You are here: ایک خبر ایک نظر جسٹس کاٹجو کے بیان پر اتنی تلملاہٹ کیوں؟ Home

جسٹس کاٹجو کے بیان پر اتنی تلملاہٹ کیوں؟

برقیہ چھاپیے

سہیل انجم
پریس کونسل آف انڈیا کے نئے چیئرمین جسٹس مارکنڈے کاٹجو اور الیکٹرانک میڈیا آمنے سامنے آگئے ہیں۔ جسٹس کاٹجو جب سے اس عہدے پر فائز ہوئے ہیں میڈیا اور بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کے رویے پر شدید نکتہ چینی کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے پرنٹ میڈیا کے چنندہ ایڈیٹروں اور نامہ نگاروں سے ملاقات میں میڈیا رپورٹنگ پر اپنی شدید ناراضگی ظاہر کی اور ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے اس کی رپورٹنگ کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اس سلسلے میں تقریباً وہی باتیں کہیں جو مسلمان کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے بم دھماکوں کے فوراً بعد مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی میڈیا کوششوں کی مذمت کی۔ اس کے بعد سی این این آئی بی این کے ایک مقبول پروگرام ”ڈیولس ایڈووکیٹ“ میں کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے پھر ان باتوں کا اعادہ کیا اور بےحد سخت لہجے میں کہا کہ میڈیا عوام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے اور وہ عوام کا ہمدرد نہیں بلکہ ان کا مخالف ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ الیکٹرانک میڈیا کو بھی پریس کونسل کے دائرے میں لایا جائے اور کچھ سخت قوانین وضع کیے جائیں اور ان کی خلاف ورزی کی صورت میں میڈیا ہاوسز کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے۔
جسٹس کاٹجو نے اپنے انٹرویو میں اور اس سے پہلے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے جو باتیں کہی ہیں ان کی تفصیل آگے آئے گی، پہلے یہ دیکھ لیتے ہیں کہ ایڈیٹرس گلڈ نے کیسا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ان کے انٹرویو کے ایک روز بعد گلڈ نے ایک تفصیلی بیان جاری کرکے جسٹس کاٹجو کے بیان کو لاعلمی والا اور خطرناک بیان قرار دیا اور کہا کہ جسٹس کاٹجو کو ایسا لگتا ہے کہ میڈیا کے بارے میں کچھ بھی نہیں معلوم۔ گلڈ کے سربراہ ٹی این نینن کے اس بیان میں کاٹجو کے ان خیالات کی مذمت کی گئی ہے کہ میڈیا کے لوگوں کو اقتصادی نظریات کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ وہ نہ تو پولیٹکل سائنس کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ ہی فلسفے کا۔ ایڈیٹرس گلڈ نے اس بیان کو لاعلمی سے بھرا بیان بتایا ہے او رکہا ہے کہ گلڈ نے جسٹس کاٹجو سے ملاقات اور تبادلہ خیال کی جو کوشش کی اسے کاٹجو نے کار عبث بنا کر رکھ دیا ہے۔ نینن نے مزید کہا ہے کہ جسٹس کاٹجو کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج کا میڈیا متنوع بھی ہے، ذہین بھی ہے اور محنتی بھی ہے۔ مجموعی طور پر اس نے ہندوستانی نظام کو مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ گلڈنے کاٹجو کے اس بیان کی بھی مخالفت کی ہے کہ میڈیا عوام کو فرقہ وارانہ اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ میڈیا اصل ایشوز کی بجائے کرکٹ پر توجہ دیتا ہے اور فلموں اور فیشنوں کی کوریج کرتا ہے۔ گلڈنے یہ بھی کہا کہ جسٹس کاٹجو نے ان منفی خیالات کے اظہار کے ساتھ ساتھ سخت قوانین کا مطالبہ کیا ہے اور ایسے اختیارت کی مانگ کی ہے جس کے تحت میڈیا پر جرمانہ عائد کیا جائے اور اس کو ملنے والے اشتہارات روک لیے جائیں۔ ایڈیٹرس گلڈ نے ایسے اختیارات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریس کونسل کے چیئر مین میڈیا میں خوف ودہشت پھیلانا چاہتے ہیں۔ ایڈیٹرس گلڈ نے ان کے دوسرے خیالات کی بھی مخالفت کی ہے۔ لیکن اس نے جسٹس کاٹجو کے اس خیال کے بارے میں کوئی رائے زنی نہیں کی ہے کہ بم دھماکوں کے بعد مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ جسٹس کاٹجو نے پہلے بھی یہ بات کہی تھی اور اب پھر کہی ہے کہ جب بھی دہلی، ممبئی، بنگلور یا کہیں بھی کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے تو چند گھنٹوں کے اندر میڈیا میں ایسی خبریں آجاتی ہیں کہ ایک ای میل آیا ہے یا ایک ایس ایم ایس آیا ہے جس میں انڈین مجاہدین، یا حرکت الجہاد اسلامی، یا جیش محمد یا کسی اور دوسری مسلم تنظیم کا نام لے کر کہا جاتا ہے کہ اس نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اگلے روز اخباروں میں بھی ایسی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں۔ جبکہ ای میل یا ایس ایم ایس کوئی بھی شرپسند بھیج سکتا ہے۔ اور ہندوستان کے ۹۹فیصد لوگ خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان اچھے لوگ ہیں۔ لیکن میڈیا اس قسم کی رپورٹنگ کرکے مسلمانوں کو شیطان بنا کر پیش کرتا ہے اور انہیں بدنام کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ملک کے اصل ایشوز دوسرے ہیں جیسے کہ غریبی، بھکمری، بیماری، بے روزگادی وغیرہ لیکن میڈیا ان کو نہیں اٹھاتا اور غیر اہم ایشوز کو اصل ایشو بنا کر پیش کرتا ہے۔ لیکن ایڈیٹرس گلڈ نے ان خیالات کے بارے میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ در اصل یہ باتیں بالکل صحیح ہیں او رمیڈیا کے پاس ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ میڈیا فوری طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے اور پھر اس کی آڑ میں پولیس والے بھی مسلمانوں کے خلاف ہی کارروائی کرتے ہیں۔ بم دھماکوں کے بعد رپورٹنگ کا انداز یکسر بدل جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ مسلمان ہی ہیں جو بم بناتے ہیں اور دھماکے کرکے لوگوں کی جان لیتے ہیں۔ جسٹس کاٹجو نے بھی یہ بات کہی ہے اور زور دے کر کہی ہے کہ میڈیا رپورٹوں سے یہ پیغام جاتا ہے کہ مسلمان ہی بم باز، بم ساز اور بم انداز ہیں۔ لیکن ایڈیٹرس گلڈ نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔ چاہیے یہ تھا کہ وہ اس سلسلے میں بھی اپنی بات رکھتا او ران کے اس بیان کے جواب میں کہ میڈیا مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کرتا ہے، اپنی بات کہتا۔ لیکن چونکہ اس کے پاس اس سلسلے میں کہنے کے لیے کچھ ہے ہی نہیں اس لیے اس نے اس بارے میں خاموشی اختیار کر لی ہے۔ میڈیا میں صرف یہی ایک برائی نہیں ہے کہ وہ بم دھماکوں کے فوراً بعد مسلمانوں کو من حیث القوم مشکوک بنا کر رکھ دیتا ہے اور اس کی رپورٹنگ کے بعد ہر کرتا، ٹوپی اور داڑھی والا شخص دہشت گرد معلوم ہونے لگتا ہے۔ بعض اوقات میڈیا کی رپورٹیں اتنی خوفناک او رگمراہ کن ہو جاتی ہیں کہ محض اسکیچ سے مماثلت کی وجہ سے بے قصور مسلم نوجوان گرفتار کر لیے جاتے ہیں۔ اس میں اور بھی بہت سی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ چاہے اسٹنگ آپریشن کا معاملہ ہو، پیڈ نیوز کا ہو یا پھر کوئی اور۔ ہر معاملے میں گائڈ لائن کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور بے خوف ہوکر اپنے عزائم کی تکمیل کی جاتی ہے۔جہاں تک غیر حقیقی ایشوز کو اٹھانے کی بات ہے تو میڈیا ٹی آر پی کے چکر میں ان معاملات سے بھی صرف نظر کر جاتا ہے جو حقیقی سماجی ایشوز ہوتے ہیں اور جن کو اٹھانا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بہار کے فاربس گنج میں پولیس کارروائی، گوپال گڑھ میں پولیس اور مسلم دشمن عناصر کی ملی بھگت سے ہونے والے مظالم، رودر پور میں فساد اور پھر دوسرے شہروں میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے فسادات کو کور ہی نہیں کیا گیا۔ جب فاربس گنج اور گوپال گڑھ پر بہت زیادہ ہنگامہ ہوا تب کہیں جاکر الیکٹرانک میڈیا میں چھوٹی موٹی خبریں آ پائیں۔ اس سے قبل دہلی میں ایک مسجد کو ڈی ڈی اے کے ذریعے منہدم کرنے کی خبر کو بالکل ہی بلیک آوٹ کیا گیا تھا جبکہ دو تین روز تک کم از کم دس بار ہ کلومیٹر تک کے علاقے میں ٹریفک درہم برہم رہا اور دہلی کا ایک بڑا علاقہ پولیس چھاونی بنا رہا۔ انہی دنوں میں دیوارگرنے سے دو افراد کے زخمی ہونے، بگ باس کے گھر میں دو لوگوں کی لڑائی، زنا بالجبر کے الزام میں ایک تانترک کی گرفتاری اور دو فلم اداکاروں کی لڑائی کو بہت نمایاں انداز میں پورے پورے دن دکھایا جاتا رہا۔ اس کی بے شمار مثالیں ہیں کہ کس طرح میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا اصل معاملات کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور سنسنی خیز خبروں کو مزید مرچ مسالہ لگا کر پیش کرتا ہے۔ سیکس کو خوب ابھارتا ہے اور جرائم کی خبریں مزے لے لے کر پیش کرتا ہے۔ جرائم کی خبر میں اگر کسی کی تصویر نہیں مل سکی ہے تو فرضی کرداروں سے رول کروائے جاتے ہیں او راس میں بھی جنسی پہلو کو زیادہ نمایاں انداز میں دکھایا جاتا ہے۔
