You are here: ایک خبر ایک نظر دو ملک،دو عدالتیں، دو فیصلے اور دونوں اہم Home

دو ملک،دو عدالتیں، دو فیصلے اور دونوں اہم

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
دو فروری کی تاریخ اس بر صغیر کے لیے یادگار تاریخ بن گئی ہے۔ اس روز ہندوستان اور پاکستان کی سپریم کورٹوں نے دو انتہائی اہم فیصلے سنائے ہیں۔ایک طرف ہندوستان کی عدالت عظمیٰ نے سابق اور داخل زنداں سابق وزیر مواصلات اے راجا کے دور میں2جی( سکنڈ جنریشن) اسپکٹرم کے لیے الاٹ کیے گئے تمام122 لائسنس رد کر دیے اور ٹیلی مواصلات کی ان تین کمپنیوں پر پانچ پانچ کروڑ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جنھوں نے لائسنس حاصل کرنے کے بعد اپنے حصص فروخت کر دیے تھے تودوسری جانب پاکستان کی سپریم کورٹ نے، جہاں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چل رہا ہے، ان کو 13 فروری کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا ہے تاکہ ان پر فرد جرم عائد کی جا سکے۔ اس سے قبل وہ 19جنوری کو حاضر ہوئے تھے۔ہندوستان میں ٹو جی اسپکٹرم کا جو معاملہ ہے وہ کھلی ہوئی بد عنوانی ہے۔ جبکہ پاکستان کا مذکورہ معاملہ بھی بد عنوانی کی جڑوں میں پیوست ہے۔ وہاں کے موجودہ صدر آصف زرداری کا ماضی بے داغ نہیں رہا ہے۔ وہ بھی متعدد بدعنوانیوں میں ملوث رہے ہیں۔ ہندوستان کے بیشتر سیاست دانوں اور تاجروں کی مانند ان کے بھی سوئیس بینکوں میں کھاتے ہیں۔ سوئیس بینکوں میں کھاتوں کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اس میں جو بھی رقوم جمع ہیں وہ بد عنوانی اور بے ایمانی سے حاصل کی گئی ہیں، انھیں چھپانے کے لیے ہی ان بینکوں میں جمع کیا گیا ہے اور ایسی رقوم کو بلیک منی کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں تو یہ معاملہ کافی اچھل رہا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اربوں کھربوں روپے سوئیس بینکوں میں جمع ہیں۔ جن کو واپس لانے کے لیے بعض سیاسی جماعتیں حکومت پر زور ڈال رہی ہیں۔
ٹو جی اسپکٹرم بد عنوانی کا معاملہ کافی آگے تک چلا گیا تھا جس کی پاداش میں سابق وزیر اے راجا کو جیل جانا پڑا ہے۔ 2 فروری کو اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ان کے دور میں منظور کیے گئے تمام لائسنسوں کو رد کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا ہے کہ قومی دولت کو اس طرح لوٹ کر لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل یعنی سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق جو لائسنس منظور کیے گئے تھے ان سے سرکاری خزانے کو ایک لاکھ ۶۷ ہزار کروڑ روپے کا خسارہ ہوا ہے۔ لہٰذا اس کی بھرپائی کی ضرورت ہے۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب وہ تمام لائسنس رد کر دیے جائیں اور ٹیلی فون ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ٹرائی از سرنو لائسنس دینے کی سفارش کرے اور حکومت اس پر عمل کرتے ہوئے بولی لگا کر دوبارہ لائسنس جاری کرے۔ اس سلسلے میں حکومت کا موقف یہ رہا ہے کہ اس کی جانب سے اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے، اس نے تو سابقہ این ڈی اے حکومت کے دور میں مقرر کیے گئے ضابطے کے مطابق لائسنس دیے تھے۔ لیکن عدالت نے اسے تسلیم نہیں کیا اور نئے سرے سے لائسنس دینے کا حکم جاری کر دیا۔ اس فیصلے سے کل ۹ کمپنیاں متاثر ہوئی ہیں۔ لیکن صارفین کو کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ البتہ ان کو دوسری کمپنیوں میں اپنا نمبر پورٹ کرانا پڑے گا۔ ان کمپنیوں میں کل چھ کروڑ صارفین ہیں۔ اس صورت حال سے یہ اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اب موبائیل کال کی شرحوں میں اضافہ ہو جائے گا۔
