اپریل 2010

انسداد فرقہ وارانہ تشدد قانون

٭انور علی ایڈووکیٹ

کانگریس نے اپنے انتخابی مینی فیسٹو 2002 میں فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام، فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث لوگوں اور تنظیموں کی سرکوبی اور سزایابی کے لیے مو¿ثر قانون بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ یوپی اے کی پہلی ٹرم میں اس پر غور و خوض ہی ہوتا رہا اور بس اب حال ہی میں مرکزی کابینہ نے فرقہ وارانہ فسادات بل Communal Voilence Bill مرتب کردیا ہے۔ امید ہے کہ اس کو مانسون سیشن میں پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔ اس قانون کی کچھ مجوزہ دفعات پر یہ کمنٹ پیش ہیں۔
اس قانون میں اہم بات یہ ہے کہ ریاستی سرکار کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ریاست کے کسی بھی علاقہ کو ’فرقہ وارانہ تشدد زدہ علاقہ‘ Communally Disturbed Area قرار دے۔ یہ اختیار ریاستی حکومت کو غیر متعین پاور دیتا ہے۔ اس کا استعمال ناجائزہ طور پر کسی بھی علاقہ کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے یہ قانون ایک گندہ اور واہیات قانون ہے جس سے اقلیتی فرقہ کو (مذہبی، لسانی اقلیت کے کسی بھی علاقہ کو) ہراساں اور پریشان کیے جانے کا پورا امکان ہے۔ دکھاوے کے لیے ریاستی سرکار یہ دعویٰ کرے گی کہ ’فرقہ وارانہ تشدد زدہ علاقہ‘ قرار دےے جانے کا مقصد اقلیت کی حفاظت کرنا ہے لیکن پولس،پی اے سی اور بہار ملٹری پولس جیسی ریاستی پولس فورس (جس کے تعصب و تشدد کا نشانہ اقلیتی فرقہ 1947 سے برابر بنا رہا ہے، جیسے مراد آباد، ہاشم پورہ، ملیانہ، جمشید پور، بھاگلپور، بڑودہ) کے ر حم و کرم پر یہ فرقہ وارانہ تشدد کے علاقے ہوں گے، جہاں قانون کی حکومت نہیں بلکہ جنگل راج ہوگا۔ (بریلی میں فرقہ وارانہ تشدد کی حالیہ مثال سامنے ہے)۔ 1947 سے اب تک کے ان گنت فرقہ وارانہ فسادات، قتل و غارت گری میں ریاستی ایجنسیوں State Agencies ، سول ایڈمنسٹریشن، پولس اور نیتاﺅں کا رول ہوتاہے۔ ان تینوں کا ناپاک اتحاد کمزور فرقہ کے جانی و مالی نقصان کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مجوزہ قانون میں اس پہلو کو قطعی نظر انداز کیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون میں ’فرقہ وارانہ فسادات‘ کو محض ایک لا اینڈآرڈر کی سمسیا مان کر قانون سازی کی گئی ہے۔ گویا کہ فرقہ وارانہ فسادات محض دو فرقوں کے درمیان دنگا و فساد ہے۔ اس میں ریاستی سرکار، ایڈمنسٹریشن یاپولس کی ذمہ داری او ر جواب دہی کے پہلو کو قطعی نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ریاست سے براہِ راست متعلقہ محکمہ جات (پولس اور مقامی ایڈمنسٹریشن) کی نہ تو کوئی ذمہ داری رکھی گئی ہے اور نہ ہی جواب دہی کے اصول کو قانون میں رکھ کر مسودہ بنایا گیا ہے۔ ایک بڑی خامی مجوزہ قانون میں Command and superior Responsibility یعنی اعلیٰ ریاستی اداروں کی ذمہ داری کے اصول کو قطعی نظر انداز کردیاگیا ہے۔ واضح الفاظ میں کسی بھی ریاست کا ’نریندر مودی‘ نسل کش فسادات کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ (گجرات کے نسل کش فسادات میں ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری نے کمشنر پولس کو برابر ٹیلی فون کرکے گلبرگ کالونی میں قتل عام کی اطلاع دے کر مدد مانگی، لیکن یہ اتھارٹی ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ پولس کو امداد کا کوئی حکم نہیں دیا۔ آخر پولس کمشنر کو گلبرک کالونی میں احسان جعفری اور دوسرے شہریوں کے قتل کا مجرم کیوں نہ قرار دیا جائے اور محض موقع پر عام دنگا کرنے والوں کو ہی مجرم قرار دیا جائے؟
ایک اور اہم بات خامی مجوزہ قانون کی یہ ہے کہ اس میں فرقہ وارانہ تشدد و فسادات کو ایک علیحدہ مجرمانہ فعل نہیں قرار دیا گیا، حالاں کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال کے فرقہ وارانہ فسادات، ان کی سازش، تیاری، پلاننگ اور اس سب پر عمل در آمد’سائنٹفک جرم‘ کے زمرہ ہیں۔ ’منظم جر م،کے زمرہ میں فرقہ وارانہ تشدد و فساد آتا ہے، لیکن مجوزہ قانون میں اس کو ایک صدی سے زائد قبل لکھی کتاب ’انڈین پینل کوڈ‘، تعزیرات ہند‘ میں لکھے جرائم کو اختیار کیا گیا ہے۔ حالاں کہ 1860 میں جب تعزیرات ہند مرتب کی گئی تھی۔ تب فرقہ وارانہ تشدد نام سے ہی ہندستانی عوام کو واقفیت نہیں تھی۔ پوری آبادی کو علاقہ سے تشدد برپا کرکے نکال دینا، نسلی صفائی، فرقہ وارانہ تشدد میں عورتوں کی اجتماعی عصمت دری، حاملہ عورتوں کی عصمت دری اور پھر رحم مادر چاک کرکے بچہ کو تلوار کی نوک پر رکھ کر ہوامیں لہرانا، تشدد کے شکار معصوم لوگوں کو چونے کے ڈھیر میں دفن کردینا اور ایسے ہی جرائم جو انٹر نیشنل قانون میں انسانیت کے خلاف جرائم Crime Againts Huminity قرار دیے گئے ہیں۔ ایسے جرائم کو مخصوص جرائم قرار دے کر الگ زمرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ فسادات میں سرزد کےے گئے متشدد جنسی جرائم کو عام جنسی جرم Rape Sape Sexual رکھا گیا ہے۔ پھر ان خوفناک جرائم کے اتکاب کے بعد متشدد جرائم کے شکار افراد کے حقوق کا کوئی پراودھان اس قانون میں نہیں ہے۔ یہ تو ریاست کافرض ہے کہ وہ ایسے سنگین جرائم کے شکار لوگوں کی راحت رسانی کا کام کرے۔ اس قانون میں فرقہ وارانہ تشدد کو محض دو فرقوں میں تصادم سمجھا گیا ہے اور اس طرح ریاست کو اپنی ذمہ داری سے پلہ جھاڑ کر الگ کردیاگیا ہے۔
فکر مندی کی صورت حال یہ ہے کہ غیر مسلم سیکولر سول سوسائٹی نے اس واہیات بے شرم قانون کو ایک ایسا کتا بتایا ہے جس کے دانت خوفناک دکھانے کے ہیں۔ اس قانون کے دانت کاٹنے والے نہیں ہیں، لیکن مسلم سماج میں کوئی فکر مند سول سوسائٹی ہے ہی نہیں۔ جذبات بھڑکانے والی تقریریں کرنے والے مسلم لیڈر ہیں، تنظیموں ہیں، لیکن حالات اور قانون سازی کی مانیٹرنگ کرنے والا کوئی ادارہ یا شخصیت نہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ، جس کافرض اور ذمہ داری مسلم قانونی معاملات میں کام کرنا ہے، کروڑوں روپے کا بجٹ ہوتے ہوئے بھی قانون سازی اور جوڈِشیل نظائر کی کوئی مانیٹرنگ نہیں کرتا۔
٭٭

 

