You are here: موسیقی جگجیت تم بہت یاد آؤگے Home

جگجیت تم بہت یاد آؤگے

برقیہ چھاپیے

( اردو تہذیب ڈیسک) ”ہم کو کس کے غم نے مارا “اس غزل کا مصرعہ ہے جسے شہنشاہ غزل جگجیت سنگھ کے قریبی دوست اور پاکستانی غزل گو غلام علی نے گایا ہے لیکن خود انہیں کیا معلوم تھاکہ غزل کا یہ مصرعہ ان کے عزیز دوست و شہنشاہ غزل خود جگجیت سنگھ پر صادق آئے گا جنہیں ان کے اکلوتے جوان سال بیٹے کی موت کے غم نے مار دیا۔ در اصل جگجیت سنگھ اپنے غم میں کسی کو شریک نہیں کرتے تھے اوار اپنا غم اکیلے ہی برداشت کرنے کے خوگر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سے 21سال پہلے اپنے 21سالہ جوان بیٹے وویک کے انتقال کے بعد انہوں نے اس کا غم اپنے سینے میں ایسا دفن کیا تھا کہ اگر کوئی ان سے ان کے بیٹے کے بارے میں جاننا بھی چاہتا یا ان سے اظہار ہمدری بھی کرنا چاہتا تو وہ اسے بڑی عاجزی و لجاجت سے کہہ دیا کرتے تھے کہ اس موضوع کو نہ چھیڑا جائے گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہوں کہ خدارا اس زخم کو نہ کریدو۔وویک کے انتقال سے پہلے جگجیت نے اپنی اہلیہ چترا سنگھ کے ساتھ بھی نغمے گا کر دنیا بھر میں میاں بیوی کی اس جوڑی کی دھوم مچا دی تھی کیونکہ میاں بیوی کی یہ پہلی غزل گو جوڑی تھی ۔ اس جوڑی نے صرف اردو اور پنجابی میں ہی نہیں بلکہ کئی اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں بھی اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگا کر موسیقی و نغموں کے شوقینوں کو مسحور کر رکھا تھا۔لیکن وویک کا کیا انتقال ہوا دونوں میاں بیوی اس بری طوح ٹوٹ گئے کہ چترا کی نغمہ سرائی ہی کہیں کھو گئی اور وہ اپنا غم دنیا سے چھپائے گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر کے گھر کی چہار دیواری تک محدود ہو گئیں اور جگجیت اپنا غم سینے میں چھپائے غزلیں گا کر اس کو تھپکتے رہے مگر کب تک تھپکتے رہتے وہ غم تو بجائے سونے یا اپنی موت آپ مر جانے کے جگجیت کے سینے میں اور بھی نشوو نما پاتا گیا اور نوبت یہ آگئی کہ ہر مشکل اور نامساعد حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر کے انہیں شکست دینے والے اسی جگجیت کا دل و دماغ بیٹے کی جدائی کے غم کو برداشت کرتے کرتے ایسا تھک گیا کہ دماغی رگ ہی غم سے پھٹ پڑی اور جگجیت 21سالہ بیٹے کی موت کا غم 21سال تک ہی برداشت کرتے کرتے آخر کار موت سے شکست کھا کربیٹے کے غم کو سینے میں لئے اور”میرے گیت امر کردو“ کی باز گشت میں 10اکتوبر کو اس دنیا کو الوداع کہ کہتے ہوئے اپنے کروڑوں پرستاروں کو سوگوار کر گئے۔ چترا دو سال قبل 2009میں اپنے پہلے شوہر سے اکلوتی بیٹی مونیکا کی موت کا غم بھی سہہ چکی ہیں۔ مونیکا نے باندرہ میں اپنے فلیٹ میں خود کشی کر لی تھی۔ جگجیت سنگھ 8فروری 1941کو راجستھان میں ایک سکھ جوڑے کے یہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہریانہ کی کوروکشیتر یونیورسٹی سے ہسٹری میں گریجویشن کیا اور 1965میں نایک گلو کار کی حیثیت سے روزگار کی تلاش میںفلمی دنیا ممبئی آگئے۔