واشنگٹن: پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بتدریج کشیدگی بڑھتے دیکھ کر امریکہ نے پاکستان کی قبائلی پٹی پر القاعدہ اور طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون حملے کرنے روک دیے۔ڈرون حملوں کے سی آئی اے کے پروگرام میں شامل کئی امریکی انٹیلی جنس اہلکاروں نے لانگ وار جرنل نام کے ایک جریدہ کو بتایا کہ امریکی حکام کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ کہیں اس وقت کیے جانے والے ڈرون حملوں کا منفی اثر نہ پڑے اور پہلے ہی سے تلخ تعلقات میں اور تلخی آجائے۔ایک اہلکار کے مطابق امریکہ نہیں چاہتا کہ ڈرون حملے جاری رکھ کر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں اور تلخی آئے اور تعلقات ایسے خراب ہوکراس مقام پر نہ پہچ جائیں جہاں سے واپسی بھی نہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو نہیں معلوم کہ وہ پاکستان کو کس حد تک دباو¿میں لے سکتا ہے یا وہ کب تک تحمل و برداشت کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ اس اہلکار نے مزید کہا کہ فی الحال یہ ڈرون حملے روکے تو جا رہے ہیں لیکن موقع محل کے مطابق ڈرون حملہ کرنے پر غور کیا جائے گا۔ایک انٹیلی جنس افسر نے کہا کہ اگر کوئی انتہائی اہم نشانہ نظر آیا تو ہم فوراً ڈرون حملہ کریں گے۔تاہم فی الحال تو ہم حملے کے لیے لبلبہ نہیں دبانا چاہتے۔