گیت

٭ سوہن راہی

کلی ہو، پھول ہو، شبنم ہو، تم رنگوں کا درپن ہو
مری غزلوں کی مدھوشالا، مرے گیتوں کا ساون ہو
تری اک یاد کے دیپک سے میری راہ روشن ہے
مرے سب خواب زندہ ہیں، میری راہ روشن ہے
مرے سب خواب زندہ ہیں میری ہر چاہ روشن ہے
جو تنہائی کو مہکائے، وہ خوشبو ہو وہ مدھوبن ہو
کلی ہو، پھول ہو........
کرن ہو، نور ہو، جگنو ہو تم میری ہو دیوالی
مرے ویران دل کو تم محبت کی ہو ہریالی
مرے پت جھڑ کی بیلا کو، بہاروں کا تم آنگن ہو
کلی ہو پھول ہو....
مدھر بولوں کے چھندوں میں مدھر بولوں کی سرگم میں
میرے سینے کی دھڑکن ہے، تری پائل کی چھم چھم میں
تمھی گیتوں کی میرا ہو، تمھی راہی کی جوگن ہو
کلی ہو، پھول ہو............
٭٭٭

 

کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ

٭ اشرف عابدی

ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں کہ حضرت بش کو یہ خوشگوار اطلاع فراہم کی گئی تھی کہ ہندستان کا بچہ بچہ ان سے محبت کرتا ہے اور اپنا قریب ترین دوست تصور کرتا ہے!! چلئے بُش صاحب اور ان کے والد بڑے بش تو اب ماقبل تاریخ میں گم ہوگئے ( حصہ بن گئے) گفتگو کو اصل موضوع کی طرف لاتے ہوئے ذرا اختصار سے با ت کریں تو اگلا سنگ میل یہ آیا کہ امریکہ نے یہ رواداری کا سہرا بھی اپنے سر باندھ لیا کہ ایک کلوٹے کو (جو اب تک وہاں کی بھاشا میں اچھوت اور غلام تھے) صدر امریکہ کا عہدہ تفویض کردیا۔ گویا وہی سب سے بڑے سیکولر ٹھہرے۔ لیکن میں اس مہابھارت کے دوران بھی مشکوک تھا اور یہ شک اب یقین میں بدل گیا ہے کہ نیا نیا مسلمان اللہ اللہ ہی پکارتا ہے۔ سو مجھے تو اوبامہ صاحب سے کبھی کوئی توقع تھی ہی نہیں مگر دنیا بھر میں اور خصوصاً ہندستانی میڈیا نے ایسی ایسی بغلیں بجائیں گویا شری کشن دھرم کی رکھشا کے لیے پنہہ جنم لے کر آگئے ہیں اور اب سب کچھ درست ہوجائے گا۔
پالیسیوں میں تبدیلی نہیں بلکہ درستگی کے ڈھول بجائے گئے اس میں بھی دو پہلو تھے ایک داخلی اور ایک خارجی۔ داخلی امور میں بش کو نالائق اور نااہل ثابت کرنا لیکن بقیہ دنیا کو یہ باور کرانا کہ ہم تمام تر نا انصافیوں کو ختم کردیں گے۔
مگر خدارا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اب تک آنے والی خبروں (اصل خبروں) کا تجزیہ کریں کہ کیا تبدیلی آئی یا کیادرستگی ہوئی؟ ہمارے لیڈر اور ہمارا میڈیا دیوالی منارہا تھا کہ اب بر صغیر کے تناظر میں امریکی خارجہ پالیسی کا جھکاﺅ پاکستان کے بجائے ہندستان کی طرف ہوجائےگا۔ اور ہوا؟ کس طرح کہ ہندستان کو استثنیٰ کے طور پر سویلین نیو کلیائی مدد دینے کامعاہدہ کیا گیا تھا۔ اور اعلان ہوا کہ یہ صرف اور صرف ہندستان کا افتخار ہے مگر اوبامہ صاحب نے پاکستان کو بھی ےہی سہولت فراہم کردی ۔ مگر ہمیں اس معاہدہ پر دستخط ہونے کے وقت بھی بالی ووڈ کا وہ گانا یاد آرہا تھا ”کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ“
