You are here: عقائد و مذاہب Islam عید میلاد النبی اور مسلمان Home

عید میلاد النبی اور مسلمان

برقیہ چھاپیے

نسیم احمد
طینت پاک مسلماں گوہر است
آب و تابش از یمِ پیغمبر است
”مسلمان کی پاک طینت اور فطرت ‘ ایک موتی کی طرح ہے اور اس موتی کی آب وتاب رسول کریم کے سمندر سے ہے“۔(اقبال)
آج سرور کونین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے پورے عالم اسلام میں جشن میلاد النبی منایا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کی پیروی کو اپنی محبت کی نشانی قرار دیا ہے۔ قرآن میں کہا گیا ہے۔ ” اے پیغمبر! کہہ دو ! اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو” مزید ارشاد ہوا۔ ”تمہارے لئے اللہ کے رسول ہی بہترین نمونہ عمل ہیں“۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓنے آپ ﷺ کو مجسم قرآن کہا تھا۔ آپ کے اسوہ حسنہ سے ہی دنیا انقلاب آشنا ہوئی۔ انسان نے اپنے آپ کو پہچانا‘ انسانیت کی رفعتوں کو پایا‘ زندگی کا قرینہ سیکھا‘ مقصد حیات سے آگاہی حاصل کی۔ آج کے دن نے قیامت تک آنے والے زمانوں کے قرینے بدل دیئے۔ اسلام امن و آشتی کا مذہب ہے، طاقت اور تلوار کے زور پر نہیں بلکہ رحمتہ للعالمین کی تعلیمات اور محسن انسانیت کے اخوت، بھائی چارے، برابری کی بنیاد پر انسانوں کے ساتھ سلوک اور رواداری کے بل بوتے پر پھیلا۔ اگر طاقت، قوت اور جبر کی بنیاد پر اسلام قائم ہوتا تو امریکہ میں آئے روز سینکڑوں افراد دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوتے۔ بڑی بڑ ی مساجد اور میناروں کے زور پر اسلام کی ترویج و ترقی ممکن نہیں بلکہ عمل و کردار، واعظ حسنہ اور میل جول کو مثبت تعمیری اور شفیق بنانے سے لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہو تے ہیں۔ جیسے کہ برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ایک لاکھ کے قریب افراد اپنے مذہب چھوڑ کر مسلمان ہو گئے ہیں۔ ان میں سفید فام خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔آج مسلمانوں کا امیج خراب ہو کر رہ گیا۔ حضور نبی کریم پوری کائنات میں بلند ترین مقام پر فائز ہیں جن کے وجود سے نکلنے والے پسینے میں خوشبو، ان کے پیغام حسنہ میں امن و آشتی کا درس اور ان کے چلنے پھرنے میں لوگوں کو سکون قلب اور حفاظت نصیب ہوتی ہے۔ شاہ و گدا بھی، امیر غریب حتیٰ کہ غیر مسلم بھی آپ کی ذات کو محسن عظیم قرار دیتے ہیں۔ لیکن دنیا کے متعدد ممالک میں مسلمانوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ فرانس اور جرمنی کے 40 فی صد باشندے اپنے ملک میں آباد مسلمانوں کو خطرہ سمجھتے ہیںاور مسلم کمیونٹی کو قومی شناخت کے لئے خطرہ تصور کرتے ہیں ۔ یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان آبادی فرانس میں ہے یعنی چھ ملین جس کی اکثریت کا تعلق اس کی سابق نو آبادیات شمالی افریقہ سے ہے جبکہ جرمنی میں تارکین ورکرز کی بڑی تعداد ہے جس کی اکثریت کا تعلق ترکی سے ہے اور ان کی آبادی 4 اعشاریہ 3 ملین ہے۔ دور حاضرمیں باہمی اخوت و محبت، امن و سلامتی اور امانت و دیانت کے پیغام اسلامی کو اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کے بدنما داغ اسلام اور مسلمانوں کے دامن سے صاف کر کے اسلام کے حقیقی پیغام کو نمایاں کیا جائے۔ اسلام رحمت اور امن کا درس دیتا ہے اور دلوں میں جذبہ محبت، امن اور خدمت انسانیت، محبت رسول کے ذریعے پیدا ہو تو انسانیت کی فلاح ممکن ہوتی ہے۔بلاشبہ اسلام سیاست سے لے کر معیشت تک زندگی کے ہر شعبے کا احاطہ کرتا ہے اور یہ اجتماعی اور سیاسی زندگی کو بھی اسلامی خطوط پر استوار کرانے کا درس دیتا ہے۔ امت مسلمہ اتحاد کے بجائے نفاق میں مبتلا ہے، دنیا بھر میں مسلمان دشمنان اسلام کے آگے محتاج ومجبور ہیں۔جس دن ہم واقعتا امت محمدی بن گئے تو ہم دشمنان اسلام کی غلامی سے آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔ ربیع الاول ایسا مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے معاشرے میں علم کی روشنی پھیلانے کیلئے نبی کریم کو پیدا فرمایا اور نبی کریم پر اپنی آخری کتاب قرآن مجید نازل کی جو رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں دنیا کے تمام علوم کے اشارے ملتے ہیں۔دنیا میں انسانیت کی فلاح وبہبودکیلئے بڑے بڑے فلسفہ ، نظریئے اور منشور پیش کئے گئے جن کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان تمام میں قرآن مجید کی تعلیمات کا عکس دکھائی دے گا۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت محمد مصطفی کی امت میں پیدا کیا۔