اپریل 2010

اداریہ

نریندر مودی سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (SIT) کے سامنے پیش ہوئے اور دو نشستوں میں ان تمام 68 سوالوں کا جواب بھی دیا جو SIT نے گلبرگ سوسائٹی میں قتل عام کے متعلق تیا رکےے تھے۔ مودی نوازوں نے بجا طور پر یہ دعویٰ کیا کہ نریندر مودی تو قانون کے پاسدار ہیں، انھوں نے کبھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی، اس لیے انھیں SIT کے سامنے پیش ہونے میں کوئی مشکل نہیں تھی۔
سچائی تو یہ ہے کہ جب اخبارات میں یہ اطلاع شائع ہوئی کہ ذکیہ جعفری کی شکایت پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر SIT نے گجرات کے چیف منسٹر نریندر مودی کوسمن جاری کیا ہے تو ہمیں اسی وقت یہ شبہہ ہوا تھا کہ شاید یہ نریندر مودی کو کوئی نئی چال ہے۔ اسی ہفتہ”نیو ایج“ کے اداریہ میں ہم نے ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس حقیقت کی نشاندہی کی تھی کہ SIT میں جو IPS آفیسرز شامل ہیں ان کی اکثریت کا تعلق گجرات سے ہے اور وہ اب بھی گجرات میں ”برسرروزگار ہیں۔“ ہم نے یاد دلایاتھا کہ SIT کی کنوینر گیتا جوہری ہیں جنھیں شیخ سہرا ب الدین انکاﺅنٹر کے معاملے میں سپریم کورٹ نے کافی لتاڑا ہے۔ اس انکاﺅنٹر کے بارے میں سپریم کورٹ نے بھی مان لیا ہے کہ یہ فرضی تھا۔ گیتا جوہری اس وقت راجکوٹ سورت کی پولس کمشنر ہیںSIT کے دوسرے رکن شیوانند جھا ہیں جو اس وقت سورت کے پولس کمشنر ہیں اور ان کے دورِ کمشنر ی میں نہ صرف ”دہشت گردوں سے انکاﺅنٹر“ کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ایک اعلیٰ پولس عہدیدار جس کا تعلق اقلیتی طبقہ سے تھا، دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ریہرسل میں مارا گیا۔ موصوف مابعد گودھرا فرقہ وارانہ فسادات کے دوران احمد آباد کے پولس کمشنر تھے اور ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنھیں مبینہ طور پر مرحوم احسان جعفری نے حفاظت کا بندوبست کرنے کے لیے فون کیا تھا۔ تیسرے رکن احمد آباد کے موجود ہ آئی جی پی پیس آشیش بھاٹیہ ہیں۔ موصوف گواہوں سے من مانے بیان دلوانے کے ماہر ہیں اور اس سلسلے میں کئی مرتبہ عدالت کی پھٹکار سن چکے ہیں۔
ان حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے ہم نے ”نیوایج“ کے اداریہ میں کہا تھا کہ ان IPS آفیسروں کی موجودگی میں نریندر مودی سے پوچھ تاچھ ایک ناٹک ہی ثابت ہوگی۔ یہ ناٹک اس لیے رچا جارہا ہے کہ دنیا کو باور کروایا جائے کہ سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی SIT کے سامنے حاضر ہو کر (بعد میں ”کلین چٹ“ پاکر) نریندر مودی نے ثابت کردیا کہ ان کا دامن صاف ہے۔ اور بی جے پی کے نئے صدر نتن گڈکری کا یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ ”نریندر مودی میں وزیر اعظم بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔“
27 مارچ 2010 کو پہلی حاضری کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے نریندر مودی نے خاص طور سے یہ جتانے کی کوشش کی کہ پوچھ تاچھ ’ملہوترا نامی ایک ریٹائرڈ IPS نے کی ہے جن کا گجرات سے کوئی تعلق نہیںہے اس وقت SIT کے وہ تین رکن موجود نہیں تھے جن کا تعلق گجرات سے ہے۔
بات درست ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ نریندر مودی کے لیے 68 سوالوں کو ان ہی تین IPS آفیسروں نے تشکیل دیاتھا اور عین ممکن ہے کہ نریندر مودی کے لیے جواب بھی انھوں نے ہی تیار کیے تھے۔ گجرات کے مسلم قتل عام کے سلسلے میں عدالتی کارروائی کے نام پر جو کچھ ہورہا ہے اس پر صرف ےہی شعر یاد آتا ہے
بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں
٭٭٭
23فروری سے 23مارچ تک کا پورا مہینہ کوویت میں گزرا۔ دل کے آپریش کے بعد ”مکمل آرام“ کی صلاح کے تحت ہم نے یہ پورا مہینہ اپنی بیٹی داماد روبینہ اور آصف جمال اور نواسی امل کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیاتھا۔ سیاسی طور پر سرگرم کسی فرد کے لیے ”مکمل آرام“ ممکن ہے یا نہیں، اس پر مختلف رائے ہوسکتی ہے۔ پھر بھی کوویت میں قیام کے دوران ہم ”نیو ایج“ کے لیے ادارےے لکھتے رہے اور انٹرنیٹ کی مدد سے بھارت کے اخبارات کا مطالعہ بھی کرتے رہے۔ ویسے صبح صبح ہم کوویت کے کثیرالاشاعت انگریزی روزنامہ ”عرب ٹائمز“ کی کاپی خرید لاتے تھے۔ اس کی فی کاپی قیمت 150 فلس (25روپئے ہندستانی) ہے۔ یہ روزنامہ روز56جہازی صفحات کا ہوتا ہے۔ (جہازی صفحات ہمارے روزناموں کے سائز سے بڑے ہوتے ہیں) اس میں ابتدائی آٹھ صفحات میں کوویت کے متعلق خبریں ہوتی ہیں اور باقی ماندہ صفحات بین الاقوامی خبروں اور دیگر دلچسپیوں کے لیے وقف ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی خبروں کے حصول کا واحد ذریعہ امریکی خبررساں ایجنسیاں ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ کوویت میں صرف وہی سب کچھ چھپتا ہے جس کی اجازت امریکی دیتے ہیں۔ کوویت کے ایک جزیرہ دوحہ پر تو پوری طرح امریکیوں کا قبضہ ہے اور وہاں کی مروج کرنسی کوویتی دینا ر نہیں بلکہ امریکی ڈالر ہے۔ کوویت میں اگر کسی تقریب میں امریکی سفیر (جو ایک خاتون ہیں) شریک ہوجائیں تو اس کی ویسی ہی تشہیر کی جاتی ہے جیسے ہمارے سرکاری ذرائع ابلاغ میں ہمارے وزیر اعظم کی شمولیت کی۔ خیر اس وقت ہمارا موضوع کوویت، نہیں اس پر بعد میں اطمینان سے لکھیں گے۔
ہم تو صرف اس حقیقت کی طرف دھیان دلانا چاہتے ہیں کہ اگر ”عرب ٹائمز“ کی خبروں پر یقین کیا جائے تو آج دنیا میں کوئی خطہ ، کوئی علاقہ ، کوئی ملک اور کوئی شہر ایسا نہیں ہے جہاں اگر مسلمان موجود ہیں تو وہ دہشت گردی کی زد پر نہ ہو۔ القاعدہ اور طالبان کو امریکیوں نے دنیا کے کونے کونے میں تلاش کرلیا ہے اور آج تو تمام مسلم ممالک میں جس میں عریب ممالک بھی شامل ہیں کسی بھی احتجاجی تحریک کو طالبانی تحریک قرار دینا حکمرانوں کا شیوہ بن گیا ہے۔ لاطینی امریکہ میں ابھار پانے والی سامراج دشمن تحریکات کو بھی طالبانی تحریکوں سے جوڑنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
ہم ہندستان میں رونا رو رہے ہیں کہ کاﺅنٹر ٹیرارزم کے نام پر مسلمانوں پر ستم ڈھایا جارہا ہے ،بات درست ہے مگر یہ صرف بھارتی حکومت کا وطیرہ نہیں ہے، بلکہ اس کے احکامات واشنگٹن سے جاری ہوتے ہیں اور آج دنیا کی زیادہ تر حکومتیں جن میں ہماری منموہن سنگھ حکومت بھی شامل ہے امریکی فرمانوں کی تابع ہیں۔ اس وقت حکم ےہی ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں ”طالبان اور القاعدہ“ کو تلاش کیا جائے۔ انھیں نیست و نابود کرنے کے بجائے ان کا مناسب ”سیاسی استعمال“ کیا جائے۔
ہم مانتے ہیں کہ ہم نے بھی ا ب تک اس خطرے کی سنگینی کو اس طرح سے اُجاگر نہیں کیا جو اس کا تقاضہ ہے ۔ ”حیات“ کے آنے والے شماروں میں ، ہم ان اُمورپر خصوصی توجہ دیں گے۔
٭٭٭
حیدرآباد میں فرقہ وارانہ تصادم چار دن سے جاری ہے۔ ابتدائی دو دنوں میں پولس نے صرف دفعہ 144نافذ کی ، مگر بعد میں اسے کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ پہلے دن شام سات بجے سے صبح پانچ بجے تک کے کرفیو کا اعلان ہوا اور یہ صرف نیّا پل کے اس طرف کے پرانے شہر کے لےے تھا مگر جمعرات کے دن بجرنگ دل کے جلوسیوں کے ہنگامے کے بعد بن معیاد کے کرفیو کا اعلان ہوا اور اسے تقریباً آدھے شہر تک وسعت دے دی گئی۔
اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان سے صاف ہے کہ فسادات اچانک نہیں پھوٹ پڑے بلکہ یہ باقاعدہ سازش کا حصہ ہیں۔ جس طرح سے واقعات ہورہے ہیں ان سے پچھلی صدی کی آٹھویں دہائی کے واقعات کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ یہ وہ دہائی ہے جب حیدرآباد میں ”خنجر فرقہ پرستی“ کی اختراع ہوئی۔
حیدرآباد کسی زمانے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیکولر روایتوں کے لیے مشہور تھا، حیدرآباد فرخندہ بنیاد کی یادیں مخدوم سے وابستہ تھیں۔ چار مینار، قطب شاہی کے سیکولر نوازی کی علامت تھا ۔ نظام کے خلاف جدوجہد میں حیدرآباد کے مسلمانوں نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ 1972 تک حیدرآباد میں بعض تاریخی وجوہات سے مسلم مجلس اتحاد المسلمین کو ایک اسمبلی سیٹ پر کامیابی نہیںملتی تھی اور وہ کارپوریشن میں بعض نشستوں پر کامیابی حاصل کرتی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پیش رو جن سنگھ تو کارپوریشن کی سیٹ بھی جیتنے کے موقف میں نہیں تھی۔ 1977 میں شکست کے بعد اندرا گاندھی نے مجلس اتحاد االمسلمین سے روابطہ بڑھائے اور مجلس نے ”ریاستی“ سرپرستی کا استعمال پرانے شہر میں اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا۔ فرقہ وارانہ فسادات، اس کا موثر ہتھیار ثابت ہوئے۔ ایک طرف مجلس قائد امان اللہ خان تھے تو دوسری طرف جن سنگھ کے اے نریندر ۔ 1977 سے 80 کی دہائی کے خاتمے تک کوئی ہندو-مسلم تہوار ایسا نہیں گزرا جب شہر میں فرقہ وارانہ فساد نہ ہوا ہو اور شہریوں کو ہفتے دو ہفتے تک لگاتار کرفیو کا عذاب نہ جھیلنا پڑا ہو۔ رام پوری چاقو اور حجام کے استرے ”خنجر فرقہ پرستی“ کے بنیادی ہتھیار ثابت ہوئے۔ ان لگاتار فسادات کا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر ، ہندو مسلم میں بٹ گیا۔ نہ صرف مجلس اتحادالمسلمین شہر کی زیادہ تر سیٹوں پر کامیاب ہونے لگی بلکہ بی جے پی نے بھی ایک سیٹ پر قبضہ جمانا شروع کردیا۔ شہرکی فرقہ وارانہ صف بندی کے نتیجہ میں حیدرآباد کی پارلیمانی نشست پر بھی مجلس کا قبضہ ہوگیا۔ کارپوریشن پر بھی اس کا قبضہ ہوگیا۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
مگر پچھلے چند برسوں کے دوران ”انصاف“ اور ایسی ہی دیگر سیکولر تنظیموں کی بڑھی ہوئی سرگرمیوں کے سبب، پرانے شہر میں مجلس کمزور ہوئی ہے۔ مسلمانوں میں سیاسی شعور بیدار ہونے لگا ہے ، اس میں حیدرآباد کے اردو روزناموں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پیر تلے زمین کھسکتے دیکھ کر مجلس نے نہ صرف ایک روزنامہ (اعتماد) جاری کیا ہے بلکہ وہ ایک بار پھر بدترین فرقہ وارانہ حکمت عملی اختیار کررہی ہے۔ اب تک اس کے قائدین اور پرچارک محض زبانی طور پر فرقہ وارانہ زہر پھیلا رہے تھے، مگر اب ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے ایک بار پھر 1977 کے بعد کی اسی حکمت عملی کو نافذ کرنا شروع کردیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے پہلے حیدرآباد ایک بار پھر ”خنجر فرقہ واریت“ کا شکار بنے، اس فتنہ کو تمام سیکولر طاقتیں مل کر کچل دیں۔بورژوا سیاسی پارٹیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک رنگ کی فرقہ پرستی کا مقابلہ دوسرے رنگ کی فرقہ پرستی کی مدد کر کے نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنا خود کشی کے مترادف ہوگا۔
شمیم فیضی
31 مارچ 2010

