You are here: ایک خبر ایک نظر اسمبلی انتخابات کی سیاسی بساط اور رائے دہندگان کی کشمکش Home

اسمبلی انتخابات کی سیاسی بساط اور رائے دہندگان کی کشمکش

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
اس وقت پانچ ریاستوں اتر پردیش، پنجاب، اترا کھنڈ، منی پور اور گوا میں اسمبلی انتخابات کی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔ شطرنجی چالیں چلی جا رہی ہیں اور ان چالوں میں رائے دہندگان کو پھانسنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اتر پردیش میں بی ایس پی کی حکومت ہے اور مایاوتی وزیر اعلی ہیں۔ پنجاب میں بی جے پی اور اکالی دل اتحاد یعنی این ڈی اے کی حکومت ہے اور پرکاش سنگھ بادل وزیر اعلی ہیں۔ اترا کھنڈ میں بی جے پی برسر اقتدار ہے اور بی سی کھنڈوری وزیر اعلی ہیں۔ منی پور میں کانگریس کی حکومت ہے اور او۔ ابوبی وزیر اعلی ہیں جبکہ گوا میں بھی کانگریس برسر اقتدار ہے اور دگمبر کامت وزیر اعلی ہیں۔ یوں تو ان تمام ریاستوں کے انتخابات کی اہمیت ہے اور برسر اقتدار اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کر ہی ہیں لیکن سب سے زیادہ اہمیت اتر پردیش کے انتخابات کی ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ سب سے بڑی ریاست ہے دوسرے یہاں کے انتخابی نتائج کا اثر مرکز کی سیاست پر بھی پڑتا ہے اور تیسرے یہ کہ اس بار کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے ریاست میں کانگریس کی انتخابی مہم کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔ جہاں اس الیکشن میں مایاوتی کا وقار داو¿ پر لگا ہوا ہے وہیں راہل گاندھی کے وقار او ران کی صلاحیتوں کا بھی امتحان ہے۔
کسی بھی ریاست میں کوئی بھی انتخابی ایشو نہیں ہے۔ الگ الگ امور پر الیکشن لڑنے اور جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ البتہ یو پی او رپنجاب میں حکومت مخالف رجحانات کارفرما ہیں۔ البتہ گوا میں بد عنوانی کو ایک انتخابی ایشو کی مانند دیکھا جا رہا ہے جبکہ اترا کھنڈ میں برسر اقتدار جماعت کے سابق وزیر اعلی کرپشن کے الزامات جھیل رہے ہیں۔ پنجاب میں حکمراں طبقہ کو اندرونی خلفشار کا سامنا ہے تو منی پور میں سب سے زیادہ شورش پسند جماعتوں کا خطرہ لاحق ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جہاں شورش پسند جماعتوں کی بھرمار ہے لیکن اب نیم مسلح دستوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں ان کی کمر کسی حد تک ٹوٹ گئی ہے۔ بہت سے شورش پسندوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور انکاونٹروں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے۔ البتہ نیم مسلح دستوں کو حاصل خصوصی اختیار ”آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ“ کے خلاف عوام میں زبردست بے چینی ہے اور وہ اس کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ان تمام ریاستوں میں برسر اقتدار جماعتیں حکومت میں بنے رہنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں تو اپوزیشن جماعتیں خود عنان حکومت اپنے ہاتھوں میں لینے کے لیے جد وجہد کر رہی ہیں۔ لیکن ان تمام ریاستو ںمیں چونکہ نہ تو کوئی انتخابی ایشو ہے اور نہ ہی کوئی واضح صورت حال ہے اس لیے عوام بھی شش وپنج میں ہیں اور ابھی تک وہ یہ فیصلہ نہیں کر پائے ہیں کہ انہیں کس کو ووٹ دینا ہے اور کس کی حکومت بنوانی ہے۔ نئی سیاسی صف بندیاں بھی قائم ہو رہی ہیں اور تقریباً تمام پارٹیوں میں اندرونی اتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔
چونکہ اتر پردیش سب سے بڑی ریاست ہے اور اس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں اس لیے وہاں کے سیاسی اور انتخابی حالات کا جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ اس ریاست میں مسلمانوں کی آبادی خاصی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ان کے ووٹوں پر للچائی نظریں گاڑے ہوئے ہیں اور مسلمان ہیں کہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔جہاں ان کی اہمیت اپنی جگہ پر مسلم ہے وہیں یہ حقیقت بھی سولہ آنے سچ ہے کہ ان ووٹوں کا جھکاو¿ اجتماعی طور پر جس پارٹی کی جانب ہوگا فتح اسی کی ہوگی۔ کوئی انتخابی ایشو نہ ہونے کی وجہ سے تمام جماعتوں کے لیے حالات سخت ہیں اور اندھیرے میں تیر چلانے اور ہدف پر نشانہ لگانے کا معاملہ ہے۔ عوام بھی بہت سمجھدار ہو گئے ہیں۔ اب وہ جلدی کھلتے نہیں ہیں۔ سب کو خوش کرنے کا فن انہیں آگیا ہے۔ کچھ لوگ پہلے ہی فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں اور کچھ بعد میں کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں وہ بھی دل کی بات دل ہی میں رکھتے ہیں ظاہر نہیں کرتے۔ لڑائی چو مکھی ہے۔ برسر اقتدار بی ایس پی، اصل اپوزیشن جماعت سماجوادی پارٹی،بیس بائیس سالوں سے اقتدار میں آنے کی جد وجہد کرنے والی کانگریس پارٹی اور اندرونی خلفشار کی شکار بی جے پی کے مابین رسہ کشی جاری ہے۔ کانگریس نے جہاں ریاست کی ترقی کو انتخابی ایشو بنانے کی کوشش کی ہے وہیں بی ایس پی ایک بار پھر سوشل انجینئرنگ کے فارمولے کو اپنا کر کامیابی حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کانگریس اور بی ایس پی دونوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور بی جے پی ایشوز کی تلاش میں دائیں بائیں ہاتھ پیر مار رہی ہے۔ اسے کسی بھی سیاسی پارٹی کا کوئی ایسا بیان مل جاتا ہے جس سے کچھ ہنگامہ ہونے کے امکانات نظر آتے ہوں وہ اسی کو لے کر دوڑ جاتی ہے اور پھر ناکامی ہاتھ لگتے ہی واپس اپنی اوقات پر آجاتی ہے۔
گذشتہ الیکشن میں بی ایس پی کا نعرہ تھا ”برہمن شنکھ بجائے گا، ہاتھی آگے جائے گا“۔ برہمن نے شنکھ بجایا، ہاتھی آگے بڑھ گیا۔ لیکن اس بار انہی برہمنو ںکا کہنا ہے کہ ہاتھی اتنے آگے بڑھ گیا ہے کہ ان کی دسترس سے دور ہو گیا ہے۔ اس لیے وہ اس بار شنکھ بجانے کو تیار نہیں ہیں۔ وزیر اعلی مایاوتی کواس بات کا احساس ہے۔ اس لیے وہ کسی نئی ترکیب کو آزمانے پر غور کر رہی ہیں لیکن کوئی ترکیب سوجھ نہیں رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کے انتخابی نشان ہاتھی اور خود ان کے بھی مجسموں پر پردہ ڈالنے کا حکم دیا گیا تو بی ایس پی کو لگا کہ یہ انتخابی ایشو بن سکتا ہے اور بے پردہ ہاتھی کے مقابلے میں باپردہ ہاتھی سیاسی طور پر زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے لیکن اس کی یہ کوششوںبھی ناکام ہو گئی۔ ادھر کانگریس اور اجیت سنگھ کے نیشنل لوک دل میں اتحاد سے ان دونوں پارٹیوں کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن کتنا پہنچے گا اس کے بارے میں خود کانگریس کے پالیسی ساز بھی نہیں جانتے۔ وہ بھی قیاس آرائیو ںہی کا سہارا لے رہے ہیں۔ بی جے پی تو کشواہا ایپی سوڈ کے سائڈ ایفکٹ سے ہی باہر نہیں نکل پا رہی ہے۔ اس سلسلے میں باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ ونے کٹیار وغیرہ نے کشواہا کو بی جے پی میںشامل کرانے کا کھیل کھیلا تھا اور اس کھیل میں نوٹوں کی گڈیوں کا بڑا عمل دخل تھا۔حالانکہ پارٹی لیڈروں نے اس بارے میں درمیان کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی اور کشواہا سے ہی ایک اعلان کروادیا گیا لیکن اوما بھارتی اور گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ آدتیہ ناتھ کے رخ نے بی جے پی اعلی کمان کو فکر مند بنا دیا ہے۔ بی جے پی میں اب الگ الگ بولیاں بھی خوب بولی جاتی ہیں ۔ اس کی تازہ مثال جسونت سنگھ کا وہ بیان ہے جو انہوںنے ایل کے آڈوانی کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کے سلسلے میں دیا ہے۔ ان تمام معاملات نے بی جے پی لیڈروں کو بھی یہ احساس کرا دیا ہے کہ الیکشن میں ان کی پوزیشن اچھی نہیں رہے گی ممکن ہے کہ واقعی وہ چوتھے نمبر ہی پر چلے جائیں جیسا کہ بیشتر تجزیہ کارو ںکا خیال ہے۔ بہر حال اوپری سطور میں مسلم ووٹوں کی اہمیت کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔ یو پی میں کم وبیش اٹھارہ فیصد مسلمان ہیں اور پچاس اسمبلی نشستیں ایسی ہیں جن پر وہ فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مسلم جماعتوں اور مسلم امیدواروں کی کثرت کی وجہ سے مسلم ووٹ منتشر ہو جاتے ہیں اور اس کا براہ راست فائدہ دوسری طاقتیں اٹھاتی ہیں۔ کچھ ایسے ہی خدشات کا اظہار اس بار بھی کیا جا رہاہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ چھوٹی چھوٹی مسلم جماعتوں کی موجودگی ہے۔ بی ایس پی کی دلت سیاست کی کامیابی نے بہت سے طالع آزما مسلمانوں کو بزعم خود ”قائد ملت“ بنا دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جس طرح مایاوتی نے دلتوں کی سیاست کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا اسی طرح وہ بھی مسلم سیاست اور مسلم پسماندہ برادریوں کی سیاست کر کے اقتدار کے مالک بن جائیں گے۔ لیکن شائد وہ اس سے واقف نہیں ہو سکے کہ انہوں نے اپنی سیاسی امنگوں کی خاطر دوسروں کے لیے راستہ ہموار کر دیا ہے۔ وہ جس کھیت میں دانہ ڈال کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کی فصل وہی کاٹیں گے لیکن وہ فصل در اصل دوسروں کے کھلیانوں میں پہنچنے والی ہے۔ اور ان چھٹ بھیا سیاست دانوں کی اس مسلم سیاست سے مسلمانوں کا تو کوئی بھلا نہیں ہوگا ہاں دوسرے ضرور سیاسی فائدہ اٹھا لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگو ںکو ان جماعتوں پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کے بارے میں ایک حلقہ اس رائے کا حامل ہے کہ ان کی ڈور کچھ درپردہ طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے اور وہی نادیدہ طاقتیں ان سے یہ سب کچھ کروا رہی ہیں۔ اس کے عوض انہوں نے ان کے ذاتی مفادات کے تحفظ کا وعدہ کر رکھا ہے۔ اس قسم کی کم از کم ایک درجن چھوٹی سیاسی جماعتوں نے جن میں مسلم جماعتو ںکی اکثریت ہے ”اتحاد فرنٹ“ کے نام سے ایک محاذ بنایا ہے۔ اس محاذ کے سربراہ ندوة العلما کے ایک استاد ہیں۔ جبکہ اس محاذمیں جو پارٹیاں شامل ہیں ان میں پیس پارٹی، بھارتیہ سماج پارٹی، اپنا دل، قومی ایکتا دل، اتحاد ملت کونسل، بندیل کھنڈ کانگریس، انڈین نیشنل لیگ، بھارتیہ جن سیوا پارٹی، نیشنل لوک تانترک پارٹی اور راشٹریہ پریورتن مورچہ جیسی جماعتیں شامل ہیں۔ البتہ چند روز قبل اتحاد فرنٹ کے ترجمان کے حوالے سے یہ خبر آئی ہے کہ پیس پارٹی کو محاذ سے نکال دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ پارٹی کے صدپر پیسے لے کر ٹکٹ دینا اور محاذ کے خلاف کام کرنا، بتا ئی گئی ہے۔ خیال کیجئے کہ ابھی اس محاذ کو بنے جمعہ جمعہ آٹھ روز بھی نہیں ہوئے، اور ابھی سے اس میں پھوٹ پڑنی شروع ہو گئی تو بھلا بتائیے کہ اس محاذکا کیا مصرف ہے۔ اس میں شامل جماعتیں بجز اس کے اور کوئی کام نہیں کر سکتیں کہ مسلم ووٹوں کو منتشر کریں اور دوسری مخالف طاقتوں کو تقویت بہم پہنچائیں۔ اس تفصیل کی روشنی میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان چھٹ بھیا جماعتوں سے کس کو فائدہ ہوگا کس کو نقصان۔ پیس پارٹی کے سربراہ پر پہلے بھی مال غنیمت کے عوض مسلم دشمن طاقتوں کا آلہ کار بننے کا الزام لگتا رہا ہے۔ ایسے میں وہ اتحاد فرنٹ میں کیسے رہ سکتے تھے جس کا مقصد بظاہر ایک دوسری سیاسی جماعت کو فائدہ پہنچانا ہو۔ مفادات کا ٹکراو¿ جہاں ہوگا وہاں ایسے ہی حالات پیدا ہوں گے۔ اس صورت حال میں مسلم رائے دہندگان پر بڑی ذمہ داریاں آجاتی ہیں۔ ان کو بہت سوچ سمجھ کر اور سیاسی دور اندیشی سے کام لینا ہوگا۔ ایسے مواقع پر جب کسی پارٹی کے حق میں کوئی لہر نہ ہو کوئی واضح انتخابی ایشو نہ ہو اور ان کی رہنمائی کی جگہ پر انہیں گمراہ کرنے کے لیے اپنے ہی لوگ دوسروں سے ساز باز کر لیں تو ان پر اور بھی ذمہ داری آجاتی ہے۔ ان حالات میں بہتر یہ ہوتا ہے کہ پارٹی کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی بجائے امیدوار کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے اور جس حلقے میں جو امیدوار ہر لحاظ سے بہتر نظر آئے اس کو ووٹ دیا جائے۔ شائد ان حالات میں، جو کہ اس وقت اتر پردیش میں ہیں، یہی سب سے بہتر اور محفوظ راستہ ہے۔ 2009کے پارلیمانی الیکشن میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں کانگریس کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس بار کیا ہوگا ابھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کانگریس نے پرینکا گاندھی کو بھی میدان میں اتار دیا ہے جس کا فائدہ بلا شبہ اسے ہوگا لیکن کتنا ہوگا اس پر بھی کوئی قیاس آرائی نہیں کی جا سکتی۔ یو پی میں سب سے خراب حالت بی جے پی کی ہے۔ وہ اندرونی خلفشار میں تو مبتلا ہے ہی اسے کوئی انتخابی ایشو بھی نہیں سوجھ پا رہا ہے۔ سینئر لیڈر یشونت سنہا نے یہ کہہ کر کہ بی جے پی اب بھی 70فیصد اصلی پارٹی ہے عوام میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اسے ہی ووٹ دیا جائے۔ لیکن ایسے بیانات ووٹ کیچ نہیں کر سکتے۔ ووٹ حاصل کرنے کے لیے کرشماتی لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے جو اب بی جے پی کے پاس نہیں رہ گئے ہیں۔ بہر حال ان تمام پانچوں ریاستوں کے انتخابی نتائج دلچسپ ہوں گے اور ان کی روشنی میں مرکزکی آئندہ کی سیاست کے بارے میں ایک دھندلا سا خاکہ تیار کیا جا سکے گا۔
( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929)

 

All categories