You are here: ایک خبر ایک نظر رشدی تنازعہ کا ذمہ دار کون، فیسٹیول کے منتظمین یا مسلمان؟ Home

رشدی تنازعہ کا ذمہ دار کون، فیسٹیول کے منتظمین یا مسلمان؟

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
اظہار خیال کی آزادی کا حق ہر کس وناکس کو حاصل ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ اس آزادی پر کچھ پابندیاں بھی ہیں۔ کوئی بھی آزادی بے لگام نہیں ہو سکتی۔ اس کو کچھ ضابطوں کا پابند ہونا پڑتا ہے اور اگر ان ضابطوں کا لحاظ نہ کیا جائے تو وہ آزادی آزادی نہ ہو کر غنڈہ گردی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اظہار خیال کی آزادی دنیا کے ہر باشندے کو ہر ملک میں حاصل ہے اور لوگ اس سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ مسئلہ وہاں کھڑا ہو جاتا ہے جہاں اس آزادی کو شتر بے مہار کی مانند کھلا چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی بولنے کی آزادی کے تعلق سے کوئی تنازعہ پیدا ہوا ہے ، اس کے مرکز میں یہی ضد کارفرما رہی ہے کہ اظہار خیال پر کوئی بندش نہ لگائی جائے، کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور اس کو کسی ضابطے کا پابند نہ بنایا جائے۔ جب بھی کوئی شخص ایسا مطالبہ کرتا ہے یا بولنے کی آزادی کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو فطری طور پر سماج اور معاشرے میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور ایک انارکی کی صورت حال جنم لے لیتی ہے۔
گذشتہ ہفتے اسی قسم کا ایک تنازعہ سیاسی اور سماجی مطلع پر چھایا رہا ۔ اس کا تعلق متنازعہ ناول نگار سلمان رشدی سے ہے۔ جے پور میں منعقد ہونے والے ادبی فیسٹیول کے منتظمین نے رشدی کو مدعو کرکے غیرضروری طور پر ایک ہنگامے کو دعوت دے دی۔ جبکہ ان کو بھی یہ معلوم تھا کہ رشدی نے ایک اہانت انگیز ناول ”شیطانی آیات“ لکھ کر پوری مسلم دنیا کی ناراضگی مول لے لی ہے۔ ایرانی انقلاب کے پیشوا آیت اللہ خمینی نے اس کتاب کی پاداش میں رشدی کے قتل کا فتوی صادر کیا تھا جس کے بعد وہ ممالک اس متنازعہ ناول نگار کی پناہ گاہ بن گئے جہاں دوسرے مذاہب کو برا بھلا کہنے اور ان کی شان میں گستاخیاں کرنے کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ اس اعلان کے بعد کس طرح رشدی کی سیکورٹی پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں اور کس طرح ان کو چھپ چھپا کر پروگراموں میں شرکت کرنی پڑتی ہے اس بارے میں زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پوری دنیا اس سے باخبر ہے۔ جے پور کے منتظمین بھی اس سے آگاہ تھے اور ان کو یہ اندیشہ رہا ہوگا کہ اگر رشدی کو بلایا جاتا ہے تو یہاں کے مسلمان اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اس کے باوجود رشدی کو دعوت نامہ بھیجا گیا۔ اور پھر وہی ہوا جس کا اندازہ تھا۔ یعنی مسلم تنظیموں کی جانب سے رشدی کی آمد کی مخالفت کی گئی او رکہا گیا کہ ایک ایسا شخص جس نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کیا ہے اور جس کے ناول پر ہندوستان میں پابندی عائد ہے اس کو اس ادبی تقریب میں شرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سلسلے میں کئی روز تک ابہام اور شش وپنج کی کیفیت قائم رہی۔ کبھی کہا گیا کہ وہ آرہے ہیں کبھی کہا گیا کہ نہیں آرہے ہیں۔ کبھی کہا گیا کہ حکومت نے اجازت نہیں دی ہے تو کبھی کہا گیا کہ اجازت مل گئی ہے۔ بہر حال ملک کے مختلف حصوں میں اس دوران احتجاج کی لہریں اٹھتی رہیں۔ بالآخر سلمان رشدی نے ہی اعلان کیا کہ وہ نہیں آر ہے ہیں۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ ممبئی اور راجستھان کے خفیہ ذرائع نے ان کو اطلاع دی ہے کہ اگر وہ آتے ہیں تو ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انڈر ورلڈ کے کرائے کے قاتل ان کا پتہ صاف کر سکتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر انھوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ لیکن ان کی جانب سے بتائی گئی یہ بات جھوٹی نکلی اور ممبئی کی پولیس نے خطرے کی کوئی بھی اطلاع دینے سے انکار کیا۔ اس کے بعد رشدی نے ایک اور قلابازی کھائی اور الزام لگایا کہ پولیس نے ان کو روکنے کے لیے خطرے کی جھوٹی خبر ان کو دی جس سے انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے۔ ان کے اس الزام کو بھی مسترد کر دیا گیا اور راجستھان کے وزیر اعلی نے کہا کہ رشدی جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس کے بعد رشدی کی رہی سہی عزت بچانے کے لیے اعلان کیا گیا کہ وہ فیسٹیول کے آخری روز ویڈیو کے ذریعے شرکا سے خطاب کریں گے۔ جبکہ منتظمین اس سے آگاہ تھے کہ کس طرح اس معاملے پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور وہ اس تقریب سے ِرشدی کی کسی بھی قسم کی وابستگی کو گوارا نہیں کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود اس پر اصرار کیا جاتا رہا کہ وہ ویڈیو کانفرنسنگ کریں گے۔ اسی دوران کچھ مسلم تنظیموں کے کارکن تقریب گاہ میں پہنچ گئے اور انھوں نے کہا کہ وہ ویڈیو کانفرنسنگ نہیں کرنے دیں گے۔ بہر حال مسلم نمائندوں، منتظمین اور مقامی حکام کے مابین مذاکرات کے بعد طے پایا کہ رشدی کی ویڈیو کانفرنسنگ نہیں ہوگی۔
