You are here: ایک خبر ایک نظر پاکستان بے یقینی کے دوراہے پر! Home

پاکستان بے یقینی کے دوراہے پر!

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
آج پاکستان کی جو صورت حال ہے اور وہاں جس قسم کے حالات پنپ رہے ہیں ان کے تناظر میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ بے یقینی کے دوراہے پر کھڑا ہے تو شائد غلط نہیں ہوگا۔ پاکستان ایک عرصے سے اس دوراہے کی طرف بڑھتا رہا ہے اور اب وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ مسدود ہے ۔ اب اسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس کو کدھر جانا ہے اور کدھر نہیں۔ اس کے سامنے دو راستے ہیں اور اسے ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ لیکن یہ انتخاب اس کے لیے آسان نہیں ہے۔ اسے بہت ہی سوچ سمجھ کر اس کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کے ارباب اقتدار کے لیے یہ بہت مشکل گھڑی ہے۔ اور اس کا احساس ان کو بھی ہے۔ لیکن وہ اس شتر مرغ کی مانند بے فکر نظر آ رہے ہیں جو ریت میں گردن دبا کر یہ سمجھتا ہے کہ طوفان سر سے گزر جائے گا اور اس کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ طوفان تو گزر جاتا ہے لیکن شتر مرغ جہاں ریت میں اپنی گردن دیے ہوتا ہے وہیں اس کی قبر بن جاتی ہے۔ ایک طوفان باد وباراں ہے جو مملکت خداداد کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے بے چین ہے۔ اس طوفان سے بچنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ لیکن وہاں کے حکمراں اور سیاسی پارٹیاں و مذہبی تنظیمیں اس طوفان کی تباہی سے بے خبر ہیں۔ اگر انہوں نے اس بربادی کا احساس نہیں کیا اور اس کے پیش نظر اس سے بچنے کا کوئی بند وبست نہیں کیا تو اسے کوئی نہیں روک پائے گا اور تباہی اہل پاکستان کا مقدر بن جائے گی۔ یہ صورت حال عموماً ان ملکوں کی ہوتی ہے جو اپنی طاقت پیدا کرنے کی بجائے دوسروں کے رحم وکرم پر جینے کو ترجیح دیتے ہیں اور جو اپنی عزت نفس اور اپنی قومی حمیت کو سکوں کے عوض گروی رکھ دیتے ہیں۔ آج پاکستان میں ایسا سوچنے والوں کی ایک بڑی اکثریت ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ حکمرانوں نے قومی غیرت کو نیلام کر دیا ہے اور ملکی سا لمیت کو فروخت کر دیا ہے۔
پاکستان میں آج مذہبی شدت پسندی بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے اور دوسری طرف امریکہ کی ناراضگی بھی اپنا منھ کھولے کھڑی ہے۔ جب نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانسان پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی پاکستان کی یہی حالت تھی۔ اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملائی اور دہشت گردی مخالف جنگ میں پاکستان کو ایک اہم حلیف بنا دیا۔ پاکستان میں ایک حلقہ ایسا ہے جو مشرف کے فیصلوں پر شدت کے ساتھ نکتہ چینی کرتا ہے لیکن ایک حلقہ ایسا بھی ہے جس کا کہنا ہے کہ اگر مشرف نے اس وقت امریکہ کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو پاکستان کے وجود کے لالے پڑ جاتے۔ بہر حال یہ بحث اپنی جگہ پر۔ اس سے قطع نظر اس وقت جو حالات ہیں وہ اس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں کہ ارباب اقتدار دور اندیشی سے کام لیں اور کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جس سے مستقبل میں پاکستان اور اس کے عوام کو نقصان برداشت کرنا پڑے۔ مہمند ایجنسی میں نیٹو افواج کے حملے میں ۴۲ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت نے پاکستان کے در ودیوار کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہاں اس کارروائی کے خلاف ایک طوفان سا آیا ہوا ہے۔ پاکستان نے نیٹو سے کہا ہے کہ وہ شمسی ایئر بیس خالی کر دے۔ نیٹو افواج اس کی تیاری بھی کر رہی ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ امریکہ کی کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو منایا جائے اور اسے اس پر آمادہ کیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے لے۔ اس نے بون میں افغانستان کے سلسلے میں ہونے والی چوٹی کانفرنس میں شرکت سے بھی انکار کر دیا ہے۔ اس کو اس پر بھی راضی کیا جا رہا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک ہو۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملک کے لیے یہ بات کسی بھی قیمت پر گوارہ اور برداشت نہیں ہوگی کہ کوئی دوسرا ملک اس کے علاقے میں آکر کارروائی کرے اور اس کے فوجیوں کو ہلاک کرے۔ نیٹو کی یہ کارروائی یقیناً لائق مذمت ہے۔ حالانکہ اس بارے میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ نیٹو افواج نے جان بوجھ کر یہ کارروائی کی تھی یا غلطی سے ایسا ہوا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جان بوجھ کر کی گئی تاکہ اس کے اقتدار اعلی کو للکارا جائے۔ اس کے خیال میں یہ قدم اس کی آزادی اور خود مختاری پر ایک حملہ ہے۔ اگر یہ کارروائی عمداً کی گئی ہے تو بھی یہ لائق مذمت ہے اور اگر غلطی سے ایسا ہوا ہے تب بھی اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ وہ پاکستان ہی تھا جس نے شمسی ایئر بیس کو امریکہ اور نیٹو افواج کے استعمال کرنے کے لیے دیا جہاں سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون طیاروں سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ اور نیٹو افواج القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حالانکہ ڈرون حملے یہ کہہ کر کیے جا رہے ہیں کہ ان سے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں ختم کرنے کے مقصد سے یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان حملوں میں بہت سے سویلین بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بارہا اس کے خلاف احتجاج کیا گیا لیکن اس پر کان نہیں دھرا گیا۔ ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ ادھر پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر جس طرح کا رد عمل نیٹو افواج نے کیا ہے اسے بھی درست نہیں کہا جا سکتا۔ کیا ان کو اتنا بھی علم نہیں تھا کہ وہ جس جگہ حملہ کر رہے ہیں وہ پاکستانی افواج کی چوکیاں ہیں وہاں دہشت گرد نہیں رہتے۔ ایسا ہی کچھ ڈرون حملوں کے مواقع پر بھی ہوتے رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نام پر بہت سے بے قصور سویلین کا مارا جانا بھی قابل معافی نہیں ہے۔ لیکن پاکستانی حکام ان واقعات پر زبانی احتجاج سے کام چلاتے رہے ہیں۔ اب جبکہ ۴۲ فوجیوں کی ہلاکت ہو گئی تو اسے فطری طور پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کرنا تھا۔ حالانکہ اس واقعہ کی جانچ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے دیا گیا ہے جو یہ پتہ لگائے گا کہ ایسا کیسے ہوا کس کی غلطی سے ہوا۔ یہ ایک مہذب طریقہ ضرور ہے لیکن اس سے پاکستان کو جتنا بڑا زخم لگا ہے یہ قدم اس پر مرہم کا کام نہیں کرے گا۔ اس پر امریکہ اور نیٹو کو مرہم رکھنے کی ضرورت ہے اور مرہم کیسے رکھا جاتا ہے اس کے بارے میں ان لوگوں سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔ سر دست اس کارروائی کے خلاف پاکستان میں زبردست احتجاج ہو رہا ہے او رامریکہ اور نیٹو کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔ پاکستان کے حکمرانوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اب امریکہ سے پاکستان کے رشتے ویسے نہیں ہو پائیں گے جیسے کہ پہلے تھے۔ لیکن پاکستان ہی میں سنجیدہ لوگوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس خیال کا حامی ہے کہ کسی بھی طرح بات چیت سے اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس وقت جو عالمی حالات ہیں ان کے پیش نظر پاکستان امریکہ یا نیٹو سے دشمنی مول نہیں لے سکتا۔ لہذا اسے بحران کو کسی بھی طرح ختم کرنا ہوگا۔