جگجیت نے اپنی شناخت کرانے اور ساز و نغمی کی دنیا میں خود کو متاعرف کرانے کے لئے موسیقی کے پروگراموں، گھروں میں اور فلمی پارٹیوں میں نغمے گانا ان کا روز کا معمول بن گیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ 1967میں ان کی ملاقات ایک بنگالی دوشیزہ اور گلو کارہ چترا سے ہوگئی ۔ دوسال بعد یہ دونوں ازدواجی بندھن میں بندھ گئے۔ان دونوں نے مل کر کئی البمیں ”ایکٹیسیز“، ”اے ساو¿نڈ افیئر“، ”پیشنز“، اور ” بیونڈ ٹائم“ کے عنوان سے کئی البمیں تیار کیں۔ مگر اکلوتے بیٹے وویک کی ایک سڑک حادثہ میں موت کے بعد چترا نے گانا چھوڑ دیا۔جگجیت پھر تنہا ہی گاتے رہے۔ انہوں نے ”ارتھ“، ”ساتھ ساتھ “، اور ”پریم گیت“ جیسی فلموں کے لئے بھی نغمے گائے۔ان فلموں میں ”ہونٹوں سے چھو لو تم“ ”تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا“ ،”جھکی جھکی سی نظر“،”ہوش والوں کو“، اور ” بڑی نازک ہے“ نغموں نے دھوم مچا دی۔اس کے علاوہ ان کی البمیں ”ہوپ“، ”ان سرچ“، ان سائٹ“، ” میراج“، ” ویژن“ ” کہکشاں“، لوو از بلائنڈ“، ”چراغ“، ”سجدہ“، ”مراسم“، ”فیس ٹو فیس“، ” آئینہ“، اور ” کرائی فار کرائی“ بھی بہت مقبول ہوئیں۔ وہ اپنا ماضی کبھی نہیں بھولے تھے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ کسی کی بھی مدد کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ کئی خیراتی اداروں کو ان کی امداد حاصل تھی۔ جگجیت کا ابتدائی دور بہت تکلیف دہ تھا اور روز کنواں کھودنا اور پانی پینے کے مصداق روزانہ ہی انہیں اپنے گذر اوقات کے لئے کہیں نہ ہیں گانا پڑتا تھا۔ سستی جگہ پر رہتے تھے۔ کھٹملوں کے ساتھ سوتے تھے۔ ایک رات تو نیند میں چوہے نے انہیں کاٹ لیا تھا۔ پاکستان کے مشہور غزل گو مہدی حسن کے علاج کے لئے انہوں نے خود پاکستان جا کر انہیں 3لاکھ روپے دیے تھے۔ان کے والد امر سنگھ نے موسیقی میں ان کی دلچسپی دیکھ کر انہیں پنڈت چھنو لال شرما سے موسیقی سیکھنے کے لئے بھیجا اور پھر 6سال تک استاد جمال خان سے بھی انہوں نے موسیقی سیکھی۔ جگجیت نے گٹار کا استعمال کر کے غزل سرائی کو ایک نیا انداز بخشا۔وہ کالج کے دنوں میں ہی بہت مقبول گلو کار ہو گئے تھے۔ اس کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ کالج کے دور میں چار پانچ ہزار لوگوں کے مجمع میں وہ گا رہے تھے کہ بجلی چلی گئی اور اندھیرا ہو گیا ۔ ساو¿نڈ سسٹم تو بیٹری سے چلتا رہا لیکن اندھیرا ہوجانے کے باوجود لوگ وہیں ڈٹے رہے اور ان کی غزلوں سے محظوظ ہوتے رہے۔وویک کی پیدائش کے وقت تک ان کے مالی حالات نہیں سدھر سکے تھے اور چترا کو ایک پروگرام میں اپنے 20دن کے وویک کو گود میں لے کر مائیک پر غزل گائی تھی۔ لیکن جگجیت اس دور کر بھی اپنی امیری کا دور کہا کرتے تھے۔ان کی لاتعدا مقبول ترین غزلوں میں ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب....یہ دولت بھی لے لو.....ہونٹوں سے چھو لوتم.... جیسی غزلوں نے تو ایسی دھوم مچا رکھی تھی کہ ہر پروگرام میں ان غزلوں کے ہر مصرعہ کے آخری الفاظ جگجیت نہیں بلکہ سامعین پورا کیا کرتے تھے۔

 

All categories