You are here: Urdu in Devnagri خبریں سپریم کورٹ نے فوجی سربراہ کی عمر کے معاملہ میں حکومتی طریقہ کار کو ناجائز بتایا Home

سپریم کورٹ نے فوجی سربراہ کی عمر کے معاملہ میں حکومتی طریقہ کار کو ناجائز بتایا

برقیہ چھاپیے

نئی دہلی: حکومت اور فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کے درمیان عمر کے معاملہ نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ ایک ہفتہ کے اندر وہ اپنا موقف واضح کرے۔جمعہ کو اس معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے وزار ت دفاع کے اس طرز عمل پر سخت اعتراض کیا جو اس نے فوجی سربراہ کی عمر کے معاملہ میں اختیار کیا ہے۔عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ حکومت سے معلوم کریں کہ آیا وہ عمر کے معاملہ پر فوجی سربراہ کی قانونی شکایت مسترد کرنے کے وزارت دفاع کے حالیہ فیصلہکو واپس لے گی اس حکم سے حکومت نے فوجی سربراہ کی عمر10مئی1951کے بجائے 10مئی 1950 طے کر دی۔ عدالت نے جنرل سنگھ کی شکایت مسترد کرنے کے حکومتی طریقہ کار پر سخت اعتراض ظاہر کیا۔عدالت نے کہا کہ فوجی سربراہ کی عمر کے حوالے سے پوری کارروائی غیر معیاری اور ناجائز ہے۔جنرل سنگھ نے اس استدعا کے ساتھ سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا کہ حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ ریکارڈ میںان کی عمر 10مئی1950کے بجائے 10مئی 1951کرے ۔جسٹس لودھا کی سربراہی میں تشکیل دی گئی بنچ نے جنرل سنگھ کی روداد سنی جس میں انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ان کی عمر سے متعلق فیصلہ میںقواعد و ضوابط اور انصاف کی پامالی کرتے ہوئے ان سے انتہائی ناشائستہ سلوک کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے معاملہ کی اگلی سماعت 10فروری مقرر کی ہے۔

Read In English

(0)Comments Add Comment
Write comment
 
 
smaller | bigger
 

busy
 

All categories