امت مسلمہ جن حالات سے گزررہی ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیں لیکن بدقسمتی سے دنیا بھر میں ہرجگہ مسلمان پیسوں ، مشینری ، ٹیکنالوجی، عسکری آلات اور دیگرمعاملات میں دشمنان اسلام کے آگے محتاج ومجبور بنے ہوئے ہیں۔ہمیں عملاً یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اتحاد بین المسلمین اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے پوری سچائی کے ساتھ کام کریں۔ اگر ہم اب بھی عہد کرلیں کہ ہمیں امت واحد اور امت رسول بننا ہے تو پھر ہمیں اپنے عمل سے بھی دکھانا ہوگا کہ ہم ایک امت ہیں۔
رسول اکرم خاتم النبین کی حیات طیبہ اور آپ کی تعلیمات پر عمل ہمارا مقصد زیست ہونا چاہیئے ایمان اور یقین کی دولت کے ذریعہ ہی ہمیں راہ حق پر چلنے کی سعادت حاصل ہوسکتی ہے۔علم ہی کے ذریعہ حق وباطل کی تمیز کی جاسکتی ہے جب تک ہم عشق رسول سے اپنی زندگی کو معمور نہیں کرتے سچے مسلمان نہیں بن سکتے آج ہم علم وعمل سے دورہوچکے ہیں۔ اسلام اخلاقی تعلیمات، احترام انسانیت کا درس دیتا ہے اور عدم تشدد کی تعلیم و تلقین کرتا ہے یہ آپ کا حسن سلوک ہی تھا کہ آپ سب کے لئے صادق اور امین تھے دراصل اسلامی تعلیمات ضابطہ حیات اور فلسفہ زیست سارے عالم انسانیت کے لئے بھی ہے۔ آج ہماری تباہی اور بربادی کی بنیادی وجہ دین اسلام سے دوری ہے۔حضور اکرم کی حیات طیبہ ہمارے لئے اثاثہ زیست ہے۔ اگرہمیں پستی سے دوبارہ بلندی کی طرف جاناہے تو نبی اکرم کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا محور بنا نا ہوگا۔ اسلام اور اسلامی تعلیمات پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی آبادی جواس وقت ایک ارب ساٹھ کروڑ ہے اگلے بیس سالوں میں 35 فیصد کی شرح سے بڑھتے ہوئے دو ارب بیس کروڑ ہو جائے گی۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کی آبادی غیر مسلم آبادی کے مقابلے میں اگلے بیس سالوں میں تقریباً دو گنی رفتار سے بڑھنے کی توقع کی جارہی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں دنیا کی مسلم آبادی نے جس شرح سے ترقی کی ہے وہ اگلی دو دہائیوں میں برقرار نہیں رہے گی مگر پھر بھی مسلمان غیر مسلموں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اپنی آبادی میں اضافہ کریں گے۔صرف آبادی کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتی اصل اہمیت پڑھی لکھی آبادی، تعلیم یافتہ افرادی قوت اور ہنرمند آبادی کی ہوتی ہے۔ اگلی دو دہائیوں میں مسلم آبادی میں جو اضافہ ہوگا اس میں غریبوں کی تعداد یا شرح سب سے زیادہ ہوگی او ر ان کی غربت کی وجہ جہالت اور ناخواندگی ہوگی جو روزگار کے معقول وسائل یا ذرائع تک ان کی رسائی مشکل بنا دے گی۔دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے ساتھ یہ شرط بھی وابستہ کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے عالمی امیج یا تاثر میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کریں ۔ گزشتہ دو دہائیوں میں بعض دہشت گرد تنظیموں نے اسلام کے نام پر کچھ ایسی کار گزاری دکھائی ہے جس نے پوری دنیا کے ہوائی اڈوں پر مسلمان مسافروں کوننگا کردیا ہے۔ اگر دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی نہ لائی گئی تو امریکہ اور یورپی ملکوں میں روزگار اور محنت کی منڈیاں مسلمانوں پر سکڑتی چلی جائیں گی جس کے نتیجے میں غربت اورجہالت بڑھتی چلی جائے گی۔حوصلہ دینے والی بات یہ ہے کہ لوگوں میں تعلیم حاصل کرنے اور ہنر سیکھنے کا شوق بڑھتا جارہا ہے۔
آج کے دن علمائے کرام حضور اکرم کی سیرت طیبہ کا بیان کرتے ہیں۔ انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے آپ کے پیغام کے مختلف پہلوو¿ں کو اجاگر کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اپنی زندگیاں حضور کے اسوئہ حسنہ کے مطابق گزارنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ سنجیدگی سے سوچا جائے تو یہ مبارک دن ہمارے لئے ہر پہلو اور ہر زاوئیے سے اپنی زندگیوں کو اسلام کے ابدی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے یوم تجدید عہد کا درجہ رکھتا ہے۔
(مضمون نگار سے 09873709977یا یہ برقیہ پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے سے رابطہ کیا جا سکتا ہے)

(0)Comments Add Comment
Write comment
 
 
smaller | bigger
 

busy
 

All categories