You are here: ایک خبر ایک نظر پاک امریکہ رسہ کشی: ایک جائزہ Home

پاک امریکہ رسہ کشی: ایک جائزہ

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
سرد جنگ کے دوران ہندوستان روسی خیمے کا رکن تھا اور پاکستان امریکی خیمے کا۔ سرد جنگ ختم ہوئی اور امریکہ کا رشتہ رفتہ رفتہ ہندوستان سے بھی مضبوط ہونے لگا۔یہاں تک کہ ہندوستان اور امریکہ کے مابین غیر فوجی نیوکلیائی تعاون کے شعبے میں ایک تاریخی معاہدہ ہو گیا، اسی طرح کا معاہدہ پاکستان بھی امریکہ کے ساتھ کرنا چاہتا ہے لیکن امریکہ سر دست اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اور بالخصوص حالیہ دس پندرہ برسوں کے دوران عالمی سطح پر زبردست تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ہندوستان جہاں امریکہ کے بہت قریب آ گیا ہے وہیں وہ اسرائیل کے بھی نزدیک ہو گیا ہے۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں بعض اہم تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اور کچھ ملکوں کے ساتھ روایتی رشتوں کو باقی رکھنے کے ساتھ ساتھ نئے قسم کے رشتے بھی بنے ہیں جو ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تغیر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن اس پوری مدت میں اور ہند امریکہ تعلقات میں قربت کے باوجود ایک بات بدستور قائم رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک دوسرے کے پہلے کی مانند حلیف بنے رہے ہیں۔ پاکستان کے بابائے ایٹم بم ڈاکٹر عبد القدیر خان پر بعض ملکوں کو نیوکلیائی راز اور تکنالوجی فراہم کرنے کا الزام ور ان پر کچھ پابندیاں عائد کرنے کے باوجود امریکہ نے پاکستان کو اپنے قریب کیے رکھا۔ یہاں تک کہ9/11کے بعد بھی پاکستان اس کا سب سے مضبوط دوست بنا رہا او امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جو جنگ شروع کی تھی پاکستان اس کے سب سے طاقتور حلیف کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے امریکی افواج کو طالبان او رالقاعدہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے قابل ذکر تعاون دیا۔ امریکہ نے پاکستان کے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جو کارروائیاں کیں ان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ جس پر پاکستان کے اندر زبردست فکر مندی اور تشویش ظاہر کی جاتی رہی۔ لیکن اسی درمیان دونوں ملکوں کے رشتوں میں تلخی کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ ڈرون حملوں کے خلاف عوامی اضطراب میں شدت پیدا ہوئی اور امریکہ کو ڈھکے چھپے الفاظ میں دھمکیاں دی جانے لگیں۔ پھر یوں ہوا کہ افغانستان میں امریکی ٹھکانوں پر حملے ہونے لگے اور امریکہ اس کے لیے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو ذمہ دار قرار دینے لگا۔ پاکستان سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں ایک تنظیم حقانی نیٹ ورک ہے۔ امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کی آئی ایس آئی حقانی نیٹ ورک کی مدد کرتی ہے اور اس سے اپنا کام کرواتی ہے۔ اس نے یہاں تک کہا کہ امریکی اہداف پر جو حملے ہوئے ہیں ان میں آئی ایس آئی بھی شامل ہے۔ امریکہ کے اس الزام پر پاکستان نے زبردست رد عمل کا مظاہرہ کیا اور وہاں کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک تو امریکہ کا پیدا کیا ہوا ہے اور اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دریں اثنا نیو یارک میں جاری اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران جبکہ وہاں کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نیو یارک ہی میں تھیں،پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ان سے دورہ مختصر کرکے واپس چلے آنے کو کہا۔ اس بیان کے بعد امریکہ اور پاکستان کے مابین مزید تلخی پیدا ہوئی اور ایسا لگنے لگا کہ دونوں کے رشتے بے حد خراب ہو جائیں گے۔ لیکن پھر بیان آیا کہ حنا اپنا دورہ مکمل کریں گی اور اس کے بعد ہی واپس آئیں گی۔ اسی درمیان حنا ربانی نے بھی ایک ایسا بیان دے دیا جس نے عالمی سطح پر زلزلہ پیدا کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ پاکستان کے خلاف اس طرح کارروائی کرتا رہا تو وہ اپنا ایک انتہائی قریبی دوست کھو دے گا۔ ان کے اس بیان کو عالمی سطح پر شائع کیا گیا۔ادھر امریکہ کے سبکدوش ہونے والے فوجی سربراہ ایڈمرل مائک مولن نے کہہ دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جو روایتی تعلقات رہے ہیں اور وہ جس طرح کے رشتے اس کے ساتھ چاہتے تھے انہیں نہیں لگتا کہ وہ اب بن پائیں گے۔
یہ ہے وہ منظرنامہ جو امریکہ اور پاکستان کے رشتوں کے تعلق سے اس وقت عالمی سطح پر نظر آرہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان دونو ںملکوں کی دوستی بے حد نازک دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اسی درمیان ایک اور واقعہ ہوا ہے۔ وہ یہ کہ امریکی کانگریس میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد روک دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ پاکستان کی شروع سے ہی بڑے پیمانے پر مالی مدد کرتا رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد اس نے جو امداد دی اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔ لیکن امریکہ جس قسم کی کارروائی چاہتا رہا ہے پاکستان ویسی کارروائی کرنے سے قاصر رہا ہے۔ امریکہ پاکستان سے کہتا آیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے۔ لیکن اب پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف جیسی اور جتنی کارروائی کی ہے وہ کم نہیں ہے او راب اس سے مزید کارروائی کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ گویا اب پاکستان امریکہ کے اشارے پر دہشت گردی کے خلاف زیادہ کارروائی نہیں کرے گا۔ ایک بات کا ذکر اور کر دینا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ پاکستان میں اس قسم کے خیالات زور پکڑتے جا رہے ہیں کہ امریکہ مالی مدد کی آڑ میں اس سے ایسے بھی کام کراتا رہتا ہے جو اسے نہیں کرنے چاہئیں۔ اسی لیے پاکستانی عوام کے ایک بڑے طبقے میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کی ”غلامی“ ترک کر دینی چاہیے۔ لیکن پاکستان کے حالات پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ پاکستان کی یہ مجبوری ہے کہ وہ امریکہ کے اشارے پر کام کرے۔ حالانکہ ان دنوں ایک اور صورت حال تیزی سے ابھرتی جا رہی ہے اور وہ صورت حال ہے پاکستان اور چین کے مابین بڑھتی قربت۔ بعض اوقات پاکستان امریکہ کو اشاروں کنایوں میں چین کے نام پر دھمکی بھی دینے لگتا ہے۔ لیکن جانکاروں کا خیال ہے کہ پاکستان ایسا اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ امریکہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی حکمراں اپنے عوام کو خوش اور مطمئن کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کا ڈرامہ کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں ان کا ارادہ امریکہ کا ساتھ چھوڑنا ہرگز نہیں ہوتا۔ لیکن چونکہ پاکستانی سماج پر مذہبی طبقہ زیادہ حاوی ہے او ر وہاں کے حکمراں اس کے خلاف بہت دور تک نہیں جا سکتے اس لیے وہ اس کے جذبات کا بھی خیال رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان میں مذہبی اثر ورسوخ زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ مذہبیت خلوص پر مبنی ہوتی تو تشویش کی بات نہیں تھی لیکن یہ مذہبیت خلوص کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلکی شدت اور مسلکی جنون کی بنیاد پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلکی تنظیمیں جو چاہتی ہیں حکومت سے کروا لیتی ہیں۔ اور اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے دوسرے مسلکوں کے خلاف طوفان قتل وغارت بھی اٹھا دیتی ہیں۔ ایک دوسرے مسلک کے خلاف تخریبی کارروائیاں ایک دوسرے کی مسجدوں میں خود کش حملے اور ایک دوسرے کے مذہبی جلسوں اور جلوسوں پر بم اندازی اسی مسلکی جنون کا نتیجہ ہے۔ ایسے میں حکومت لاکھ چاہ کر بھی اس صورت حال سے آزاد نہیں ہو سکتی۔ اس کو ان گروہوں کا خیال کرنا پڑے گا اور ان کے مفادات کے تحت اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ لہذا یہ کہنا بجا نہیں ہوگا کہ امریکہ اور پاکستان کے بگڑتے رشتے میں ان مذہبی تنظیموں کا کوئی رول نہیں ہے۔ رول تو ہے چاہے بلا واسطہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس تناظر میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان امریکہ سے بالکل ہی الگ ہو جائے گا۔ در اصل وہ امریکہ کے ساتھ بھی اپنا رشتہ برقرار رکھنا چاہتا ہے اور چین کے ساتھ بھی اچھے تعلقات چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے یہاں کی مذہبی تنظیموں کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن ان تمام عوامل نے صورت حال کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا ہے اور پاکستان کی حالت ایک نیوز چینل کے مطابق بالکل یہی ہو گئی ہے کہ میں ادھر جاو¿ں یا ادھر جاو¿ں، خاک بن کر ہی کیوں نہ بکھر جاو¿ں۔
امریکہ اور چین کے ساتھ پاکستان کے رشتے کیسے رہتے ہیں ؟ اس کا ایک پہلو ہندوستان بھی ہے۔ وہ کسی بھی صورت حال کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ حالانکہ دہشت گردی اور دوسرے معاملات میں ہندوستان نے جس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اسکی وجہ سے عالمی سطح پر اس کا ایک مقام ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے پڑوس کے حالات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ ان سے چشم پوشی نہیں کر سکتا۔ اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے رشتے کس سمت میں جاتے ہیں اور اس پر بھی نظر رکھنی ہوگی کہ چین اور پاکستان میں کیا کھچڑی پکتی ہے۔ ہندوستان نے بار بار اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایک مستحکم، خوشحال اور پر امن پاکستان کے حق میں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ پاکستان کے اندر جمہوریت کو استحکام ملے اورجمہوری ادارے مضبوط ہوں۔ وہاں خوش حالی آئے اور وہ کسی کا دست نگر بن کر نہ رہے۔ کیونکہ اگر پاکستان مضبوط اور خوشحال ہوگا اور وہاں امن وامان ہوگا تو وہ ترقی کرے گا اور جب وہ ترقی کرے گا تو اس سے اس پورے خطے کو بھی فائدہ ہوگا۔ اگر وہاں ترقیاتی سرگرمیاں تیز ہوں گی تو لوگوں کارجحان دہشت گردی کی طرف سے خود بہ خود ہٹے گا اور وہ جمہوریت کو مضبوط بنانے میں مصروف ہو جائیں گے۔ لیکن وہ جتنا کمزور ہوگا غلط ہاتھوں میں اس کے پڑنے کا اندیشہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ یہ نہیں فراموش کرنا چاہیے کہ پاکستان بھی ہندوستان کی مانند ایک نیوکلیائی طاقت ہے اور اگر اس کے نیوکلیائی ہتھیار غلط ہاتھوں میں پڑے تو اس سے یہ پورا خطہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ لہذا یہ ہندوستان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے حالات خراب نہ ہونے دے۔ اگر پاکستان مضبوط ہوگا تو اس سے ہندوستان کے مفادات کی بھی تکمیل ہو گی۔جہاں تک امریکہ اور پاکستان کے مابین موجودہ کشیدگی کا معاملہ ہے تو یہ ایک عارضی صورت حال ہے۔ نہ تو امریکہ پاکستان کو اپنے سے دور جانے دے گا اور نہ ہی پاکستان امریکہ سے دوستی کو خیر باد کہنا چاہے گا۔ دونوں کے اپنے مفادات ہیں اور وہ ان مفادات پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

 

All categories