پاکستان میں پہلے سے ہی مذہبی شدت پسندی عروج پر ہے اور مسلکی جنون کا معاشرے پر غلبہ ہے۔ ان طبقات کے لوگ عوام کو سڑکوں پر لا رہے ہیں اور انہیں ایک ٹکراو¿ کی کیفیت میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لاہور میں گذشتہ دنوں ہونے والی جماعت الدعویٰ کی ریلی میں جو تقریریں کی گئی ہیں وہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔ کئی لیڈروں نے اپنی تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان کو طالبانی مملکت میں تبدیل کر دیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکہ اور ہندوستان کے خلاف جہاد کا نعرہ بھی لگایا اور طلبہ سے کہا گیا کہ وہ اس محاذ پر کام کریں۔ یہ جنون بہت نقصان دہ ہے۔ مذہبی جذبات کی قدر کی جانی چاہیے لیکن وہ ایسے جذبات ہوں جو دوسروں کو نقصان نہ پہنچائیں اور مسلکی شدت پسندی کو ہوا نہ دیں۔ جو سچا مذہب پرست ہوتا ہے وہ بلا وجہ قتل وخوں ریزی کا حامی نہیں ہوتا۔ حالات کے تقاضے کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے اور ملکی وبین الاقوامی صورت حال کے تناظر میں فیصلے لینے ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے بارے میں دنیا بھر میں جو رائے بن گئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے۔ جہاں بھی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے اس سے پاکستان کا کوئی نہ کوئی تعلق ضرور نکل آتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ دنیا بھر میں خراب ہو رہی ہے۔ دہشت گردی سے صرف دوسرے ملکوں کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بھی زبردست نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس کی اپنی اندرونی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ دوسرے مسالک کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور بازاروں اور مسجدوں تک کو نہیں بخشا جاتا۔ بے قصوروں کو ہلاک کرنے میں کوئی دریغ نہیں ہے۔ اور نعرہ یہ لگایا جاتا ہے کہ ہم اسلام کے پیرو ہیں۔ جو لوگ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں وہ پاکستان کے خیر خواہ اور وفادار نہیں ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان خود کو ایک سچے اسلامی ملک کی حیثیت سے پیش کرے جہاں شدت پسندی کانہیں بلکہ اعتدال پسندی اور میانہ روی کا بول بالا ہو۔ جہاں بے قصوروں کو نشانہ نہ بنایا جائے اور جہاں اسلام کے نام پر دہشت گردی نہ کی جائے۔
پاکستان کا جھکاو¿ اس وقت چین کی جانب ہے۔ وہ ایسا علاقائی نقطہ نگاہ سے اور ہندوستان کو سامنے رکھ کر کر رہا ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ امریکہ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ شائد اسے احساس ہوگا کہ چین اس کا محافظ بنے گا اور اس پر کوئی آفت آئی تو وہ اس کا ساتھ دے گا۔ اس تغیر پذیر دنیا میں وہی باقی رہتا ہے جو اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرے دوسروں کی طاقت پر نہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے کہ وہ اپنا گول پوسٹ تبدیل کرے۔ اسی طرح امریکہ اور نیٹو کو بھی اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنا ایک ایئر بیس ہی ان کے حوالے کر چکا ہے۔ ایسی صورت میں ان کو چاہیے کہ وہ کوئی کارروائی نہ کریں جو خود ان کے لیے اور دہشت گردی مخالف جنگ کے لیے نقصان ہو۔ بہر حال اس وقت حالات بہت نازک ہیں اور پاکستان کے ارباب اقتدار کو بہت سوجھ بوجھ سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ مذہبی جماعتوں کے جذبات کو بھی سرد کرنا ہے اور عوام کے جذبات کی تسکین بھی کرنی ہے۔ لہذا ذمہ داری صرف پاکستان کے حکام پر ہی عائد نہیں ہوتی ہے بلکہ نیٹو اور امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ حالات کو خوش اسلوبی سے کنٹرول کریں۔ پاکستانی حکام کو بھی چاہیے کہ اگر وہ اپنے ملک کی تباہی وبربادی نہیں چاہتے تو دور اندیشی سے کام لیں اور اس دوراہے سے بحسن وخوبی گزر جائیں ورنہ وقت کسی کارروائی کا انتظار نہیں کرتا وہ خود کارروائی کرتا ہے اور جب وقت کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اس کے بہت دور رس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929 )

 

All categories