 

ہندی- اردو- ہندستانی

٭قیصر شمیم

مجھے کچھ کہنا ہے اپنی زبان میں

”ہندی اردو اور ہندستانی“— مجھے اب خاصا پامال مضمون معلوم ہوتا ہے۔ ممکن ہے کوئی زبان کا ماہر، اس میں، ندرت بیان کا کوئی نمونہ پیش کرسکے۔ مگر مجھ جیسے کوتاہ بیان کو اس میں خاصی دقت کا سامنا ہے۔ یہ دقت ویسی ہی ہے جیسی ہندومسلم ایکتا پربولنے میں ہوتی ہے، جس میں بقیہ مذہبی گروہوں کو چھوٹی امت سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ گویا ہندومسلمان شیروشکر ہو جائیں تو بقیہ مختصر سی آبادی کی کیا پرواہ۔ پرانے زمانے کی بات اور تھی۔ اب یہ بات مجھے جمہوری مزاج کے منافی معلوم ہوتی ہے۔
اسی طرح ہندی اردو اور ہندستانی پر گفتگو، اس لسانی بو قلمونی (Linguistic Diversity) سے ہماری توجہ ہٹاتی ہے جو حیاتیاتی بو قلمونی (Bio-diversity)کی طرح سرزمین ہندوستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا ایک بڑا وصف ہے۔ سوائے پپوانیوگنی (Papua New Guinea) کے اتنی لسانی بو قلمونی کہیں اور دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس کو لاحق خطرہ بھی حیاتیاتی بو قلمونی (Bio-diversity)کو لاحق خطرے کی طرح سنگین نتائج کا حامل ہے۔
حیاتیاتی بو قلمونی کو لاحق خطرات پر سائنسی برادری میں ہل چل ہے۔ حکومت بھی کسی حد تک متوجہ ہو رہی ہے۔ مگر زبان اور ثقافت کی دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر گفتگو بھی ذراکم ہی ہو رہی ہے اور عملی اقدام نہ ہونے کے برابر ہے۔
ہم نے زبان اور ثقافت کے مسئلے کو اپنے طور پر دستورساز اسمبلی میں حل کرلیا اور قانع ہو گئے۔ لیکن زبان اور ثقافت کا مسئلہ محض قانون کے ذریعہ حل نہیں ہوتا۔ دیگر سماجی اور سیاسی محرکات بھی اپنا کام کرتی ہیں۔ آزاد اور جمہوری سماج نے، جو موقع ہمیں گزشتہ آدھی صدی میں فراہم کیا تھا ، اس میں ہم نے ثقافتی پالیسی کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں کی ہے۔ لہٰذا اب کھلی معیشت ، آزاد منڈی اور اطلاعات کے آزادانہ بہاو¿، سے ابھرنے والے خطرات کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔ ہندی جو کئی ریاستوں کے علاوہ مرکزی سرکار کے کام کاج کی زبان بنائی گئی اور جس کی ترقی کے لیے سرکاری خزانہ کا منہ کھول دیا گیا ، اس کے بعض ہمنوا اب ہنگلش (Hinglish)کی بات کررہے ہیں ۔ 2008میں ہندی دیوس کے موقع پر ایک سرکاری چینل نے اس موضوع پر ایک مباحثہ کرایا ۔ اس میں شریک ایک مرکزی یونیورسٹی کے صدر شعبہ¿ ہندی نے ہنگلش کی حمایت کی اور اسے لسانی ارتقاء سے تعبیر کیا—شتر مرغ کے بارے میں سنا ہے کہ وہ خطرے کی آہٹ پر اپنا سر ریت میں چھپا لیتا ہے۔
ترکی کے ناول نگار، اور ہان پامک کے ناول اسنو (Snow)میں اس کا ایک کردار ،رستم وسہراب کی کہانی سناتا ہے اور پھر کہتا ہے:
”میں نے یہ کہانی تمہیں اس لیے نہیں سنائی کہ میری زندگی میں اس کی کیا اہمیت ہے یا میری زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے؛ بلکہ یہ بتانے کے لیے سنائی کہ اب اسے بھلادیا گیا ہے....ہزار سال پرانی یہ کہانی فردوسی کے شاہنامہ کی ہے۔ ایک وقت تھا جب تبریز سے استنبول تک اور بوسنیا سے ترب زون تک لاکھوں لوگوں کو یہ کہانی یاد تھی۔ وہ جب بھی اسے دہراتے، اسے اپنی زندگی میں بامعنی پاتے۔ یہ کہانی ان کے لیے ویسی ہی اہم تھی جیسی پوری مغربی دنیا کے لیے اوڈپس کے ذریعہ باپ کا قتل یا میکبیتھ کو اقتدار اور موت کا خوف۔ مگر اب چونکہ ہم مغرب کے طلسم میں گرفتار ہیں، ہم اپنی ان کہانیوں کو بھول گئے ہیں۔ ہماری نصابی کتابوں سے ایسی تمام پرانی کہانیاں ہٹادی گئی ہیں۔ ان دنوں استنبول میں ایک بھی کتب فروش ایسا نہیں جس کے پاس شاہنامہ موجود ہو۔“
یہ وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنی تصویر بھی دیکھ سکتے ہیں۔
عہد وسطیٰ میں بلاد اسلامیہ کے نام سے یاد کیے جانے والے خطہ، یعنی ترکی سے مرکزی ایشیا تک اور جنوبی ایشیا سے افریقہ کے متصل علاقہ تک بولی جانے والی زبانوں میں ایک مشترکہ نظریہ¿ حیات کی پرورش ہوئی جس میں اسلامی عقائد، یونانی اور سنسکرت فلسفہ، دیگر مذاہب کی روایتیں اور رسوم ورواج مل کر شیروشکر ہو گئے۔ اس کا ارتقاءفارسی میں عمر خیام، مولانا روم حافظ سعدی ونیز امیر خسرو سے بیدل تک ہوتا رہا۔ یہ نظریہ حیات اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ، ترکی ، اردو اور مرکزی ایشیا کی زبانوں میں درآیا اور اس نے ثقافتی سطح پر ایک مشترکہ ایشیائی فکر کو جنم دیا ۔ اس لیے رستم وسہراب کا المیہ، میکبتھ یا اوڈی پس کے المیہ سے اسی طرح الگ ہے جس طرح مشرقی اور مغربی شاعری کا مزاج الگ ہے۔
اس تہذیبی فرق اور ثقافتی کشمکش کو پامک نے اپنے نوبل انعام یافتہ ناول My Name is Redمیں سولہویں صدی کے پس منظر میں بڑی خوبی سے اجاگر کیا ہے۔ یہ بھی المیہ ہے کہ اب ہم ترکی ادب کا مطالعہ انگریزی کی مدد سے کرنے پر مجبور ہیں اور مشترکہ ایشیائی فکرکی زبانیں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بنتی جارہی ہیں—جو نصابی کتابیں پڑھائی جارہی ہیں، جو ادب دستیاب ہے، الکٹرانک میڈیا کے ذریعہ جو کچھ پیش کیا جارہا ہے، ان کی حیثیت ایک تہذیبی یلغار کی ہے —اور نتیجہ سامنے ہے۔
ہندوستان کی صورتحال یہ ہے کہ 1835میں لارڈ ٹی۔بی۔ میکالے نے رنگ ونسل کے اعتبار سے ہندستانی مگرذہن ومذاق کے اعتبار سے انگریز افراد پیدا کرنے کا جو خواب دیکھا تھا۔ اس کی تکمیل گلوبلائزیشن یعنی نئی جغرافیائی وسعت، اور انسانی زندگی کی نئی پنہائیوں پر محیط عالمی نظام، کثیر ملکی کمپنیوں کے ذریعہ اطلاعاتی ٹکنالوجی کے استعمال ، عالمی سٹہ بازاری ، بلاروک بین ملکی سرمایہ کاری ونیز قومی حکومتوں کے اقتدار میں کمی اور قومی زبانوں کی پسپائی کی شکل میں نمودار ہو رہی ہے—اور ان سب کے نتیجہ میں متبادل فکر اور ان زبانوں سے وابستہ متبادل نظریہ¿ حیات، سمٹ سکڑ رہا ہے جو بالآخر ثقافتی بوقلمونی کا خاتمہ کرکے یک رنگی دنیا کو جنم دے سکتا ہے— ایک بڑے معیار بند بازار کی تشکیل، جس کی زبان اور اقدار مشترک ہوں، کثیر قومی کمپنیوں کے لیے تجارتی آسانی پیدا کردیتا ہے۔
حیاتیاتی بو قلمونی اور ثقافتی ولسانی بوقلمونی کو درپیش خطرات کی وجہیں بڑی حد تک مشترک ہیں۔ جنگلوں کا بے دریغ کٹنا، انواع واقسام کے نباتیاتی نمونوں کا فنا ہونا، جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی انمول انواع کا ختم ہونا ونیز زبانوں اور ثقافتوں پر نازل آفت کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور اپنی بقاءکے لیے ایک دوسرے پر منحصر بھی ۔
