سہیل انجم
دہشت گردوں کے ہاتھوں جن عالمی رہنماوں کا قتل ہو چکا ہے ان کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہو گیا ہے اور وہ نام ہے افغانستان کے سابق صدر پروفیسر برہان الدین ربانی کا۔ انہیں گدشتہ دنوں کابل میں ان کے گھر ہی میں ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہلاک کر دیا گیا۔ حالانکہ وہاں سخت سیکورٹی تھی لیکن ان کے قتل کی پلاننگ کرنے والے کافی تیز نکلے۔ اس سازش کا جال بننے والے کتنے بے خوف تھے کہ جس نے ایک خود کش کارروائی میں انہیں ہلاک کیا وہ کئی دنوں سے وہاں مقیم تھا۔ در اصل برہان الدین ربانی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف تھے اور اسی کی آڑ لے کر انہیں منظر سے ہٹایا گیا ہے۔ وہ ایران کے دورے پر گئے تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں ایک شخص جس کا نام عصمت اللہ بتایا جا رہا ہے، وہاں ان کا منتظر تھا۔ اس نے سیکورٹی اہلکاروں کو بتایا تھا کہ وہ طالبان کا ایک پیغام لے کر آیا ہے جو وہ صرف برہان الدین ربانی کو ہی بتائے گا۔ ربانی جب واپس آئے تو اس سے ملنے پہنچے ۔ اس نے اپنی پگڑی میں بم چھپا رکھا تھا۔ اس نے ان سے مصافحہ کیا اور از راہ عقیدت ان کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔ لیکن اسی دوران اس نے وہ بٹن دبا دیا جو پگڑی میں چھپائے گئے بم سے منسلک تھا۔ بٹن دباتے ہی وہ پھٹ گیا اور اس شخص کے ساتھ برہان الدین ربانی بھی ہلاک ہو گئے۔ کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس شخص کی جانچ نہیں کی گئی تھی۔ وہ پگڑی میں بم رکھ کر کیسے پہنچ گیا۔ حالانکہ وہاں سخت سیکورٹی کا انتظام تھا۔ ہوا یوں کہ افغانستان میں پگڑی کا بڑا حترام کیا جاتا ہے۔ اگر جانچ کے دوران کسی کی پگڑی اتروانے کی کوشش کی جائے تو اسے اس شخص کی توہین تو سمجھا ہی جاتا ہے ،اسے تہذیبی شناخت کی تذلیل بھی سمجھا جاتا ہے۔ شائد اسی وجہ سے اس کی پگڑی کی جانچ نہیں ہو سکی اور اس نے اسی کا فائدہ اٹھایا اور نہ صرف یہ کہ خود کو بھی ہلاک کر دیا بلکہ ایک عالمی رہنما کو بھی جو کہ امن کے قیام کی کوششوں میں مصروف تھے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔
پروفیسر برہان الدین ربانی گذشتہ دو برسوں سے افغانستان میں قام امن کی کوششوں میں مشغول رہے ہیں۔ وہ طالبان سے امن بات چیت کرتے رہے ہیں ۔ وہ ایک ایسا خاکہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جب 2014میں بین الاقوامی فوجیں افغانستان سے واپس جائیں تووہاں سلامتی کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔ وہ سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ بین الاقوامی افواج کی واپسی کے بعد سلامتی کی باگ ڈور افغان سیکورٹی ایجنسیوں کو ہی سنبھالنی ہے۔ اس لیے وہ ایک ایسے مقصد کے تحت کام کر رہے تھے جو افغانستان کے لیے بہت اہم ہے اور جو نہ صرف اس ملک کے لیے بلکہ پاکستان، ہندوستان اور اس پورے خطے کے لیے بہت اہم ہے۔ طالبان سے امن بات چیت اگر کامیاب ہو جاتی تو افغانستان میں تو صورت حال میں بنیادی تبدیلی آتی ہی اس پورے علاقے میں بھی ایک نیا ماحول قائم ہوتا۔ لیکن شائد وہ لوگ جو امن کے نہیں قتل و خوں ریزی کے رسیا ہیں ، یہ نہیں چاہتے کہ طالبان اور اور افغان حکومت میں کوئی مفاہمت ہو یا تخریبی سرگرمیاں بند ہوں۔ اسی لیے انہوں نے ایک ایسی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا ہے جو اس خطے میں امن کے حوالے سے سب سے مضبوط اور سب سے توانا آواز تھی۔ پروفیسر برہان الدین ربانی کو نہ صرف افغانستان میں بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ وہ 1992سے 1996تک افغانستان کے صدر رہے ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ انہوں نے مصر کی جامعہ ازہر سے اعلی تعلیم حاصل کی تھی اور اسلامی قوانین اور اسلامی فلسفے پر ان کی گہری نظر تھی بلکہ انہیں اسلامی فلسفے پر اتھارٹی سمجھا جاتا تھا۔ لیکن دہشت گردوں نے ان کو خاموش کرکے نہ صرف یہ کہ ایک ذی علم شخصیت کو ختم کر دیا ہے بلکہ امن کے ایک بہت بڑے پیامبر کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔ ان کا قتل بلا شبہہ قیام امن کی کوششوں کے لیے ایک شدید دھچکہ ہے۔ جو لوگ اس محاذ پر کام کر رہے ہیں انہیں اس بات کا احساس ہے کہ امن کی گاڑی کو پٹری سے اتارنے کی جو کوشش کی جا رہی تھی اس میں تخریب پسند عناصر کافی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب اس منصوبے پر کام کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اب تک جو کچھ کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کو زبردست دھچکہ لگا ہے بلکہ یہ کہنا شائد زیادہ مناسب ہو کہ امن کی تلاش کا کام اب نئے سرے سے کرنا ہوگا۔ اب کسی ایسے مسیحا کو ڈھونڈنا ہوگا جو پروفیسر ربانی کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کی جرات رکھتا ہو۔ در اصل انہیں خاموش کرنے والے عناصر نے بہت سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ پروفیسر برہان الدین ربانی اس 70رکنی اعلی سطحی امن کونسل کے سربراہ تھے جو دو برسوں سے اس کام میں لگی ہوئی تھی۔ اگر کسی معمولی کارکن یا لیڈر کو ہلاک کیا گیا ہوتا تو اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا کہ ربانی کے قتل سے پڑا ہے یا پڑے گا۔ امن کے دشمنوں نے سب سے بڑے امن کارکن کو ہلاک کر کے دوسرے لوگوں میں خوف وہراس پیدا کرنے کی ایک کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اب دوسرا کوئی اس امن کونسل کا سربراہ بننے کی جرات نہیں کرے گا۔ شائد وہ اپنے اس منصوبے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امن کا کارواں کبھی رکتا نہیں ہے۔ اس کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں ، دشواریاں پیدا ہوتی ہیں، پیشواو¿ں کو راستے سے ہٹنا پرتا ہے لیکن پھر دوسرے لوگ سامنے آتے ہیں اور امن کے پرچم کو تھام لیتے ہیں اسے گرنے نہیں دیتے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کارواں جو امن کی منزل کی طرف رواں دواں تھا، کچھ دنوں کے لیے پژمردہ ہو جائے اور اس کا حوصلہ عارضی طور پر پستی کا شکار ہو جائے لیکن وہ پھر اٹھے گا وار منزل کی جانب گامزن ہو جائے گا۔ کیونکہ انسانیت کی فلاح وبہبود کے لیے اٹھایا جانے والا قدم کبھی واپس نہیں آتا اور انسانی فلاح کا مقصد بہت بڑا ہوتا ہے، بہت عظیم ہوتا ہے۔ ایسے مقاصد کو خون خرابے سے ناکام نہیں کیا جا سکتا۔
