سہیل انجم
ہندوستان اور پاکستان کو بہت سی تلخ وترش باتیں تاریخ سے وراثت میں ملی ہیں۔ جن کا منحوس سایہ ہنوز دونوں ملکوں کے رشتوں پر قائم ہے۔ تاہم دونوں ممالک وقتاً فوقتاً اس سایے سے باہر آنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن آج تک اس میں مکمل طو ر پر کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ ہاں نیم کامیابیاں ضرور ملی ہیں۔ اس وقت ہندوستان اور پاکستان میں وزرائے اعظم کی کرسیوں پر جو شخصیات متمکن ہیں وہ اپنی جانب سے مسلسل اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ دونوں ملک اس تاریخی نحوست سے باہر آجائیں اور ان میں دوستانہ رشتہ قائم ہو جائے۔ مالدیپ میں سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر ڈاکٹر من موہن سنگھ اور سید یوسف رضا گیلانی نے ایک بار پھر یہی کوشش کی ہے۔ اس سے قبل جب بھی ان دونوں رہنماو¿ں کی ملاقات ہوئی ہے، امید وبیم کے کچھ نئے چراغ روشن ہو ئے ہیں۔ دونوں جب بھی ایک دوسرے کی طرف بڑھتے ہیں تو اپنی ہتھیلیوں پر امیدوں کے چراغ لے کر بڑھتے ہیں اور پھر اس کی روشنی ان دونوں کے توسط سے دونوں ملکوں میں بھی پھیل جاتی ہے۔ ایسا ہی کچھ اس بار بھی ہوا ہے۔ دونوں کی ملاقات نے کچھ نئے دریچے وا کیے ہیں جن سے امن وسلامتی کی تازہ ہوائیں آتی محسوس ہو رہی ہیں۔ اس سے قبل جب ممبئی حملوں کے بعد دو طرفہ مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہو گیا تھا تو بھوٹان کی راجدھانی تھمپو میں دونوں کی ملاقات نے سرد مہری کی برف کو پگھلایا تھا اور رشتوں میں کچھ نئی گرمی آئی تھی۔ انہوں نے بڑے فراخ دلانہ اور حقیقت پسندانہ انداز میں کہا تھا کہ باہمی تعلقات میں اعتماد کا فقدان ہے جسے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی مذاکرات کی سلسلہ جنبانی ہوئی تھی اور مختلف مرحلوں پر بات چیت کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارا لیا اور انہیں موہالی میں ہند پاک میچ دیکھنے کی دعوت دی۔ جس کا زبردست اثر ہوا اور باہمی رشتے مزید گرم جوشی کی طرف بڑھے تھے۔ باہمی بات چیت بھی آگے بڑھی اور اعتماد کی بحالی کے متعدد اقدامات بھی کیے گئے۔ ظاہر ہے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
زیر تذکرہ ملاقات سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر ہوئی ہے۔ جب بھی سارک کانفرنس ہوتی ہے ان دونوں ملکوں میں سرگرمیاں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ یہ کانفرنس اگر دیکھا جائے تو ایسے ماحول میں ہوئی ہے جب ہند و پاک کے مابین بے حد خوشگوار رشتے ہیں، کشیدگیوں اور تلخیوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور دوستانہ نظروں سے آگے کی طرف دیکھا جا رہا ہے۔ بہت دنوں کے بعد ونوں ملکو ںکے درمیان الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ تھما ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی بہت مثبت اشارے دیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر جب ہندوستان کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر موسم کی خرابی کی وجہ سے بھٹک کر پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہو گیا تھا تو پاکستانی اہلکاروں نے اسے نیچے اتار تو لیا تھا لیکن پوچھ تاچھ کے بعد بہت باعزت طریقے سے اسے واپس بھی کر دیا تھا۔ اس ہیلی کاپٹر میں سوار لوگوں نے انکشاف کیا کہ ان کے ساتھ بہت اچھا برتاو¿ کیا گیا اور ایسا نہیں لگا کہ وہ کسی دشمن ملک کی سرحد کے اندر یا ان کے اہلکاروں کے درمیان ہیں۔ اس واقعہ سے اچھا تاثر قائم ہوا۔ اس کے بعد پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ ہندوستان کو انتہائی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دینے کو تیار ہے۔ حالانکہ اس بارے میں ابہام بھی پیدا ہوا لیکن پھر وضاحت آگئی کہ پاکستان اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹا ہے اور اس پر عمل کرنے کی ذمہ داری وزارت خارجہ کو سونپ دی گئی ہے۔ ادھر دوسری طرف ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی رکنیت کی تائید کی۔ ان واقعات نے ایک اچھا ماحول قائم کیا اور اس ماحول میں جب دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات ہوئی تو باہمی رشتوں میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا۔ وزیر اعظم نے یوسف رضا گیلانی کو امن کا پیامبر کہا اور کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گیلانی دونوں ملکوں میں امن چاہتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھی من موہن سنگھ کی بار بار ستائش کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے کہ من موہن سنگھ امن چاہتے ہیں اور پاکستان سے یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر امن وسلامتی کے قیام میں وہ ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہندوستان چار قدم آگے بڑھے گا۔
ہندوستان اور پاکستان کے مابین یوں تو بہت سے ایشوز ہیں جن کو حل کرنا ضروری ہے۔ جن میں کشمیر، سرکریک، دریائی پانی، سیاچن، دراندازی اور دہشت گردی قابل ذکر ہیں۔ ان پر بات چیت مرحلہ وار آگے بڑھتی رہتی ہے۔ ہندوستان کو جس بات سے پریشانی ہے وہ دہشت گردی ہے۔ سرحد پار سے دراندازی ہے۔ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے تربیتی کیمپ قائم ہیں جہاں لوگوں کی بھرتی کی جاتی ہے اور ان کو ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کو ہند مخالف دہشت گردی کے محاذ پر تعینات کر دیا جاتا ہے۔ یہی لوگ دراندازی کی کوششوں میں بھی مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان یوں تو بار بار یہ یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ہند مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا لیکن اس کے باوجود ایسا ہوتا ہے اور پاکستان کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ ممبئی پر دہشت گرد حملے اسی کی سرزمین سے کیے گئے او ران میں نان اسٹیٹ ایکٹرس کے علاوہ حکومت اور فوج اور آئی ایس آئی کے لوگ بھی شامل رہے ہیں۔ لیکن ان کے خلاف جانچ کا عمل سست روی کے ساتھ چل رہا ہے اور تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اصل ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک نہیں پہنچایا جا سکا ہے۔ ہاں سارک کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ اجمل عامر قصاب ایک دہشت گرد ہے اس کو پھانسی پر لٹکا دیا جانا چاہیے۔ لیکن انہوں نے دوسرے ذمہ داروں کے سلسلے میں ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ پر۔ لیکن اس خطے کی کچھ اور ضرورتیں بھی ہیں۔ اور ان کا تعلق ترقیات سے ہے اس خطے کی خوشحالی سے ہے۔ ہندوستان نے کئی سال قبل پاکستان کو انتہائی مراعات یافتہ ملک کا درجہ دے دیا تھا۔ اگر پاکستان بھی ایسا کرتا ہے تو اس سے دو طرفہ تجارت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً تین بلئین ڈالر پر مشتمل ہے اور دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس حجم کو ۴۱۹۱ تک چھ بلئین ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب تجارت کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں، آسانیاں پیدا کی جائیں اور لوگوں کو ایک دوسرے ملک میں آمد ورفت کی مزید سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس کے لیے سب سے اہم کام یہ ہے کہ اشیا کی تجارت کے سلسلے میں جو بیرئیرس ہیں ان کو دور کیا جائے۔ اس مقصد کی حصولیابی کے لیے دونوں ملک چاہتے ہیں کہ ویزا قوانین میں نرمی کی جائے اور جن اشیا کی تجارت کی اجازت ہے ان میں مزید اشیا شامل کی جائیں۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت اور کامرس سکریٹریوں کے مابین بات چیت جاری ہے۔ اسی ماہ ایک بار پھر ان کے مابین مذاکرات ہونے والے ہیں۔ اس سے قبل آنند شرما اور مخدوم امین فہیم نے متعدد ایشوز پر تبادلہ خیال کیا ہے اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے سلسلے میں اقدامات پر زور دیا ہے۔ اس سے بھی پہلے اسلام آباد میں دونوں ملکوں کے وزرائے تجارت کے مابین مذاکرات ہوئے تھے جن میں کچھ اہم فیصلے کیے گئے تھے۔ ان فیصلوں پر کہاں تک عمل کیا جا چکا ہے اس کا بھی جازہ لیا جا رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان اور پاکستان میں بہت سے معاملات میں قدر مشترک ہے۔ دونوں اس خطے کے سب سے اہم ملک ہیں اور دونوں کے تعلقات کا سایہ خواہ وہ کیسے بھی ہوں اس خطے کی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ اگر ان دونوں میں بہتر اور معمول کے مطابق تعلقات ہیں تو یہ خطہ بھی امن وامان سے رہے گا اور اگر دونوں میں کشیدگی ہے تو اس کے اثرات خطے پر بھی پڑیں گے۔ اور تقدیر نے دونوں کو ایک دوسرے کا ہمسایہ بھی بنایا ہے۔ یعنی اگر وہ چاہیں بھی تب بھی ایک دوسرے سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے۔ ان کو ایک ساتھ ہی رہنا ہے۔ تو پھر کیوں نہ امن وشانتی کے ساتھ رہیں، پیار محبت کے ساتھ رہیں۔ ہندوستان نے اکثر کہا ہے کہ وہ ایک خوشحال اور پر امن پاکستان چاہتا ہے۔ وہ ایسا اس لیے کہتا ہے کہ اس میں خود اس کا مفاد پوشیدہ ہے۔ اگر دونوں میں دوستی ہوگی اور پاکستان ایک مضبوط خوشحال اور پر امن ملک بنے گا تو اس سے ہندوستان کو بھی فائدہ ہوگا، اس کی ترقیاتی سرگرمیاں آگے بڑھیں گی اور اس سے اس خطے کے مسائل دور ہوں گے۔ اسی لیے ہندوستان بار بار پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے۔ حالانکہ اس بارے میں وزیر اعظم من موہن سنگھ کو نکتہ چینیوں کا بھی نشانہ بنا پڑتا ہے اور ملک کی بعض سیاسی جماعتیں ان کے بہت زیادہ لچک دار رویے پر اعتراض بھی کرتی ہیں۔ وزیر اعظم نے ابھی یوسف رضا گیلانی کے بارے میں جو یہ بات کہی ہے کہ وہ امن کے پیامبر ہیں تو اس پر یہاں کی اصل اپوزیشن جماعت نے اعتراض کیا ہے اور اس تبصرہ کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ لیکن بعض سیاسی حلقوں نے اس کی پذیرائی بھی کی ہے کہ دونوں ملک تاریخی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنے کی بات کر رہے ہیں۔
بہر حال اس وقت جو عالمی صورت حال ہے اس کے پیش نظر بھی او راس خطے کی جو صورت حال ہے اس کے تقاضے کے تحت بھی دونوں ملکوں کو کشیدگی کو خیر باد کہتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف نہ صرف یہ کہ دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے بلکہ اس ہاتھ کو مضبوطی سے تھام بھی لینا چاہیے۔ تاکہ ماضی کی تلخیاں دفن کر دی جائیں اور دوستی کا نیا ماحول سازگار کیا جائے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو دونوں ملکوں کے رہنماو¿ں کی موجودہ ملاقات باہمی رشتوں میں ایک نیا باب ثابت ہوگی۔
(
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
--9818195929)

ہند پاک تعلقات میں نئے باب کا اضافہ 


