You are here: عقائد و مذاہب Sikhism Home

سکھ

ہند کی چادر ....گورو تیغ بہادر

گورپریت سنگھ نیامیاں
شری گورو تیغ بہادر کو ’ ہند کی چادر ‘ کہا جاتا ہے کیونکہ آپ نے ہندو دھرم کی حفاظت کے لئے اپنا بلیدان دیا تھا۔ گورو جی کا پرکاش شری گورو ہر گوبند صاحب کے گھر 1621میں ماتا نا نکی جی کی کوکھ سے ہوا۔ گوروجی بچپن ہی سے ویراگیہ کی ساکارمورت ہیں۔

مزید پڑھیے۔۔۔

 

ست گورو نانک پرگٹیا

مٹی دھندجگ چانن ہویا
سری گورو نانک دیو جی کا جنم رائے بھوے کی تلونڈی میں 1469میں مہتہ کلیان داس جی کے گھر ماتا ترپتا جی کی کوکھ سے ہوا تھا ۔ بچپن سے ہی آپ کا من پربھو کی بھگتی میں لگا رہتا تھا۔ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا آپ کی عادت بن گئی تھی

مزید پڑھیے۔۔۔

 

تفتیشی ایجنسیوں کو بھی حق اطلاعات قانون کے دائرے میں لانے کی ضرورت

کرش دیپ کھوسلہ
آج بھی وہ انتہائی دیانتدار اور راست باز افسراں جو بر سرکار ہیں یا ریٹائر ہو چکے ہیں یہی کہتے ہیں کہ ہندوستان کی سب سے بڑی تفتیشی ایجنسی مرکزی تفتیشی بیورو(سی بی آئی ) اور سراغرساں ایجنسی کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔ لیکن تازہ انکشافات نے دنیا بھر میں مقیم ان پنجابیوں کو زبردست دھکا پہنچایا جو1984کے سکھ کش فسادات کے متاثرین کو انصاف ملنے کا ایک چوتھائی صدی سے زائد عرصہ سے انتظار کر رہے ہیں۔
باوجود اس کے کہ لاتعداد سکھ تنظیمیں انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس خونریزی کا مشترکہ درد دنیا بھر میں پھیلے تمام سکھوں اور سیاسی و سماجی معاشرہ کے مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کے لئے آپس میں بانٹنے والاتاریخ کاا یک بوجھ ہی بن کر رہ گیا ہے۔اگر ھکومت ہند نے ملک کے دارالحکومت کی سڑکوں پر 72گھنٹے میں ہزاروں سکھوں کا خون بہانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کو یقینی بنایا ہوتاتو بہت جلد انصاف کے تصورات اور عدالتوں میں سدھار لانے کے لئے متواتر کی جانے والی باتوں کی زبردست ستائش کی جاتی     ۔
اب بھی جبکہ کچھ تنظیمیں سی بی آئی پر دباﺅ بناتے ہوئے انصاف کے لئے جنگ لڑ رہی ہیں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں جو اس امر کی غمازی کر رہے ہیں کہ کس طرح یہ مرکزی تفتیشی ایجنسی مسلسل ہمیں شرمسار کر رہی ہے جس سے ہندوستانی سراغرساں ایجنسی کے اوپر سے بھروسہ اٹھ جائے گا۔
سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر ایس کے دتہ نے اپنی سرگذشت سی بی آئی ٹاپ کوپ رکالس ((CBI TOP COP RECALLSمیںیہ انکشاف کرنے میں بالکل بھی کنجوسی سے کام نہیں لیا کہ تفتیشی ایجنسی نے خود کو قانون کے راستے سے بھٹکانے اور سیاسی حکام کے ہاتھوں استعمال ہونے کے موقع دے کر کس طرح خود کو تباہ کیا ہے۔ دتہ نے ایسی کئی مثالیں دی ہیں جن میں سیاسی نوعیت کے بہت حساس معاملات میں مختلف حکومتوں نے کس طرح بلا جھجک مداخلت کی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے سجن کمار کے خلاف 1984کے سکھ مخلف فسادات کی کیس کا بھی ذکر کیا ۔ انہیں ہر طرح سے مجرم سمجھا جا رہا تھا لیکن انہوں نے بجائے کسی سیاسی اعلیٰ کمان کی وفا داری میں خود کو چھپانے سے بہتر یہی جانا کہ ان کا نام ہی اس پورے معاملے سے نکال دیا جائے۔
