You are here: ایک خبر ایک نظر اینگری ینگ مین بنام لیڈی آئرن Home

اینگری ینگ مین بنام لیڈی آئرن

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
اتر پردیش میں انتخابی میدان جنگ سجنے لگا ہے۔ امیدواروں کی شکل میں فوجیں ترتیب دی جا رہی ہیں اور کچھ دنوں کے بعد صف بندی ہونے لگے گی۔ جن ملکوں میں کثیر جماعتی سیاسی نظام رائج ہے وہاں میدان جنگ میں دو ہی فوجیں ہیں آمنے سامنے نہیں ہوتیں بلکہ کئی افواج ہوتی ہیں اور سب ایک دوسرے کو مارتے کاٹتے آگے بڑھنے میں کوشاں رہتی ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ دو فوجوں میں دوستی کے معاہدے ہوتے ہیں اور پھر بھی وہ آمنے سامنے ہوتی ہیں۔ اسے دوستانہ مقابلہ کہتے ہیں۔ دوستانہ مقابلہ کی اصطلاح بڑی مضحکہ خیز لگتی ہے۔ یعنی ایک دوسرے سے ہاتھ بھی ملائے ہوئے ہیں اور پشت میں خنجر زنی کی تاک میں بھی ہیں۔ بہر حال یو پی میں انتخابی ہنگامہ آرائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ لوگ اپنے اپنے اسلحے تیز کر رہے ہیں اور اپنے ترکشوں میں مختلف اقسام کے تیر رکھنے لگے ہیں۔ اس میدان میں جو بڑے کھلاڑی ہیں ان میں بی ایس پی، سماجوادی پارٹی، بی جے پی اور کانگریس قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ چھوٹی موٹی جماعتیں بھی ہیں جو انتخابی معاہدوں کے ہتھیار لے کر میدان میں اترنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ جیسے کہ اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل، ڈاکٹر ایوب کی جماعت پیس پارٹی آف انڈیا اور مولانا عامر رشادی کی جماعت علما کونسل۔ ان کے علاوہ بھی کچھ ایسی سیاسی جماعتیں نظر آئیں گی جو صرف الیکشن کے میدان ہی میں دکھائی دیتی ہیں۔ کچھ ایسے سپاہی بھی اپنا داو¿ آزماتے ہیں جو یک نفری فوج کے مالک ہوتے ہیں اور جنہیں آزاد فوج کہا جاتا ہے۔ اس طرح پورا میدان ، میدان حشر بنا ہوتا ہے اور حاکم کی کرسی پر عوام جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ فیصلہ انہی کو کرنا ہوتا ہے لیکن کبھی کبھار وہ کنفیوز ہو جاتے ہیں شکوک وشبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جب نتائج سامنے آتے ہیں تو انتخابی افواج کے ساتھ ساتھ وہ بھی حیرت کے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں کہ آخر یہ کیا ہو گیا۔
اتر پردیش میں اس وقت بی ایس پی کی لیڈر مایوتی کی حکومت ہے۔ پہلے یہ ریاست کانگریس کی جھولی میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن تقریباً ۵۲ برسوں سے اس کی جھولی خالی ہے۔ اس ریاست کو بہت اعزاز بھی حاصل تھا۔ یعنی دہلی کا راستہ لکھنو¿ سے ہو کر جاتا تھا۔ جس نے یو پی کو فتح کر لیا وہ دہلی کا حاکم بن گیا۔ لیکن جب سے مخلوط حکومتوں کا دور آیا ہے اس سے یہ اعزاز چھن گیا ہے۔ اب لکھنو¿ سے ہوکر دہلی کا راستہ نہیں گزرتا۔ اب دوسرے روٹ بن گئے ہیں اور کوئی ضروری نہیں کہ جس نے یو پی فتح کر لیا وہ دہلی کے تخت پربھی متمکن ہو جائے۔ ۵۲ سالوں سے یو پی میں ناکامی کے بعد بھی دہلی میں کانگریس کی حکومت ہے۔ لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ اس حکومت کی وہ تن تنہا مالک نہیں ہے بلکہ اس کے کئی حصے دار ہیں۔ کئی معاونین کے کندھوں پر اس حکومت کی کرسی رکھی ہوئی ہے۔ جہاں تک اتر پردیش کی انتخابی جنگ کا تعلق ہے تو وزیر اعلی مایاوتی نے ریاست کو تقسیم کرنے کا ایک ایسا پانسہ پھینک دیا ہے جو شائد ہی ناکام ہو۔ انہوں نے یو پی کو چار ریاستوں اودھ پردیش، پوروانچل، بندیل کھنڈ اور پشچمی پردیش میں تقسیم کرنے کی تجویز کابینہ سے منظو رکرا لی ہے اور یہ تجویز اسمبلی میں پیش کی جانی ہے۔ اگر اسمبلی نے بھی اسے منظوری دے دی جس کا قوی امکان ہے تو اسے مرکز کے پاس بھیجا جائے گا اور صدر جمہوریہ کی مہر لگنے کے بعد یو پی کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ یوں تو چھوٹی ریاستوں کی بات اکثر وبیشتر اٹھتی رہی ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ چھوٹی ریاستیں ہی ترقی کرسکتی ہیں۔ جبکہ یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے۔ اس ملک میں ایسی کئی چھوٹی ریاستیں ہیں جو ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ بہر حال اس سلسلے میں گفتگو تو ہوتی رہی ہے لیکن کوئی تحریک نہیں چلی ہے۔ سیاسی مصلحت کوشیوں کے تحت ہرت پردیش اور پوروانچل کا نعرہ لگایا جاتا رہا ہے۔ لیکن وہ نعرہ بھی بہت دمدار نہیں تھا۔ چودھری اجیت سنگھ اور بعد میں امر سنگھ نے اپنے پیروں کے نیچے پختہ سیاسی زمین کی تلاش کی کوشش میں یہ نعرہ لگایا تھا۔ لیکن جیسی تحریک جھارکھنڈ کے لیے چلی تھی یا جیسی اس وقت تیلنگانہ کے لیے چل رہی ہے ویسی تحریک یو پی میں کبھی چلی ہی نہیں۔ یہ آگے چل کر دیکھنے کی بات ہوگی کہ اس تجویز یا پھر تقسیم سے کس کو سیاسی فائدہ پہنچے گا۔ ابھی تو مایاوتی کے اس قدم کی مخالفت ہو رہی ہے اور تقریباً تمام بڑی پارٹیاں مخالفت کر رہی ہیں۔ لیکن آگے کیا ہوگا کہا نہیں جا سکتا۔
یو پی میں حکومت مایاوتی کی ہے جسے چھیننے کی کوشش کانگریس کر رہی ہے۔ اس نے راہل گاندھی کو بہت پہلے سے ہی میدان میں اتار رکھا ہے۔ جو ریاست کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور غریبوں اور دلتوں کے دلوں میں جگہ بنانے کے لیے ان کے گھروں میں شب بسری کر رہے ہیں اور ان کے یہاں کے بنے ہوئے کھانے بھی کھا رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ ان کے اس قدم نے دلتوں اور کمزور طبقات کے دلوں میں کانگریس کے لیے کوئی جگہ متعین کر دی ہو۔ مسلمانوں کا معاملہ بھی سامنے ہے۔ گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں مسلمانوں نے کانگریس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ لیکن اس حکومت سے انہیں کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے بر عکس دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری تیز ہو گئی ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پارلیمانی الیکشن کی مانند اسمبلی الیکشن میں بھی مسلمان کانگریس کے حق میں پول کریں گے۔