سپریم کے جن دو ججوں نے یہ فیصلہ سنایا ہے ان میں سے ایک جسٹس اے کے گانگولی کا وہ آخری فیصلہ تھا جو انھوں نے اپنی سبکدوشی سے محض چند گھنٹے پہلے سنایا۔ اے کے گانگولی نے جج کی حیثیت سے اپنی زندگی میں متعدد اہم فیصلے سنائے ہیں۔ جن میں شائد یہ سب سے اہم فیصلہ ہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ میں اپنی الوداعیہ کی تقریب میں بولتے ہوئے کہا کہ جج کی حیثیت سے میری اننگس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں نے اپنی اننگس اچھی طرح سے کھیلی ہے یا نہیں لیکن میں نے ہمیشہ سیدھے بلے سے کھیلا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا عوام کا کام ہے کہ میری کارکردگی کیسی رہی ہے۔ اٹارنی جنرل جی ای واہن وتی نے جسٹس اے کے گانگولی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سخت جج رہے ہیں اور وہ یہ بات ان کی ستائش میں کہہ رہے ہیں برائی میں نہیں۔ بد عنوانی کے خلاف لڑائی ان کی زندگی کا محبوب موضوع رہا ہے۔ چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیا نے بھی ان کی ستائش کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے جوڈیشیل حلقے میں اپنی خاص شناخت قائم کی تھی اور اس حلقے نے بھی ان کی خاصی پذیرائی کی ہے۔
بہر حال ٹو جی اسپکٹرم کا معاملہ ہندوستان میں کافی ہنگامہ خیز رہا ہے۔ حزب اختلاف نے اس معاملے پر بارہا پارلیمنٹ میں رخنہ اندازی کی اور ایک بار تو پارلیمنٹ کے اجلاس کی پوری مدت ہی اس کی نذر ہو گئی اور اس میں کوئی کام نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں یک رکنی سیاسی پارٹی جنتا پارٹی کے صدر سبرامنیم سوامی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور اس سلسلے میں حکومت کو بھی ذمہ دار قرار دینے کی سفارش کی تھی۔ لیکن عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت کو قصور وار نہیں گردانا ہے۔ بلکہ براہ راست طور پر اے راجہ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اس نے کمپنیوں کو بھی قصوروار نہیں بتایا ہے۔ کیونکہ وہ اس معاملے میں فریق نہیں تھیں۔ البتہ اگر وہ اب اس فیصلے کو چیلنج کرتی ہیں تو عدالت ان کو نہیں چھوڑے گی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ ٹو جی معاملے میں حکومت کی ٹانگ پھنسی ہوئی تھی۔ لیکن اب جبکہ عدالت نے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں تو حکومت کو اس تنازعہ سے باہر نکلنے کا ایک راستہ مل گیا ہے۔ حالانکہ حکومت نے اصرار کیا ہے کہ اس نے سابقہ این ڈی اے حکومت کے پالیسی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے لائسنس جاری کیے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس بارے میں حکومت کو ذمہ دار قرار دیتی ہے یا نہیں۔ کیونکہ حکومت پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے 2001کے پالیسی فیصلے پر2008 میں عمل کیا اسے اپنا ضابطہ مقرر کرنا چاہیے تھا نہ کہ سابقہ ضابطے پر عمل کرنا۔ اس فیصلے کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سبرامنیم سوامی اور بعض سیاسی جماعتوں کا یہ الزام عدالت میں ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ حکومت بذات خود اس اسکینڈل میں ملوث رہی ہے اور وزیر اعظم بھی اس کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے کہ اے راجہ۔ عدالت نے اے راجہ کو قصوروار قرار دیتے ہوئے افسران کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا ہے کہ وہ مجبور تھے ان کی بات ماننے کے لیے اگر وہ حکم نہیں مانتے تو راجہ کے عتاب کا شکار ہو جاتے۔ اس طرح ایک بہت اہم معاملے میں عدالت عظمی نے ایک بہت اہم فیصلہ صادر کر کے حکومت کو ایک مصیبت سے باہر نکال دیا ہے اور بد عنوانی کے ایک بہت بڑے معاملے کو ایک واضح رخ دے دیا ہے۔