دتہ نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ وی پی سنگھ کے دور میں جب سجن کمار کا کیس 1991میں سی بی آئی کے حوالے کیا گیا تو دہلی پولس کو سجن کمار کی رہائش گاہ پر چھاپے کی پیشگی اطلاع دی گئی لیکن یہ اطلاع جان بوجھ کر افشا کر دی گئی۔نتیجہ میں سکڑوں سجن حامیوں نے سجن کمار کی رہائش گاہ کو گھیر لیا اور ڈی آئی جی کی جان کے لالے پر گئے ۔ سجن حامی اتنے مشتعل تھے کہ ڈی آئی جی کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالتے۔ آخرکار مقامی پولس نے کسی نہ کسی طرح ڈی آئی جی کی جان بچائی۔دتہ نے مزید لکھا کہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کو بھیج دیا گیا اور چونکہ اس پر گورنر کی منظوری کی ضرورت تھی اس لئے وہ فائل دہلی حکومت کو بھیج دی گئی۔سی بی آئی کم و بیش ہر مہینے وزارت داخلہ کو منظوری دینے کے لئے یاد دہانی کراتی رہی۔ جب دہلی میںحکومت بدلی تب سی بی آئی کو 1994میں منظوری حاصل ہوئی۔لیکن اس وقت تک میں 1993میں ریٹائر ہو گیا۔
انڈین ایکسپریس نے دتہ کے حوالے سے جس میں انہوں نے جولیو ربیرو کی گولی کا جواب گولی نامی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ لیفٹننٹ گورنر سجن کمار پر مقدمہ چلانے کے لئے منظوری کیوں نہیں دے رہے تھے۔دتہ نے لکھا کہ ربیرو نے سجن کمار کو گاندھی خاندان کے ایک وفادار سپاہی سے تعبیر کیا تھا۔یہی نہیں دتہ نے اپنی حالیہ کتاب میں ہندوستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کے انکشافات کی ایک طویل فہرست دی ہے جو حکومت اور سیاستدانوں سے یہ معلوم کرنےپر مجبور کرتا ہے کہ وہ اس خراب اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔یونین کاربائیڈ کے سربراہ وارین اینڈرسن کے حوالگی کیس میں 1992-93کے دوران انہیں جو ہدایات ملی تھیں اورسید مودی قتل کیس میں جس طرح سیاسی مداخلت ہوئی تھی اس کے انکشافات کے علاوہ اور بھی کئی ایسے اہم انکشافات ہیں جن پر سنجیدگی سے بحث کی ضرورت ہے۔حکومت ہند کو سی بی آئی اور خارجہ امور سے متعلق خفیہ ایجنسی را کے کام کاج اور ان کے فنڈ اور بجٹ میں مزید شفافیت لائی جائے اور عوام کے لئے اسے جوابدہ بنایا جائے۔
جب ایک ایجنسی پر ایک چور کو پکڑنے کے معاملے میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا تو پھر پنجابی برادری کیسے اس پر اعتماد کر سکتی ہے کہ وہ 3000معصوم و بے قصور لوگوں کے قاتلوں کو پکڑ لے گی۔زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب را کے ایک سابق افسر میجر جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ نے ایک کتاب لکھی جس میں سیاسیمخالفین کے خلاف اور تفتیش کے نام پر سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا تفصیل سے ذکر رکتے ہوئے کہا کہ ایک بار سی بی آئی نے مصنف کے مکان اور پبلشرز جو اتفاق سے مناس پبلیکیشنز ہی تھا ، کے گھر پر چھاپہ مارا۔سی بی آئی اور را کو پارلیمانی جانچ کے دائرے میں لانے کے بجائے جو بھیکسی بات پر احتجاج کرتا ہے اسے سی بی آئی کو اس کے خلاف استعمال کرنے کی دھمکی دے کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔
سی بی آئی اور را سرکاری ادارے ہیں اور انہیں ٹیکس دہندگان کے پیسے سے تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ان کے کام کاج کو ہندوستان کی سلامتی کے پیش نظر مخفی رکھا جاتا ہے لیکن کوئی اس کے کام کے انداز پر بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا کیونکہ جو ایسا کرے گا سی بی آئی اس کے گھر پر دستک دینے لگے گی۔سی بی آئی کے فنڈ خاص طور پر را کے بجٹ پر کبھی بحث نہیں کی گئی اور اسے حق اطلاعات قانون کی حدود سے باہر رکھا گیا ہے اور اس کا بجٹ پارلیمنٹ کوئی بحث کیےبغیر منظور کر لیتی ہے۔