You are here: Economics معاشی عدم مساوات: تمام مسائل کی جڑ Home

معاشی عدم مساوات: تمام مسائل کی جڑ

برقیہ چھاپیے

Will Extreme Economic Inequality Lead to Problems? ہندوستان کی اقتصادی شرح نمو گزشتہ چند برسوں میں بہتر ہوئی ہے مگر اس کے زیادہ فائدے غریبوں سے زیادہ تر سرمایا دراوں کوملے ہیں۔اس کا منفی اثر یہ ہورہا ہے کہ غریبوں اور امیروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔یہ صورت حال کسی بھی ملک کی ترقی اور اقتصادی استحکام کے لئے اچھی نہیں کہی جا سکتی۔ اقتصادی استحکام اورامن ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس حصول کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے اندر سیاسی تفریق اور اقتصادی عدم توازن کا مستقل خاتمہ ہو۔لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک کے اندر ان کی اہمیت کو کسی حد تک نظر انداز کردیا گیا ہے ،جس کے نتیجے میں پورا ملک بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔
اقتصادی عدم توازن سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ ہندوستان نے ترقی کی طرف قدم نہیں بڑھایا ہے۔ایسا کہنا حقیقت سے نظریں چرانے کے مترادف ہوگا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان کی اقتصادی شرح نمو گزشتہ دو برس میں 7 فیصد سے زائد رہی ہے۔لیکن وسائل سے مالامال اس ملک کے لیے یہ رفتار کافی نہیں ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ ، ملک اپنے وسائل کا صحیح استعمال کرے تو اگلے 5 برسوں میں چین کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ چین کے بارے میں ایسا کہا جاتا ہے کہ 2011 تک اس کی اقتصادی شرح نمو 11.01 تک ہوجائے گی۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہندوستانی لیڈر اگر سنجیدگی سے کوشش کریں تو ہندوستان کیشرح نمو چین سے بہتر ہو سکتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ 2020 تک ایکونومسٹ انٹلی جنس یونٹ میں ہندوستان تیز رفتار ملکوں کی اگلی صف میں کھڑا ہوسکتا ہے ،، کیوں کہ عالمی بازار میں اس کی بڑی ڈیمانڈ ہے،مگر یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ہندوستان میں سیاسی استحکام ہو۔لیکن بد قسمتی سے سیاسی عدم استحکام اس ملک کے معیشتی عدم توازن کا سب سے بڑا سبب بنا ہوا ہے۔
یہ سچ ہے کہ بے شمار رکاوٹوں کے باوجود ہندوستان نے ترقی کی ہے۔لیکن غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے۔ کیا اسی رفتار سے یہاں کے عوام کی معاشی حالت میں بھی بہتری آئی ہے؟ نہیں ، ایسا نہیں ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ غریبوں اور سرمایا داروں میں جو فاصلہ تھا ،گزشتہ چند برسوں میں اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ دونوں طبقوں میں بڑھتے ہوئے اس فاصلے کا سبب اقتصادی عدم توازن ہی ہے ۔یہ اپنی جگہ اٹل ہے کہ جب تک غریبوں اور امیروں کے مابین بڑھتے ہوئے ان فاصلوں کو کم نہیں کیا جائے گا ، اس وقت تک اقتصادی عدم توازن پر قابو نہیں پایا جاسکتا ہے اور ہندوستان کی صحیح ترقی کی بات نہیں کہی جا سکتی ہے۔
