نسیم احمد
ہندستان کا شمار ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ ملک ایک جانب اقتصادی ترقی کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھ رہا ہے، تو دوسری جانب اسے افراط زر کا بھی سامنا ہے۔ اس کا اثر اقتصادی ترقی پر بھی پڑ رہا ہے۔حکومت ملک کی سالانہ ترقی کی شرح دس فیصد تک پہنچانے کی خوا ہشمند ہے لیکن گزشتہ مہینوں کے دوران اس میں اضافے کی بجائے کمی ہی ہوئی ہے۔ریزرو بنک آف انڈیا ملک میں بڑھتی ہوئی افراط زر کو کم کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں بنک نے گزشتہ 16مہینوں کے دوران قرضوں پر سود کی شرح کو11ویں مرتبہ بڑھاد یا ہے۔ریزرو بنک آف انڈیا کے گورنر ڈی سباراﺅنے اپنے اس اقدام کا جواز عالمی کسادبازاری اور ملک میں اس سال مانسون کے 100فی صد نہ ہونے کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور اقتصادی ترقی کی شرح نیچے آنے کے باوجود افراط زر کے بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ریزرو بنک کے ذریعے ریپو ریٹ میں .50فی صد اضافے سے ریپو ریٹ کی شرح بڑھ کر 8فی صد اور ریورس ریپو ریٹ7فی صد ہوجانے سے ہوم لون اور کار لون تو مہنگا ہوگا ہی ساتھ میں ملک میں آیندہ مارچ تک قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ریزرو بنک کے ذریعے گزشتہ دس مرتبہ شرح سود میں اضافے کے سبب گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی ہے اور قرضوں کی طلب میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ صرف ہندستان ہی کو نہیں بلکہ ترقی کی دہلیز پر کھڑے دوسرے ممالک کو بھی کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا ہے تاہم ان ممالک میں مہنگائی کی شرح اتنی اونچی نہیں ہے۔ ہندستان میں گزشتہ دنوں کے دوران توقعات کے برخلاف مہنگائی کی شرح دس فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس معاملے میں صرف وینزوئیلا مہنگائی کی شرح 27فی صد کے ساتھ ہندستان سے آگے ہے جبکہ عالمی سطح پر اس شرح میں صرف 2-3فی صد کا ہی اضافہ ہوا ہے۔ماہرین اقتصادیات کو خدشہ ہے کہ اشیائے خورد و نوش اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباو¿ صنعتی شعبے تک بھی پہنچ کر اسے متاثر کر سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ 20برسوں کے دوران حکومت کے اقتصادی اصلاحات سے ملک میں زبردست ترقی دیکھنے کو ملی ہے لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اس ترقی کا فائدہ ملک میں صرف 20 فی صد کو ہی ہوا ہے جبکہ باقی80 فی صد آبادی کو مسلسل مہنگائی کی مار کا سامنا ہے ۔اقتصادی ترقی سے سب سے زیادہ استفادہ صنعتی گھرانوں کو ہورہا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایشیائی صارفین کی خریداری میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ سے براعظم ایشیا میں ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔دنیا کے ارب پتیوں کی تازہ فہرست میں پہلی بار یورپ کے مقابلے میں ایشیا میں ارب پتی زیادہ بتائے گئے ہیں۔ فوربز میگزین کے مطابق ایشیائی ارب پتیوں میں چین کے مرکزی علاقوں میں ایک سو پندرہ ارب پتی رہتے ہیں۔ ہندستان کا مقام دوسرا ہے جہاں پچپن ارب پتی آباد ہیں۔ہندستان میں ہیرو ہونڈا کے مالکان برج موہن لال منج کے علاوہ لکشمی متل اور امبانی گروپ کے نام ارب پتیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ایک ارب پتی منگل لودھا ممبئی میں ایک سو سترہ منزلہ رہائشی عمارت کی تعمیر میں مصروف ہیں۔ گزشتہ سال لودھا گروپ نے ممبئی میں ایک بڑا زمینی پلاٹ تقریبا 4500کروڑ روپئے میں خریدا تھا جو مارکیٹ کی قیمت سے دوگنی تھی۔