ترقی یافتہ ممالک اعداد وشمار کو حاصل کرنے، ان کو محفوظ رکھنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی تکنالوجیکل برتری کی وجہ سے برق رفتاری سے ایسے فیصلے کرسکتی ہیں جو ان کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع بخش ہو۔ انگریزی زبان اور اس کی جلو میں آنے والے اقدار وافکار کا پھیلنا اس کام میں ان کی معاونت کرتا ہے۔ اس سے جہاںکثیرقومی کمپنیوں کی ترقی ہو رہی ہے وہیں اس سے پسماندہ ممالک میں معشیت اور تمدن ہی نہیں خود سلامتی کے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ گزشتہ صدی میں جب ناوابستہ ممالک کی تحریک اپنے عروج پر تھی تو نامیڈیا (NAMEDIA) اس کے بطن سے پیداہوئی۔ اطلاعات اور ترسیل کی عالمی سطح پر تنظیم نو کی مانگ، اس جدوجہد کا حصہ تھی جو غیر ترقی یافتہ نوآزاد ممالک، ترقی یافتہ ممالک کی بالا دستی کے خلاف کررہے تھے۔ مزید برآں یہ خوف کہ کمپیوٹر اور ترسیلی قوت سے مسلح، کثیر قومی کمپنیاں، دوسروں کو معاشی، سیاسی اور ثقافتی طور پر دبوچ لیں گی محض ان غیر ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں تھا جنہوںنے نئے عالمی اطلاعاتی اور ترسیلی تنظیم (NWICO)کے لیے تحریک چلائی تھی۔ بلکہ اس زمانہ میں مغرب کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک بھی اس خوف میں مبتلا تھے کہ زیادہ بڑی مچھلی، نسبتاً چھوٹی مچھلی کو کھاجائے گی۔ کینیڈابہت دنوں تک اطلاعاتی ٹکنالوجی کے پیش رفت سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات کا شاکی رہا تھا۔ فرانس نے ثقافتی سامراجیت کی شکایت کی تھی۔ سویڈن نے باربار اس قسم کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ اس طرح NWICOکو عالمی حمایت حاصل ہو سکی تھی۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد بالآخر 1976میں نیروبی میں ہونے والی یونیسکو کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یونیسکو کو ہدایت دی گئی کہ وہ ترسیل کے مطالعہ کے لیے ایک کمیشن مقرر کرے۔ نتیجہ میں ایک سولہ رکنی کمیشن کو یہ کام سونپا گیا جس کے سربراہ آئرش وکیل، صحافی، سیاست داں، نوبل انعام یافتہ اور لینن انعام یافتہ سین میک برانڈ تھے۔ اس کمیشن نے1979میں اپنی رپورٹ تیار کی جو اس قرارداد کی بنیاد بنی جسے 1980میں بلغراد میں ہونے والے یونیسکو کے اکیسویں جنرل کانفرنس میں منظور کیا گیا اور جو نئے اطلاعاتی نظام کی جدوجہد کا ایک روشن باب ہے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا یک قطبی ہو گئی۔ اب خود اقوام متحدہ کا وجود خطرہ میں ہے۔ ناوابستہ ممالک کی تحریک بدلے ہوئے حالات میں اپنے استعمار مخالف کردار کو متعین کرنے میں ناکام ہے۔ NWICOپر گفتگو تقریباً ختم ہو چکی ہے اور تیسری دنیا کے ممالک کے لوگ معاشی اور تہذیبی یلغار کے سامنے اب بے بس نظر آرہے ہیں۔
قیاس لگایا جارہا ہے کہ دنیا میں جو پانچ ہزار زبانیں اس وقت موجود ہیں ان میں سے پچاس فیصد، اس صدی کے اختتام تک گم ہو جائیں گی۔ زبانیں، انسانی تجربات کا گنجینہ ہیں—جب کوئی زبان معدوم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ، انسانی تجربات کا ایک بڑا ورثہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔ Andrews Dalbyنے اپنی معروف کتاب Language in Danger (2002)میں اس کا بہت عمدہ تجزیہ پیش کیا ہے۔ لیکن اس کتاب میں اور ایسی دیگر مباحث میں زیادہ تر مغربی ممالک کا مطالعہ کیا گیا ہے؛جبکہ ایشیا اور خصوصاً جنوبی ایشیا کی صورتحال بھی ایک تفصیلی مطالعہ کی متقاضی ہے ع
”صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے“
ماحولیات کے مشہور رسالہ Down to Earthنے 15فروری 2008کے شمارے میں رپورٹ کیا تھا کہ نیپال میں ڈورا (Dura)نام کی ایک ایسی زبان بھی ہے جس کی بولنے والی صرف ایک 82سالہ سومادیوی بچی ہے۔ ڈورا، تبتی برمی خاندان کی زبان ہے اور سومادیوی کے مرنے کے بعد یہ زبان معدوم ہو جائے گی۔ اس لیے ایک نیپالی ماہر لسانیات کیدار ناگی لم (Kedar nagilum)نے اس زبان کے ڈیڑھ ہزار الفاظ اور دو سو پچاس جملوں کو محفوظ کرلیا ہے۔ ہندستانی زبانوں کا مرکز اگر فنا پذیر ہندستانی زبانوں کے لیے ایسا کوئی کام کرے تو کیا خوب ہو۔
Down to Earthنے اپنے اسی شمارے میں اطلاع دی تھی کہ کوسودا (Kusuda)یا کسنڈا (Kusunda)نامی زبان جسے گم شدہ سمجھ لیا گیا تھا، اس کے جاننے والے تین افراد اب بھی موجود ہیں۔مغربی نیپال میں ایک ماں بیٹی اس زبان میں گفتگو کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور ضلع میں ایک 77سالہ عورت کا پتہ چلا ہے جو اس زبان کو جانتی ہے مگر 1940کے بعد اس کو اس کے استعمال کا موقع نہیں ملا ۔ جب اسے، اس کا موقع فراہم کیا گیا تو اس نے اپنی گفتگو کی روانی سے لوگوں کو حیران کردیا۔
ان دو چھوٹی چھوٹی خبروں کی تفصیل خاصی ہولناک ہے۔ کسنڈا اپنی انوکھی خصوصیات کی وجہ سے ان زبانوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں ماہر لسانیات یہ طے نہیں کرپائے ہیں کہ ان کو زبانوں کے کس گروہ (Phylum)یا خاندان (Family)میں شامل کیا جائے۔ ان کو وہ Language Isolatesکا نام دیتے ہیں۔ جانوروں میں بھی ایک ایسی قسم ہے جس کو Connecting Linksیا Missing Linksکہا جاتا ہے۔ وہ اگر ختم ہو جائیں تو ارتقاءکی تاریخ نامکمل رہ جائے گی۔ لہٰذا ایسی زبانوں کا ناپید ہونا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ کسنڈا، نیپال کے قدیمی باشندے ہیں۔ ان کی بچی کھچی آبادی نے بیسویں صدی کے وسط میں اپنے لیے سنہا، سین، ساہی اور خان جیسے چار ہند۔آریائی لقب اختیار کرلیے اور پھر دوسری زبان کے بولنے والوں میں مدغم ہوتے چلے گئے۔ 1960اور 1970کی دہائی تک ان کے بولنے والے نظر آتے تھے مگر اب Down to Earthکی اطلاع کے مطابق کل تین افراد اس زبان کو جانتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کی ایسی زبانیں جن کو Language Isolatesکہا جاتا ہے ان میں نہالی (Nahali)بھی ہے جس کے بولنے والے، مدھیہ پردیس میں، تاپتی ندی کے جنوب میں گوالی گڑھ کی پہاڑیوں کے گرد بسے ہوئے ہیں۔ اب ان کے بولنے والوں کی تعداد دو ہزار بھی نہیں رہ گئی ہے۔
اسی قسم کی ایک اور زبان بورشکی (Burushki)ہے جس کے بولنے والے لوگ ہنزا اور نگر میں پچاس ہزار کی تعداد میں اور یٰسین میں اسی ہزار کی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کی اچھی خاصی تعداد گلگٹ میں بھی آباد ہے۔ لیکن یہ زبان چاروں طرف سے ایرانی اور ہند آریائی زبانوں سے گھری ہوئی ہے اور باہری دنیا کا دباو¿ اس پر بڑھتا جارہا ہے۔ 1891میں برطانیہ کے زیر نگیں آنے سے قبل یہ خطہ لگ بھگ خود مختار تھا۔ 1972میں بھٹو نے اس رجواڑے کی خود مختاری ختم کی اور 1974میں رجواڑے کا ہی خاتمہ ہوگیا۔ 1968میں بننے والی قراقرم شاہراہ کی وجہ سے باہری دنیا کا دباو¿ بڑھ گیا ہے اور اب چند دہائیوں میں اس زبان کے معدوم ہو جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
انڈومان جزائر میں، ایسی ہی انوکھی، تین درجن سے زائد زبانیں کھوچکی ہیں اور جو بچی ہیں ان میں سے جاروا (Jarwa)اور اونگ (Onge)کے بولنے والوں کی تعداد سو سے بھی کم ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے شعبہ¿ لسانیات کے کوئی صاحب ایک پروجکٹ بناکر وہاں کام کررہے ہیں۔ مگر یہ کام ایک پروجکٹ سے کہیں بڑا ہے۔
یہ آفت صرف ان زبانوں پر نہیں آئی ہے جن کو Language Isolatesکہا جاتا ہے ۔ George Van Driemنے جنوبی ایشیا کی فناپذیر زبانوں کی جو تفصیل پیش کی ہے وہ خاصی ہولناک ہے۔
