت بڑا ڈرامہ ہوا اور پھر اس سے نکلتے ہوئے انا رام لیلا میدان پہنچ گئے۔ رام لیلا میدان ایک عوامی پکنک گاہ بن گیا اور لوگ جوق در جوق وہاں پہنچنے لگے۔ بارہ دنوں تک انا کا انشن چلا اور آزاد ہند کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر کے چلا گیا۔
انا ہزارے کی اس تحریک پر آگے چل کو راور روشنی ڈالی جائے گی۔ سر دست کچھ اور اہم ایشوز پر نگاہ ڈال لیتے ہیں۔ حالانکہ اس پورے سال کرپشن ہی کا چرچا رہا لیکن ایک ہنگامہ پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین کے بیانوں سے بھی پیدا ہوا۔ انہوں نے میڈیا کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی تو انہیں ہی میڈیا نے نشانہ بنا لیا۔ کس طرح میڈیا یکطرفہ رپورٹنگ کرتا ہے اور مختلف طبقات کے ساتھ تعصب سے کام لیتا ہے اس کا انھوں نے پوسٹ مارٹم کر دیا جس پر پاسبان میڈیا کی پیشانیاں شکن آلود ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ میڈیا بے لگام ہو گیا ہے اس کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔ میڈیا کے سلسلے میں ایسے سخت قوانین کی ضرورت ہے کہ اس کی غلط رپورٹنگ پر اس پر جرمانہ کیا جا سکے، اس کا لائسنس رد کیا جا سکے اور اس کو ملنے والے اشتہارات روکے جا سکیں۔ وہ یہیں پر نہیں رکے بلکہ انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ میڈیا میں بھی خوف قائم رہنا چاہیے اور خوف جبھی قائم ہوگا جب اس پر ڈنڈا چلے گا۔کیونکہ میڈیا فرقہ وارانہ اور مذہبی بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرتا ہے، وہ عوام کا ہمدرد نہیں ان کا مخالف ہے۔ اسی لیے وہ اصل ایشوز جیسے، غریبی، بے روزگاری اور امراض وغیرہ کو نہیں اٹھاتا بلکہ کرکٹ، فلم اور فیشن کی خبروں کو ہی اچھالتا رہتا ہے۔ انھوں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پریس کونسل آف انڈیا کے دائرے میں صرف پرنٹ میڈیا کو نہ رکھا جائے بلکہ الیکٹرانک میڈیا کو بھی لایا جائے۔ ان کی یہ باتیں الیکٹرانک میڈیا کے لوگوں کو بری طرح چبھیںاورایسا لگا کہ جیسے پی سی آئی کے چیئرمین نے میڈیا کی دکھتی رگ پر انگلی رکھ دی ہو۔ در اصل الیکٹرانک میڈیا کو یہ خوف ستانے لگا کہ اگر ان کے مطالبے پر حکومت نے سنجیدگی سے غور کیا اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی کونسل کے دائرے میں لانے کی کوشش کی گئی یا سخت قوانین وضع کیے گئے تو ان کی آزادی چھن جائے گی اور جس طرح وہ اب تک شتر بے مہار کی مانند دندناتے پھر رہے ہیں اس پر پابندی لگ جائے گی۔
میڈیا کے حوالے سے ہنگامہ یہیں نہیں رکا بلکہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے جانے والے مواد پر بھی کافی ہنگامہ ہوا اور حکومت نے انٹرنیٹ کو بھی ایک ضابطے کا پابند بنانے کی کوشش کی۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ جب بھی میڈیا کی بے راہ روی کو پا بہ زنجیر کرنے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو ملک کا ایک طبقہ آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرنے لگتا ہے کہ اگر میڈیا کے لیے کوئی ضابطہ مقرر کیا گیا تو پریس کی آزادی خطرے میں پڑ جائے گی اور جمہوریت کا چوتھا ستون منہدم ہو جائے گا۔ ابھی پریس کونسل کے چیئرمین کے بیانات و مطالبات سے پیدا شدہ تنازعہ کی دھول بیٹھی بھی نہیں تھی کہ ایک اور تنازعہ اٹھ کھڑا ہو ۔ ایک مرکزی وزیر نے سوشل میڈیا سائٹوں کو فحش، قابل اعتراض اور اہانت آمیز مواد سے پاک کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی تو اسے پریس کی آزادی کے لیے خطرہ بتایا جانے لگا۔
