You are here: حیات رسالہ اپریل 2010 میں دہشت گرد نہیں ہوں Home

میں دہشت گرد نہیں ہوں

برقیہ چھاپیے

٭ کمال سید

”سر نہیں۔ سر نہیں.... میں دہشت گرد نہیں ہوں۔“
یہ وہ الفاظ ہیں جو گجرات کے دہشت گرد مخالف دستہ ’اے ٹی ایس‘ کے انسپکٹر شبیر علی سید نے اس وقت ادا کیے جب پولس کے ڈپٹی کمشنر سبھاش تریویدی نے بہت قریب سے ان کے پیٹ میں دو گولیاں ماریں۔ یہ واقعہ 24فروری کو سورت ہوائی اڈے پر پیش آیاتھاجب وہاں دہشت گردوں کے ساتھ مڈ بھیڑ کی فرضی مشق چل رہی تھی۔
شبیر علی کی سمجھ میں اب تک نہیں آرہا ہے کہ انھیں ان کے سینئر افسر نے گولی کیوں ماری۔ مڈبھیڑ کی فرضی مشق کے دوران کسی شخص سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے ساتھ گولیوں بھرا ہتھیار رکھے۔ شبیر علی سید نے سنڈے ایکسپریس کو بتایا کہ مشق کے لیے ہر ایک اہلکار اور افسر کا رول متعین کردیاگیاتھا۔ انھوں نے کہا ”ڈرل میں حصہ لینے والے تمام افسروں کو ان کے رول کے بارے میں بہت اچھی طرح سے بتادیاگیاتھا۔ مجھے صرف ایک مشاہد کا کردار ادا کرناتھا۔ میرے سپرد یہ کام کیاگیاتھا۔ میں ان غلطیوں کی نشاندہی کروں جو چھاپہ ماروں اور دیگر اہلکاروں سے بچاﺅ کی کارروائی کے دوران سرزد ہوتیں۔“
ڈی سی پی سبھاش تریویدی، اے ٹی ایس کے ایس پی باروٹ اور چند دوسرے افسروں کو ڈاکٹروں کا کردار ادا کرنا تھا اور ہوائی اڈے میں پارکنگ کی جگہ پر بھاگ کرجانا تھا جہاں دہشت گردوں کاکردار ادا کرنے والے کچھ افسران ”مسافروں“ کو یرغمال بنائے ہوئے تھے۔
شبیر علی سید نے بتایا ”سبھاش تریویدی بھاگ کربس کی طرف آئے اور مجھے کس کر پکڑ لیا حالاں کہ میں محض ایک مشاہد کا کردار ادا کررہاتھا۔ میںنے کہا سر نہیں۔ میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ ایک مشاہدہوں لیکن انھوں نے مجھے چھوڑنے سے انکار کردیا اور اس طرح ہمارے درمیان دھکا مکی شروع ہوئی۔ میں ان کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرہی رہا تھا کہ انھوں نے اپنا سروس ریوالور نکالا اور بہت قریب سے میرے اوپر گولی چلادی میں بے ہوش ہوکر گر پڑا۔
اعشاریہ تین آٹھ کی گولی شبیر کے پیٹ میں لگی اور دوسری طرف سے نکل گئی۔ شبیرابھی تک صحت یاب نہیں ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ شبیر علی کے کہنے کے مطابق ڈی سی پی کا یہ کام نہیں تھا کہ وہ فرضی مڈبھیڑ کے دوران کسی دہشت گرداور کتنے مسافر موجود ہیں۔ ان کا کام دہشت گردوں اور مسافروں کی تعداد سے ان دوسرے لوگوں کو آگاہ کرنا تھا جو بچاﺅ ٹیم میں شامل تھے تاکہ وہ بچاﺅ کارروائی کا منصوبہ بنائیں اور اسے انجام دیں۔
سورت کے کمشنر شوانند جھا نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے بتایا ”سید کو موقع پر موجود ایک مشاہد کا رول ادا کرناتھا۔ وہ بس کے دروازے کے قریب کھڑا ہوا تھا۔ ڈی سی پی سبھاش تریویدی کے ذمہ ایک ڈاکٹر کاکام تھا اور انھیں یہ معلوم کرنا تھا کہ کتنے دہشت گردوں نے کتنے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ان کے پاس کون کون سے ہتھیار ہیں ”ڈاکٹر سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار ہوگا نہ کہ گولیوں بھرا ریوالور۔
غلطی کہاں ہوئی؟ پولس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ جھانے بتایا ”ہم آزادانہ اور منصفانہ چھان بین میں لگے ہوئے ہیں۔ فی الوقت کسی نتیجہ پر پہنچنا مشکل ہے۔ ہم نے ہوائی اڈہ کے عملے کے کئی افراد کے بیانات لیے ہیں ہم۔ ان پولس اہلکاروں کے بیان بھی قلم بند کیے ہیں جو اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں۔“ جب سنڈے ایکسپریس نے تریویدی سے رابطہ قائم کیا تو انھوں نے بات کرنے سے انکار کردیا۔
تحقیقات کا کام جھا کے نائب اور اے ٹی ایس کے سربراہ اجے تومر انجام دے رہے ہیں۔ شبیر علی سید کے گولی لگنے کے فوراً بعد امرا تھانہ میں شکایت درج کرائی گئی اور ڈی جی پی ایس ایس کھنڈوا والا نے تو مرکو محکمہ جاتی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔
کھنڈوا والا نے بتایا ”ابتدائی چھان بین کے بعد ہم نے پایا کہ یہ واقعہ ایک اتفاقیہ بات تھی اور فائرنگ جان بوجھ کر نہیں کی گئی تھی۔ لیکن کسی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے ہم قطعی رپورٹ کااور اسلحہ کے ماہرین کی رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں۔“ یہ پوچھے جانے پر کہ کیاڈی سی پی تریویدی کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی، کھنڈوا والانے کہا ”رپورٹ آنے دیجئے بعد میں اس کی بنیاد پر مزید کارروائی کریں گے۔ دونوں افسروں کا تعلق پولیس کے محکمہ سے ہے وہ کوئی جرائم پیشہ نہیں ہیں۔ اس لیے اس مرحلہ پر کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔“
٭٭

 

All categories