اقتصادی عدم توازن کی وجہ سے ہندوستان میں بے یقینی کی جو کیفیت پیدا ہورہی ہے۔ اس کی مثال نکسلی سرگرمیوں کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ تقریبا 18 صوبوں کے 200 سے زائد اضلاع میںنکسلی اپنا اثر و رسوخ بڑھا چکے ہیں۔ پورے ملک میں تقریبا 100 ایسی تنظیمیں ہیں جو ملک کے امن و سلامتی کے لئے خطرہ بن گئے ہیں۔ان میں صرف آسام میں چھوٹی بڑی 36 ، جموں و کشمیر میں 32 ، میگھالیہ میں 2 ،ناگالینڈ میں 2 ، پنجاب میں 12 ، تری پورا میں 30 ، میزروم میں 2 اور اروناچل پردیش میں 1 ہیں۔ اس کے علاو دیگر کئی ایسی تنظیمی ہیں جو ملک کے اندر امن و سلامتی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔مگر افسوس یہ ہے کہ ان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے کے لئے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش نہیں ہورہی ہے اور ایسا نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کچھ سیاسی پارٹیوں کا اس سے سیاسی فائدہ جڑا ہوا ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس دہشت گردانہ سرگرمیوں کی پیمائش کے لئے کوئی مقررہ معیار نہیں ہے، لہذا اس کے تعین میں اختلافات کا پایا جانا بھی اس کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ نکسلیوں کے بڑھتے خطروں کے باوجود ملک کا ایک معتدبہ طبقہ ان کے عمل کو جائز اور حق بجانب ٹھہرانے کے نظریے پر قائم ہے۔جبکہ اس نظریے سے وابستہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے دنتے واڑہ میں نوجوانوں کا اجتماعی قتل کیا ہے،مغربی بنگال میں ایک ٹرین کوحادثے کا شکار بنا کر تقریبا 200 بے گناہوں کی جانیں لی ، اس کے باوجود وہ نکسلیوں کو حق بجانب منوانے پر بضد ہیں۔
در اصل ان سے غلطی یہ ہورہی ہے کہ وہ حق کے لئے آواز اٹھانے اور حق کے لئے لڑنے کے درمیان پائے جانے والے فرق کو سمجھ نہیں پارہے ہیں۔اپنے حق کے لئے ا?واز اٹھانا ہر فرد کا حق ہے۔ اس آواز کو دبائی نہیں جا سکتی لیکن جب یہی آواز تشدد کی شکل اختیار کرلے اور اسے ملک کے لئے خطرے کی علامت سمجھی جانے لگے تب یہ ا?واز دبائی جانی چاہئے؟۔
ضروری تو یہ تھا کہ سب سے پہلے یہ طے کیا جاتا کہ دہشت گردی کا پیمانہ کیا ہے ۔ظاہر ہے یہ ایک مشکل ترین کام ہے ، کیوں کہ دہشت گردی کا مفہوم وقت اور مقام کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔بطور مثال عالمی سطح پر اسرائیل اور طالبانوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔اسرائیل فلسطینی عوام پر ڈھائے جارہے ہر ظلم کو جواز دینے کی راہیں تلاش کرلیتا ہے، جبکہ اس کے عمل کو عالم عرب میں ایک مجرمانہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح امریکی مفاد کو نقصان پہنچانا طالبانی نقطہ نظر سے ایک مستحسن عمل ہے جبکہ غیر طالبانی نظریہ کے حامل افراد کے نزدیک اس طرح کے اقدام کو دہشت گردی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ گویا دہشت گردی کا پیمانہ ہر ایک کے نزدیک الگ الگ ہے اور یہ ملک و قوم کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے۔تو کیا تشدد کی تشریح ہر ایک کو اپنے اپنے مزاج و مرضی کے مطابق کرنے کی آزادی دے دی جائے۔اگر ایسا ہوا تو ہندوستانسنگین خطرے میں پھنس جائے گا۔ اس لئے ہر ایک کو یہ آزادی نہیں دی جا سکتی۔