ہوا یہ کہ یہ کاریہ کرم صرف اور صرف ایران -پاکستان -ہندستان کی گیس پائپ لائن کے منصوبے کو تباہ کرنے کے لیے کیا گیا تھا اور قدرتی طور پر ہوگیا۔
بہت کچھ بدل گیا۔ مگر کیا بدل گیا۔ کیا پاکستان کی سرپرستی میں کوئی فرق آیا ہے؟ آتا کیسے!! وہ تو چین کی دم پر پیر رکھنے کا مورچہ ہے۔ ہم کو کون بے وقوف بنارہا ہے یا ہم خود بیوقوف بن رہے ہیں؟
اچھا ذرا اس سلسلے کے ایک ذیلی موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ یعنی امریکہ کی خارجہ پالیسی ! میرا جو بھی مطالعہ ہے وہ یہ کہتا ہے کہ کسی بھی پارٹی کی حکومت آئے کوئی بھی صدر آئے امریکی داخلہ پالیسی بدل سکتی ہے خارجہ پالیسی میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ علی گڑھ کی زبان میں یہ ایک سینہ گزٹ ہے۔ سو وہی ہوا۔ بش گئے۔ بلا شبہہ گئے۔ اوبامہ آئے۔ مگر بے چارے کو خارجہ پالیسی کے لیے ایک گوری عورت درکار ہوئی اور اس گوری عورت نے اوبامہ کی خارجہ پالیسی نہیں بلکہ بش کی خارجہ پالیسی کا اجراءکردیا جس پر بے چارے اوبامہ کچھ بھی اعتراض نہ کرسکے۔ اس کے برابر کا ہی ایک اور پچھلا واقعہ ملاحظہ فرمائیں کہ بش گورے اور ان کی وزیر خارجہ کلوٹی کو نڈولیزا رائس۔ دونوں میں تقابل کرلیجئے۔
کیا آپ کو سوچ میں کوئی فرق نظر آتا ہے۔ مطلب یہ کہ امریکہ کالایا گورا بمقابل بقیہ کا ئنات۔
سو آپ نے کبھی امریکی خارجہ پالیسی کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کا کوشش کی ہے۔ جہاں تک میرے محدود مطالعہ اور تجزیے کا سوال ہے تو میرے خیال میں اس پالیسی کو صرف اس فقرے میں سمجھایا جاسکتا ہے۔
Use And Throw
جس کا اردو ترجمہ فصاحت و بلاغت کے ساتھ تو مشکل ہے لیکن اتنا کہا جاسکتا ہے کہ کام نکلنے کے بعد نظریں پھیر لو۔
امریکی خارجہ پالیسی کا میرا تجزیہ ذرا دھماکہ خیز ضر ور ہے۔ آپ اتفاق کریں یا نہ کریں۔ آپ میںسے جن لوگوں نے مرحوم سوویت یونین کا دور دیکھا ہو غالباً وہی یہ بات پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔ وہ دو قطبی دنیاتھی۔ اور ہم دو فریق ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑتے تھے۔ خواہ وہ معمولی سا شطرنج کا میدان ہی کیوں نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ تاریخی اعتبار سے سوویت یونین (اب روس ) کو شطرنج میں ہمیشہ پوری دنیا میں برترمانا گیا ہے اور تھا مگر میدان میں بھی اسے نیچا دکھانے کے لیے کئی برسوں کی محنت کے بعد ایک شخص بالی فشر ایجاد کیاگیا اور اسے تربیت دی گئی۔ دنیا کی شطرنج کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک سوویت عالمی چمپئن بورس اسپیسکی کو ایک امریکی بابی فشر نے شکست دے دی ۔ پوری دنیا میں ہنگامہ ہوگیا۔ بلا شبہ اچھی شکست دی مگر اس کے بعد!! وہی بابی فشر صرف اس بنیاد پر امریکی خارجہ پالیسی کا معتوب ٹھہرا کہ مبینہ طور پر اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اور ایک زمانے کا ےہی امریکی ہیرو پوری دنیا میں کبھی جاپان اور کبھی آئس لینڈ میں دھکے کھاتا رہا اور آخر پچھلے سال غریب الوطنی کے عالم میں اس دنیا سے سدھار گیا۔
چلئے یہ تو ایک مثال ہوئی۔ قبلہ اوسامہ بن لادن کے بارے میں کیا فرمائیں گے۔ ایک زمانہ تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں یہ شخص نہایت محترم اور معزز مانا جاتا تھا اور امریکی اور پورا مغربی میڈیا ان کے قصیدے پڑھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے تھے۔ مگر پھر ! کیا ہوا بھائی۔ تمھارا قریبی دست راست اچانک دشمن کیمپ کا آدمی شمار کیا جانے لگا۔ قبلہ پیسہ، تربیت اور اسلحہ تو سب آپ کا تھا۔
قارئین کو زیادہ زحمت نہیں دینا چاہتا۔ مختصر یہ کہ ہانگ کانگ کا کیا ہوا؟ بیوپار کے چکر میں جن کے آگے سپر ڈال دی تو ان کا کیا ہوا؟ ڈر گئے چین سے۔ اس لیے کہ پیسہ چین سے کمانا ہے اور یہ جانتے ہوکہ چین اور سوویت یونین میں بہت فرق ہے۔
پھر آتے ہیں اصل معاملے پر کہ ہم سویلین نیو کلیائی معاہدے پر بہت بغلیں بجا چکے اور اس تخصیص کے ساتھ کہ یہ امتیاز صرف ہمارے ساتھ برتا گیا۔ مگر خوش فہمی کی یہ مدت زیادہ طول حاصل نہ کرسکی اور اپنے دستور کے مطابق قبلہ سیم نے اپنے سابقہ دست نگر (بلکہ موجودہ) پاکستان کو بھی وہی نیوکلیائی سہولت فراہم کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا ۔ اب میں ہندستان کے کس ارباب اقتدار سے سوال کروں! یہ سب کچھ کیا ہوا؟ شاید آپ میں بہت سے لوگوں کو یہ نہ معلوم ہو کہ ہندستان اور امریکہ کے درمیان مطلوبہ افراد کی حوالگی کا معاہدہ پہلے سے موجود ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو ممبئی بم دھماکوں کے واحد زندہ مجرم قصاب سے پوچھ تاچھ کی اجازت دی گئی مگر وہ شخص جو پاکستان اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھتا ہے یعنی ڈیوڈ ہیڈلی اور ہم اس سے پوچھ تاچھ کے لیے اس معاہدے کے تحت اجازت حاصل نہ کرسکے۔
کوئی تو ہوگا!!
٭٭

