سہیل انجم
دہشت گردوں نے ایک بار پھر اپنا مکروہ چہرہ دکھایا ہے ۔ انہوں نے ایک بار پھر راجدھانی کو نشانہ بنایا ہے اور اپنی گھناونی کرتوتوں سے دہلی کو پھر دہلا دیا ہے۔ تین ماہ قبل ٹریلر دکھایا گیا اور اب پوری فلم چلا دی گئی۔ایک ایسی فلم جو خاک وخون سے عبارت ہے، جو دہشت و ہلاکت سے عبارت ہے، جو موت کے رقص سے عبارت ہے اور جس کے اصل کردار درندگی وبربریت کے نمائندہ اور وحشت و دہشت کے رضاکار ہیں۔ آخر یہ کون لوگ ہیں جو موت کا بازار گرم کیے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کون لوگ ہیں جن کو زندگی سے نہیں موت سے پیار ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو مسکراہٹوںکے نہیں چیخ وپکار کے دلدادہ ہیں۔ ایسے لوگوں کی شناخت بہت ضروری ہے اور ان کو ایسی سزا دینا بھی ضروری ہے کہ جس کو دیکھ کر ہر دہشت گرد کانپ اٹھے اور ہر قاتل سہم جائے۔ ہر بم باز توبہ کر لے اور ہر بم ساز وبم انداز اپنی گھناونی حرکتوں سے باز آجانے پر مجبور ہو جائے۔ کیونکہ جب تک اصل ذمہ داروں کی شناخت نہیں کی جائے اور انہیں قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی اس وقت تک یہ حرکتیں ہوتی رہیں گی اور ان کی گھناونی کرتوتوں کی سزا بے قصوروں کو بھگتنا پڑے گا۔ دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والا بھیانک بم دھماکہ اپنے جلو میں بہت سے سوالات اور بہت سے شکوک وشبہات لے کر آیا ہے۔ بہت سے لوگ اندیشوں میں بھی مبتلا ہو گئے ہیں۔ جس روز دہلی ہائی کورٹ کو نشانہ بنایا گیا اس روز عدالت میں مفاد عامہ کی عرضیوں پر سماعت ہوتی ہے اور اسی لیے اس روز عدالت میں زیادہ بھیڑ ہوتی ہے۔ دھماکہ کرنے والوں نے جہاں سوچ سمجھ کر اور پلاننگ کے ساتھ دن کا انتخاب کیا وہیں جائے دھماکہ کے لیے بھی اس جگہ کو چنا جہاں زیادہ لوگ ہوں یعنی ریسپشن پر، جہاں داخلہ پاس بنوانے والوں کی بھیڑ ہوتی ہے اور وقت بھی صبح کا منتخب کیا گیا۔ یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچایا جا سکے۔ وہ اس میں کامیاب رہے اور بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوگئے۔ دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والا یہ پہلا دھماکہ نہیں تھا۔ اس سے قبل ۵۲ مئی کو بھی وہاں دھماکہ ہوا تھا لیکن چونکہ اس میں کوئی ہلاک نہیں ہوا تھا اسی لیے شائد دہلی پولیس نے اس کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ اگر لیا ہوتا تو ہائی کورٹ میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا او راس طرح وہاں ایک اور دھماکہ اور طاقتور دھماکہ کر دیا گیا جس میں متعدد بے قصوروں کی جان چلی گئی۔ دھماکہ کس نے کیا ، کون سا دہشت گرد گروپ اس میں ملوث ہے؟ اس کے بارے میں ابھی تک حتمی طور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن بعض حلقوں کو قبل از وقت ہی ذمہ داروں کے بارے میں پتا چل جاتا ہے اور وہ جانچ سے قبل ہی ان لوگوں کو بے نقاب کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے تیز میڈیا والے دوڑتے ہیں۔ ابھی دھماکہ ہوئے چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ ہمیشہ کی مانند اس بار بھی قیاس آرائیوں کے گھوڑے دوڑائے جانے لگے اور میڈیا کے نمائندے لشکر طیبہ اور انڈین مجاہدین پر شکوک و شبہات کی تلوار لٹکانے لگے۔ فوری طور پر ای میل کا بھی سلسلہ شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ای میل پیغامات کی بھرمار ہو گئی۔ کئی تنظیموں نے میل کر کے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ پہلے حرکت الجہاد اسلامی کی جانب سے تیار شدہ ایک ای میل آیا جس میں اس نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے افضل گرو کی پھانسی سے جوڑ دیا۔ حالانکہ وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پارلیمنٹ میں اس بارے میں ابتدائی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دہشت گردانہ حملہ ہے لیکن اس کے پیچھے کون سا گروپ ہے اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس کے باوجود جان بوجھ کر ایک خاص سمت میں اشارے کیے جانے لگے۔ شائد اس کا مقصد تحقیقاتی ایجنسیوں کو اسی سمت میں موڑنا ہو۔ اس سے قبل جب ممبئی میں تین اہم مقامات پر دھماکے ہوئے تھے تو اس وقت بھی اسی ذہنیت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کے دھماکہ کے بارے میں اندرونی سلامتی کے سکریٹری یو کے بنسل نے کہا ہے کہ اس میں پی ای ٹی این کا استعمال ہوا ہے۔ پی ای ٹی این پلاسٹک سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کا اثر دوسرے دھماکہ خیز مادہ سے ذرا مختلف ہوتا ہے۔ لیکن انہوں نے بھی کسی دہشت گرد گروپ کا سر دست نام نہیں لیا۔
اس سے پہلے ہوتا یہ رہا ہے کہ جب بھی کوئی دھماکہ ہوا ہندوستان کی حکومت لشکر طیبہ اور وہاں سے سرگرم دوسری تنظیموں کا نام بڑی فیاضی کے ساتھ لے لیا کرتی تھی۔ لیکن سمجھوتہ ایکسپریس اور مالیگاو¿ں وغیرہ میں آر ایس ایس سے وابستہ دہشت گردوں کا جرم ثابت ہونے کے بعد حکومت ذرا محتاط ہو گئی ہے اور اب وہ آسانی سے ان تنظیموںکا نام لینے سے کتراتی ہے۔ لیکن میڈیا کے لوگوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے ہیں۔ وہ اپنی پرانی روش پر قائم ہیں اور وہی گھسی پٹی لکیر پیٹتے رہتے ہیں۔ دھماکہ کے چند گھنٹوں کے بعد نیوز چینلوں پر مباحثے شروع ہو گئے جن میں بحث کر کے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جانے لگی کہ اس میں کن لوگوں کا ہاتھ تھا۔ جبکہ مجرموں کا پتہ بحث مباحثے سے نہیں چھان بین سے لگایا جاتا ہے۔ لیکن کیا کیا جائے ؟ ہمارا میڈیا تو مکمل طور پر یک رخی انداز میں سوچتا اور رپورٹنگ کرتا ہے۔ جب دہلی پولیس نے بعض چشم دیدوں کے بیانات کی روشنی میں دو اسکیچ جاری کیے تو کچھ نیوز چینل چیخ چیخ کر اپنے روایتی انداز میں کہنے لگے کہ دیکھئے اور پہچان لیجئے، یہ وہی آتنک وادی ہیں جنہوں نے یہ گھناونی حرکت کی ہے اور ان کا چہرہ ایسا ہے اور ویسا ہے اور ان کے داڑھی بھی ہے۔ ایک نیوز چینل نے اس سے پہلے کے ۵۲ مئی کے دھماکے کے حوالے سے کہا کہ تین مہینے تیرہ دن کے بعد پھر دھماکہ کیا گیا ہے۔ گویا تین مہینے تیرہ دن کی آڑ میں313 کی گنتی ذہن نشین کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ اسی کے ساتھ بی جے پی سے وابستہ لیڈروں نے بھی اپنی ذہنیت کے مطابق پاکستان اور نائن الیون سے اسے جوڑنا شروع کر دیا۔ سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے آڈوانی نے لوک سبھا میں پی چدمبرم کے بیان کے بعد اپنے بیان میں جہاں بہت سی باتیں کہیں وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ کہیں اس کا تعلق نائن الیون سے تو نہیں ہے؟ ایل کے آڈوانی نے اسے نائن الیون کے تناظرمیں جوڑ کر پیش کر کے مسلمانوں کی طرف انگشت نمائی کی گھٹیا کوشش کی ہے۔ جبکہ ایک اور لیڈر وجے کمار ملہوترہ نے پاکستان کے ساتھ جاری جامع مذاکرات سے اسے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کی اور کہا کہ ہندوستان میں دھماکے پر دھماکے ہو رہے ہیں اور ہماری حکومت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ فی الفور روک دینا چاہیے۔ یو کے بنسل نے دھماکہ کرنے کے لیے پی ایٹی این کے استعمال کی بات کہی ہے۔ دفاعی امور کے ایک ماہر بھرت ورما نے ایک نیوز چینل پر پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے بتایا کہ پی ای ٹی این ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے اسے غیر ممالک سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جب بھی اس قسم کے دھماکے ہوتے ہیں، جانچ کمیٹیاں بھی تشکیل دی جاتی ہیں جو مجرموں کا پتہ لگانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ممبئی دھماکوں کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے دوران ممبئی کے ایک شخص فیض عثمانی کی موت ہو گئی تھی۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا تحقیقات کا رخ صحیح سمت میں ہوتا ہے۔ ممبئی دھماکوں کے بعد وہاں کا دورہ کرتے ہوئے چدمبرم نے کہا تھا کہ کسی ایک خاص تنظیم یا گروپ کے بارے میں چھان بین نہیں کی جائے گی بلکہ وسیع انداز میں چھان بین کی جائے گی۔ لیکن ان کے اس بیان کو جیسے جانچ ایجنسیوں نے سنا ہی نہیں تھا ۔
اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والے دھماکہ کی جانچ بھی اسی ایک خاص رخ پر چلے گی اور اس کادائرہ وسیع نہیں کیا جائے گا۔ جبکہ ملک میں آر ایس ایس سے وابستہ دہشت گردی کا انکشاف ہو چکا ہے اور کئی واقعات میں ان لوگوں کا ہاتھ بھی ثابت ہو چکا ہے۔ ابھی چند روز قبل ایک دہشت گردانہ معاملے میں کئی ہندو دہشت گردوں کو سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ سوامی اسیما نند کا اعتراف اور سمجھوتہ ایکسریس میں ان لوگوں کے ملوث ہونے کی بات صاف ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود جانچ کے دائرے میں ان لوگوں کو نہیں لایا جاتا۔ دہلی ہائی کورٹ میں ہونے والے بم دھماکے سے متعلق کئی ای میل پیغامات کا پہنچنا بھی متعدد سوالات کھڑے کر رہا ہے اور یہ اندیشہ سر اٹھا رہا ہے کہ کہیں جانچ کو متاثر کرنے کے لیے تو یہ میل نہیں بھیجے جا رہے ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ جن مسلم تنظیموں کے نام سے میل آئے ہیں وہ فرضی ہوں اور ان کو بھیجنے والے عناصر کوئی اور ہوں۔ آر ایس ایس سے وابستہ دہشت گردی بہت خطرناک ہے۔ جب بھی کسی معاملے میں آر ایس ایس یا بی جے پی کو کسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ایسی حرکتیس فوراً کروا دی جاتی ہیں۔ بی جے پی کے دو لیڈروں کا نوٹ کے بدلے ووٹ معاملے میں گرفتار کیا جانا اور کرناٹک اور دوسری ریاستوں میں بی جے پی لیڈروں کے کرپشن کی خبریں بہت سے شہبات پیدا کر رہی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سنگھی دہشت گردی کے علم برداروں نے حرکت الجہاد اسلامی، انڈین مجاہدین اور انڈین کلر کے نام سے ای میل پیغامات بھیجے ہوں تاکہ اس کیس کی جانچ میں سنگھی دہشت گردی کو شامل نہ کیا جائے۔ بہر حال کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ انفارمیشن تکنالوجی کے انقلاب کے اس دور میں کوئی بھی بات بعید نہیں ہے۔ بڑے سے بڑا مجرم پارسا اور بے قصور ثابت ہو سکتا ہے اور بے قصوروں کو مجرم اور دہشت گرد ثابت کیا جا سکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جس نے بھی یہ کارروائی کی ہے وہ انسانیت کا دشمن ہے اور وہ شیطان کا بھائی ہے۔ ایسے لوگوں کو تلاش کر کے سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ آج کے مہذب معاشرے میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی یقینی بناے کی ضرورت ہے کہ کسی بے قصور کو اس کے نا کردہ گناہوں کی سزا نہیں ملنی چاہیے اور جانچ کے نام پر اور جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچنے کے لالچ میں بے قصوروں کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جانا چاہیے۔ کیونکہ کوئی مجرم شبہے کی بنیاد پر چھوٹ جائے تو کوئی بات نہیں لیکن کسی بے قصور کو دوسروں کے جرائم کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ یہی انسانیت بھی کہتی ہے اور یہی قانون بھی کہتا ہے۔
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
--09818195929

دہلی پھردہل اٹھی : اس دھماکے کے پیچھے کون؟ 