جہاں تک پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے کی بات ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے دور رس اثرات مرتب ہو ں گے۔ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر الزام ہے کہ انھوں نے سپریم کورٹ کے اس حکم پر کوئی کارروائی نہیں کی جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے بینک کھاتوں کے سلسلے میں سوئیس حکومت کو خط لکھیں۔ انھوں نے اس فیصلے پر کوئی کارروائی نہیں کی جس پر عدالت نے انھیں پہلے بذات خود حاضر ہونے کی ہدایت دی اور پھر دو فروری کی سماعت کے دوران کہا کہ وہ 13فروری کو عدالت میں بذات خود حاضر ہوں تاکہ ان پر الزامات عائد کیے جا سکیں۔ حالانکہ ان کی دلیل تھی کہ آصف علی زرداری کو صدر کی حیثیت سے قانونی کارروائی سے استثنی حاصل ہے اس لیے وہ اس فیصلے پر عمل کرنے سے معذور تھے۔ لیکن عدالت نے ان کی یہ دلیل تسلیم نہیں کی۔ اگلی سماعت پر ان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس وقت کے مشیر قانون نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سوئیس حکومت کو خط نہ لکھیں کیونکہ صدر کے خلاف سویئٹزر لینڈ میں کوئی مقدمہ نہیں چل رہا ہے۔ انھوں نے اس مشورے پر عمل کیا اور اس طرح ان کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ لیکن عدالت نے یہ دلیل تسلیم نہیں کی۔ اس نے اعتزاز احسن کی یہ دلیل بھی نہیں مانی کہ اگر وزیر اعظم خط لکھتے اور سوئیس حکومت کوئی کارروائی نہیں کرتی تو اس میں پاکستانی عدلیہ کی بد نامی ہوتی۔ ججوں نے اس پر کہا کہ آپ عدلیہ کو بیرون ملک بدنامی سے بچانا چاہتے ہیں خواہ اندرون ملک اس کی کتنی ہی بدنامی کیوں نہ ہو۔ بعد میں اعتزاز احسن نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ اس ملک میں اس سے قبل تین سویلین وزرائے اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا ہے اور اب یہ چوتھا معاملہ ہے لیکن عدالتیں فوجی افسروں کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں کرتیں جبکہ ایک فوجی حکمراں نے چیف جسٹس اور کئی ججوں کو ان کے اہل خانہ سمیت خانہ قید کر دیا تھا۔
بہر حال اب13 فروری کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی عدالت میں حاضر ہوں گے جہاں ان پر الزامات طے کیے جائیں گے اور ان کے خلاف مقدمہ چلے گا۔ اگر ان کا جرم ثابت ہو جاتا ہے تو وہ اپنے عہدے سے برطرف کیے ہی جائیں گے ممکن ہے کہ جیل کی ہوا بھی کھانی پڑے۔ در اصل پاکستان میں عدلیہ کو اتنی آزادی اور اختیارات حاصل نہیں ہیں جتنے کہ ہندوستان میں حاصل ہیں۔ وہاں کے حکمراں اور بالخصوص فوجی حکمراں آئین وقانون میں اپنی مرضی اور مفاد کے مطابق ترامیم کرتے رہے ہیں اور عدلیہ کو بھی اپنے احکامات کا پابند بناتے رہے ہیں۔ اسی لیے وہاں عدلیہ کے تئیں اس جواب دہی کا احساس نہیں ہے جو ہونا چاہیے یا جو ہندوستان میں ہے۔ لیکن اس بار وہاں کی عدالت بہت سخت ہو گئی ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے وقار کی جنگ لر رہی ہے۔ یہ اس کی بے توقیری ہی ہے کہ اس کے احکامات پر عمل نہ کیا جائے۔ اس بار ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ وہ سب کچھ نہیں ہونے دے گی جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ یہ کتنی افسوسناک بات ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم کا برسرعام قتل ہو جاتا ہے اور اس کے شوہر نامدار صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں اور پھر بھی قاتلوں کا نہ کوئی سراغ لگتا ہے نہ ان کو کوئی سزا دی جاتی ہے۔ اس کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے فرائض اور ذمہ داریوں پر مصلحت کوشیوں کا غلبہ ہے۔ جب تک پاکستان کے سیاست داں مصلحت اندیشی اور مفاد پرستی کے خول سے باہر نہیں نکلیں گے وہاں اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار عدلیہ اپنے وقار کے تحفظ میں کامیاب ہوتی ہے یا قانونی داو¿ پیچ یا پھر نئی قانون سازی کر کے اس کی سرگرمیوں کو پا بہ زنجیر کر دیا جاتا ہے۔

 

All categories