اگر چہ پورا میڈیا ایسا نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میڈیا میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں داخل ہو گئی ہیں۔ حالانکہ وہ بد عنوانی کے خلاف انا ہزارے کی تحریک کو کامیاب بنانے میں پیش پیش رہا ہے۔ آج وہ خود بد عنوانی کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ مہاراشٹرا میں 2009کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے یہ بات تیزی سے اٹھنے لگی تھی کہ میڈیا میں ”پیڈ نیوز“ کا چلن بڑھ گیا ہے۔ جب یہ خبر پہلی بار منظر عام پر آئی تھی کہ مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات میں پیسے لے کر خبریں چھاپی گئیں اور نیوز چینلوں سے نشر کی گئیں تو اس پر زبردست تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی تفصیلات سامنے آنے لگیں اور یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگی کہ پیڈ نیوز کے جراثیم اندر تک سرایت کر گئے ہیں ۔ پیڈ نیوز کی روز افزوں برائی پر عدالت اور پریس کونسل آف انڈیا نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پریس کونسل آف انڈیا کے سابق صدر نے ایک دو رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں پیڈ نیوز یا بہ الفاط دیگر ”زر خرید خبر“ کو انتخابی بد عنوانی قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ اس نے اس کے لیے عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعہ 123میں ترمیم کی اپیل کی ہے۔ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ پیڈ نیوز کو قابل سزا جرم قرار دیا جائے۔ کیونکہ الیکشن کے دوران جب پیسے لے کر کوئی رپورٹ یا خبر دکھائی جاتی ہے یا اخبار میں شائع کی جاتی ہے تو اس کی وجہ سے عوام کو اپنے نمائندوں کے بارے میں اصل حقائق کا پتا نہیں چل پاتا اور یہ نہیں معلوم ہو پاتا کہ امیدوار کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔ امیدوار میڈیا کو جو رقوم ادا کرتے ہیں ان کو وہ اپنے انتخابی اخراجات میں نہیں دکھاتے جو کہ انتخابی ضابطے کی خلاف ورزی ہے۔ پریس کونسل آف انڈیا کو اس کے اختیارات دیے جائیں کہ وہ پیڈ نیوز کی شکایات پر کارروائی کرے۔ پریس کونسل ایکٹ میں ترمیم کی جائے اور پریس کونسل کی سفارشات کی پابندی کو لازمی قرار دیا جائے اس کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا کو بھی اس کے دائرے میں لایا جائے۔ پریس کونسل کی تشکیل نو کی جائے اور اس میں الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا اداروں کے نمائندو ںکو بھی شامل کیا جائے۔ پریس کونسل کی یہ رپورٹ اگر چہ بہت سخت ہے اور اس کی سفارشات بہت اہم ہیں لیکن اس سے کوئی بہت بڑا فائدہ ہوگا، ایسا لگتا نہیں ہے۔ کیونکہ پریس کونسل آف انڈیا کی ہدایات صرف پرنٹ میڈیا یا مطبوعہ صحافت تک ہی محدود ہیں اس کا دائرہ جب تک الیکٹرانک میڈیا تک نہیں بڑھایا جائے گا ، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ اور ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن پر نئے چیئرمین کو توجہ دینی ہوگی۔ اب تک کے تجربات بتاتے ہیں کہ میڈیا کے مزاج کو بدلنا آسان نہیں ہے۔ اگرجسٹس کاٹجو میڈیا کے مزاج کو بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ملک اور معاشرے کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔
( یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے --9818195929)

 

All categories