1996اور 1998کے درمیان کابینہ سیکریٹری کے عہدے پر رہنے والے ٹی ایس آر سبرامنیم اور کئی دوسروں نے اس قسم کے اعتراض کرنے والوں کے پیچھے سی بی آئی کو لگا دینے پر حکومت ہند پر سخت تنقید کی ہے ۔ اب حکومت نے ایک زباں بندی کا حکم جاری کرتے ہوئے سی بی آئی اور را کے افسران سے کہہ دیا ہے کہ وہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اپنے کیریر کے بارے میں کوئی کتاب نہیں لکھیں گے۔ بد قسمتی سے ہمارا میڈیا بھی اس سنگدلانہ اور غیر آئینی اقدام پر مہر بلب ہے۔جمہوریت میں کسی کو کیوں اتنا مقدس اور انگشت نمائی سے مبرا قرار دیا جائے؟ ہر ادارے کی کچھ جانچ ہوتی رہنی چاہئے اور سی بی آئی کو بھی اس سے مستثنیٰ قرار نہ دیا جائے۔اس کا موازنہ سی آئی اے سے کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف امریکی پارلیمنٹ کی انٹیلی جنس نگراں کمیٹی کو جوابدہ ہے بلکہ اس کی فائلوں کو ہمیشہ خفیہ بھی نہیں رکھا جا سکتا۔ہندوستانی میڈیا کو اپنے امریکی ہم منصبوں سے سبق لینا چاہئے جس کا سی آئی اے کے طریقہ کار کا پوسٹ مارٹم کرنے اور اسے بے نقاب کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔
دنیا بھر میں سیاست اور انٹیلی جنس سے وابستہ لوگوں نے اندر کی باتوں سے عوام کو واقف کرنے کے لئے یاداشت تحریر کی ہیں ان میں آرچی روسویل کی For Lust of Knowing(1998)رابٹس گیٹس کی From The Shadows(1996)،اسٹیو کولز کی Ghost War(2004)شامل ہیں ۔ آرچی 1942میں امریکی جی 2کے ممتاز انٹیلی جنس افسر تھے، رابرٹس گیٹس پانچ امریکی صدور کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر چکے ہیں۔ ہندوستانی مثال جے این دکشت کی تصنیفAssignment Colombo اور جنرل وید ملک کی تصنیفKargil: From Surprise To Victory. سے دی جا سکتی ہے۔
یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ برسوں سے ہمارے سیاست داں جو بظاہر آفیشیل سیکریٹ ایکٹ مجریہ 1923کو قابل ملامت سمجھتے ہیں ابھی تک انہیں کیوں وقت نہیں مل سکا کہ وہ اس کیتنسیخ نہ سہی ترمیم ہی کرائیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قانون خود ان کی بہت سے بد اعمالیوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔
کسی بھی ایجنسی کا اندھا تحفظ جمہوریت میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر سی بی آئی کو ایسا تحفظ نہ ملا ہوتا تو 1984کی خونریزی کے متاثرین کو کبھی کا انصاف مل چکا ہوتا ۔لیکن اس وکی لیکس کے دور میں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی بات ہمیشہ چھپی نہیں رہ سکتی ایک نہ ایک روز وہ منظر عام پر ضرور آجائے گی۔ نہ صرف وہ لوگ منظر عام پر آجائیں گے جنہوں نے 3000معصوم اور بے قصورمردوں عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتارابلکہ وہ بھی بے نقاب ہو جائیں گے جنہوں نے اس خونریزی کے ذمہ داروں کو انصاف کے پہیوں تلے آنے سے بچایا ہے۔( بشکریہ: پنجاب ٹوڈے)

   

گورو گرنتھ صاحب کی 305ویں سالگرہ زور شور سے منائی گئی

امرتسر:گورو گرنتھ صاحب کی 305ویں سالگرہ کے موقع پر اکال تخت سے تلونڈی میں گوردوارہ دمدمہ صاحب تک تین روز تک ناگر کیرتن ہوا۔ اکال تخت کے جتھیدار گیانی گوربچن سنگھ پنج پیاروں کے ہمراہ اپنے سر پر گورو گرنتھ صاحب کو سر پر رکھ کر لائے اور اسے طلائی پالکی میں رکھ کر بس میں لے گئے

مزید پڑھیے۔۔۔

   

All categories