سہیل انجم
اس وقت یوں تو کئی عالمی ایشوز سیاست کے بین الاقوامی مطلع پر چھائے ہوئے ہیں لیکن تازہ ترین ہنگامہ میمو گیٹ اسکینڈل ہے جس نے جہاں ایک طرف پاکستانی سیاست کے در وبام کو لرزہ براندام کر دیا وہیں بین الاقوامی سطح پر پاکستانی حکومت اور اس سے بھی زیادہ وہاں کے صدر آصف علی زردار کو شرمسار کر دیا۔لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ اس تنازعہ کے بطن سے جوصورت پیدا ہوئی ہے وہ کم از کم پاکستان میں خواتین کے طبقہ کے لیے بہت حوصلہ بخش ، خوش کن اور خوش آئند ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مملکت خداداد میں خواتین کو پھر سے سربلندی عطا ہو رہی ہے۔ کلیدی عہدوں پر ان کی تقرری بڑھ رہی ہے۔ اس تنازعہ کے مرکز میں رہے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی کو برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پر سابق وزیر اطلاعات شیری رحمان کو سفیر مقرر کیا گیا ہے۔ اس طرح ایک طرف جہاں حنا ربانی کھر وزیر خارجہ کی حیثیت سے عالمی فورموں پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں وہیں اب امریکہ میں شیری رحمان پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔
حسین حقانی کو اس خفیہ خط یا مراسلہ کی پاداش میں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا ہے جس میں مبینہ طور پر پاکستان کے صدر آصف زرداری نے آپریشن ایبٹ آباد کے بعد امریکہ سے مدد کی اپیل کی تھی کیونکہ زرداری کو اندیشہ تھا کہ اس واقعہ کے بعد ان کی حکومت کا تختہ پلٹ ہو سکتا ہے۔ ایک پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے دعویٰ کیا تھاکہ ا±نھوں نے حسین حقانی کی ہدایت پر صدر آصف علی زرداری سے منسوب ایک خط مئی میں ا±س وقت کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن کو پہنچایا تھا جس میں پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی برطرفی کے سلسلے میں امریکی مدد طلب کی گئی تھی۔ منصور اعجاز کا کہنا ہے کہ ا±نھوں نے متنازع خط ایبٹ آباد میں 2 مئی کو ا±سامہ بن لادن کے خلاف خفیہ امریکی آپریشن کے ایک ہفتے بعد امریکی حکام تک پہنچایا تھااور اس خط میں صدر زرداری کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ امریکی آپریشن پر پاکستانی فوجی قیادت نالاں ہے اور وہ منتخب حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قابض ہونے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ حالانکہ پاکستانی سفیر نے متنازع خط کی تیاری اور اس کی ترسیل سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا تھا، لیکن منصور اعجاز کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنے دعویٰ کی سچائی ثابت کرنے کے لیے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جنھیں وہ گزشتہ ماہ لندن میں ہونے والی ایک خفیہ ملاقات میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کو بھی پیش کر چکے ہیں۔
لیکن بہر حال حسین حقانی کی بات پر یقین نہیں کیا گیا کہ انہیں اس میمو کا علم نہیں تھا اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے انہیں برطرف کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ اور پاکستان میں ملا جلا رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک طرف جہاں امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے حسین حقانی کے روپ میں ایک اچھا دوست کھو دیا ہے وہیں پاکستانی فوج ان کی برطرفی کو اپنی جیت تصور کر رہی ہے۔ امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کی شریک چیئر پر سن شیلا جیکسن لی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اوروہاں سرکاری عہدیدارایک مبینہ فوجی بغاوت کو روکنے کے لیے کیا راستہ اختیار کرتے ہیں اس بارے میں وہ کوئی رائے نہیں دے سکتیں۔ تاہم انہوں نے اس امرپرتشویش ظاہر کی ہے کہ پاکستان میں ایک اور فوجی بغاوت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ فوجی بغاوتیں خود پاکستان کے لیے نقصان دہ ہیں اورپاکستانی عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ انہیں امریکہ کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہے بھی تو اس کے رد عمل میں بھی انہیں فوج کو اپنی حکومت پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ جیکسن لی نے سابق سفیر حسین حقّانی کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں پاکستان کی نمائندگی اچھی طرح کی ہے۔ ایک اوررکن ڈینا روہراباکر نے، جو کانگریس میں امورِ خارجہ کمیٹی کے رکن بھی ہیں، کہا ہے کہ اگر پاکستانی سفیر پر لگائے گئے الزامات درست ہیں تب بھی انہوں نے یہ قدم جمہوریت کی بقا کے لیے اٹھایا تھا۔ کسی بھی جمہوری حکومت کے سفیر کو چاہیے کہ وہ فوجی بغاوت کے خلاف ہو اور اسے روکنے کی کوشش کرے۔ اس شخص کو تو انعام ملنا چاہیے، نہ کہ اسے استعفٰی دینے پر مجبور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امرا±ن کے لیے باعث تشویش ہے کہ پاکستان کی فوج اب بھی اتنی طاقتور ہے کہ ایک جمہوری حکومت کے افسر کو نوکری سے نکلوا سکتی ہے۔
بہر حال اس واقعہ سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر چہ پاکستان میں منتخب جمہوری حکومت قائم ہے لیکن اس پر کنٹرول فوج کا ہے اور آئی ایس آئی کا ہے۔ فوج نہیں چاہتی تھی کہ حسین حقانی کو اس مراسلہ کے بعد ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے کیونکہ اس کے خیال میں حسین حقانی نے اس مراسلہ کے توسط سے فوج کے خلاف اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ وہا ںجمہوریت کو مستحکم ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی جب بھی جمہوریت کا پودا بڑا ہونے لگتا ہے یا اس میں شاخیں پھوٹنے لگتی ہیں تو اس کو فوجی بوٹوں سے روند دیا جاتا ہے۔ کیونکہ پاکستانی فوج در اصل شاہ بلوط کا درخت ہے جو اپنے نیچے پیڑ پودوں کو پنپنے نہیں دیتا اور یہ واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ اس سے ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ صدر آصف علی زرداری بھی فوج کی طاقت سے خائف ہیں اور ان کو یہ اندیشہ ستانے لگا تھا کہ کہیں اسامہ کے خلاف کارروائی کے بعد ملک میں شورش نہ برپا ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو فوج خاموش نہیں رہے گی۔ دوسری بات یہ کہ پاکستانی فوج میں بھی القاعدہ اور طالبان کے ہمدردوں کی کمی نہیں ہے۔ اس لیے خدشہ تھا کہ کہیں فوج از خود کارروائی نہ کر دے۔ اسی لیے صدر زرداری نے یہ امدادی مراسلہ ارسال کیا تھا۔بہر حال اب حسین حقانی کی جگہ پر شیری رحمان کو سفیر بنایا گیا ہے۔ وہ سابق وزیر اطلاعات ہیں اور آزاد خیال تصور کی جاتی ہیں۔ وہ ایک صحافی بھی ہیں اور ملک میں نافذ اہانت رسول قانون میں ترمیم کی وکالت کرتی رہی ہیں جس کی وجہ سے انہیں انتہاپسندوں کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں۔ انہیں صدر آصف علی زرداری کے ساتھ میڈیا پر پابندی کے معاملے میں اختلافات کے باعث وزارت اطلاعات سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔حالانکہ وہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی دوست رہی ہیں اور پیپلز پارٹی میں انہیں اہم مقام حاصل رہا ہے۔ اس طرح شیری رحمٰن کو دوسال آٹھ ماہ اور چودہ دن بعد کوئی اہم منصب ملا ہے۔ حالانکہ خارجہ سکریٹری سلمان بشیرکے بارے میں قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ انہیں اس منصب پر فائز کیا جائے گا۔ بیجنگ میں پاکستانی سفیر مسعود خان، یورپی یونین کے لیے جلیل عباس جیلانی، جنرل (ر) جہانگیر کرامت، سابق سفیر ملیحہ لودھی، فرح ناز اصفہانی اور سلمان فاروقی کے نام بھی لیے جا رہے تھے۔ تاہم، اِن میں سے قرعہ نکلا سابق وزیر اطلاعات شیری رحمٰن کے نام۔ جس پر بہت سے افراد حیرت میں پڑ گئے۔ ان کے نزدیک یہ غیر متوقع فیصلہ تھا۔شیری رحمان دس سال تک کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز یعنی سی پی این ای کی رکن رہی ہیں۔ وہ قومی اسمبلی کی رکن ہیں اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہی تھیں۔ وہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کی اہم رکن اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف اسلام آباد کی بانی صدر بھی ہیں جو ایک خود مختار پبلک پالیسی انسٹی ٹیوٹ ہے اور اس کا مقصد علاقائی امن اور پاکستان میں جمہوریت کا دوام ہے ۔ شیری رحمٰن اس سے قبل ہندوستان کے ساتھ متعدد ٹریک ٹو اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شریک رہی ہیں۔ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ادارہ جاتی مذاکراتی عمل کی کنونیئر بھی ہیں۔ انھوں نے پاکستان کو درپیش کئی اسٹریٹیجک سیکورٹی چیلنجوں پر جامع لیکچرز دیئے ہیں۔ وہ پاک مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان کی لیجیسلیٹیو کونسلوں کی بھی رکن ہیں۔انہوں نے مارچ 2008 سے مارچ 2009تک وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے خدمات سر انجام دی ہیں۔ وفاقی وزیر کی حیثیت سے انھوں نے 2008میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کیلئے پہلی ان کیمرہ نیشنل سیکورٹی بریفنگ تیار کی اور اسے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا۔ اس بریفنگ کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف پہلی باضابطہ اور متفقہ قرارداد کی منظوری دی گئی۔ شیری رحمٰن نے 20 سالہ سینئرپیشہ ور صحافی کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے ہوئے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف قانون ساز کے طور پر عوامی آواز بلند کی۔ انھوں نے کئی اعزازات حاصل کئے ہیں جن میں انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جمہوری ہیرو کا اعزاز اور۱2011میں خواتین کیلئے جن کرپیٹرک ایوارڈ نمایاں ہیں۔ معروف جریدے نیوز پاکستان نے مارچ 2011 کے شمارے میں ان کی تصویر صفحہ اول پر شائع کرتے ہوئے انھیں پاکستان کی انتہائی اہم خاتون قرار دیا تھا جبکہ فارن پالیسی میگزین نے انھیں2011کے معروف عالمی مفکرین میں شمار کیا ہے۔ انھیں برطانیہ کے ہاو¿س آف لارڈز سے آزادی صحافت کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ انھوں نے 2008کے عام انتخابات میں سندھ سے خواتین کی مخصوص نشست پر انتخابات میں حصہ لیا اور31 مارچ 2008 کو وفاقی وزارت اطلاعات کے منصب پر فائز ہو گئیں۔ تاہم اپنی وزارت میں دیگر لوگوں کی مداخلت اور میڈیا پر قدغن سے متعلق صدر آصف علی زرداری سے اختلافات کے باعث مستعفی ہو گئی تھیں۔ اب جبکہ انہیں امریکہ میں پاکستانی سفیر کے منصب پر فائز کیا گیا ہے تو اسے پاکستان میں خاتون سیاست دانوں کی طاقت میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جنا ربانی کھر کے علاوہ ایک اور طاقتور خاتون فہمیدہ بیگم ہیں جو کہ قومی اسمبلی کی اسپیکر ہیں۔ گذشتہ دنوں جب وہ پارلیمنٹیرین کا ایک اعلی سطحی وفد لے کر ہندوستان کے دورے پر آئی تھیں تو ان کے رول کو ہندوستانی میڈیا میں کافی سراہا گیا تھا۔ بہر حال جہاں ایک طرف حسین حقانی کی برطرفی پاکستان کے لیے سبکی کا سبب بنی ہے وہیں شیری رحمان کی تقرری نے اس سبکی میں کسی طور کمی بھی کی ہے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس تنازعہ نے پہلے ہی سے لرزیدہ پاکستانی قصر صدارت کے دروبام کو مزید لرزا دیا ہے۔

میمو گیٹ اسکینڈل سے پاکستانی سیاست لرزہ براندام 


