مالے: کئی ہفتوں تک ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور پھر کچھ پولس افسروں کی بغاوت کے بعد مالدیپ کے صدر محمد ناشید نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد نائب صدر وحید حسن نے ملک کے نئے صدر کی حیثیت سے حلف لیا۔۔ناشید جمہوری طور پر منتخب ہو نے والے ملک کے پہلے صدر تھے لیکن پولس اور فوج کے درمیان گلی کوچوں میں جھڑپوں کے بعد انہوں نے منگل کو استعفیٰ دے دیا۔ناشید پہلے اقوام متحدہ میں ملازمت کرتے تھے اس کے بعد وہ افغانستان میں یو این او کے چلڈرن فنڈ کے سربراہ بنا دیے گئے۔ناشید نے ٹیلی ویژن کے ایکنشریہ میں کہا کہ وہ اس لیے مستعفی ہو رہے ہیں کیونکہ وہ طاقت کے بل پر حکومت نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اگر حکومت کو بر سر اقتدار رہنا ہے تو طاقت کا استعمال کرنا ہوگا اور اس سے شہریوں کا جانی نقصان ہو گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورت میں غیر ملکی مداخلت بھی ہوتی ۔ تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کون سے غیر ملکی اثر و رسوخ کا حوالہ دیا ہے۔واضح رہے کہ 1988میں بھی مالدیپ کے حالات خراب ہو گئے تھے تب اس وقت ہندوستان نے بغاوت کو کچلنے میں مدد دی تھی اور حکومت کو تحفظ بہم پہنچانے کے لیے ایک فوجی بٹالین بھیج دی تھی۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان سید اکبر الدین نے کہا کہ یہ بغاوت مالدیپ کا اندرونی معاملہ ہے اور مالدیپی باشندوں کو ہی اسے حل کرنا ہے۔






