انسداد فرقہ وارانہ تشدد قانون
٭انور علی ایڈووکیٹ
کانگریس نے اپنے انتخابی مینی فیسٹو 2002 میں فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام، فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث لوگوں اور تنظیموں کی سرکوبی اور سزایابی کے لیے مو¿ثر قانون بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ یوپی اے کی پہلی ٹرم میں اس پر غور و خوض ہی ہوتا رہا اور بس اب حال ہی میں مرکزی کابینہ نے فرقہ وارانہ فسادات بل Communal Voilence Bill مرتب کردیا ہے۔ امید ہے کہ اس کو مانسون سیشن میں پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔ اس قانون کی کچھ مجوزہ دفعات پر یہ کمنٹ پیش ہیں۔
اس قانون میں اہم بات یہ ہے کہ ریاستی سرکار کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ریاست کے کسی بھی علاقہ کو ’فرقہ وارانہ تشدد زدہ علاقہ‘ Communally Disturbed Area قرار دے۔ یہ اختیار ریاستی حکومت کو غیر متعین پاور دیتا ہے۔ اس کا استعمال ناجائزہ طور پر کسی بھی علاقہ کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہ قانون ایک گندہ اور واہیات قانون ہے جس سے اقلیتی فرقہ کو (مذہبی، لسانی اقلیت کے کسی بھی علاقہ کو) ہراساں اور پریشان کیے جانے کا پورا امکان ہے۔ دکھاوے کے لیے ریاستی سرکار یہ دعویٰ کرے گی کہ ’فرقہ وارانہ تشدد زدہ علاقہ‘ قرار دےے جانے کا مقصد اقلیت کی حفاظت کرنا ہے لیکن پولس،پی اے سی اور بہار ملٹری پولس جیسی ریاستی پولس فورس (جس کے تعصب و تشدد کا نشانہ اقلیتی فرقہ 1947 سے برابر بنا رہا ہے، جیسے مراد آباد، ہاشم پورہ، ملیانہ، جمشید پور، بھاگلپور، بڑودہ) کے ر حم و کرم پر یہ فرقہ وارانہ تشدد کے علاقے ہوں گے، جہاں قانون کی حکومت نہیں بلکہ جنگل راج ہوگا۔ (بریلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی حالیہ مثال سامنے ہے)۔ 1947 سے اب تک کے ان گنت فرقہ وارانہ فسادات، قتل و غارت گری میں ریاستی ایجنسیوں State Agencies ، سول ایڈمنسٹریشن، پولس اور نیتاﺅں کا رول ہوتاہے۔ ان تینوں کا ناپاک اتحاد کمزور فرقہ کے جانی و مالی نقصان کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مجوزہ قانون میں اس پہلو کو قطعی نظر انداز کیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون میں ’فرقہ وارانہ فسادات‘ کو محض ایک لا اینڈآرڈر کی سمسیا مان کر قانون سازی کی گئی ہے۔ گویا کہ فرقہ وارانہ فسادات محض دو فرقوں کے درمیان دنگا و فساد ہے۔ اس میں ریاستی سرکار، ایڈمنسٹریشن یاپولس کی ذمہ داری او ر جواب دہی کے پہلو کو قطعی نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ریاست سے براہِ راست متعلقہ محکمہ جات (پولس اور مقامی ایڈمنسٹریشن) کی نہ تو کوئی ذمہ داری رکھی گئی ہے اور نہ ہی جواب دہی کے اصول کو قانون میں رکھ کر مسودہ بنایا گیا ہے۔ ایک بڑی خامی مجوزہ قانون میں Command and superior Responsibility یعنی اعلیٰ ریاستی اداروں کی ذمہ داری کے اصول کو قطعی نظر انداز کردیاگیا ہے۔ واضح الفاظ میں کسی بھی ریاست کا ’نریندر مودی‘ نسل کش فسادات کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ (گجرات کے نسل کش فسادات میں ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری نے کمشنر پولس کو برابر ٹیلی فون کرکے گلبرگ کالونی میں قتل عام کی اطلاع دے کر مدد مانگی، لیکن یہ اتھارٹی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ پولس کو امداد کا کوئی حکم نہیں دیا۔ آخر پولس کمشنر کو گلبرک کالونی میں احسان جعفری اور دوسرے شہریوں کے قتل کا مجرم کیوں نہ قرار دیا جائے اور محض موقع پر عام دنگا کرنے والوں کو ہی مجرم قرار دیا جائے؟
ایک اور اہم بات خامی مجوزہ قانون کی یہ ہے کہ اس میں فرقہ وارانہ تشدد و فسادات کو ایک علیحدہ مجرمانہ فعل نہیں قرار دیا گیا، حالاں کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال کے فرقہ وارانہ فسادات، ان کی سازش، تیاری، پلاننگ اور اس سب پر عمل در آمد’سائنٹفک جرم‘ کے زمرہ ہیں۔ ’منظم جر م،کے زمرہ میں فرقہ وارانہ تشدد و فساد آتا ہے، لیکن مجوزہ قانون میں اس کو ایک صدی سے زائد قبل لکھی کتاب ’انڈین پینل کوڈ‘، تعزیرات ہند‘ میں لکھے جرائم کو اختیار کیا گیا ہے۔ حالاں کہ 1860 میں جب تعزیرات ہند مرتب کی گئی تھی۔ تب فرقہ وارانہ تشدد نام سے ہی ہندستانی عوام کو واقفیت نہیں تھی۔ پوری آبادی کو علاقہ سے تشدد برپا کرکے نکال دینا، نسلی صفائی، فرقہ وارانہ تشدد میں عورتوں کی اجتماعی عصمت دری، حاملہ عورتوں کی عصمت دری اور پھر رحم مادر چاک کرکے بچہ کو تلوار کی نوک پر رکھ کر ہوامیں لہرانا، تشدد کے شکار معصوم لوگوں کو چونے کے ڈھیر میں دفن کردینا اور ایسے ہی جرائم جو انٹر نیشنل قانون میں انسانیت کے خلاف جرائم Crime Againts Huminity قرار دیے گئے ہیں۔ ایسے جرائم کو مخصوص جرائم قرار دے کر الگ زمرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ فسادات میں سرزد کےے گئے متشدد جنسی جرائم کو عام جنسی جرم Rape Sape Sexual رکھا گیا ہے۔ پھر ان خوفناک جرائم کے اتکاب کے بعد متشدد جرائم کے شکار افراد کے حقوق کا کوئی پراودھان اس قانون میں نہیں ہے۔ یہ تو ریاست کافرض ہے کہ وہ ایسے سنگین جرائم کے شکار لوگوں کی راحت رسانی کا کام کرے۔ اس قانون میں فرقہ وارانہ تشدد کو محض دو فرقوں میں تصادم سمجھا گیا ہے اور اس طرح ریاست کو اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑ کر الگ کردیاگیا ہے۔
فکر مندی کی صورت حال یہ ہے کہ غیر مسلم سیکولر سول سوسائٹی نے اس واہیات بے شرم قانون کو ایک ایسا کتا بتایا ہے جس کے دانت خوفناک دکھانے کے ہیں۔ اس قانون کے دانت کاٹنے والے نہیں ہیں، لیکن مسلم سماج میں کوئی فکر مند سول سوسائٹی ہے ہی نہیں۔ جذبات بھڑکانے والی تقریریں کرنے والے مسلم لیڈر ہیں، تنظیموں ہیں، لیکن حالات اور قانون سازی کی مانیٹرنگ کرنے والا کوئی ادارہ یا شخصیت نہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ، جس کافرض اور ذمہ داری مسلم قانونی معاملات میں کام کرنا ہے، کروڑوں روپے کا بجٹ ہوتے ہوئے بھی قانون سازی اور جوڈِشیل نظائر کی کوئی مانیٹرنگ نہیں کرتا۔
٭٭