پروفیسر برہان الدین ربانی ہندوستان کے بہت بڑے دوست رہے ہیں۔ وہ جس فارمولے پر کام کر رہے تھے اس سلسلے میں صلاح ومشورہ کی غرض سے ابھی جولائی میں دہلی آئے ہوئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیر حارجہ ایس ایم کرشنا اور دیگر سرکاری اہلکاروں سے ملاقات کی تھی اور امن کے روڈ میپ پر ان سے تبادل خیال کیا تھا۔ ان کے قتل سے ہندوستان کو زبردست صدمہ پہنچا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس واقعہ کو دہشت گردوں او رامن کے دشمنوں کی سازش قرار دیا ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں افغان عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کو یقین دلایا ہے کہ ہندوستان افغانستان کو جو سپورٹ دیتا آیا ہے وہ جاری رہے گی۔ معلوم ہونا چاہیے کہ افغانستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن سے ہندوستان کی گہری دوستی ہے او رجن کی دوستی پر اسے فخر بھی ہے۔ افغانستان میں طالبان کے دور حکومت کو چھوڑ کر کوئی بھی ایسا موقع نہیں آیا جب اس سے ہندوستان کے تعلقات بہت مضبوط اور گہرے نہ رہے ہوں۔ طالبان کے بعد جب افغانستان میں حامد کرزئی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی تو اس نے اس کی بھرپور مدد کی۔ آج افغانستان میں ہندوستان کے کئی ترقیاتی پروجکٹوں پر کام چل رہا ہے۔ اس نے مختلف ذرائع سے اس کی مدد کی ہے اور آج بھی کر رہا ہے۔ مختلف شعبوں میں اس کے افرادی وسائل کو تربیت بھی ہندوستان نے دی ہے۔ وہاں جمہوریت کو مضبوط کرنے اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے بھی اس نے بڑا تعاون دیا ہے۔ ہندوستان ہمیشہ سے یہ کہتا رہا ہے کہ وہ افغانستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پر امن او رمستحکم ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں جمہوریت کو طاقت ملے اور وہ ملک جمہوری انداز میں آگے بڑھتا رہے۔ ہندوستان نے افغانستان کی تعمیر نو میں بڑھ چڑھ کر جو حصہ لیا ہے اس کی اسے بھرپور قیمت بھی ادا کرنی پڑی ہے اور ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ امن کے دشمنوں کو یہ بالکل نہیں بھاتا کہ ہندوستان افغانستان کی مدد کرے۔ اسی لیے ہندوستانی پروجکٹوں پر کام کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کو ہلاک کیا جاتا ہے اور ان میں خوف وہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ہندوستان اپنے قدم واپس کھینچ لے۔ کئی بار ہندوستانیوں پر حملے ہوئے ہیں او ریہاں تک کہ کابل میں واقع ہندوستانی سفارت خانہ کو بھی کئی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہندوستان کے مزدوروں کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی ہے اور افسروں کو بھی۔ انجینئروں کو بھی او ر عام کارکنوں کو بھی۔ وہ اس طرح ہندوستان کا حوصلہ توڑنا چاہتے ہیں لیکن ہندوستان نے اس عز م کا اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ایسی حرکتوں سے ڈرے گا نہیں اور افغانستان کو ایک مضبوط، پر امن، خوشحال او رجمہوری ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر دوبارہ واپس آنے میں اس کی بھرپور مدد کرتا رہے گا۔
بہر حال پروفیسر برہان الدین ربانی کا قتل نہ صرف افغانستان میں بلکہ اس پورے خطے میں قیام امن کی کوششوں کے لیے ایک زبردست دھچکہ ہے او رایک بہت بڑا خسارہ ہے جس کی تلافی آسان نہیں ہے۔ افغانستان کے لیے برہان الدین ربانی کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں۔
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
--9818195929
RABBANI'S MURDER VITAL BLOW TO PEACE INNITIATIVE

برہان الدین ربانی کا قتل قیام امن کے لیے شدید دھچکہ 


