You are here: ایک خبر ایک نظر ”رام سینا“ کی راون گردی:یہ فسطائیت نہیں تو اور کیا ہے؟ Home

”رام سینا“ کی راون گردی:یہ فسطائیت نہیں تو اور کیا ہے؟

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
ہمارے ملک میں جب بھی ایک مخصوص فرقے اور اس کے مذہب کے خلاف کوئی قابل اعتراض بات سامنے آتی ہے اور متعلقہ فرقہ اس پر اعتراض کرتا ہے تو یہاں کا ایک متعصب طبقہ اس کی مخالفت کرتا ہے اور یہ کہہ کر قابل اعتراض باتوں کی پرزور حمایت کرتا ہے کہ اس ملک میں اظہار خیال کی آزادی ہے۔لیکن جب اسی آزادی سے اس طبقے کے اپنے نام نہاد جذبات مجروح ہوتے ہیں تو وہ بد تمیزی اور غنڈہ گردی پرآمادہ ہو جاتا ہے۔ اپنے مخالفین کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور اخلاقی پولیس مین کا رول انتہائی بد اخلاقی کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ نام نہاد رام سینا کے حامیوں نے سپریم کورٹ کے معروف اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے ساتھ اور اس کے اگلے روز عدالت کے باہر انا ہزارے کے حامیوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کی کسی بھی طرح حمایت نہیں کی جا سکتی، وہ ناقابل معافی ہے اور ایسے لوگوں کو اس کی سزا بہر حال ملنی چاہیے۔ یہ کتنی بڑی دیدہ دلیری ہے کہ سپریم کورٹ کے اندر ایک وکیل کے چیمبر میں گھس کر اس پر حملہ کیا جائے اور اسے زد وکوب کیا جائے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ نیوز چینلوں پر آکر انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اس کی ذمہ داری قبول کی جائے اور اس بات کا اعادہ کیا جائے کہ اگر کوئی دوسرا بھی یہ ”جرم“کرے گا تو اس کو بھی ایسی ہی سزا دی جائے گی۔ ان لوگوں کی یہ حرکت نہ صرف یہ کہ غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے بلکہ ملک کی عدالت عظمی کی توہین کے مترادف بھی ہے۔ ایک بار ملک کی سب سے بڑی عدالت میں گھس کر یہ حرکت کی گئی اور دوسری بار ایک چھوٹی عدالت کے باہر یہی تماشہ دوہرایا گیا۔
پرشانت بھوشن کا قصور کیا تھا؟ یہ جاننے کی ضرورت ہے۔ در اصل انہوں نے دو ہفتے قبل وارانسی میں ایک انٹرویو دیتے کہا تھا کہ ”حکومت کو جموں وکشمیر میں ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ وہاں کے عوام ہمارے ساتھ آجائیں۔ لیکن اگر بہت کوششوں کے باوجود وہ ہمارے ساتھ نہیں آتے اور وہ الگ رہنا چاہتے ہیں اور آزادی چاہتے ہیں تو وہاں استصواب را ئے کرا کر ان کو آزادی دے دینی چاہیے“۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان کا یہ بیان قابل قبول ہے یا نہیں، ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ البتہ ناقابل قبول ہے۔ اس ملک میں ایک طبقہ ایسا ہے جو انسانی حقوق کا علمبردار ہے۔ وہ مختلف علاقوں میں شہریوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آواز اٹھاتا ہے اور ان کے جائز حق کی حمایت کرتا ہے۔ ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پربھی آواز اٹھاتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔ انہی لوگوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق درست نہیں ہے اور اسے آزادی دے دینی چاہیے۔ اسی تناظر میں کشمیر میں خود مختاری کی بھی بات اٹھتی رہتی ہے۔ مین اسٹریم میں شامل کشمیر کے سیاست داں بھی خود مختاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وہاں مسلح افواج کو جو خصوصی اختیارات حاصل ہیں وہ واپس لینے کا مطالبہ بھی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں میں پرشانت بھوشن کے علاوہ معروف مصنفہ ارون دھتی رائے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے ایک بار اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ کشمیر میں جو لوگ انصاف مانگتے ہیں ان کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر میں شہریوں کے انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے اور ان پر دہشت گردوں اور سیکورٹی افواج دونوں کی جانب سے زیادتی کی جاتی ہے۔ خواتین کی عصمت دری کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ ابھی گذشتہ دنوں بڑے پیمانے پر بے نام قبروں کا جو انکشاف ہوا ہے اس نے حالات کو اور سنگین بنا دیا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر کو بعض وجوہ سے خصوصی درجہ دیا گیا ہے۔ اس کے لیے دستور میں ایک دفعہ کا اضافہ کیا گیا جو دفعہ 370کہلاتی ہے۔ اس کے تحت کشمیر کو خصوصی اختیارات حاصل ہیں۔ ملک کی اصل اپوزیشن جماعت بی جے پی اور دائیں بازو کی سیاست کرنے والے افراد اس دفعہ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ صرف کشمیر ہی واحد ریاست نہیں ہے جس کو خصوصی درجہ حاصل ہو۔ بعض دوسری ریاستیں بھی ہیں جن کو یہ درجہ حاصل ہے۔ لیکن ان سے ان کی یہ حیثیت واپس لینے کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔
جو لوگ کشمیری عوام کے حق میں بولتے ہیں ان کو بھی ملک کا ایک بڑاطبقہ ملک کا وفادار نہیں مانتا۔ کشمیریوں کو تو شکوک و شبہات کی نظروں سے دیکھا ہی جاتا ہے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کشمیری عوام سے مذاکرات کر کے اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں تجاویز پیش کرنے کی غرض سے تشکیل دی گئی وہ کمیٹی کہتی ہے جس نے ابھی ایک روز قبل ہی حکومت کو اپنی رپورٹ دی ہے۔ ان مذاکرات کاروں میں ملک کے سرکردہ صحافی دلیپ پڈگاونکر، سابق انفارمیشن کمشنر ایم ایم انصاری اور ماہر تعلیم رادھا کمار ہیں۔ انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اپنایا جاتا ہے اور انہیں ملازمتیں نہیں دی جاتیں۔ وہ دوسرے شہروں میں اور راجدھانی دہلی میں بھی مشکوک نظروں سے دیکھے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات کسی کشمیری نوجوان کو محض کشمیری ہونے کی وجہ سے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اس پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں متعدد نوجوان عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس رویے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی۔ یہ دعوی تو کیا جاتا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے لیکن اس اٹوٹ انگ کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا بلکہ ایسا کچھ کیا جاتا ہے کہ وہ انگ ٹوٹ ہی جائے۔ اس کے باوجود کشمیریوں سے اور ان کے حامیوں سے وفاداری کا مطالبہ ہوتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کتنے فیصد کشمیری ہندوستان سے علاحدگی چاہتے ہیں یہ حکومت کی اور یہاں کی سیاسی پارٹیوں اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کی شکایتوں کا ازالہ کریں اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کو دور کریں۔