ہوا یوں کہ گذشتہ کچھ دنوں سے فیس بک، ٹویٹر، گوگل، ایم ایس این اور یاہو جیسی سائٹوں پر قابل اعتراض، اشتعال انگیز ، اہانت آمیز اور مذہبی منافرت پھیلانے والا مواد اپ لوڈ کرنے میں شدت آگئی ہے۔ چونکہ ان سائٹوں پر کسی بھی قسم کا مواد پوسٹ کرنے کی پوری آزادی ہے اس لیے ان کا استعمال کرنے میں تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے اور بعض اوقات شرافت وشائستگی کی ایسی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں کہ مہذب شخص ان سائٹوں سے منھ پھیر لے۔ حالانکہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے سے گستاخیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اسلام کے خلاف، پیغمبر اسلام کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف شر انگیزیوں کی پوری داستان موجود ہے۔ سیاست دانوں کے خلاف بھی قابل اعتراض مواد کی بھرمار رہی ہے۔ لیکن جب حکومت کے ایک وزیر نے فیس بک، ٹویٹر، گوگل، مائکرو سافٹ اور یاہو کے ذمہ داروں کو بلا کر کہا کہ اس قسم کی بےہودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور اس کو روکنا ہوگا تو طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ بہر حال یہ دونوں واقعات بھی کرپشن ہی کے ضمن میں آتے ہیں۔
کرپشن کا ایک اور نمونہ دہلی ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کے بعد دیکھنے کو ملا جب ایک بار پھر مسلمانوں پر انگلیاں اٹھائی جانے لگیں۔ دھماکوں کے کئی ماہ بعد ایک روز دہلی پولیس نے دعوی کیا کہ اس نے چھ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جو دہلی ہائی کورٹ، دہلی جامع مسجد، بنگلور کے چنا سوامی اسٹیڈیم اور پونے کی جرمن بیکری میں ہونے والے دھماکوں کے ذمہ دار ہیں اور اب یہ معاملات ان گرفتاریوں کے بعد حل کر لیے گئے ہیں۔ جبکہ انگریزی اخبارات انڈین ایکسپریس اور ہندو نے ایسی رپورٹیں شائع کیں جو ان گرفتاریوں پر سوالیہ نشان لگاتی ہیں۔ کئی ایسے لوگ پکڑ لیے گئے ہیں جن کا دہشت گردی سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ بعض حلقے اس رویے اور رجحان کو بھی بد عنوانی اور کرپشن سے تعبیر کرتے یں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ذہنی اور نظریاتی کرپشن کے خلاف بھی مہم چلانی چاہیے اور اس کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔
ہم لوٹتے ہیں پھر بد عنوانی مخالف اصل لڑائی کی جانب۔ ایک طرف انا ہزارے جن لوک پال کے لیے اپنی لڑائی کو وسعت دینے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں اور دوسری طرف حکومت لوک پال بل تیار کرنے اور اسے پارلیمنٹ سے منظور کرا لینے کی کوششوں میں مصروف رہی ہے۔ اس نے 22دسمبر کو یہ بل پارلیمنٹ میں پیش بھی کر دیا۔ جب اس بل پر بحث کے لیے پارلیمنٹ اجلاس کی مدت کار میں تین روز کا اضافہ کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ 27دسمبر سے اس پر بحث ہوگی تو انا ہزارے نے بھی اعلان کر دیا کہ وہ اس بقول ان کے کمزور بل کے خلاف ممبئی میں 27دسمبر سے تین روز کی بھوک ہڑتال کریں گے۔ حکومت نے اپنے فیصلے پر عمل کیا اور انا ہزارے نے اپنے فیصلے پر۔ حکومت کو جہاں نصف کامیابی ملی وہیں انا ہزارے بری طرح فیل ہو گئے۔ حکومت لوک سبھا میں تو بل منظور کرانے میں کامیاب رہی لیکن راجیہ سبھا میں ناکام رہی۔ اب اسے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیش کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن اس اجلاس میں بھی یہ منظور ہو جائے گا کہا نہیں جا سکتا کیونکہ اصل اپوزیشن جماعت نے جس رویے کا مظاہرہ کیا ہے اس سے حکومت کے ذمہ داروں کو نہیں لگتا کہ وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے باوجود کہ انا ہزارے اینڈ ٹیم اور کچھ سیاسی جماعتیں بھی لوک پال بل کو ایک کمزور بل بتا رہی ہیں، لوک سبھا سے اس کو منظور کیا جانا ایک تاریخی قدم ہے۔ 39سالوں سے لوک پال بل پارلیمنٹ میں، کوششوں کے باوجود پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔ اس لیے اس کا لوک سبھا سے منظور ہونا خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہوا ہو کسی تاریخی واقعے سے کم نہیں ہے۔
ادھر انا ہزارے ممبئی میں بری طرح فیل ہو گئے جس کی وجہ سے تین روز کا انشن دوسرے روز ہی ختم کر دیا گیا۔ کہاں دہلی کے رام لیلا میدان میں لاکھوں کا مجمع اور کہا ایم ایم آر ڈی اے میدان میں چار چھ ہزار کی منتشر بھیڑ۔ اگر انا ٹیم نے آزاد میدان ہی میں انشن کر لیا ہوتا جسے وہ لوگ چھوٹا بتا رہے تھے تب بھی ان کی عزت رہ جاتی۔ لیکن ایم ایم آر ڈی اے میدان نے سارا جوش ٹھنڈا کر دیا۔ گاڑیاں بھیج بھیج کر لوگوں کو بلانے پر بھی لوگ نہیں آئے۔ اس کی متعدد وجوہات رہی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دہلی کے انشن کی کمانڈ آر ایس ایس نے کی تھی۔ لوگوں کو لانا، ان کے کھانے پینے کا انتظام کرنا، ان کی تفریح طبع کا بند وبست کرنا اور میڈیا کو مسلسل انگیج کیے رکھنا۔ اکھل ودیارتھی پریشد نے بھی اہم رول ادا کیا تھا او رکالجوں اور یونیورسٹیوں سے طلبہ کو پکڑ پکڑ کر لایا گیا تھا۔ جبکہ ممبئی میں بی جے پی اور آر ایس ایس کا اثر اتنا نہیں ہے جتنا کہ دہلی میں ہے۔ وہاں بال ٹھاکرے بھی ہیں جو شروع سے ہی انا کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ممبئی کے لوگ انا کو جانتے ہیں جبکہ دہلی والوں کے لیے وہ ایک نئی چیز رہے ہیں۔ اور بھی دوسری وجوہات رہی ہیں ان کے انشن کے فیل ہونے کی۔ بہر حال ہم یہ کہہ سکتے ہیں سال 2011انا ہزارے کے عروج اور زوال دونوں کا سال رہا ہے۔ وہ جس تیزی سے مقبولیت کی بلندی پر چڑھے تھے اسی تیزی سے نیچے بھی گر گئے۔ لیکن بہر حال اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انھوں نے بد عنوانی کے خلاف ایک آگ لگا دی جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گئی۔ گویا سال 2011بد عنوانی کے خلاف مہم سے عبارت رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے آئندہ سال اپنے دامن میں کیا کیا چیلنج اور کیا کیا مسائل لے کر آتا ہے۔
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929

 

All categories