قاہرہ: پورٹ سعید میں ایک فٹبال میچ کے بعد ہوئے خونریز تشدد نے اب سیاسی رنگ آمیزی سے گلی کوچوں کی جھڑپوںکی شکل اختیار کر لی۔ جمعہ کو علی الصباح سوئز میں اس فٹبال تشدد ، جس میں 74افراد ہلاک ہو ئے تھے، کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔پولس نے احتجاجیوں کو تتر بتر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس میں دو احتجاجی ہلاک ہو گئے۔ ان ماہرین کا الزام تھا کہ فٹبال اسٹیڈیم میں ہوئے تشدد پر پولس قابو پانے میں ناکام رہی۔ قاہرہ میں جمعرات کی شب ہزاروں افراد نے وزارت داخلہ کے باہر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے خشت باری کی جس کے جواب میں وہاںتعینات پولس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ پورٹ سعید کے فٹبال اسٹیڈیم میں ہوئے تشدد میں ہلاک ہوئے فٹبال شوقینوں میں ایک اس شہر کا بھی ہے توسوئز میں بھی مظاہرے شروع ہو گئے اور جمعہ کی سبح ان مظاہروں میں اتنی شدت آگئی کہ تقریباً3000افراد پولس ہیڈ کوارٹر کے باہر مظاہرہ کی کرنے کے لیے جمع ہو گئے اور انہیں منتشر کرنے کے لیے پولس کو فائرنگ کرنی پڑی۔جس میں دو افراد ہلاک اور 15زخمی ہو گئے۔