لیکن اس کے بجائے ہوتا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے حق میں بولتا ہے تو اسے ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس سے پہلے ارون دھتی رائے کے ساتھ بھی نازیبا سلوک کیا گیا تھا اور سینئر علاحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کے ایک پروگرام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ان کارروائیوں میں بھی یہی لوگ شامل تھے۔ یہ لوگ جو خود کو رام سینا سے وابستہ قرار دیتے ہیں، راون سینا کا رول ادا کرتے ہیں۔ کیا یہ مریادا پورشوتم رام کا آچرن ہو سکتا ہے۔ یا یہ جو کچھ ہوا وہ راون لیلا یا راون گردی تھی۔ جس طرح راون نے زبردستی سیتا کا ہرن کر لیا تھا اسی طرح یہ لوگ بھی زور زبردستی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ فسطائیت نہیں تو اور کیا ہے کہ کسی کے خیالات کی اس طرح مخافت کی جائے۔ اگر ہم کسی کی بات سے متفق نہیں ہیں تو ہمیں اس کا علمی اور مدلل جواب دینا چاہیے۔ کسی کو اس کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ علمی باتوں کا جواب لات گھونسوں سے دے اور جسمانی اذیت پہنچائے۔ پرشانت بھوشن نے اس واقعہ کے بعد پھر اپنی بات دوہرائی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ جن لوگوں نے ان کے مذکورہ بیان پر ان کے ساتھ مارپیٹ کی ہے ان کا کہنا ہے کہ ایسا بیان دینا ملک کے ساتھ غداری اور دیش دروہ ہے۔ لیکن پرشانت بھوشن سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل اور قانون داں ہیں کیا ان کو نہیں معلوم کہ کون سا بیان غداری کے زمرے میں آئے گا اور کون سا نہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کا یہ بیان غداری نہیں ہے اور اگر یہ لوگ اسے غداری کہتے ہیں تو میں یہ جرم کرتا رہوں گا۔ اس ملک میں جرائم کے تعلق سے سزاو¿ں کا ایک نظام ہے۔ اگر کوئی شخص کوئی جرم کرتا ہے تو اسے قانون کے مطابق سزای دی جاتی ہے۔ سزا بھی کوئی انفرادی شخص نہیں دے سکتا بلکہ پہلے رپورٹ درج ہوگی، پھر مقدمہ چلے گا ، پھر اگر عدالت سے جرم ثابت ہوگیاتو عدالت ہی سزا مقر کرے گی اور پولیس اس سزا پر عمل درآمد کا عمل مکمل کرے گی۔ ایسا بالکل نہیں ہو سکتا کہ چند اوباش قسم کے لوگ اٹھیں اور یہ کہہ کر کسی کو تشدد کا نشانہ بنائیں کہ اس نے جرم کیا تھا اور ہم نے اس کو یہ سزا دی ہے۔ یہ سراسر قانون شکنی ہے اور ایسا کرنے والوں کو اس کی سزا ملنی چاہیے۔ حملہ آوروں میں سے ایک نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پرشانت کو قانون سزا نہیں دے سکا تھا اس لیے ہم نے سزا دی۔ لیکن جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا تم نے ان کے خلاف کہیں شکایت درج کرائی تھی تو اس نے اس سے انکار کیا۔ دوسری بات یہ کہ ان کا یہ بیان دو ہفتے پہلے کا ہے ان لوگوں کا ضمیر اب کیوں بیدار ہوا۔ اتنے روز تک کیوں سوتا رہا۔ اس سلسلے میں بعض حلقوں سے یہ بات آئی ہے کہ دو روز قبل پرشانت بھوشن نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف بیان دیا تھا۔ اس لیے ان لوگو ںنے انہیں اس جرم کی سزا دی ہے۔ لیکن چونکہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ مودی مخالفت کی وجہ سے یہ کیا گیا ہے لہذا انہوں نے کشمیر پر ان کے بیان کی آڑ لے کر ان کے ساتھ یہ نازیبا حرکت کی ہے۔ بہر حال یہ جو کچھ بھی ہوا ہے انتہائی قابل اعتراض ہے۔ اظہار خیال کی آزادی کا نعرہ لگانے والو ںنے اظہار خیال کی پاداش میں ایک سینئر وکیل کو زد وکوب کیا ہے اور عدالت کے باہر خاموشی سے کھڑے رہنے والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کی اجازت کوئی بھی مہذب سماج نہیں دے سکتا۔ یہ غنڈہ گردی ہے اور فسطائیت ہے۔ غنڈوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہی ان لوگوں کے ساتھ بھی کیا جانا چاہیے۔
( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929)

 

All categories