You are here: عقائد و مذاہب Sikhism ست گورو نانک پرگٹیا Home

ست گورو نانک پرگٹیا

برقیہ چھاپیے

مٹی دھندجگ چانن ہویا
سری گورو نانک دیو جی کا جنم رائے بھوے کی تلونڈی میں 1469میں مہتہ کلیان داس جی کے گھر ماتا ترپتا جی کی کوکھ سے ہوا تھا ۔ بچپن سے ہی آپ کا من پربھو کی بھگتی میں لگا رہتا تھا۔ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنا آپ کی عادت بن گئی تھی۔ آپ کو پڑھنے کے لیے پنڈت جی اور مولوی صاحب کے پاس بھیجا گیا تاکہ آپ ویدک حساب اور دوسرے علوم سیکھ سکیں۔ اور مولوی صاحب سے عربی فارسی اور اسلامی ادب کا درس لئے سکیں۔ گورو جی بچپن سے ہی سنت مہا پرشوں کی خدمت میں حاضری دیتے رہتے تھے۔ 9سال کی عمر میں گورو جی کو جب جینیو پہننے کے لیے کہا گیا تو آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انہیں تو ایسا جنیو پہنایا جائے جو نہ تو کبھی ٹوٹ سکے اور نہ ہی گندہ ہو سکے اور نہ ہی اسے آگ لگ سکے۔ یہ سن کر سب مبہوت ہو گئے اور گورو جی سے معلوم کیا کہ ایسا جنیو کہاں سے ملے گا تو گورو جی نے جواب دیا۔
دیا کپاسنتوش سوتھ جت ڈنڈی ست بٹ
اے جنیو جیتا ہئی تا پانڈے گھت
نا ائے تٹے نہ مل لاگے، لا ائے جلے نہ جائے
دھن سو مانس نانک جن گل چلا پائے
اس کے بعد گورو جی جب کچھ اور بڑے ہوئے تو انہیں کاروبار سکھانے کے لیے 20روپے دے کر کچھ سامان خریدنے کے لیے بھیجا گیا تا کہ اس سامان کو زیادہ قیمت پر فروخت کر کے کچھ منافع کمایا جا سکے۔ لیکن گورو جی نے گاو¿ں چوہڑ کانا میں کئی روز سے بھوکے پیاسے بیٹھے سنت مہا پرشوں کو ان 20روپوں کا بھوجن کرا دیا اور کہا کہ یہ سچا سودا ہے۔ جب گوروجی گھر پہنچے تو ان کے والد بہت ناراض ہوئے لیکن گوروجی کی بہن بی بی نانکی جی نے سمجھایا کہ گوروجی کوئی عام آدمی نہیں بلکہ بھگوان نے انہیں کسی خاص کام کے لیے بھیجا ہے۔گورو ناک دیو جی کی بڑی بہن بی بی نانکی جی کی سسرال سلطان پور لودھی میں تھی ۔ وہ اپنے بھائی کو اپنے پاس سلطان پور ہی لے آئیں جہاں گورو جی کو مودی خانہ میں نوکری مل گئی لیکن گورو جی کا دھیان یہاں بھی پربھو بھگتی میں لگا رہتا۔جو بھی ضرورت مند آپ کے پاس آتا آپ اسے بھوجن یا راشن دے دیتے تھے۔گورو نانک جی اس دنیا میں بھولے بھٹکے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھانے آئے تھے۔ اپنے مشن کو وہ پورے ملک اور غیر ملکی دورے کر کے ہی پورا کر سکتے تھے۔ اسی منشا کے ساتھ آپ روز کی طرح سلطان پور کے نزدیک سے بہتی بئیں ندی میں اشنان کرنے کے لیے گئے اور تین دن تک باہر نہیں آئے۔ لوگوں نے سوچا گورو نانک دیو جی شائد ڈوب گئے ہیں ۔ لیکن جب تیسرے دن آپ جب ندی سے باہر نکلے تو آپ نے کہا کہ نہ کوئی ہندو نہ مسلمان ۔ اس پر جھگڑا کھڑا ہو گیا لیکن گوروجی نے سبھی کو سمجھایا کہ آدمی کو انسان بنایا ہے اور انسانیت ہی سب سے بڑا دھرم ہے۔اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے گوروجی نے چاروں سمتوں میں چار لمبے سفر کیے۔ جنہیں چار اداسیاں کہا جاتا ہے۔ ان چار سفروں میں گوروجی نے ملکی و غیر ملکی دورے کیے اور لوگوں کو سچائی کے راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ کوڈا راکشش اور سجن ٹھگ جیسے لوگ گوروجی کے درس اور تعلیمات سے راہ راست پر آگئے۔گورو جی نے پہاڑوں میں بیٹھے یوگیوں اور سدھوں کے ساتھ بھی بات کی اور انہیں دنیا میں جا کر لوگوں کو پرماتما کے ساتھ جوڑنے کی ترغیب دی۔ آپ جی نے گرہست مارگ کو سب سے اعلیٰ قرار دیا اور خود بھی گرہست کی زندگی گذاری۔ آپ جی کی شادی پکھو کی رندھاوا (گورداسپور) کے پٹواری مولا چونا کی بیٹی سلکھنی جی سے مولا جی کے آبائی گاو¿ں بٹالہ میں ہوئی ۔ آپ کے دو بیٹے بابا سر ی چند اور بابا لکشمی داس جی تھے۔ بھائی گورو داس جی کے مطابق گورونانک دیو جی اپنی یاترائیں(اداسیاں) پوری کرنے کے بعد کرتار پور صاحب آگئے۔ انہوں نے اداسیوں کا لباس اتار کر دنیاوی کپڑے پہن لیے۔ ست سنگھ روزانہ ہونے لگے۔ بھائی گورو داس جی کے لفظوں میں
گیان گھوشٹ چرچا سدا، انحد شبد اٹھے دھنکاس
سودر آرتی گاویئے،امرت ویلے جاپ اچارا
گورو جی خود کھیتی باڑی کا کام کرنے لگے۔ ان کے پاس لوگ دھرم کلیان کے لیے آنے لگے ۔ یہاں بھائی لہنا جی گورو جی کے درشنوں کے لیے آئے اور ہمیشہ کے لیے آپ کے ہی ہو کر رہ گئے۔ آپ جی نے اپنے بیٹوں کو گورو گدی نہیں دی بلکہ تیاگ آگیا کاری اور سیوا کی مورت بھائی لہنا جی کے کئی سخت امتحان لینے کے بعد ہر طرح سے ان کو گورو گدی کے قابل پا کر انہیں گدی سونپ دی۔ اور ان کا نام گورو انگد دیو جی رکھا۔ گورو نانک دیو جی 1539میں کرتار پور صاحب میں جیوتی جوت سما گئے۔(گور پریت سنگھ نیا میاں) بشکریہ ہند سماچار
ARTICLE SRI GURU NANAK DEV JI

 

(0)Comments Add Comment
Write comment
 
 
smaller | bigger
 

busy
 

All categories