Down to Earthنے جس ڈورا زبان کے بارے میں اطلاع دی کہ اب اس کی بولنے والی صرف 82سالہ سو مادیوی بچی ہے، وہ زبان 1970کی دہائی تک پوڑ ی(Paudi)اور می ڈِم (Midim)دریایوں کے درمیانی خطہ میں لم جن (Lumjun)میں بولی جاتی تھی۔ ڈورا جس تبتی ۔برمی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس خاندان کی اور بہت سی زبانیں فنا پذیر ہیں۔ مثلاً: اسی خاندان کی پیو (Pyu)جو موجودہ میان مار کے علاقہ میں بولی جاتی تھی اب تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ اسی خاندان کی ایک اور زبان رنگکاس (Rangkas) کے بولنے والے بیسویں صدی کی ابتداءتک موجود تھے مگر اب ان کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اسی تبتی-برمی خاندان کی نیواریک زبانیں (Newarik Languages)جن میں تحریرکی روایت بارہویں- تیرہویں صدی میں موجود تھی، اپنے وطن کا ٹھمنڈو کی وادی میں معدوم ہو رہی ہیں اور ان کی جگہ نیپالی لے رہی ہے جو اس وادی کی بولی نہیں ہے۔
نیپال میں سو سے زائد زبانیں ہیں۔ مگر ان میں متعدد ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد سو سے زیادہ نہیں ہے۔ ان میں رائے (Rai)زبان ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد 1991میں پانچ لاکھ سے زائد تھی۔ 2001کی ہندوستان مردم شماری میں ان کی تعداد 14ہزار بتائی گئی ہے۔ پھر لمبو (Limbu)گروپ کی زبانیں ہیں جن کے بولنے والے تقریباً تین لاکھ لوگ مشرقی نیپال سے سکم تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ 2001میں اس کے بولنے والے 37,265لوگ ہندوستان میں تھے۔ اس گروپ کی زبان Phedappeموجودہ نسل کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔ لیکن اس سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر باقاعدہ کوشش نہیں کی گئی تو شاید اکیسویں صدی کے آخر تک پورے لمبو گروپ کا ہی خاتمہ ہو جائے گا۔ خود ہند آریائی خاندان کی تین زبانیں دنوور (Danuwar)، درائی (Darai) اور ماجھی (Majhi)معدوم ہونے والی ہیں۔ اس لیے کہ اس کے بولنے والے نیپالی زبان کی طرف راغب ہو گئے ہیں۔ نیپال ، اس کی ترائی اور منی پور میں بولی جانے والی متعدد ہند آریائی زبانیں تقریباً غائب ہو چکی ہیں؛ ان میں کمہاروں کی بولی کہالی بھی ہے اور گنگائم بھی جو مشرقی بہار اور مشرقی نیپال میں مروّج تھی۔
اسٹروایشیاٹک خاندان، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کا قدیم ترین لسانی خاندان ہے۔ اس خاندان کی چار زبانوں—یعنی Khmer، ویت نامی، کھاسی اور سنتھالی کو چھوڑ کر بقیہ دو سو سے زائد زبانیں خاتمہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ حتیّٰ کہ مون (Mon)زبان، جس میں تحریر کی روایت، ساتویں صدی میں موجود تھی، اس خطرہ کا شکار ہے۔نکوبار جزائر میں اسی گروہ خاندان زبانیں پو(Pu)، Powahat, Taihlong, Tatet, Ong, Lo'ong, Tehnu, Laful, Nancowry وغیرہ کے بولنے والوں کی مجموعی تعداد بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کے علاوہ وہاں ایک انوکھی زبان Shompenبھی ہے جس کے بولنے والے 1981میں 223افراد تھے۔
اسی لسانی گروہ کی تقریباً18زبانیں—جن کے بولنے والے کئی لاکھ افراد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیس، اڑیسہ، بہار، آسام اور مغربی بنگال میں پائے جاتے ہیں—ہر طرف سے ہند۔ آریائی زبانوں کا دباو¿ جھیل رہی ہیں۔ ان میں سنتھالی کو چھوڑ کر بقیہ سب زوال پذیر ہیں۔ نہ صرف یہ کہ سنتھالی میں مزاحمت کی بڑی صلاحیت ہے بلکہ اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوگئی ہے۔ مگر بقیہ منڈا زبانوں کا کیا حشر ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
ہمیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ لسانی ڈرامہ صرف شمال تک محدود ہے اور جنوبی ہندوستان میں گویا سب ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے۔ وہاں کنٹر، تامل، تلگو اور ملیالی کے علاوہ جو پچیس زبانیں مروج ہیں، ان کے سر پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ ان میں Tuluجیسی خالص جنوبی دڑاوڑی زبان ہے جس کے بولنے والے دس لاکھ سے زائد لوگ منگلور اور کسرکوڈ میں پائے جاتے ہیں اور جس کا رسم خط ”گرنتھ“، ملیالی جیسا ہے۔ اس میں 1842 سے نصابی کتابیں اور انجیل کے ترجمے چھپتے رہے ہیں۔ اسی طرح کی ایک اور زبان Kuviہے، جس کے بولنے والے پانچ لاکھ سے زائد لوگ اڑیسہ کے کالا ہانڈی سے آندھرا کے وشاکھا پٹم تک پھیلے ہوئے ہیں۔ عیسائی مبلغوں نے رومن اور اڑیہ دونوں رسم خط میں اس کی طباعت کی ہے۔ ان میں ایک دلچسپ دڑاوڑی زبان Brahuiہے جس کے پانچ لاکھ بولنے والے پاکستان کے حیدرآباد، کراچی اور خیرپور سے ہوتے ہوئے پاس کے افغانی اور ایرانی علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس میں تحریر کی روایت تین صدی پرانی ہے؛ گرچہ اس کا ادبی سرمایہ زیادہ وقیع نہیں ہے۔ اس دڑاوڑی زبان کو فارسی کے ایک ترمیم شدہ رسم خط میں لکھا جاتا ہے—لسانیات کا جال، ساری حد بندیوں کو توڑ کر دلچسپ حقائق سے روبروکراتا ہے۔ مگرGeorge Van Driemکے سروے یا اس قبیل کی دیگر تحریروں میں بھی جنوبی ایشیا کی لسانی بو قلمونی کی مکمل تصویر نہیں ابھرتی ہے۔ مثال کے طور پر ہندی پٹی کی متعدد بولیوں کو قانونی طور پر ہندی کی بولیاں گردانا گیا ہے۔ اس لیے سروے میں بھوجپوری، مگہی، اودھی، برج وغیرہ کا الگ الگ ذکر مشکل سے ہوتا ہے۔ بہار کے 12اور مشرقی اترپردیش کے 16اضلاع پر مشتمل بھوجپور ی بولنے والوں کا کہنا ہے کہ ان کی زبان بین الاقوامی حیثیت کی مالک ہے۔ دلیل یہ ہے کہ مارلیشس کی ستر فیصد آبادی در اصل بھوجپوری بولتی ہے۔ اسی طرح سوری نام، فجی اور بہت سے ممالک میں بھوجپوری بولنے والے آباد ہیں۔ بھوجپوری کا ادب بھی موجود ہے اور اس میں فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ اب ایک ٹیلی ویژن چینل بھی کام کررہا ہے۔ بھوجپوری میں ناول لکھنے والوں میں راہل سانکرتیاین جیسے قد آور لوگوں کا نام آتا ہے۔
بھوجپوری بولنے والوں کی نہ صرف تعداد بڑی ہے بلکہ اس میں مزاحمت کی بھی زبردست صلاحیت ہے۔ لیکن یہی بات مگہی، اودھی یا برج کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی ہے۔ ان کا دائرہ دن بدن سمٹ رہا ہے۔ یہی حال ماڑواڑی ، ہریانوی اور شمالی بہار کی زبان وجّیکاکا ہے۔ خود راجستھانی دباو¿ کا شکار ہے۔ اس لیے مغربی ماہر لسانیات جو سروے پیش کررہے ہیں مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے۔
دستور ساز اسمبلی میں 14ستمبر 1949کو ناگری رسم خط میں ہندی کو یونین کی زبان تسلیم کیا گیا اور اسے رابطہ کی زبان کی حیثیت سے ترقی دینے کی بات طے ہوئی تو اس کے پس پشت یہ تصور کار فرما تھا کہ یہ ہندوستانی اور ملک کی دیگر زبانوں سے بڑے پیمانے پر جذب وقبول کا سلسلہ شروع کرے گی اور ان زبانوں کے تہذیبی عناصر کو سمیٹ کر ایک ایسے بڑے تہذیبی دھارے کی شکل اختیار کرے گی جس میں ہرلسانی خطے کے لوگ اپنا عکس دیکھیں گے۔ چنانچہ دستور کے دفعہ 351میں مندرج ہے:
”دفعہ 351 : ہندی زبان کو فروغ دینے کے لیے ہدایت
”یونین کا یہ فرض ہوگا کہ ہندی زبان کی اشاعت کو فروغ دے تاکہ وہ بھارت کی ملی جلی تہذیب کے تمام عناصر کے لیے اظہار خیال کے ذریعہ کے طور پر کام آئے اور، اس کے مزاج میں دخل انداز ہوئے بغیر، ہندستانی اور آٹھویں فہرست بند میں مندرجہ ، بھارت کی دوسری زبانوں میں استعمال ہونے والی تراکیب، اسلوب اور اصطلاحات کو جذب کرکے اور، جہاں بھی ضروری ہو یا مناسب ہو، اس کے ذخیرہ¿ الفاظ کے لیے اولاً سنسکرت اور ثانیاً دوسری زبانوں سے اخذ کرکے اس کو مالا مال کرے۔“