   

ایٹمی حادثات جواب دہی بل!

٭ سنتوش بھارتی

بجٹ سیشن کے شروع میں لوک سبھا میں ایٹمی حادثات کی جواب دہی کا بل پیش ہونا تھا، لیکن حزب اختلاف کے دباﺅ کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہوپایا۔ اخبارات میں یہ خبر پہلے شائع ہوگئی، جس کی وجہ سے ممبران پارلیمنٹ نے محسوس کیا کہ انھیں اس کی مخالفت کرنی چاہیے، اس بل کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کن کے مفاد کے لیے کام کررہی ہے۔ اس بل کے پیچھے کی کہانی ہمیں ایک بار دوبارہ یاد کرنی چاہیے۔
بش کے دور اقتاد رکے آخری دنوں میں امریکہ اور ہندستان کے درمیان ایٹمی ڈیل ہوئی تھی۔ ہندستان میں اس پر بہت سوالات اٹھائے گئے تھے۔ پہلا سوال تھا کہ ہندستان کی ضرورت کے اعتبار سے ہمیں تین سے چار فیصد بجلی کی سپلائی ہی ایٹمی بجلی گھروں سے ہوپائے گی، پھر اس کے لیے اتنا خرچ کیوں کیا جارہا ہے، جب کہ پورے خرچ کے ایک تہائی حصے میں ہمارے موجودہ بجلی گھروں کی گنجائش میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور ان کی جدید کاری بھی ہوسکتی ہے۔ اس سے پندرہ فیصد کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔
دوسرا سوال تھا کہ امریکہ میں 1967 کے بعد ایٹمی بجلی پر کوئی ریسرچ نہیں ہوئی، کیوں کہ صدر کارٹن نے ایک حادثے کے بعد اس کی پیدوار پر روک لگادی تھی۔ وہاں کی ایٹمی انڈسٹری بند پڑی ہوئی تھی۔ وہی سارا سامان ہندستان آنا ہے۔ کیا ہم امریکہ کی بند پڑی ایٹمی انڈسٹری کو دوبارہ چلانا چاہتے ہیں یا ان کا زنگ لگا ہوا بجلی گھر ہندستان میں لانا چاہتے ہیں۔ اس کی جلد بازی کی وجہ تھی کہ بش نے اپنے ےہاں نیو کلیئر انڈسٹری سے بڑا چندہ اس وعدے کے ساتھ لیاتھا کہ وہ ہندستان میں سارا سامان بھجوادیں گے اور انھیں اچھی خاصی رقم مل جائے گی۔
تیسرا سوال تھا کہ اس سے پیدا شدہ بجلی کی قیمت کتنے روپئے یونٹ ہوگی، یہ ایٹمی بجلی گھر 10 برس کے بعد لگیں گے اور تب تک ہماری بجلی کی ضرورت میں کتنا اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اندازہ کے مطابق اس وقت ہمیں بجلی 25 سے 30 روپئے فی یونٹ کے حساب سے ملاکرے گی۔ اتنی مہنگی بجلی کیا ہندستان کے کسانوں اور صنعت کاروں کے مفاد میں ہوگی؟ چوتھا سوال تھا کہ ہمارے رشتے کسی پڑوسی سے ٹھیک نہیں ہیں۔ ہم انھیں بیٹھے بٹھائے 45 سے 55 ٹارگیٹ دے رہے ہیں۔ جنھیں وہ جنگ کے حالات میں آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ ہم اندازہ بھی نہیں لگاسکتے تھے کہ ہماری کتنی آبادی ختم ہوجائے گی۔ ان کی حفاظت کے لیے ہمیں میزائل سسٹم لگانا پڑے گا۔ اس کے اخراجات کا ابھی تک کوئی اندازہ نہیں لگایا جارہا ہے۔
پانچواں سوال تھا کہ ہمارے ےہاں انسانی بھول سے بھی حادثات ہوتے ہیں۔ ہم ذات، مذہب، فرقہ پرست جیسے مسائل سے گھر ے ہوئے ہیں۔ ملک میں ایسی طاقتیں بہت ہیں، جو ان میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔ ایک چرنوبل نے پورے روس کو ہلاکر رکھ دیا تھا، وہ سائبریا میں تھا، اس کے باوجود تین سو کلو میٹر کے دائرے میں تباہی مچی تھی اور آج بھی اس کا اثر ہے۔ ریڈیائی لہروں کا اثر نسلوں تک رہتا ہے۔ ہمارے ےہاں زلزلے بھی آتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی وجہ سے حادثہ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ جموں سے کنیا کماری تک 45 سے 55 کی تعداد میں نیو کلیئر بجلی گھر بننے والے ہیں۔ ہمارے ےہاں کوئی اسی جگہ نہیں ہے، جہاں آبادی نہ ہو۔ اگر کوئی حادثہ ہوگیا تو اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے کہ کتنی اموات ہوں گی۔
