سہیل انجم
سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین جسٹس مارکنڈے کاٹجو جب بھی کوئی بیان دیتے ہیں تو عموماً لوگ اسے متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ اردو کے آفاقی شاعر مرزا غالب کو بھارت رتن دینے کے ان کے مطالبے کو بھی کچھ لوگوں نے متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کئی ماہ قبل اس نوعیت کا بیان دیا تھا۔ لیکن اس وقت اس پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا۔ لیکن جب کرکٹ کھلاڑی سچن تیندولکر کو بھارت رتن دیے جانے کے مطالبے کے بعد انہوں نے یہ مطالبہ پھر دوہرایا تو بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت کی اور مرزا غالب کو بھارت رتن دینے کے مطالبے پر سوال اٹھایا۔ سچن تیندولکر کو بھارت رتن دیے جانے کا مطالبہ ایک طبقے کی جانب سے ایک عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ دنوں جب حکومت نے بھارت رتن دینے کے ضابطے میں ترمیم کی اور کھلاڑیوں کو بھی اس اعزاز کا اہل مانا گیا تو سب سے پہلے جس شخصیت کو یہ اعزاز دینے کا مطالبہ اٹھا وہ سچن تیندولکر تھے۔ ان کے بعد ہاکی کھلاڑی میجر دھیان چند کی طرف بھی دھیان گیا ۔ ملک کا ایک بڑا طبقہ ان دونوں کھلاڑیوں کو بھارت رتن دینے کی وکالت کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے اپنے شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیات سے بھی اس مطالبے کی حمایت میں بیانات دلوائے جانے لگے ہیں۔
ابھی اس مطالبے سے اٹھی گرد بیٹھی بھی نہیں تھی کہ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے مرزا غالب کو بھارت رتن دینے کا اپنا مطالبہ دوہرا دیا۔ جس پر کچھ لوگوں کی پیشانیاں شکن آلود ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے مطالبے میں وزن پیدا کرنے کے لیے کہا کہ بھارت رتن اس کو دیا جانا چاہیے جس نے معاشرے کی کوئی خدمت کی ہو خواہ یہ اعزاز کسی کو بعد از مرگ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ پہلے بھی بعد از مرگ بھارت رتن سے سردار پٹیل اور بی آر امبیڈکر کو سرفراز کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کرکیٹرس اور فلم اداکاروں کو بھارت رتن دینے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے لوگوں کو ملک کا یہ سب سے باوقار اعزاز دیا جائے گا تو یہ اس اعزاز کا مذاق ہوگا۔ اس سے ہم تہذیبی زوال میں گریں گے اور اپنے اصل ہیروز کو فراموش کر دیں گے۔ آج ہمارا ملک ایک چوراہے پر کھڑا ہے اسے کسی ایسی شخصیت کی ضرورت ہے جو ملک کو آگے لے جا سکے۔ انہوں نے سچن تیندولکر اور دیو آنند کا نام لے کر کہا کہ فلمی شخصیات ہمارے ہیرو نہیں ہیں۔انہوں نے غالب کو اس اعزاز کا حقدار قرار دیا اور کہا کہ اس وقت ان سے بہتر اور کوئی دوسرا اس کا حقدار اور اہل نہیں ہے۔ جب انہوں نے پہلی بار یہ مطالبہ نئی دہلی میں منعقدہ جشن بہار کے مشاعرے میں کیا تھا تو اس کی تائید لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار، وزیر قانون سلمان خورشید اور چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مرزا غالب سے بہتر اور کوئی ہماری مشترکہ تہذیب کا نمائندہ نہیں ہے۔ انہوں نے تمام اردو دوستوں سے اپیل کی تھی کہ وہ وزیر اعظم سے مطالبہ کریں کہ غالب کو یہ اعزاز دینے کے لیے وہ اس اعزاز کے ضابطے میں ترمیم کی سفارش کریں۔ انہوںنے سرکردہ بنگالی مصنف شرت چندر چٹوپادھیائے کو بھی بھارت رتن دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