اس دفعہ کی منظور ی غیر متنازعہ نہیں تھی۔ 12ستمبر1949کی سہ پہر میں این گوپالا سوامی آئنگر نے جو ترمیم پیش کی تھی اور جسے بالآخر 14ستمبر1949کی شام تک منظور کرلیا گیا، اس کی بنیاد، ڈرافٹنگ کمیٹی میں اکثریت کی رائے پر تھی۔ ان تین دنوں میں جو بحث ہوئی وہ کوئی خوش گوار بحث نہیں تھی اور اب اسے انیسویں صدی کے لسانی تنازعہ کی طرح، محض ماضی سے سبق حاصل کرنے کے لیے پڑھاجاسکتا ہے۔ جواہر لال نہرونے 13ستمبر 1949کو اپنی تقریر میں اس پر بہت جامع تبصرہ کیا تھا۔ اپنی اس تقریر میں، این گوپالا سوامی آئنگر کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:
”مجھے نہیں معلوم اس زبان کا مستقبل کیا ہوگا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہم ہندی کے معاملہ میں دانشمندی سے کام لیں گے۔ اسے اخراجی (Exclusive)کے بجائے جاذب (Inclusive)زبان بنا کر، اور اس میں ہندوستان کی زبان کے تمام عناصر کو سموکر جو اردو یا ملی جلی ہندستانی کی شکل میں جلوہ گر ہوئی ہے—قانون کے ذریعہ نہیں، یاد رکھیے، اگر میں پھر یہ کہوں کہ اُس طرح نہیں کہ اسے جو لوگ ناپسند کرتے ہیں، ان پر ٹھونس کر—تو مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ ترقی کرے گی اور ایک عظیم زبان بن جائے گی۔“
یہ وہ پس منظر تھا جس میں گوپالاسوامی آئنگرکی ترمیم 301Iمنظور ہوئی تھی، جوناگری کی شمولیت کے ساتھ، دفعہ 351کی شکل میں دستور ہند میں شامل ہے۔ اس نے یونین کی زبان ہندی کی ترقی کے خطوط متعین کردیے کہ یہ زبان ہندستانی اور دیگر زبانوں کے ملے جلے تہذیبی عناصر کو سمیٹ لے گی اور اپنی لفظیات کے لیے، بنیادی طور پر سنسکرت مگرثانوی طور پر دیگر ہندستانی زبانوں کے ساتھ اخذ وقبول کا سلسلہ شروع کرے گی۔
سنسکرت کی بات یوں ضروری تھی کہ ہر ترقی پذیر زبان، اپنے الفاظ واصطلاحات کے لیے اپنے قریب ترین کلاسیکی زبان پر انحصار کرتی ہے۔ مگر ہندستانی اور دیگر قومی زبانوں سے اخذوقبول کی بات بڑی دانشمندی سے کہی گئی تھی۔ لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ ان الفاظ واصطلاحات کو بھی خارج کردیا گیا جو سرکاری کام کاج اور عدالت میں عام استعمال میں تھے۔ یعنی ہندی کو ایک بڑے تہذیبی دھارے میں بدلنے کے بجائے ایک چھوٹی ندی کی شکل میں ترقی دی گئی ۔ تعصب کے اس کھیل نے ہندی کو ایک بڑے ورثہ سے محروم کردیا۔ چنانچہ انگریزی کی یلغار اسے اس مقام پر لے آئی ہے جہاں ہندی زبان کا ایک پروفیسر اور ایک مرکزی یونیورسٹی کا صدر شعبہ ، ہنگلش کی حمایت برسر عام کررہا ہے اور اس پر کسی کو غصہ نہیں آرہا ہے۔ گویا ہندی جیسی اہم زبان جس کے پس پشت، اس کی ماں جائی اردو کی عظیم الشان روایت موجود ہے، اس کی حیثیت ایک بیل کی سی ہو گئی ہے جو انگریزی کے تناور درخت کے بنا پھل پھول نہیں سکتی۔
عالم کاری کے اس دور میں، انگریزی زبان اور مغربی تہذیب کے مقابلہ میں ہندی کی پسپائی، اس کی داخلی توانائی کی کمی کا نتیجہ ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں ہندی کے جوشیلے ہمنوا اور بعض سیاسی پارٹیوں کے کارکنان، اترپردیس میں انگریزی کے سائن بورڈ پر سیاہی پوت رہے تھے۔ آج ان کی جانشین پارٹیوں کے ایجنڈے سے ہندی خارج ہو چکی ہے؛اس لیے کہ اب ان کی تیسری نسل، ہندی زبان اور اس کی روایات میں رچی بسی نہیں ہے، بلکہ خالص مغرب زدہ ہے۔ دیگرہندستانی زبانوں کی طرح، ہندی میڈیم میں پڑھنے والے وہ لوگ بچے ہیں جو انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ہندی کے بعض کم ہمت اُدبا اور دانشور، مسئلہ کی جڑ تک پہنچنے اور اس کا تدارک کرنے کے بجائے مارکیٹ اکانومی اور ہنگلش کی حمایت کررہے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ اس لیے ہمیں اس پورے عمل کے طبقاتی کردار پر غور کرنا چاہیئے —لینن نے 1914میں ایک مضمون لکھا تھا جس کے انگریزی ترجمہ کا عنوان ہے Is a Compulsory Official Language Really needed ۔ پھر1928-30سے انحراف کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس نے سویت یونین کے بکھراو¿ میں اپنا کردار ادا کیا اور اسی انحراف کے نتیجہ میں چین کے سنکیانگ میں ایسی بے چینی ہے کہ ”دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا۔“ کیا اچھا ہو کہ ہندستانی زبانوں کے مرکز میں ان تمام امور پر غوروفکر کا سلسلہ شروع ہو۔
جب غور وفکر کا سلسلہ شروع ہوگا اور ہندی، اردو اور بولیوں کی ترکیب سے ہندستانی کا خمیر تیار کریں گے تو یہ طے کرنا ہوگا کہ اس کا خمیر تدبھو مائل ہوگا یا تدسم کی طرف۔ اردو اپنے مزاج کے اعتبار سے تدبھو کی طرف مائل ہے۔ اٹھارہویں صدی میں خان آرزو اور شیخ علی حزیں کے درمیان معرکہ کی بنیاد یہی تھا۔ خان آرزو کا استدلا ل یہ تھا کہ ایران کی فارسی میں کسی لفظ کا تلفظ خواہ کچھ بھی ہو اور آپ اس سے کوئی بھی معنی مراد لیتے ہوںاردو میں وہی درست ہے جس طرح سے ہندوستان میں اسے بولتے اور سمجھتے ہیں ۔ اردو کا مزاج آج بھی وہی ہے۔ اصل لفظ سوریہ ہوگا مگر اردو میں سورج اور سورج گرہن اور سورج درشن ہی درست ہے۔ پانی اردو میں پانی رہے گا خواہ اس کا اصل تلفظ کچھ بھی رہا ہو۔ یہ اور ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کے بارے میں طے کرنا ضروری ہے کہ ہندستانی کا لسانی مزاج کیا ہونا چاہئے —وہ جو عوام بولتے ہیں یا کچھ اور۔
سوالات تو بہت ہیں۔ مسائل ومشکلات بھی بے شمار۔ مگر جذب وقبول اور اخذ واستفادہ کی ایک روایت بھی موجود ہے۔ جو دھپور یونیورسٹی میں پروفیسر نامور سنگھ کے ساتھ جو ہوا اس سے ہم سب واقف ہیں، مگر این سی ای آر ٹی کی ہندی کتابوں پر وہ کافی حد تک اثر انداز ہوئے۔ ہندستانی زبانوں کے مرکز میں ہندی اور اردو دونوں کو لازمی طور پر پڑھانے کی جوروایت ان کی کوششوں سے شروع ہوئی وہ گزشتہ 36سال میں خاصی مستحکم ہو چکی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستان کی کسی اور یونیورسٹی نے اس کی تقلید کی ہے مگر ان کے شاگرد چمن لال نے روزنامہ ٹری بیون کے ذریعہ پنجابی کو فارسی اور گورمکھی دونوں رسم خط میں پڑھانے کی حمایت کی اور راقم نے اس پر تفصیل سے مضمون لکھا۔ اس مرکز سے نکلنے والے بیشتر طالب علم اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اور شاید یہی مناسب راہِ عمل ہے۔
ہم اگر انصاف کے طالب ہیں تو اپنے مزاج میں بھی منصفی پیدا کرنا لازم ہے ۔اور جب مزاج میں منصفی پیدا ہوگی اور چھوٹی سے چھوٹی زبان اور بولی کو پھولنے پھلنے کا موقع ملے گا، تو پھر ہندی، اردو اور دیگر ہندستانی زبانوں اور بولیوں کا مشترکہ محاذ تیار ہوگا جس کی کمان میں تہذیبی یلغار کا مقابلہ کیا جاسکے گا۔ جمہوریت کا مطلب اکثریت بازی (Majoritism)نہیں ہے۔ جمہوریت کا تقاضہ ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی اقلیت کے حقوق کی حفاظت کی جائے ؛ خواہ وہ مذہبی اقلیت ہو یا لسانی اقلیت۔
(ہندستانی زبانوں کا مرکز کے یومِ تاسیس کے موقع پر 28اکتوبر2009کو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں دیا گیا کلیدی خطبہ۔ اس جلسہ میں ہندستانی زبانوں کے مرکز کے چیرمین پروفیسر چمن لال نے اپنی تقریر میں کہا کہ دسویں جماعت تک ناگری اور اردو دونوں رسم خط کو لازمی طور پر پڑھایا جائے تو یہ مسئلہ اپنے آپ ہی حل ہو جائے گا۔ )
٭٭