ان سارے سوالات کو درکنار کرکے پارلیمنٹ نے ایٹمی ڈیل بل پاس کردیا۔ بل کیسے پاس ہوا اور پاس کرنے میں مدد کرنے والے ممبران پارلیمنٹ آج کیا کررہے ہیں۔ سننا چاہیے۔ ےہیں ایٹمی حادثات کی جواب دہی کے بل پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے۔ اگر کوئی حادثہ ہوا تو اس کی ذمہ دار امریکی کمپنی نہیں ہوگی، حالاں کہ سامان بھی وہی سپلائی کرے گی، سامان بنائے گی بھی اور ہندستان میں اسے جوڑ کر بجلی گھر بنائے گی بھی ۔ ذمہ دار ہوں گے ہم ، جو انھیں پیسہ بھی دیں گے ، خراب آلات بھی خرید یں گے اور مہنگی بجلی بھی خرید ںگے۔ ناگہانی حادثہ ہونے کی صورت میں ہمارے ےہاں چاہے پانچ سو اموات ہوں، پانچ لاکھ ہوں، یاپانچ کروڑ۔ امریکی کمپنی کی ذمہ داری ہماری حکومت نے طے کردی ہے۔ وہ صرف پانچ سو کروڑ کا جرمانہ ادا کریں گی اور اس کے آگے اگ رکچھ ہونا ہے تو ےہاں کے عوام جانیں، کیوں کہ حکومت کہہ سکتی ہے کہ جو بانٹنا ہے، علاج کرانا ہے، جلانا، پھونکنا ہے، یاپھر آگے کی زندگی میں کچھ کرنا ہے، سب پانچ سو کروڑ روپئے میںکرو۔ پانچ سو کروڑ کو 46 سے تقسیم کردیجئے، جو رقم آئے گی وہی امریکی کمپنی کی ذمہ داری بنے گی۔
ہم ہندستان کے غریب ، جی حضوری کرنے والے لوگ کیا ہندستانی حکومت سے پوچھ سکتے ہیں آپ کیوں ہندستان کے عوام کی قسمت کا سودا کررہے ہیں؟ آپ کی کون سی کمزوری ایسی ہے کہ آپ کو امریکی شرائط کو سے ماننے کے لیے مجبور کررہی ہے۔
ڈیل ہونے تک ہمیں لگا تھا کہ شاید اچھی امیدمیں یہ ڈیل کی گئی ہے، لیکن یہ بل دیکھنے کے بعد لگ رہا ہے کہ ہم صحیح معنوں میں فروخت کےے جارہے ہیں۔ کیا اس حکومت میں تمام لو گ ایسے ہیں ، جنھیں ملک کے مفاد کا کچھ بھی خیال نہیں اور کیا ہوگیا ہے حزب اختلاف کو ، پہلے تو نام کے لیے ہی سہی مظاہرہ وغیرہ کرلیتے تھے، لیکن اب لگتا ہے انھیں بھی کچھ حصہ داری مل گئی ہے۔
اور انھوں نے بھی ایٹمی ڈیل پوری کرنے والی کمپنیوں سے کچھ حصہ لے لیا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی سے امید ہی کیا کریں، جنھیں آج بھی نہ مہنگائی نظر آتی ہے اور نہ بے روزگاری۔ انھیں ایٹمی حادثہ کے بعد ہونے والی اموات تو بالکل ہی نظر نہیں آتیں۔ یہ بل ہندستان کے عام آدمی، ہندستان کی عزت اور ہندستانی مفاد کے خلاف ہے۔ اس کے بعد بھی ہمیں امید ہے کہ یہ بل بجٹ سیشن کے آخر میں آئے گا اور پاس بھی ہوجائے گا۔ اس بل کے پاس ہوتے ہی ممکنہ اجمتاعی اموات قہقہہ لگا کر ہنیں گی اور ہندستان کی قسمت روئے گی۔
٭٭

 

غزل

٭کرشن پرویز

وطن کی شان غارت کررہے ہیں
مگر پھر بھی حکومت کررہے ہیں

ہنر مندوں کو روٹی تک نہیں ہے
مگر جاہل وزارت کررہے ہیں

مچا ہے اس قدر اندھیر ہر سو
سبھی اس کی شکایت کررہے ہیں

عجب عالم ہے اب تو منصفوں کا
وہ ظالم کی وکالت کررہے ہیں

محبت کی نہیں قیمت ےہاں پر
سبھی زر کی عبادت کررہے ہیں

کریں شکوہ کوئی غیروں سے کیا ہم
خود اپنے ہی بغاوت کررہے ہیں

لٹائی جان تھی پرویز جن پر
وہی ہم سے عداوت کررہے ہیں
٭٭٭

   

All categories