You are here: ایک خبر ایک نظر ہند -افغان سمجھوتہ: پاکستان کی سٹپٹاہٹ Home

ہند -افغان سمجھوتہ: پاکستان کی سٹپٹاہٹ

برقیہ چھاپیے

کرشن بھاٹیہ لندن
افغانستان کے صدر حامد کر زئی بھلے ہی پاکستان کو افغانستان کا جڑواں بھائی مانتے ہوں لیکن شاید وہ یہ بھول گئے کہ جڑواں بچوں میں ایک کی عادت قدرتی طور پر مثبت جیسی ہوتی اور دوسرے کی منفی۔ مشکل سے جڑواں بچوں میں صدق دلی اور پیار کا وہ جذبہ ہوتا ہے جسے کہ امید رکھتے ہوئے حامد کرزئی نے پاکستان کے تئیں اپنی صدق دلی کے خیالات ظاہر کر کے اسے افغانستان کاجڑواں بھائی کہا۔ ان کے یہ خیالات مثبت رجحان کی علامت تھے۔ لیکن دوسرے جڑواں بھائی نے اپنی منفی فطرت کو ظاہر کرنے میں دیر نہیں لگائی۔
وقت چالاکیاں دکھانے کا نہیں
15اکتوبر کو دہلی میں ہندوستان کے ساتھ ڈپلومیٹک سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد کرزئی نے کہا کہ اس سمجھوتے کا پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ پاکستان تو افغانستان کا جڑواں بھائی ہے اور ہندوستان ایک عظیم دوست کرزئی صاحب کے الفاظ کی گونج شاید ابھی اسلام آباد پہنچی ہی تھی کہ پاکستان نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان بہت زیادہ اچھل کود بند کر دے یہ وقت چالاکیاں دکھانے کا نہیں۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بڑی احتیاط برتتے ہوئے اتناہی کہا ہے کہ ہندوستان اور افغانستان دونوں آزاد ممالک ہیں جو چاہیں کریں لیکن ڈپلومیٹک پردے میںلپٹے ان الفاظ کے پیچھے کیا چھپا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس وقت کئی طرف سے بحران میں گھرے ہوئے پاکستان کیلئے ہندوستان اور افغانستان کے اس سمجھوتے نے بھاری تشویش پیدا کر دی ہیں کیونکہ وہ یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ وہ اب مغرب اور شمال دونوں طرف سے گھر گیا ہے اور تمام خطہ میں الگ تھلگ سا ہو کررہ گیا ہے۔ کہنے کو بھلے ہی کچھ کہا جائے لیکن ہندوستان افغانستان دونوں کے تئیں اس کی بددلی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ ہندوستان اور افغانستان کے ساتھ اس کے تعلقات میں بڑی تلخی آئی ہے۔ کچھ دن پہلے افغانستان کے سینئر لیڈر بدرالدین ربانی کے قتل کے لئے افغانستان نے کھلے طور پر پاکستان کو قصور وار ٹھہرایا ہے اوپر سے امریکہ کو اب پاکستان پر کوئی بھروسہ نہیں رہا۔پاکستان اس وقت چھٹ پٹا رہا ہے صرف یہی امید لئے بیٹھا ہے کہ چین اس کی مدد کرے گا۔
ہندوستان کی ’ گہری چال‘
پاکستان کے سرکردہ انگریزی روز نامہ ’ نیشن ‘ نے لکھا ہے کہ یہ سمجھوتہ پاکستان کے گرد گھیرا ڈالنے کی ایک بہت گہری چال ہے جو ہندوستان نے چین کے خلاف کھیلی ہے اس کے ذریعہ امریکہ اس خطہ میں ہندوستان کو چین کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ پر یہ بات واضح کر دے کہ ہندوستان کی حوصلہ افزائی کر کے وہ ایک ایسی طاقت کو بڑھاوا دے رہا ہے جو پاکستان کے وجود کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنی نابرابری والا رشتہ ختم کر دینا چاہئے کیونکہ امریکہ نہ صرف ہندوستان کی مدد کر رہا ہے بلکہ افغانستان کو بھی پاکستان کے خلاف غیر دوستانہ پالیسیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہا ہے۔
’بھائی ‘ کہہ دینے سے دکھ دور نہیں ہوگا
ایک انگریزی روز نامہ ’ ایکسریس ٹربیون‘ نے یہ کہا کہ کرزئی نے ہندوستان کے ساتھ سمجھوتے پر دستخط کر کے جو دکھ دیا ہے وہ پاکستان کو ’ بھائی‘ کہہ دینے سے دور نہیں ہو جائے گا۔ ایک ’ دشمن‘ ملک کابل پر قابض ہو جائے یہ بات ہضم نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان دونوں طرف سے ایسے ممالک کے درمیان گھر گیا ہے جو اس کے ساتھی نہیں اس اخبار کے ساتھی اردو روز نامہ ’ ایکسپریس‘ نے کہا کہ اس سمجھوتے کے نا م پر جو کھیل کھیلا جانے والا ہے پاکستان کے حکمرانوں کو اس سے غافل نہیں رہنا چاہئے ۔ آج کل واشنگٹن میں بیٹھے پاکستان کے سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے تبصرہ کیا ہے کہ ہندوستان افغانستان کو پاکستان کے خلاف کر کے تمام علاقہ پر اپنا غلبہ جمانا چاہتا ہے۔ اردو روزنامہ ’نوائے وقت ‘نے اس بارے میں لکھا ہے کہ افغانستان میں ہندوستان کے لئے ’ محبت ‘ نامی کوئی شے دستیاب نہیں لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ جناب حامد کرزئی امریکہ کے بعد ہندوستان کا اقتصادی جنازہ نکالنے کے منصوبہ پر آ بیٹھے ہیں۔ افغانستان سے امریکہ کے نکلنے کے بعد خالی ہونے والی جگہ کو ہندوستان سے پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ ایک دوسرے سرکردہ انگریزی روز نامہ ’ ڈان‘ نے کہا ہے کہ اس سمجھوتے سے اس خطہ میں عدم اعتمادی بڑھے گی اس لئے پاکستان کو چاہئے کہ وہ افغانستان کے ساتھ بڑھ رہے عدم اعتماد کو کم کرے۔
’ ہندوستان کے لیڈر پچھتائیں گے‘
برطانیہ کے مشہور روز نامہ ’ گارڈین‘ نے وراننگ دی ہے کہ اس سمجھوتے کے ذریعہ افغانستان کی دفاعی فورسز کو ٹریننگ دینے کی ہندوستان نے جو ذمہ داری قبول کی ہے اسے پاکستان اور طالبان پسند نہیں کریں گے اور ہندوستان کو اس کے لئے بعد میں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ جس مصیبت سے امریکہ اور برطانیہ اپنا پیچھا چھڑا رہے ہیں اسے گلے لگانے کے لئے ہندوستان کے لیڈر ایک دن پچھتائیں گے۔
( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے )

 

All categories