You are here: ادارے علم کی قدر عالم کو ہی ہوتی ہے Home

علم کی قدر عالم کو ہی ہوتی ہے

برقیہ چھاپیے

محمد طارق غازی
آٹوا، کینڈا
گذشتہ روز دارلعلوم دیوبند کے ماہنامہ کے ایک مضمون میں سید انور شاہ کاشمیری کے حوالے سے ایک عبارت کہ” میں مطالعہ میں کتاب کو اپنا تابع کبھی نہیں کرتا،بلکہ ہمیشہ خود کتاب کے تابع ہوکر مطالعہ کرتا ہوں۔“ دیکھی تو زندگی میں پہلی بار معلوم ہوا کہ مطالعہ کرنا بھی ایک فن ہے اور اسے بھی بطور علم حاصل کرنا ضروری ہے۔مگر فن مطالعہ میں امامت کے اس درجہ کو پہنچنے والے کسی اور بزرگ کا نام ذہن میں نہ آیا۔البتہ یہ خیال ضرور ہوا کہ عالم ہی کو علم کی قدر ہوسکتی ہے تو عالموں میں ایسے اور بھی بہت لوگ ہوئے ہوں گے.”قدر گوہر شاہ داند یا بداند جوہری“(ہیرے کی قدر بادشاہ کو ہوتی ہے یا جوہری کو)۔پھر یاد آیا کہ والدہ مرحومہ ہمیشہ نصیحت کرتی تھیں کہ کتاب کا احترام کرو گے تو علم حاصل ہوگا۔.ہمارے گھر میں یہ حکم ہر کتاب کے لئے عام تھا۔کتاب تو دور کی بات ہم کسی ایسے کاغذ پر بھی پیر رکھنے کے مجاز نہیں تھے جس پر کوئی عبارت لکھی یا چھپی ہوئی ہو۔کبھی بھول چوک ہوجاتی تو امی مرحومہ کی سخت ڈانٹ پڑتی تھی۔ پھر یاد آیا کہ ادب و احترام سے قرآن حکیم کی تلاوت کرنے کا حکم ہمیں بطور امت کیوں دیا جاتا ہے. مطلب یہ کہ ام الکتاب کا احترام کرنا سیکھ لیں تو ہر کتاب کے احترام کا سلیقہ پیدا ہو جائے گا۔پھر سوچا کہ اس دنیا میں کیسے کیسے لوگ پیدا ہوئے، کیسے حیرت انگیز کردار تھے ان کے کہ انسانوں میں تو کیا افسانوں میں بھی نہ ملیں۔ اور ان لوگوں کو یہ خواہش بھی نہ ہوئی کہ انہیں بڑا سمجھا اور جانا جائے۔ ان کے نام کے ڈنکے پیٹے جائیں۔. لوگ تو شہرت کے لئے نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں۔ مگر علم کی راہ سے جو تعارف ہوتا ہے اس پر سو قسم کی شہرتیں قربان . یہ علم ہی اسلام کی پہچان تھا اور ہے۔کتاب زندگی کا یہی سبق ہمیں یاد نہ رہا۔انہی محدث کبیر علامہ سید انور شاہ مسعودی کاشمیری کے بارے میں ان کے ایک جلیل القدر شاگرد اور خود استاذ الاساتذہ، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب کا بیان ہے کہ ”سفر و حضر میں ہم لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا کہ لیٹ کر مطالعہ کررہے ہوں یا کتاب پر کہنی ٹیک کر مطالعہ میں مشغول ہوں، بلکہ کتاب کو سامنے رکھ کر مو?دب انداز میں بیٹھتے، گویا کسی شیخ کے آگے بیٹھے ہوئے استفادہ کررہے ہوں“.اس بیان کے ساتھ مولانا مفتی محمد شفیع نے اپنی کتاب ”میرے والد ماجد“ (صفحات 54 اور 55 ) میں خود مولانا کاشمیری کا یہ بیان بھی تحریر فرمایا ہے کہ ”میں نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے اب تک دینیات کی کسی کتاب کا مطالعہ بے وضو نہیں کیا“. یہ تو درست ہے کہ یہ ساری باتیں، بلکہ ایسا مزاج خود علم سے پیدا ہوتا ہے، اس علم سے جو اس لئے حاصل کیا جاتا ہے کہ اس سے دنیا کو فائدہ پہنچایا جائے، نہ کہ مستقبل کی متوقع آمدنی کا گوشوارہ طالب علمی کے زمانہ سے ہی ذہن میں رہے اور حصول علم کا مقصد حصول دولت کے سوا کچھ نہ ہو۔مگر یہ سوچنا غلط ہوگا کہ ایسے کام صرف بڑے بڑے مولانا لوگ ہی کرسکتے ہیں اور ایسے لوگ دنیا میں اب نہیں رہے یا یہ مثالیں ہم جیسے عام آدمیوں کے لئے نہیں ہیں۔ کتابوں اور مضامین میں یہ باتیں اس لئے نہیں لکھی جاتیں کہ لوگوں کو ان بزرگوں سے مرعوب کرنا مقصود ہو۔ان تحریروں کا مقصد ہماری ذہنی تربیت اور تعلیم ہی ہوتا ہے۔. ہم کچھ سیکھ لیں تو کردار بن جائے، شخصیت میں کچھ تھوڑا بہت نکھار آجائے اور کسی عالم سے علمی اور فکری نہ سہی، عمل کی نسبت ہی قائم ہوجائے تو یہ بھی نفع کا سودا ہے. اور اگر یہ عمل روایت بن جائے، یہاں سے وہاں تک عمل کے چراغ جلتے چلے جائیں تو یہ ادبار کی گھٹا جو ہمارے دماغوں پر چھائی ہوئی ہے چھٹنے لگے اور پیشرفت کا سورج ان گہرے اودے بادلوں سے نکل آئے ؛ یہ جو بے عملی کا عفریتِ تسمہ پا ہماری گردنوں پر سوار ہے اس کی ٹانگوں کی گرفت ڈھیلی پڑے اور اسے اتار پھینک کر ہم کچھ انسانوں کی طرح قدم اٹھانے اور کام کرنےکے قابل بنیں۔ خیر یہ تو بڑے کام ہیں۔اگر ہم صرف علم کا احترام کرنا بھی سیکھ لیں تو سودا کھرا ہے۔یہ راستہ تہذیب کی سمت جاتا ہے۔تہذیب کا دوسرا نام دنیا کی سیادت ہے۔ اور مسلمان اس راہ پر چل پڑے تو اسی کو امامت کہا جاتا ہے ۔امامت کبریٰ! کیا خیال ہے،ایک چھوٹے سے عمل کا یہ معاوضہ کیسا رہے گا؟کچھ پتہ ہے امامت کبریٰ کسے کہتے ہیں؟ معلوم نہ ہو تومولانا حامدالانصاری غازی کی کتاب ”اسلام کا نظام حکومت“ پڑھ ڈالئے. پہلی بار 1941 میں شائع ہوئی تھی. پھر عرصہ دراز تک 1943 کی اشاعت کتاب گھروں میں ملتی رہی. اب ہندستان میں اسے کوئی نہیں چھاپتا۔ پاکستان میں مکتبہ الفیصل اور مکتبہ الحسن نے اس کے نئے ایڈیشن شائع کئے ہیں. وہاں یہ کتاب یونیورسٹیوں کے نصاب میں حوالہ کی کتاب کے طور پر شامل ہے۔

 

All categories