جہاں تک مرزا غالب کا تعلق ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک آفاقی شاعر تھے۔ لیکن ان کے زمانے میں ان کو نہیں پہچانا گیا۔ ان کو اس کا قلق بھی رہا کہ ان کو وہ مقام نہیں مل رہا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے بیشتر اشعار میں اس بات کا اظہار کیا کہ اگر لوگ انہیں نہیں پہچانتے تو نہ پہچانیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ایک بڑے شاعر ہیں اور آئندہ کی نسلیں ان کو پہچانیں گی۔ اور یہ بات سچ بھی تھی کہ وہ ایک بڑے شاعر تھے اور یہ بھی سچ ہے کہ بعد کی نسلوں نے ان کی اہمیت سمجھی اور ان کے فن کی قدر کی۔ ان کے انتقال کے ڈیڑھ سو سال بعد آج پوری دنیا مرزا غالب کو ان کا مقام دینے کو تیار ہے۔ ان کا دیوان اگر چہ بہت مختصر ہے او ر جیب میں رکھا جا سکتا ہے لیکن اس کی اہمیت آج کسی بڑے شاعر کے ضخیم دیوان سے کم نہیں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کو اپنی فارسی شاعری پر ناز تھا اردو شاعری پر نہیں۔ لیکن ان کی اردو شاعری ہی آج انہیں وہ مقام دلا رہی ہے جو انگریزی کے ادیب اور ڈرامہ نگار شیکسپیئر کو حاصل ہے۔ ملک کے نامور ادیب و نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ کے مطابق غالب کے کلام میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے جس کی تلاش آسان نہیں ہے۔ ان کے کلام کی بڑی تعداد میں شرحیں لکھی گئی ہیں اور ہر شرح ایک دوسرے سے مختلف ہے اور شرح نویسی کا سلسلہ جاری ہے، جو آگے بھی جاری رہے گا۔ غالب ہندوستان کے بڑے شاعر تو ہیں ہی وہ عالمی سطح کے بھی شاعر ہیں۔ وہ مشکل گو اور پیچیدہ پسند شاعر ہیں لیکن سب سے زیادہ انہی کے اشعار پسند کیے جاتے ہیں، سب سے زیادہ تفہیم انہی کے کلام کی ہو رہی ہے، سب سے زیادہ انہی کے اشعار کی مثالیں دی جاتی ہیں اور سب سے زیادہ انہی کے اشعار لوگوں کو یاد ہیں۔ غالب نے بارہ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی تھی اور ابتدا سے ہی وہ مشکل گو رہے ہیں۔ ۹۱ سال کی عمر تک ان کا تخلص اسد تھا جسے بعد میں انہوں نے غالب کر دیا۔ اس وقت دنیا کے جو بڑے شعرا ہیں اور جن کی عالمی حیثیت ہے ان کے اشعار کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن غالب کے اشعار کی تعداد محض اٹھارہ سو ہے اس کے باوجود وہ ایک عالمی شاعر ہیں۔ جبکہ شیکسپیئر اور دیگر بڑے عالمی شعرا کا کلام کئی کئی جلدوں میں چھپا ہے۔ کلام غالب کا ترجمہ دنیا کی دیگر زبانوں میں بھی ہو رہا ہے اور ہندی میں ان کے کلام کی متعدد شرحیں شائع ہو چکی ہیں۔غالب نے جہاں بے شمار مشکل اشعار کہے ہیں وہیں انہوں نے آسان اور عام فہم زبان میں بھی شاعری کی ہے۔
جہاں تک جسٹس کاٹجو کا سوال ہے تو وہ اردو کے ایک زبردست عاشق اور شیدائی ہیں۔ ان کو بے شمار اشعار زبانی یاد ہیں اور انہوں نے اپنے متعدد فیصلوں میں غالب، فیض اور دوسروں کے اشعار استعمال کیے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اردو کبھی ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ دل کی زبان ہے اور جب تک انسان زندہ ہے اس کا دل دھڑکتا رہتا ہے اور جب تک دل دھڑکتا رہے گا اردو بھی زندہ رہے گی۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ اردو ختم ہو گئی ہے کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ جو لوگ ہندوستانی بولتے ہیں کیا ان تمام لوگوں کو ہارٹ اٹیک آگیا ہے؟ دل کا دورہ پڑ گیا ہے؟ اگر نہیں تو مان لیجئے کہ اردو بھی زندہ ہے یہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ ۷۴۹۱ کے بعد ایک سازش کے تحت اردو کے خلاف ماحول بنایا گیا اور یہ کہا جانے لگا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ جبکہ اردو سب کی زبان ہے۔ تقسیم ملک نے ار دو کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا اور اسے ختم کرنے کے لیے ایک منظم سازش کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو صرف زبان نہیں ہے بلکہ ایک ثقافت بھی ہے ایک کلچر بھی ہے۔ جسٹس کاٹجو اپنے فیصلوں میں اشعار کا استعمال کس طرح کرتے ہیں اس کی بہترین مثال ممبئی کی ارونا شان باگ کے فیصلے میں نظر آئی جو Mercy Killingیا ازراہ ہمدردی موت مانگنے سے متعلق تھا۔ ارونا شان باگ 37سالوں سے اسپتال میں بستر مرگ پر ہیں۔ ان کے ساتھ عالم شباب میں جنسی زیادتی ہوئی تھی جس کے بعد وہ تقریباً نیم بے ہوشی کی کیفیت میں پہنچ گئیں اور اسی وقت سے موت وزیست کے درمیان معلق ہیں۔ ان کی طرف سے ایک وکیل پنکی ویرانی نے مقدمہ دائر کیا تھا اور عدالت سے اپیل کی تھی کہ ارونا شان باگ کو از راہ ترحم موت دے دی جائے کیونکہ ان کی زندگی موت سے بھی بدتر ہے۔ جسٹس کاٹجو نے اس فیصلے کا آغاز غالب کے اس شعر سے کیا تھا ”مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی۔ موت آتی ہے پر نہیں آتی“۔ اردو اشعار کے استعمال کی ایک اور بہترین مثال 27سالوں سے پاکستان کی جیل میں بند ایک ہندوستانی قیدی گوپال داس کا معاملہ ہے۔ چونکہ کسی ایک ملک کی عدالت کسی دوسرے ملک کو یا وہاں کی عدالت کو حکم نہیں دے سکتی لہذا انہوں نے پاکستانی حکومت سے درخواست کی کہ وہ گوپال داس کو انسانی بنیاد پر رہا کر دے۔ اس سلسلے میں انہوں نے فیض احمد فیض کے اس شعر کا استعمال کیا تھا ”نہ گل کھلے ہیں، نہ ان سے ملے، نہ مے پی ہے۔ عجیب رنگ میں اب کے بہار گزری ہے“۔ ان کی اس اپیل کا پاکستان پر اتنا اثر ہوا کہ وہاں کی حکومت نے چند روز کے اندر ہی گوپاس داس کو رہا کر دیا۔
مرزا غالب کی شاعری، ان کی حاضر جوابی اور ان کی برجستہ گوئی کے تو کیا کہنے۔ ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ گنگا جمنی تہذیب کے زبردست علمبردار اور نمائندے تھے۔ ان کے رشتے تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ تھے۔ ہندووں سے بھی ، مسلمانوں سے بھی، انگریزوں سے بھی اور دوسرے فرقوں اور مذہبوںکے لوگوں سے بھی۔ معروف فلم ساز گلزار نے مرزا غالب پر جو سیرئیل بنایا تھا اور جس میں نصیر الدین شاہ نے غالب کا رول ادا کیا تھا، اس میں ایک منظر ان کی ہندو مسلم دوستی، قومی یک جہتی اور فرقہ وارانہ یگانگت کی زندہ مثال ہے۔ دیوالی کا دن ہے وہ اپنے ایک ہندو دوست کے گھر سے دیوالی کی مٹھائی کھا کے لوٹ رہے ہیں۔ راستے میں ان کا ایک مسلم دوست مل جاتا ہے جو از راہ طنز کہتا ہے کہ ”کھا آئے دیوالی کی امرتی؟“ مرزا ہنس کر جواب دیتے ہیں کہ ”کیا امرتی کافر ہے“؟ اس قسم کے بے شمار واقعات ان کی زندگی میں پائے جاتے ہیں جو انہیں ہندو مسلم اتحاد کا زبردست مبلغ ثابت کرتے ہیں۔ ایسی شخصیت کو اگر بھارت رتن دیا جاتا ہے تو اس سے اس اعزاز کا اعزاز ہی بڑھے گا گھٹے گا نہیں۔ اس سے پوری دنیا میں ایک پیغام یہ بھی جائے گا کہ ہندوستان میں جو کہ اردو کی جائے پیدائش ہے اس کو اس کا جائز مقام دینے کی سمت میں کوشش تیز ہوئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج پوری دنیا میں غالب کی شاعری کی دھوم ہے اور غزل گو حضرات ان کی غزلیں گا گا کر اپنے وقار اور اعزاز کے ساتھ ساتھبینک بیلنس میںبھی بے تحاشہ اضافہ کر رہے ہیں۔اس لیے جسٹس کاٹجو کے اس مطالبے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ بہت مناسب اور بر محل مطالبہ ہے کہ مرزا غالب کو بعد از مرگ بھارت رتن دیا جائے۔
جہاں تک سچن تیندولکر کی بات ہے تو وہ ایک عظیم کر کٹر ہیں اس میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہے۔ لیکن میں کرکٹ کے بارے میں انتہائی کم علم اور کم فہم ہوں اسی لیے کرکٹ کی دنیا میں سچن کا مقام متعین کرنے کا اہل نہیں ہوں۔ ہاں اتنا جانتا ہوں کہ بحیثیت کرکٹر ان کا مقام پوری دنیا میں بہت بلند ہے۔ اب ان کو بھارت رتن دیا جانا کہاں تک مناسب ہے، مناسب ہے بھی یا نہیں یا وہی اس کے حقدار ہیں؟ میں اس پر زیادہ اظہار خیال کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔ لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مرزا غالب ایک عظیم شاعر تھے۔ ایک ایسے آفاقی شاعر تھے جو اپنے دور سے کہیں آگے دیکھتے اور سوچتے تھے۔ لہذا وہ اس کے بالکل حقدار اور اہل ہیں اور ان کو یہ اعزاز دینا ہندوستان کے لیے فخر کی بات ہوگی۔
(
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
)

بھارت رتن کون، غالب یا تیندولکر یا دونوں؟ 