دہشت گردی کے لئے پیمانے کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس سے پہلے مرکزی و صوبائی سطح سے لے کر عوامی سطح تک ہر فرد کو قومی وقار کا احترام اور ذہنی و فکری طور پر خود کو تیار کرنا ہوگا۔مذہبی و مسلکی تعصب اور علاقائیت پسندی کی تنگ گلیوں سے باہر نکل کر فکری وسعت اور انسانی ہمدردیوں کے کھلے میدان میں آنا ہوگا۔ فیصلے کے وقت اپنوں اور غیروں ،اکثریت و اقلیت، غریب و سرمایہ داروں کے درمیان پائی جانے والی تفریق کو مٹا کر کھلے دل و دماغ کے ساتھ معاملے کو سمجھنا ہوگا۔ اگر متشدددانہ سرگرمیوں پراپنے کسی حریف کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے لئے دل مچل رہا ہو ،تو یہی سوچ ان افراد اور تنظیوں کے ساتھ بھی اپنانا ہوگا جو اپنے اور حلیف ہیں۔اگر کسی کشمیری کو شک کی بنیاد پر پولس کسٹڈی میں دینے کی حمایت کے لئے آواز بلندکی جارہی ہو تو ان لوگوں کے خلاف بھی اسی طرح کی آواز اٹھنی چاہئے جو مذہب کا لبادہ اوڑھ کر انسانیت کے لئے خطرہبنے ہوئے ہیں۔ اگر کسی افضل گرو کوپھانسی کے پھندے تک پہنچانے کے لئے آواز بلند کی جاتی ہے اور سیمی جیسی تنظیموں پر پابندی عائد کی جاتی ہے تواس آواز کو تعصب اور تنگ نظری سے متاثر نہیں ہونا چائیے بلکہ یہ آواز ملک کے مفاد کا خیال کرتے ہوئے اٹھنی چاہئے۔ یہ آواز وسعت ذھنی کے ساتھ ہر اس فرد کے خلاف اٹھنی چاہئے جو ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔پروہت جیسے افراد اور سناتن سنستا جیسی تنظیموں کے خلاف بھی خلوص دل سے اٹھنی چاہئے ،تاکہ کسی کو بھی پیمائش میں تفریق کا احساس نہ ہو۔
اب تک حکومت نے ملک کے اندر دہشت پسندانہ سرگرمیوںمیں حصہ لینے والی تنظیموں میں سے 34 تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیا ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر وہ تنظیمیں ہیں جو کسی نہ کسی طرح سے ایک مخصوص طبقے کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ ایسا کرنے کی وجہ سے عوامی سطح پر بے چینیاں بڑھیں اور ایسا محسوس کیا جانے لگا کہ ملک کے موجودہ صورت حال کا ذمہ دار کسی ایک طبقے کو ہی سمجھا جا رہا ہے۔ اب تک نکسلیوں نے 1000 سے زائد بے گناہوں، 200 سے زائد پولس کے جوانوں کو ہلاک اور کروڑوں کی قومی املاک تباہ کیا ہے لیکن ان کو دہشت گرد قرار دیئے جانے میں پس و پیش سے کام لیا جا جارہا ہے۔سناتن سنستھا کی مدد سے ملک کے مختلف حصوں میں تباہی مچائی گئی ،لیکن اس پر نہ تو پابندی عائد کی گئی اور نہ ہی سرکاری سطح پر اس کو غیر قانونی قرار دئے جانے کی طرف کوئی مخلصانہ کوشش ہوئی۔اس کی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے کے پیمانے میں حکومت پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔
اس پس و پیش کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں کہیں علاحدگی پسند تو کہیں پر اقتصادی زبوں حالی کے نام پر تشدد کی راہ ہموار کی جارہیہے۔ چنانچہ ملک میں مستقل امن و سلامتی کے قیام کے لئے یہ ضروری ہے کہ حکومت یہ بتائے کہ دہشت گردی کا پیمانہ کیا ہے۔جو بھی پیمانے کو قطعی اور حتمی مانا جائے۔اگر اس پیمانے پر کشمیری مجاہدین وں تو انہیں اور اگر پروہت جیسے امن مخالف افراد یا سناتن سنستھا جیسی تنظیم ہو اسی پیمانے کے مطابق ملک کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے سزائیں دی جائیں۔

Read In English

(0)Comments Add Comment
Write comment
 
 
smaller | bigger
 

busy