 

مسابقتی امتحانات اور مسلم طلبائ

٭ڈاکٹر محمد عبدالبصیر

منشی پریم چند نے اپنے کسی افسانے میں قدیم زمانے کا حال لکھا ہے کہ لوگ داستان گل بکاولی، گلستان، بوستان پڑھ کر تحصیل دار ہوجاتے تھے۔ 1960-70 کے دہے میں منشی پاس تحصیلدار و ڈپٹی کلکٹر ہوا کرتے تھے۔ 1980 تک بھی آئی ٹی آئی، ڈپلو ما ہولڈرس انجینئر بن جاتے تھے۔ کوئی 25-30 برس پہلے تک بھی مسابقت کے متعلق عام طور پر لوگوں کو اتنا احساس نہ تھا جیسا کہ آج زندگی کے ہر شعبہ میں مسابقت کا چرچا ہے۔ بلکہ موجودہ دور ”مسابقتی دور “کہلاتا ہے۔ آج مقامی سطح پر بھر تی کئے جانے والے کلریکل جائدادوں کے لیے تقریبا ً1:300 کاتناسب پایا جاتا ہے۔
آج اکثر و بیشتر ہوشیار وذہین طلباءکا رجحان میڈیکل یا انجینئرنگ کی تعلیم کی طرف ہی پایا جاتا ہے۔ جبکہ اس کے بر خلاف ریاستی و مرکزی حکومتوں کی مختلف وزارتوں اور محکموں جیسے ریلویز، ڈاک، دفاعی سرویسز، اکانامک سرویسز، فارن سرویسز، فارسٹ سرویسز وغیرہ کے لئے ہر سال مسابقتی امتحانات منعقد کئے جاتے ہیں۔ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن، یونین پبلک سرویس کمیشن، اسٹاف سلیکشن کمیشن، ریلوے ریکریوٹمنٹ بورڈ، کمبائینڈ ڈیفینس سرویسز جیسے ادارے مسابقتی امتحانات کے ذریعے ملک بھر میں ذہین، قابل اور باصلاحیت افراد کا انتخاب کرتے ہیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ ان مسابقتی امتحانات کے ذریعہ بہ مشکل 2 سے 3 فیصد سے بھی کم مسلم امیدوار منتخب ہوتے ہیں۔
سال 2006-07 کے دوران70 وزارتوں /محکمہ جات میں جملہ 12182 (6.92 فیصد) اقلیتی طبقہ کے امیدواروں کی بھرتی کی گئی۔ 2007-08 کے دوران 61 وزارتوں / محکمہ جات میں جملہ 12195 (8.23 فیصد) اقلیتی امیدواروں کی بھرتی کی گئی اور 2008-09 کے درمیان 32 وزارتوں / محکمہ جات سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے لحاظ سے تب تک 4,479 اقلیتی طبقہ کے افراد بھرتی کئے گئے۔ واضح رہے کہ اقلیتی امیدواروں میں مسلم امیدواروں کے علاوہ عیسائی، بدھسٹ، سکھ اور پارسی اقلیتوں کے امیدوار بھی شامل ہیں۔ (ملاحظہ فرمائیے راجیہ سبھا رپورٹ، 4 اگست 2009 ئ، زی نیوز بیورو رپورٹ3 اگست 2009 ئ ٹائمز نیوز نیٹورک 6 اگست 2009 ئ)۔
جب کہ مختلف ریاستی پبلک سروس کمیشن کی جانب سے گذشتہ دو تین برسوں میں منتخبہ مسلم امیدواروں کے تناسب کو اگر حقیقی انداز میں دیکھا جائے تو کانگریس کے زیر حکومت ریاست مہاراشٹر کے مختلف سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی بھرتی کی شرح انتہائی حد تک تشویش ناک ہے۔ ریاست مہاراشٹر میں MPSC Main Exam 2004 کے گروپ 'A'اور گروپ 'B' سرویسیز کے لئے 27 اگست 2008ءکو جاری کئے گئے نتائج کے مطابق منتخبہ جملہ 420 امیدواروں میں صرف 6 امیدوار مسلمان ہیں (1.4فیصد)، MPSC Main Exam 2006 کے گروپ 'A'اور گروپ 'B' سرویسیز کے لئے 30جولائی 2009ءکو جاری کئے گئے نتائج کے مطابق منتخبہ جملہ 398 امیدواروں میں صرف 5 امیدوار مسلمان ہیں (1.25فیصد) ۔
اسی طرح MPSC کی جانب سے منعقد کئے گئے مسابقتی امتحان برائے سیلز ٹیکس انسپکٹر، پولس سب انسپکٹر وغیرہ کی جملہ 1220 جائیدادوں کے لئے صرف 9مسلم امیدوار منتخب ہوئے (0.73 فیصد) نتیجہ بتاریخ 23 سپٹمبر 2008ئ۔ جبکہ اسی زمرہ کے لئے 2006 ءمیں منعقد کئے گئے مسابقتی امتحان کے جملہ 692 منتخب امیدواروں میں صرف 4 امیدوار مسلم ہیں (0.57فیصد) جس کا نتیجہ 5 فروری 2009 ءکو شائع کیا گیا۔
اگرچہ کہ ریاستی حکومت سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری کی بات کرتی ہے، پولیس بھرتی کی سلیکشن کمیٹی میں مسلمان رکن شامل کئے جانے کے باو جود پولیس بھرتی کے لئے گذشتہ 4 برسوں میں منتخب کئے گئے 34 ہزارامیداورں میں کسی بھی ضلع سے 2 تا 3 فیصد سے زائد مسلمان منتخب نہیں ہوئے ہیں۔( ڈسمبر 2005 تا ڈسمبر 2008 کے تمام تر اعداد و شمار قانون حق معلومات کے تحت حاصل کئے گئے ہیں)۔
ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے لحاظ سے مسلمانوں کی تقریباً 15 فیصد آبادی کے باوجود ہمارے ذہین، قابل اور با صلاحیت طلباءکی اس جانب عدم دلچسپی، عدم رجحان اور معلوما ت کی کمی کی وجہ سے انتہائی اہم حکومتی پالیسیوں، پروگراموں پر حقیقی عمل درآمد کرنے والی بیورو کریسی میں ہمارا شمار نہیں کے برابر ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو آج درج ذیل صورتحال کا سامنا ہے :
(۱)    قانون ساز اداروں میں اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف قانون سازی کی مسلسل کوشش۔
(۲)     عدالتوں میں فاضل ججوں کا حساس مسائل میں منفی رویہ۔
(۳)     کلیدی عہدوں پر فائز عہدیداروں کا معتصبانہ رویہ، مسلمانوں سے عدم ہمدردی۔
(۴)     فوج، پولس جیسی لا اینڈ آرڈر کی مشنری میں موجود فرقہ پرست عہدیداروں کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم و زیادتی، بے وجہ حِراستیں، انکاونٹر۔
(۵)     مسلمانوں کے تعلیمی، سماجی و ثقافتی اداروں سے عدم تعاون۔
(۶)     مالیاتی اداروں (بینکوں ) اور محکموں کا عدم تعاون، معاشی بدحالی کا سامنا۔
(۷)     میڈیا کی جانب سے مسلمانو ں اور اسلام کو بدنام کرنے کی منظم سازش، ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے عہدیداروں کا معتصبانہ رویہ۔
(۸)     انصاف رسانی اور فلاح و بہبود کے نام پر مسلمانوں کے لیے قائم کردہ مختلف کمیٹیوں کے سربراہوں کا غیر معاونانہ رویہ۔
(۹)     مسلمانوں کی سماجی معاشی و تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے شروع کردہ مختلف فلاحی اسکیمات کی حد درجہ سست عمل آوری، مختص کردہ فنڈکا رائیگاں کیا جانا۔
ان حالات میں ”مسابقتی امتحانات کے ذریعہ انڈین سیول سروسیز تک مسلمانوں کی بھر پور رسائی فرض کفایہ ہے“۔ یوں کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔
ایک فرد اگر ڈاکٹر بنتا ہے جبکہ صلاحیتوں کے لحاظ سے اگر وہ آئی اے ایس آفیسر بننے کے قابل ہو تو یہ صرف اس کا ذاتی نقصان ہی نہیں ہوگا بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہوگا۔ اصل مسئلہ ان ذہین طلباءکا ہوتا ہے جو صلاحیت و قابلیت رکھتے ہوئے بھی مسابقتی امتحانات میں شرکت نہیں کرتے۔ اس مسئلہ کی عام وجوہات یوں ہوسکتی ہیں۔
(۱)     ہماری موجودہ تعلیم میں مسابقتی جذبہ کی کمی پائی جاتی ہے۔
(۲)آج طلباءامتحان اور نصاب کو ملحوظ رکھتے ہوئے پڑھائی کرتے ہیں۔
(۳) اردو مدارس کے معیار تعلیم کا مسئلہ