ادبی فیسٹیول کے ذمہ داران اور دوسرے روشن خیال اور ترقی پسند ادیبوں اور قلمکاروں نے اس پورے تنازعہ کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ریاستی حکومت شدت پسندوں کے آگے جھک گئی ہے۔ ہمیں اظہار خیال کی آزادی نہیں دی گئی اور ہماری توہین کی گئی ہے۔ لیکن اگر اس پورے معاملے پر غور کیا جائے تو اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کہ اس کے لیے ادبی فیسٹیول کے منتظمین ذمہ دار ہیں نہ کہ مسلمان۔ جب ان کو یہ پتہ تھا کہ سلمان رشدی کی تحریروں سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں تو پھر ان کو اتنی اہمیت دینے کی کیا ضرورت تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ فیسٹیول کے دوران چار ناول نگاروں نے رشدی کے اس ناول کے اقتباسات پڑھ کر سنائے جو ہندوستان میں ممنوع قرار دیا جا چکا ہے اور جس میں مصنف نے اسلام، پیغمبر اسلام، صحابہ کرام اور امہاة المسلمین کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔ اس ناول کے اقتباسات کے پڑھنے کا مطلب تو یہی ہوا کہ جان بوجھ کر مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ اور پھر جب ایک کتاب پر کسی ملک میں پابندی لگا دی گئی ہے تو اس کا پڑھنا اور وہ بھی علی الاعلان پڑھنا اس ملک کے آئین وقانون کی خلاف ورزی کرنا اور مذاق اڑانا بھی ہے۔ اسی لیے ان چاروں مصنفوں کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کی گئی ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ منتظمین نے جان بوجھ کر یہ تنازعہ پیدا کیا تاکہ ان کے پروگرام کی اہمیت بڑھ جائے۔ اس کو میڈیا میں اچھی خاصی کوریج ملے۔ اور وہ اس میں کامیاب رہے۔ اگر انھوں نے عمداً رشدی کا مسئلہ کھڑا نہ کیا ہوتا تو اس فیسٹیول کو اتنی کوریج نہیں ملتی۔ یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے کہ کسی بھی معاملے کو اگر اہم بنانا ہے تو اس کے بارے میں ایک تنازعہ کھڑا کر دیا جائے۔ فلمی دنیا والے اس فارمولے سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گویا اس تقریب کے کرتا دھرتا اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ اگر انھوں نے یہ سب کھڑاگ نہ پھیلایا ہوتا تو اس معاملے پر اتنا ہنگامہ نہیں ہوتا۔ ہاں کچھ لوگوں کی یہ باتیں بھی درست معلوم ہوتی ہیں کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دے دیا گیا تاکہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔
جہاں تک مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کا معاملہ ہے تو انہیں اس کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن احتجاج میں بھی ایک سلیقہ ہونا چاہیے۔ اگر منظم انداز میں احتجاج کیا جائے تو اس پر لوگوں کی توجہ بھی مبذول ہوتی ہے اور وہ رنگ بھی لاتا ہے۔ اس سے قبل جو بھی احتجاج ہوتے رہے ہیں وہ بے ہنگم اور غیر منظم ہوتے رہے ہیں۔ اس بار بھی کوئی منظم انداز نہیں اپنایا گیا لیکن اطمینان بخش بات یہ رہی کہ اس کی آڑ میں کچھ لوگ ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکے جو عموماً ایسے مواقع پر اٹھاتے رہتے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بات بھی کہہ دینے کی ہے کہ رشدی جیسے مصنفوں اور ناول نگاروں کو بہت زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی بار ہندوستان آئے ہیں اور اسی جے پور ہی میں آئے ہیں۔ لیکن جب کوئی احتجاج نہیں کیا گیا تو وہ خاموشی سے آئے اور خاموشی سے چلے گئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہو سکی اور رشدی کو اتنی شہرت بھی نہیں مل سکی۔ لہٰذا اگر اس بار بھی مسلمانوں نے خاموشی اختیار کی ہوتی یا ابتدائی احتجاج کے بعد چپ ہو گئے ہوتے تو رشدی کو یہ شہرت نہیں ملتی۔ حالانکہ ان کو ورغلانے اور مشتعل کرنے کی کوشش منتظمین کی جانب سے ہی ہوئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایسی چالوں میں نہ پھنسیں اور دشمنوں کے بچھائے ہوئے جال سے ہوشیار رہیں۔
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929 )

 

All categories