You are here: حیات رسالہ اپریل 2010 ہندستان کی عرب پالیسی میں تبدیلی Home

ہندستان کی عرب پالیسی میں تبدیلی

برقیہ چھاپیے

٭پرنے شرما

افغانستان پاکستان سرحد سے سر اٹھانے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے امریکی امداد کا انتظارکرتے کرتے تھک کر آخر کار اب ہندستان نے عالمِ عرب کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے۔ ہندستان کا خیال ہے کہ اس علاقہ کو القاعدہ اور طالبان کی طرف سے درپیش خطرے کے سلسلے میں پورے علاقے کاایک مشترکہ موقف تیار کرایا جائے۔ اس مشترکہ موقف کے اظہار کے لیے سعودی عرب سے بہتر اور کیا جگہ ہوسکتی تھی۔ اس لیے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔ کسی ہندستانی وزیر اعظم کایہ 28 سال بعد ہونے و الا دورہ تھا۔ تیل سے مالا مال، دولت سے بھرپور اور نظریاتی نیز ثقافتی اعتبار سے اسلامی دنیا پر چھائے ہوئے سعودی عرب نے ماضی میں پاکستانی سیاست پر بھی کافی اثر ڈالا ہے۔ مثال کے طور پر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی جلا وطنی ختم کرانے میں سعودی عرب اہم کردار ادا کرچکا ہے۔ دہشت گردی کا ڈھانچہ ختم کرنے میں اگر پاکستان کو سعودی عرب آمادہ نہیں کرسکتا تو پھر سمجھیں کہ کوئی نہیں کرسکتا۔ پاکستان کی لگام کسنے کے لیے سعودی عرب کی مدد حاصل کرنے کے موضوع پر ہندستانی میڈیا میں کافی بحث مباحثہ ہوچکا ہے اور اس اقدام کی تعریف بھی ہوچکی ہے۔ پاکستان کے تعلق کے علاوہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے سعودی عرب کے دورے کے اور بھی پہلو تھے۔ ریاض اعلامیہ سے جس پر ڈاکٹر من موہن سنگھ اور شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز السعود نے دستخط کیے، فلسطین اسرائیل اور ایران کے تئیں ہندستان کی پالیسی میں تبدیلی کا بھی اشارہ ملا۔ اسے مغربی ایشیاءکے تئیں ہندستان کی پالیسی میں تبدیلی کا اظہار بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ سعودی عرب نے بھی ایسی ہی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا۔ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی اہلیہ گورشرن کور اور ہندستانی وفد میں شامل دیگر خواتین کے لیے عام جگہوں پر حجابات پہننے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی جب کہ وہاں ایسا کرنا لازمی ہے۔ ”ریاض اعلامیہ مغرب ایشیاءکے بارے میں کسی ہندستانی وزیر اعظم کااہم ترین پالیسی بیان ہے۔ ہندستان نے پہلی مرتبہ عربوں کے سامنے تمام اہم معاملات پر فلسطین سے لے کر ایران اور عراق سے لے کر افغانستان تک پر تبصرہ کیا ہے۔“
سب سے پہلے پاکستان اور افغانستان کے تعلق سے دہشت گردی کے پہلو پر بات کی جائے۔ پڑوسی ملک یمن میں القاعدہ کی در اندازی سے سعودی عربی کے فکر مندی میں مبتلا ہوکر اور سمندری راستہ سے ممبئی پر 26/11کے حملہ پر تشویش میں مبتلا ہوکر ریاض اعلامیہ میں دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے اور اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ”یہ دہشت گردی عالمی نوعیت کی ہے اور تمام معاشروں کے لیے خطرہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دہشت گردی کا تعلق کسی نسل رنگ اور عقیدہ سے نہیں ہے۔“ اعلامیہ میں دہشت گردی کی وجوہات کا کوئی ذکر نہیں کیاگیا ہے اور سعودی عرب اور ہندستان کو در پیش دہشت گردی کو الگ الگ خانوں میں بھی بانٹا گیا ہے۔
یہ صحیح ہے کہ ریاض اعلامیہ میں پاکستان کا نام نہیں لیاگیا ہے۔ لیکن اس طرح اعلامیوں میں کسی تیسرے ملک کا نام لیا بھی نہیں جاتا۔ لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ بند کمروں میں جو مذاکرات ہوئے وہ ہندستان کے لیے اطمینان کا باعث ہیں۔ مثال کے طور پر سعودی عرب نے کہا کہ پشتونوں کو جو تعداد میں زیادہ ہیں افغانستان کے سلسلے کا حل کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالبان ہی اکیلے پشتونوں کے ترجمان ہیں۔ پشتونوں کو چاہیے کہ وہ ملی ٹینٹ تنظیموں کو ملک کے سیاسی ایجنڈہ کو یرغمال بنانے کی اجازت نہ دیں۔ ایک اور خاص بات یہ ہوئی کہ اچھے طالبان اور خراب طالبان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کیاگیا۔ اس سے ہندستان اور سعودی عرب کے خیالات میں یکسانیت کا اشارہ ملا۔ ریاض اعلامیہ میں ”افغانستان کو اس کے بنیادی ڈھانچہ کو فروغ دینے اور اس کی سماجی و اقتصادی ترقی کے حصول کی کوششوں“ کی حمایت کا اظہار کیاگیا۔ ہندستان خود ان کوششوں کا حامی رہا ہے جب کہ پاکستان اس کی مخالفت کرتا ہے۔