(۴) نصابی کتب کے علاوہ عام معلومات، حالاتِ حاضرہ کی معلومات، سماجی، سیاسی مسائل میں دلچسپی کا فقدان۔
(۵) مسابقتی امتحانات سے متعلق کتب و رسائل نیز اخبارات کا پابندی سے مطالعہ نہ کرنا۔
(۶) درجہ چہارم، ہفتم، ہشتم، نہم و جونیئر کالج کی سطح پر ہونے والے مختلف اسکالر شپ امتحانات میں انتہائی قلیل تعدادمیں مسلم طلباءکی شرکت۔
(۷) مختلف مضامین میں صلاحیت نیز ذہنی صلاحیت کی نشو نما کے لیے اردو زبان میں مطبوعہ مواد کی کمی۔
(۸) ان طلبہ کے لیے کوچنگ کے خصوصی اہتمام کا فقدان۔
(۹)     اسکول و کالج کی سطح پر منعقد ہونے والے مختلف مقابلہ جات، کوئزوغیرہ میں مسلم طلبہ کی حد درجہ کم شرکت وغیرہ۔
(۰۱)مسلم طلبہ کا طالب علمی کے زمانے میں بے مقصد وقت کو برباد کرتا ہوا پایا جانا۔ان میں پست ہمتی، احساس کمتری کے عناصر کا پایا جانا۔
(۱۱)     مسلم طلبہ کا اپنی ذات، شخصیت سے متعلق خوبیوں و خامیوں کو سمجھنے میں کمزور واقع ہونا۔
(۲۱) ان کے والدین کا غیر تعلیم یافتہ ہونا۔
(۳۱) بیشتر طلبہ کو مختلف مسابقتی امتحانات سے متعلق معلومات سے اور ان کے ذریعہ حاصل ہونے والے فوائدسے لا علمی۔
اکثر و بیشتر طلبہ پہلے ہی یہ سوچ لیتے ہیںکہ وہ مسابقتی امتحانات میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ گھوڑا اپنے سوار کو پیٹھ پر بیٹھتے ہی پہچان لیتا ہے۔ جو شہ شوار نہیںہے اس کی پریشانی گھوڑے کی رگوںمیں دوڑ جاتی ہے اور وہ اسے آسانی سے زمین پر پٹک دیتا ہے۔ جو سچ مچ شہ سوار ہوتا ہے اس کے بیٹھتے ہی گھوڑا اس کی خوداعتمادی کو بھانپ لیتا ہے اور وہ شرارت کرنے نہیں پاتا۔ یہی بات مسابقتی امتحانات کی ہے جب تک خود اعتمادی نہ ہو کوئی مہم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ خود اعتمادی کے لیے تین عناصر اہم ہیں۔ جس مقابلہ میں شریک ہونا ہو اس کی پوری پوری تیاری، صحت برقرار رکھنا اور عام معلومات وہ خیالات کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ مزاج میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ خود مزاج میں توازن بھی تعلیم، غور و فکر اور بحث و مباحثہ سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
مسابقتی امتحانات میں صرف تحریری امتحان کامیاب کرلینا کافی نہیں ہوتا۔ ”انٹرویو“ انتخاب کا لازمی جزو ہوتا ہے۔ جس میں امیدوار کی شخصیت کی مکمل جانچ، حالات حاضرہ، عام معلومات، مخصوص مضمون میں مہارت، خود اعتمادی، کسی مسئلہ کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت، تجزیہ کے بعد نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت کو جانچا جاتا ہے۔ آئندہ سال 2011 سے UPSC اپنا طریقہ امتحان میں تبدیلی کررہا ہے۔ جس میںسول سروسز پریلیمنری امتحان میں تبدیلی کرتے ہوئے سول سروسز اپٹیٹیوڈ ٹسٹ(CSAT) منعقد کیا جائے گا۔ عام معلومات اور مخصوص مضامین کی معلومات کے بجائے امیدواروں میں سیول سروسیز کے لیے درکار اخلاقی اور قوت فیصلہ کی صلاحیتوں کو دو آبجیکٹیو قسم کے سوالیہ پرچوں کے ذریعہ جانچا جائے گا۔ مادری زبان کے ذریعہ سیول سروسیز میں کامیابی کی ضمانت یقینی طور پر بڑھائی جا سکتی ہے۔ حال ہی میں اس جانب انتہائی قابل قدر اور اہم اقدام وزارت ریلوے کی جانب سے کیا گیا ہے کہ ریلوے بھرتی امتحان مختلف علاقائی زبانوں کے علاوہ اردو میں بھی جاریہ سال 2010 سے منعقد کئے جارہے ہیں۔ ملک میں سب سے زیادہ روز گار کے مواقع فراہم کرنے والی وزارت ریلوے کے علاوہ وزارت دفاع و وزارت داخلہ بھی فوج میں بھرتی کے امتحانات، اسٹاف سلیکشن امتحانات، پولیس فورس میں بھرتی کے امتحانات وغیرہ اردو میں منعقد کرتے ہوئے اردو داں اقلیتی طبقہ کے امیداوارں کے سرکاری ملازمتوں میں انتخاب کو یقینی بنائیںیہ وقت کا تقاضہ ہے۔
مسلم طلبہ کے مسابقتی امتحانات میں کامیابی کی شرح کو بڑھانے کی غرض سے نیچے چند اموردرج ہیں جن پر عملی اقدام نہایت ضروری ہے:
۱۔     ہر اسکول میں اسکالر شپس امتحان کی تیاری کے مراکز شروع کئے جائیں۔
۲۔     اسکول لائبرری میں جنرل نالج، سائنس اور مسابقتی امتحانات سے متعلق شائع ہونے والے کتب و رسائل طلباءکے لیے مہیا کروائے جائیں۔
۳۔     اسکول کی سطح پر ہر ماہ کوئز، جنرل نالج امتحانات منعقد کئے جائیں۔
۴۔     ششم، ہفتم کی سطح پر ہی طلبہ کی ذہنی، علمی جانچ کے ذریعہ ان کی شخصیت میں پائی جانے والی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی جائے۔
۵۔     طلبہ کی مسابقتی امتحانات کے لیے ہائی اسکول کی سطح سے ہی منصوبہ بند طریقے سے رہنمائی کی جائے۔
۶۔     شہر کی سطح پر ذہین طلبہ کو منتخب کرتے ہوئے مسابقتی امتحانات سے متعلق رہنمائی کی جائے۔
۷۔     ریاستی و ملک گیر سطح پر مشہور و معروف کوچنگ سینٹرس جیسے راﺅز اسٹیڈی سرکل، ہمدرد اسٹیڈی سرکل وغیرہ میں طلبہ کے داخلہ کو یقینی بنانے کی غرض سے فاﺅنڈیشن کلاسیس کا اہتمام کیا جائے۔
۸۔     اسکول و کالجوں میں اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ” کیرئر ٹاک “منعقد کئے جائیں۔
۹۔     ڈگری سطح پر زیر تعلیم طلبہ کو مختلف محکموں، بینک ریلوے بھرتی کے امتحانا ت میں شریک کروایا جائے جس سے کہ وہ مسابقتی امتحانات کے طریقے کار سے واقف ہو سکیں۔ ان کے لیے مسابقتی و مقابلہ جاتی امتحانات کی اہمیت و افادیت سے متعلق سیمینار و ورکشاپ منعقد کئے جائیں۔ انھیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں مرکزی حکومت، یو۔ جی۔سی۔، ریاستی حکومت، یونیورسٹی سطح پر، حج کمیٹی کی جانب سے اقلیتوں کے لئے چلائے جانے والے کوچنگ سینٹرس نیز پرائیویٹ مشہور و معروف کوچنگ کلاسس سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں۔
UPSC کے لحاظ سے MPSC کے نصاب میں یکسانیت لائی گئی ہے جس سے طلبہ ریاستی و ملک گیر سطح کے امتحانات بیک وقت آسانی سے کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ریاست مہاراشٹر ا کی حکومت نے حال ہی میں ملک گیر سطح پر منعقد ہونے والے UPSC امتحانات میں ریاست کے طلبہ کی کامیابی کی شرح کو بڑھانے کی غرض سے ارون بونگر وار کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرتے ہوئے ریاستی سطح پر مہاراشٹر ٹیلنٹ سرچ امتحان اور گریجویٹ ایکسیلنس امتحان منعقد کرنا طے کیا ہے۔ اسی پس منظر میں مسلم امیدواروں کے تناسب کو بڑھانے کی غرض سے ایک واضح لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اور ضرورت ہے منصوبہ بند طریقے سے ”مشن مسابقتی امتحان“کو عملی جامہ پہنانے کی !
٭٭

