خوشونت سنگھ
میںڈی اے وی ڈھانچہ کے بارے میں جتنا زیادہ سنتا ہوں اتنا ہی اس کے کام کرنے کے ڈھنگ کی تعریف کرتا ہوں۔ شاید یہ دنیا کے کچھ ہی تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جہاں منتظمین میں کسی طرح انا کا ٹکرا و¿ نہیں ہے۔ پچھلے اکتوبر میں انہوں نے جالندھر میں ڈی اے وی یونیورسٹی قائم کی۔ اپنی 125برس کی تاریخ میں اس کے 715ادارے ہیں جو کہ انتظامیہ کمیٹی کے چیئر مین جی پی چوپڑا کی قیادت میں کام کر رہے ہیں۔
ڈی اے وی ادارے کی تعریف کرنے کا میرا مقصد دوسرے فرقوں کو شرمسار کرنا ہے۔ جو پیچھے رہ گئے ہیںبیشک عیسائیوں نے کسی بھی دوسرے فرقے سے زیادہ اسکول اورکالج قائم کئے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ غیر ملکی مشنریوں کی کوششوں کی وجہ سے ہیں۔ ہندوستانی عیسائیوں نے اس سمت میں بہت کم کام کیا ہے۔ میری شکایت میرے اپنے فرقے کے سکھوں سے خاص طور پر ہے۔ سکھ سب سے زیادہ امیر ہندوستانی فرقہ ہے۔ وہ زیادہ منظم بھی ہے اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی سبھی گوردواروں اوران سے ہونے والی آمدنی کو کنٹرول کرتی ہے۔ ناخواندگی دور نہ کر پانے کے لئے کےلئے ان کے پاس کوئی حیلہ بہانہ نہیں ہے جس طرح ہمیں کوئی سکھ بھکاری نہیں ملتا اسی طرح کوئی ایسا سکھ بھی نظر نہیںآنا چاہئے جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو۔ ڈی اے وی ادارے کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے۔ کپل دیوڈی اے وی سے نکلے ہیں جنہوں نے 1983میں لارڈز میں کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تھا۔ اسی طرح ایم ایس دھونی ہیں جنہوں نے ہندوستان کو بلندی پر پہنچایا۔
مزاح کے 2گھنٹے
امریندر بجاج ہر امتحان میں اول رہتی تھیں۔ وہ بچوں کے اور عورتوں کے امراض کی ماہر بننا چاہتی تھیں۔ انہو ںنے ایمس سے پریکٹیکل ٹریننگ لی اور پریتم پورہ میں اپنا کلینک شروع کرنے سے پہلے لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں تھیں۔ وہ میرے ڈاکٹر کا لڑاکی بھتیجی ہیں جو پاس کے ہی بلاک میں رہتے ہیں۔ وہ اکثر ان سے ملنے آتی ہیں۔ انہو ںنے میرا تعارف ان سے کرایا ۔ اپنی پریکٹس کے علاوہ انہوں نے اخباروں اور میگزینوں میں لکھنا شروع کر دیا۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ خط وکتابت کرنے لگے۔ ہر چٹھی کے آخر میں وہ کچھ لطیفے لکھتی تھیں جنہیں نان ویجی ٹیرین کہاجاتا ہے۔ میں نے اپنے ہفت روزہ کالموں میں چند ایک کا ذکر کیا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک کتاب چھاپی ہے ’ اس کا آغاز ان کے اپنے پروفیشن سے ہوتا ہے۔’ ’ ڈاکٹر وہ شخص ہے جو اپنی گولیوں سے آپ کی بیماریوں کو اور اپنے بل سے آپ کو مارتا ہے“ (“A doctor is a person who kills your ills with his pills and you with his bills.”)دوسرا ان کے اپنے پروفیشن کے بارے میں ہے۔ ایک گائینا کلوجسٹ وہ ہے جو جسم کے اس حصے کی پریشانی ٹھیک کرتا ہے جس کا استعمال مستی کے لئے کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ گھنٹے کاہنسی مذاق اس میں ہے۔
گولڈ کپ
ہاہا ، ہی ہی ، ہو ہو
خوشی سے ناچ اٹھے
ہر ا:ہم نے ورلڈ کپ جیت لیا
رات کے بعد دن اور دن جنت دنیا
ذات پات کے بغیر ہم ہوگئے ایک شکل
بس صرف بھارتیئتا پہچان بن گئی
100کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ایک قوم بن گئی
ایکتا کی یہ مثال کبھی دیکھنے میں نہیں آتی
جو اپنے ساتھ اتنا جنون نہیں لاتی
ایسا جنون جس میں بھکاری بھی بادشاہ ہے
اورایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ہندوستان دنیا کا بادشاہ ہے
کیا وقت نہیں ہے کہ ہر چیز بھاڑ میں جائے
او رہم کرکٹ کھائیں کرکٹ پئیں اور اس کے سائے میں جئیں
وقت دلاتا ہے پیسہ اور عزت
جو ہیروآسانی سے ہے پالیتا
پھر وہ دو کو ئنٹل موٹے اور 10فٹ لمبے ہو جاتے ہیں
اورپھر گہری نیند میں سو جاتے ہیں (کلدیپ سلل نے دہلی سے بھیجا)
الفاظ کا مطلب
آپ کی سمجھداری اسی وقت ہے جب آپ بات نہیں کر رہے ہوتے آپ سے بات کر کے سکون ملا مجھے اپنے دماغ کو کچھ سکون کی ضرورت تھی۔ جو باقاعدہ کسرت کرتے ہیں وہ صحت مند مرتے ہیں
حقائق : کچھ نہ کہنے کافن تب ہے جب کہنے کو کچھ نہیں ہوتا۔ نکتہ چین: بناپیروں کا شخص جو دوڑ نا سکھا تا ہے۔ (رجنیش نے شملہ سے بھیجا)
ازدواجی شفقت
منوج۔” کیا شادی کے بعد تمہاری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں“ منوہر۔” یقینی طور پر بڑھ گئی ہیں پہلے میں صرف اپنا کھانا بنانے کے لئے ذمہ دار تھا اب میں اپنے لئے ہی نہیں اپنی پتنی کے لئے بھی کھانا بنانے کا بھی ذمہ دار ہوں۔ (راجیش وری سنگھ نئی دہلی سے بھیجا)

تعلیم کے میدان میں ڈی اے وی تنظیموں کی پیش قدمی 