بات ایک بار پھر راہل گاندھی کی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ ان کی شریفانہ امیج سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے تو انہوں نے فلمی اسٹائل میں امیج سازی کی کوشش شروع کر دی ہے۔ فلمی دنیا میں امیتابھ بچن نے اینگری ینگ مین کے رول میں ایک طویل عرصے تک فلم شائقین کے دلوں پر راج کیا۔ اب راہل گاندھی چاہتے ہیں کہ وہ بھی اینگری ینگ مین کا رول ادا کر کے عوام کے دلوں میں چھا جائیں۔ انہوں نے ابھی گذشتہ دنوں پھول پور میں ایک بڑی ریلی کر کے اپنے غصے کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب تک نیتاو¿ں کے دلوں میں غصہ نہیں آئے گا وہ عوام کا کوئی کام نہیں کر پائیں گے۔ جب تک نیتا لوگ دلت اور غریب کے گھر میں رات نہیں گزاریں گے اور ان کے یہاں کا بنا ہوا کھانا نہیں کھائیں گے اور کنویں کا گندا پانی نہیں پئیں گے اس وقت تک ان کو غریبوں کی پریشانیوں کا ادراک نہیں ہوگا ان کے مسائل کا احساس نہیں ہوگا۔ شائد اسی لیے وہ غریبو ںکے گھروں میں رات گزارتے ہیں، ان کے یہاں کھانا کھاتے ہیں اور غریب بچوں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چہل قدمی کرتے ہیں۔ لیکن سیاسی مشاہدین اسے ایک بچکانہ قدم سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح مسائل سمجھے نہیں جاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ جو دوسروں کے درد میں شریک نہیں ہوگا اسے اس درد کا احساس نہیں ہوگا۔لیکن یہ شرکت خلوص کے ساتھ ہونی چاہیے سیاسی مفاد پرستی کی خاطر نہیں۔ لیکن ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو یہ کہتا ہے کہ راہل گاندھی کے اندر کم از کم اتنی اخلاقی جرات تو ہے کہ وہ غریبوں کے گھروں میں جائیں ان کا کھانا کھائیں اور ان کا پانی پئیں او ران کی چارپائی پر رات گزاریں۔ دوسرے نیتا تو ایسا بھی نہیں کرتے اور دکھاوے کی خاطر بھی ایسا نہیں کرتے۔
ادھر دوسری طرف مایاوتی ہیں جو اب تک جانے کتنے سیاسی دگجوں کے کان کاٹ چکی ہیں۔ وہ اپنے انتخابی نشان ہاتھی کی مانند آگے بڑھتی رہتی ہیں۔ دوسروں کی مخالفتوں کی انہوں نے بہت کم پروا کی ہے۔ انہوں نے اپنی امیج ایک خاتون آہن یا لیڈی آئرن کی بنا رکھی ہے۔ وہ راہل گاندھی کی سیاست او ران کے الزاموں کا جواب بھی بھرپور انداز میں دیتی ہیں۔ وہ اپنے کسی بھی عمل سے یہ باور نہیں کراتیں کہ وہ مرعوب ہو گئی ہیں اور کسی الزام کے نیچے دب گئی ہیں۔ انہوں نے کانشی رام سے جو کچھ سیکھا تھا اس کو بروئے کار لا رہی ہیں بلکہ کانشی رام کی سیاست سے بھی آگے نکل گئی ہیں۔ کانشی رام نے تو صرف دلتوں کی سیاست کا نعرہ بلند کیا تھا او ران میں ایک احساس بیداری پیدا کیا تھا۔ مایاوتی اپنے اقتدار کو دراز کرنے کی خاطر دوسری ذاتوں کا بھی سہارا لیتی ہیں۔ بڑی ذاتوں کی مخالفت بی ایس پی کی بنیاد تھی لیکن اب انہیں بڑی ذاتوں کے لوگ ان کے اقتدار کی پالکی کے کہار بنے ہوئے ہیں۔ پہلے مسلمان اقتدار کی پالکی کے کہار ہوا کرتے تھے اب انہیں اس جگہ سے بھی بے دخل کر دیا گیا ہے۔ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی اپنی اینگری ینگ مین کی امیج سے یو پی کے رائے دہندگان کو اپنا ہمنوا بنا پائیں گے۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ اس قسم کی امیج فلموں میں تو چل سکتی ہے حقیقی زندگی میں نہیں چل سکتی۔ اور وہ بھی سیاسی میدان میں اس کے سہارے کوئی کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔
( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929)

 

All categories