   

سوامی اور اسکینڈلس

٭ادارہ

ایسا لگتا ہے بعض سوامیوں اور اسکینڈلس میں چولی دامن کاساتھ ہے۔ یوں تو فہرست کافی طویل ہے لیکن ہم ےہاں ان میں سے کچھ خود ساختہ سوامیوں اور باباﺅں کے کارنامے بعد از تحقیق پیش کررہے ہیں۔
-1    سوامی نتیانند پرمہنس: نتیانند مشن کے بانی بقول ان کے جس کی 1000 سے زائد شاخیں 33 ممالک میں ہیں، لاپتہ ہے جب سے ایک ٹی وی چینل نے انھیں ایک تامل اداکارہ کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھایا۔ نتیانند جس کے آشرم تامل ناڈو، کرناٹک اور پانڈیچری میں ہیں، کا تعلق تامل ناڈو سے ہے۔ اس کادعویٰ ہے کہ وہ عالمی امن و سکون کی تحریک کا روح رواں ہے۔ لینن کروپن جو سوامی کا ایک چیلا ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سوامی کو بے نقاب کرنے کے لیے یہ ویڈیو بنایا۔ لینن نے الزام لگایا کہ اس کی جان کو سوامی سے خطرہ ہے۔ اس نے ایک سال پہلے ہوئی آشرم میں رہنے و الی ایک خاتون کی موت کا بھی الزام سوامی پر لگایا۔ چنئی پولس میں درج کی گئی ایک شکایت میں اس نے کہا کہ وہ بنگلور آشرم میں 2006 سے رہ رہا ہے اور سوامی نوجوان عورتوں کو یہ کہہ کر پھنساتا تھا کہ وہ بھگوان کرشن کا اوتار ہے۔
-2    انوپ کمار سہائے: غازی آباد سے تعلق رکھنے والا خود ساختہ بھگوان جس پر اپنی ہی کزن کو اغوا کرنے کے الزام میں کیس بک کیاگیا ہے۔ مغویہ کی والدہ سبھا سریواستو نے الزام لگایا ہے کہ انوپ نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس کی بیٹی پرینکا سریواستو کو 15فروری کے دن اغوا کیا ہے۔ اس خود ساختہ بھگوان کے خلاف IPC کی دفعہ 313, 363 اور 366کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ان دفعات کا تعلق اغواءاور مرضی کے خلاف اسقاط حمل کرانا ہے۔
-3    کرپال جی مہاراج: رام کرپال ترپاٹھی عرف کرپال جی مہاراج پرتاپ گڑھ یوپی سے ہیں جن کے آشرم میں 63 سے زیادہ افراد پچھلے ہفتہ بھگدڑ میں مارے گئے۔ ان مہاراج پر اغواءاور ریپ کے دو مقدمات 1991 میں ناگپور میں دائر کیے گئے۔ گواہوں کے منحرف ہونے سے وہ چھوٹ گیا۔ 2007 میں دوبارہ گرفتار ہوا جب گیانا کی رہنے والی ایک عورت نے ساﺅتھ ٹرینڈانڈ میں اس پر ریپ کا کیس درج کیا۔
-4    سنت شیو مورت دویدی : ابتداءمیں سیکورٹی گارڈ تھا بعد میں دلی کے ایک مساج پارلر میں کام کیا۔ 1997 اور 1998 میں دو مرتبہ منظم قحبہ گری prosititution racket اور چوری کے معاملات میں گرفتار ہوا۔ جیل سے چھوٹنے کے بعد دویدی نے بدرپور میں سائی بابا کا مندر بنایا اور اپنے آپ کو سائی کا اوتار بتایا۔ دلی پولس نے اس خود ساختہ اوتار کو پچھلے ہفتہ ایک ہائی پروفائل سیکس ریکیٹ کے سلسلے میں، جو وہ اس مندر کی آڑ میں چلاتا تھا، گرفتار کیا۔ اور اب اس پر مکوکا کے تحت مقدمات درج کےے گئے ہیں۔
-5    آسارام باپو: دو کم عمر بچے جو آسام رام کے آشرم کے گروکول میں پڑھتے تھے پر اسرار طور پر فروری 2008 میں غائب ہوگئے دو دن بعد ان کی لاشیں دریائے سابرمتی کے کنارے پائی گئیں۔ باپو کے سابق چیلے راجو چنڈک کی شکایت پر ان کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا۔ بچوں کے قتل کی تحقیق کررہے ترویدی کمیشن کے روبرو چنڈک نے باپو کے خلاف گواہی دی۔
-6    جینندر سرسوتی: بار سوخ کانچی مٹھ شنکر آچاریہ کوتامل ناڈو پولس نے مٹھ کے سابق اکاﺅنٹینٹ سنکرارامن کے قتل کے سلسلے میں محبوب نگر آندھرا پردیش سے 2004 میں گرفتار کیا گیا۔
-7    سنتوش مادھون: مندر کی پجاری سے نجومی بن جانے والا سنتوش انٹرپول کو مطلوب ہے۔ سب سے پہلے مئی 2008 میں الاپونز Alappuaza میں گرفتار ہوا۔ اس سوامی کے خلاف دوبئی میں پچاس لاکھ کی دھوکہ دہی کا معاملہ ایک خاتون نے درج کرایا۔ اس ڈھونگی سوامی کا، جو خود کو امرتا چیتنیا کہلواتا ہے، دلی میں ایک شاندار آشرم ہے اور اس کے تعلقات کئی با اثر سیاستدانوں اور بیوروکریٹس سے ہیں۔ حال ہی میں اس پر ایک پندرہ سالہ لڑکی کے ساتھ مسلسل زیادتی کا الزام ہے۔
-8    پریمانندا: یہ ترچی سائی بابا بھی کہلاتا ہے۔ اسے 2008 میں سپریم کورٹ نے دوہری عمر قید کی سزا دی۔ اس 57 سالہ بابا پر کئی جرائم بشمول 13 ریپ اور قتل بھی شامل ہیں۔ اسے کہا جاتا ہے کہ AIADMK میں کافی حمایت حاصل ہے۔ اس عیاش بابا نے نہ صرف آشرم میں رہنے والی خواتین کی عصمت ریزی کی بلکہ ان میں سے جو خواتین حاملہ تھیں ان کا آشرم میں جبراً اسقاط کروایا۔ اس کے خلاف ایک انجینئر کے قتل کا بھی الزام ہے جس نے آشرم میں ہونے والی ان شیطانی حرکتوں پر اعتراض جتایاتھا۔
-9    سوامی سدھاچاری: اس شاطر سوامی کو جو وزیر اعظموں اور صدور کے ساتھ گھل مل جاتا تھا، پولس نے دہلی میں قحبہ خانہ اور کال گرل ریکٹ چلانے کے جرم میں گرفتار کیا ہے۔
-10    سوامی گیں چیتانیہ: اس سوامی کو کئی بھکت خواتین کی آبروریزی کے جرم میں گرفتار کیاگیا تھا، آج کل وہ ضمانت پر چھوٹا ہے۔
-11    سدھانشو مہاراج: اس مہاراج کو اکاﺅنٹس میں خرد برد ، والدین کو ہراساں کرنے کے علاوہ کئی اور مقدمات درج ہیں۔
-12    ستیہ سائی بابا: یونیسکو UNESCO نے اس بابا کے زیر تحت چلنے والے انسٹی ٹیوٹ آف ستیہ سائی ایجوکیشن کانفرنس سے محض اس لیے علیحدگی اختیار کی کیوں کہ وہاں بڑے پیمانے پر نوجوانوں اور بچوں کا جنسی استحصال ہورہاتھا۔ بابا کی کئی سابقہ بھکتوں نے ان پر اپنے جنسی استحصال کا الزام لگایا ہے۔
-13    چندرا سوامی: یہ متنازعہ سوامی سابق وزیر اعظم نرسمہاراﺅ کا 2006 میں روحانی صلاح کار تھا۔ اسے مالیاتی دھوکے بازی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس پر لندن کے تاجر لکھوبھائی پاٹھک سے $100,000 ڈالر کے فراڈ کا الزام ہے۔ حالیہ اسے فیرا FERA کے تحت نو مقدمات کا سامنا ہے۔
٭٭

 

آدھی حقیت، آدھا فسانہ

٭ کافر کاشمیری

سوریہ گرہن کے موقعے پر ہری دوار میں لاکھوں لوگوں نے گنگا میں نہا کر اپنے پاپ دھوئے
لیکن این ڈی تیواری صاحب نظر نہیں آئے۔ہوسکتا ہے وہ راج بھون کے سومنگ پول میں گنگا جل ملا کر سکھیوں کے ساتھ نہائے ہوں ۔
٭٭٭
اترپردیش کی دیہی آبادی کے 38 فیصد طلبا تقسیم کے سوال حل نہیں کرسکتے ۔ یہ کہنا ہے مایاوتی کا۔
پھر کیسے مایاوتی اترپردیش کو تقسیم کرنے کے بارے سوچ رہی ہیں۔
٭٭٭
مایاوتی نے اترپردیش کے اسکولوں میں انگریزی کو لازمی بنادیا ہے۔
اب ملائم سنگھ اور لالو پرساد جیسے لوگوں کا اترپردیش کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
٭٭٭
72 سال کی عمر والوں کو اب گاڑی چلانے کا لائسنس نہیں دیا جائے گا۔
ٹھہرےے صاحب۔ اس ملک میں لیڈر 82 سال کے بعد بھی حکومت کی گاڑی چلارہے ہیں۔
اور 95 سال کی عمر میں نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ننگا ناچ رچاتے ہیں۔
اور آپ کہہ رہے ہیں وہ گاڑی نہیں چلا سکتے !
٭٭٭
مغربی بنگال میں FLUE BIRD پھر سے پھیل رہا ہے۔
ممتا بنرجی جب بھی مغربی بنگال جاتی ہیں کوئی نہ کوئی نئی مصیبت ساتھ لے کر جاتی ہیں۔
٭٭٭
کامن ویلتھ کھیلوں پر عوام کے اربوں روپئے خرچ ہورہے ہیں لیکن اب بھی تیاریاں نامکمل ہیں۔
کرکٹ کے لیے کوٹلہ جیسا میدان نہیں سنبھال سکے۔ کامن ویلتھ مقابلوں کا کیا ہوگا، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔
٭٭٭
ہمارے ملک کے راشٹر پتی اور پردھان منتری دونوں ڈاکٹر نہیں ہیں۔ لیکن شہزاد ابراہیمی PH.D کرنے کے بعد بھی JNU میں ڈھابہ چلا رہا ہے۔
قسمت اپنی اپنی
٭٭٭
پدم اعزازات پر پھر سے سوال اُٹھنے لگے۔
سرکاری اعزازات اسی طرح تقسیم ہوتے ہیں: چاہے وہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہوںیا کھیلوں کے اےوارڈ ۔
ایوارڈ دینے والوں سے آپ کی واقفیت ہو۔ تو ایوارڈ ضرور ملے گا۔
٭٭٭
اشیاے خوردنی کی قیمتیں بڑھنے سے روکنے کے لیے ہمیں پیداوار بڑھانی ہوگی یہ کہنا ہے وزیر اعظم کا۔
سنگھ صاحب اس کے لیے زمین چاہیے۔ کھیتی کی زمین پر Builders کا قبضہ بڑھ رہا ہے۔
اب لوگ چھتوں پر کھیتی کرلیتے۔ لیکن وہاں فون والوں نے پہلے ہی اپنے اپنے اینٹینا کھڑے کردےے ہیں۔
٭٭٭
اگر چینی اتنی مہنگی ہے تو مت کھاﺅ۔ چینی نہیں کھاﺅگے تو مر نہیں جاﺅگے۔ یہ کہنا ہے شرد پوار کا۔
اور لوگ کہتے ہیں، اگر پوار صاحب زراعت کی وزارت چھوڑ دیں تو وہ مر نہیں جائیں گے۔
٭٭٭
اغوا کرنے والوں کو قانون میں سزائے موت دینے کی گنجائش ہے۔ یہ کہنا ہے عدالت عالیہ کا۔
ارے صاحب جب پولس اغوا کرنے کا جرم ثابت ہونے دے نا؟ اگر اغوا کرنے والا بارسوخ یا مالدار ہو تو مقدمے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔
پھر اغوا شدہ انتظار کرتے کرتے خود ہی مرجاتا ہے۔
٭٭

   

All categories