دوسری جانب ملک میں بڑھتی مہنگائی سے 65000روپئے ماہانہ آمدنی والے لوگ بھی پریشان ہیں متوسط طبقے اور خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی بات کیا کہی جائے۔ حکومت کی جانب سے اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ غربت کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اس مناسبت سے جاری اسکیموں کے بنیادی پلان پر ورلڈ بینک کی جانب سے بھی تنقید سامنے آئی ہے۔عالمی بینک کے ماہر اقتصادیات کا خیال ہے کہ ہندستان میں غریبی ختم کرنے کی جو اسکیمیں عمل میں لائی جا رہی ہیں ان میں روپے کی قدر اور اہمیت کو علیٰحدہ رکھنے کے ساتھ ساتھ کرپشن کا عنصر بھی شامل ہے اور اس باعث ان کے اثرات گراس روٹ سطح تک پہنچنے سے قبل ہی مختص فنڈ ختم ہو جاتے ہیں۔ملک میں تقسیم نظام عامہ یعنی پبلک ڈسٹریبیوشن سسٹم کے بیورو کریٹک سیٹ اپ کے اندر ایسا خلا موجود ہے کہ غریبوں کے لیے خوراک کی فراہمی اور تیل کی سپلائی مقررہ اہداف تک پہنچنے سے قبل ہی ہڑپ ہو جاتی ہے۔ گزشتہ 10 سال کے دوران 15 ہزار 550 ارب روپے کی رقم ڈوب گئی اور اس سے کہیں زیادہ رقم غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر بھیج دی گئی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے قائم کمیٹی نے کام شروع کر دیاہے۔ تحقیقات کے لئے ہندستانی عدالت عظمیٰ نے ایک سینئر جج اور خفیہ ایجنسی را کے منتظم اعلیٰ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی۔ 2009میں ایک حکومتی پینل نے اندازہ لگایا تھا کہ ہندستانیوں نے 1400 ارب ڈالر تک کی رقم بیرونی ملکوں میں بینکوں میں جمع کرائی ہے۔ یہ رقم ملک کی موجودہ معیشت کے مساوی ہے۔ کالا دھن ملک میں واپس لانے کے لئے سپریم کورٹ پہلے بھی حکومت کو وارننگ دے چکی ہے جس پر وزیراعظم من موہن سنگھ کو عدالت میںسرکاری موقف پیش کرنا پڑا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ہندستان دنیامیں بد عنوانی کے اعتبار سے 9واں ملک ہے اور اندازے کے مطابق ہندستان میں سالانہ 25 ارب ڈالر بد عنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ملک کی سالانہ شرح پیداوار کا صرف دو فیصد سماجی بھلائی کے پروگراموں کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ اس دو فیصد میں غریب تک بہت ہی کم حصہ پہنچ پاتا ہے۔ غربت ختم کرنے کے حوالے سے ورلڈ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے اس بڑے ملک ہندستان میں42 فیصد لوگ صرف سوا ڈالر روزانہ کی کم رقم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس رپورٹ میں ہندستان میں صحت عامہ کے علاوہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کے ساتھ ساتھ کثیف غذائی صورت حال کو براعظم افریقہ کے پسماندہ سب صحارہ علاقے کے بعض انتہائی غریب ملکوں سے بھی بدتر سطح پررکھاکیا گیا ہے۔ پہلے زمانے میں یہ تاثر تھا کہ زیادہ آبادی والے ملک غریب ہوتے ہیں اور ان کی ترقی کی شرح اور قوت خرید کم ہوتی ہے لیکن ایک جائزے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آبادی پڑھی لکھی اور ہنر مند ہو تو وہ ملکی معیشت کو ترقی دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چین جو دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، اس کی قومی شرح نمو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ہندستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس کی قومی شرح نمو دنیا میں 11 ویں نمبر پر ہے۔ امریکہ آبادی کے لحاظ سے تیسرا بڑا ملک جبکہ قومی شرح نمو اور قوت خرید میں دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔
(
یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
) 9873709977


ترقی کی دہلیز پر کھڑے ہندستان کے عوام پر مہنگائی کی مار 