اس کے علاوہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ملکوں کی حکومتوں کو یہ احساس ہونے لگاہے کہ دہشت گرد گروپوں یعنی لشکر طیبہ، طالبان اور القاعدہ کے مابین کوئی نہ کوئی در پردہ رابطہ ضرور ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جسے ہندستان برسوں سے پیش کرتا چلا آرہا ہے۔ لیکن پاکستان کے اندر عدم استحکام کی وجوہات کے معاملے میں دونوں ملکوں یعنی ہندستان اور سعودی عرب میں اختلاف رائے ہے۔ سعودی عرب کا خیال ہے کہ پاکستان کا سیاسی طبقہ ابھی تک اپنا وزن محسوس نہیں کراسکا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ اسے خوشی ہے کہ فوج نے ابھی تک مداخلت نہیں کی ہے۔ اس کے برخلاف ہندستان کا خیال ہے کہ پاکستان میں فوج کے سیاست پر اثر ات ابھی تک موجود ہیں۔ اس اختلاف کے باوجود ہندستان کی خواہش ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے سیاسی اور فوجی نظام کو یہ سمجھانے کے لیے اپنے ”اثر و رسوخ“ کا استعمال کرے کہ اس کی سرززین پرسرگرم دہشت گردی کو اکھاڑ پھینکنے میں ہی بھلائی ہے۔
ریاض اعلامیہ کے ذریعہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہندستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو جو کہ اس علاقہ کے لیے فکر و تردد کا باعث ہیں، فلسطین کے ساتھ ہندستان کے روایتی تعلقات کی قیمت پر فروغ نہیں دیا جائے گا۔ یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اسرائیل پر اس حد تک تنقید بھی کی جس کی حالیہ برسوں میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ پچھلی دہائی میں ہندستان کے کسی وزیر اعظم نے فلسطین کی اتنی حمایت نہیں کی جتنی کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کی ہے۔
ریاض اعلامیہ میں اقوا م متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 242 اور 338 کے تحت ”دو ملکی“ حل کے ذریعہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کے امن عمل کو بحال کرنے کی بات کہی گئی ہے کہ بلکہ مذاکرات کو ”مقررہ وقت کے اندر“ مکمل کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ اعلامیہ میں ایک ایسے فلسطین کی بابت کہاگیا ہے جو متحدہو اور جسے نقصان نہ پہنچایا جاسکے۔ اعلامیہ میں اسرائیل کے ذریعہ فلسطینی علاقہ میں بستیوں کی تعمیر کو ”امن کے عمل میں بڑی رکاوٹ“ قرار دیاگیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندستان عرب موقف کو تسلیم کرتا ہے کہ فلسطین کو خود مختاری دیتے وقت مغربی کنارہ اور حماس کے تحت غزہ کو الگ الگ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
فلسطینی اس صورت حال پر خوش ہیں۔ ہندستان میں فلسطین کے سفیر عدلی شبان صادق نے کہا ”ہم اس کی تعریف کرتے ہیں“ انھوں نے کہا کہ اس سے ہندستان کے سیاسی نظام میں اسرائیل کی در اندازی کا عمل الٹا ہوجائے گا جس نے عالمی دہشت گردی پر توجہ کو نقصان پہنچایا تھا اور خود ہندستان کو دہشت گردانہ حملوں سے زخم آئے تھے۔ انھوں نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا ”لیکن ہندستان کی طرف سے فلسطین کے موقف کی توثیق نے، جس میں فلسطین کے صدر محمود عباس کے ہندستان کے حالیہ دورے کے موقع پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی طرف سے فلسطین کے بارے میں ظاہر کےے گئے خیالات بھی شامل ہیں، اس معاملہ کو حل کردیا ہے۔“
ریاض اعلامیہ میں مغربی ایشیا اور خلیج کو ”نیوکلیائی ہتھیاروں اور بڑے پیمانہ پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔ حالاں کہ بظاہر یہ ایران کے نیوکلیائی ہتھیاروں کے حصول کی کوششوں کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے لیکن اشارہ اسرائیل کی طرف بھی ہے جس نے اپنے نیوکلیائی ہتھیاروں کا کبھی انکشاف نہیں کیا۔ مغرب ایشیا کو نیوکلیائی اسلحہ سے آزاد رکھنے کی اپیل سے سنی عربوں کی طرف سے شیعہ طاقت کے بارے میں تشویش کا اظہار تو ہوتا ہی ہے ساتھ ہی اسرائیل کے بارے میں بھی علاقہ کی فکر مندی ظاہر ہوتی ہے۔
ظاہر ہے کہ اسرائیلی اس سے خوش نہیں ہیں حالاں کہ انھوں نے سرکاری طور پر تبصرہ سے گریز کیا ہے۔ ایک اسرائیلی ذریعہ کا کہنا ہے ”ہندستان رہنما وقتاً فوقتاً ایسی باتیں کرتے رہے ہیں اور ان معاملات پر نئی دہلی کے نظریہ میں ہم خاص تبدیلی محسوس نہیں کرتے، حالاں کہ خیالات میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔“ ڈپلومیسی میں انقلابی نوعیت کی تبدیلی شازو نادر ہی آتی ہے، ہاں خیالات قدرے تبدیل ہوسکتے ہیں

 

All categories